Namaz Me Naaf k Nichey Hath Bandh’na Ibn Wahab Najdi Ki Kitaab Se


غير مقلدوں پاس نماز ميں سينے پر ہاتھ باندھنے کی نہ کوئی صحيح حديث ہے اور نہ ہی خيرالقرون (يعنی صحابہ تابعين تبع تابعين) کا عمل نماز ميں سينے پر ہاتھ باندھنے کا موجود ہيں۔ صرف اورصرف جھوٹ ہيں۔

قرآن:الالعنت اﷲ علی الکاذبین

سنو اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر۔
جھوٹ نمبر1:سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایات….بخاری ومسلم میں بکثرت ہیں۔( فتاویٰ ثنائیہ جلد1 ص443)
جھوٹ نمبر2: سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت صحیح ہے۔(بلوغ المرام فتاویٰ ثنائیہ جلد1 ۔ص593)
جھوٹ نمبر3: سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح بتلایا ہے۔ ( ثنائیہ جلد1ص 457 نیز دلائل محمدی ص 110 حصہ دوم)
جھوٹ نمبر4: امام احمد نے قبیصہ بن ہلب سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سینے پر ہاتھ باندھاکرتے تھے۔
یہ حدیث حسن ہے۔ صحیح بخاری میں بھی ایک ایسی ہی حدیث آتی ہے۔واللہ اعلم ثنائيہ جلد 1ص457

جھوٹ نمبر5: مسلم کی سند ابن خزیمہ کے متن کے ساتھ ملادی۔ملاحظہ ہو۔( فتاویٰ ثنائیہ جلد1 ص444)
اصل سند ابن خزیمہ جلد1 ص 243 پر ملاحظہ کریں۔ مسلم کی سند جلد1 ص 172 پر ملاحظہ کریں۔

Advertisements

One thought on “Namaz Me Naaf k Nichey Hath Bandh’na Ibn Wahab Najdi Ki Kitaab Se”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s