Quran ki Aayat ko wahabi kese ghalat istimal karte hain (Urdu)


487457_196188773848211_1832087070_n 564109_196188793848209_1385326275_n

281830_196188880514867_1690986725_n

Al-aaraaf 7: 189 – 198 with Tafseer

557164_196189020514853_931420600_n

Read Yellow lines

318317_196189107181511_1354858705_n

Note Yellow lines and read
304493_196189147181507_1293734842_n
250709_196192157181206_258393478_n307825_196192267181195_1625305108_n
546418_196193563847732_1084212939_n
Tafsir-Jamiaul Bayan, fi tafsire Quran by Al-Tabri (310 hijri)
Now
Tafseer al kashaaf  by Zamkhshari
390485_196193627181059_1879385827_n552132_196193787181043_1076880006_n
Tafseer Mafateeh al Ghaib (tafsir-e-kabeer) by Imam Raazi (rd)
581444_196194287180993_378152877_n542245_196198993847189_2058097347_n421589_196199037180518_774194160_nFor reading all of the details about wrong interpretations of the deobandi and wahabi cult are given in the following blog under the name of Misquoted Quranic verses in 5 parts. in english.
Comments on this Article
Ashampoo_Snap_2012.12.17_06h12m47s_067_
Advertisements

5 thoughts on “Quran ki Aayat ko wahabi kese ghalat istimal karte hain (Urdu)”

    1. Dono ka Sahaba e Kiram ne Tabiyon ne or phir Aima arba ne unke baad degar muhaditheen or Mufasireen ne ishat ki or aj tak usko carryout Allah ke Auliya ne kiya

  1. kia ALLAH se madad mangne k lia kisi qism ka protocol requirement ha ? mujhe kia ALLAH se madad mangni chahea ya NABI or OOLIA se ?

  2. Ji haan Allah ne wo Protocol Khud Quran e Shareef main Yu Bayan farmaya hai – Ubtaghu ilaihil Waseelata Bil-ihsaana – Yani MERI taraf Waseela Talash Karo Bhalai K sath.

    Or Jo tareeqa Allah ne bataya hai Quran mian or jis par Nabi or Sahaba or Khair al Qaroon ka ITtefaq raha hai us tareeqe se he Ap Allah se Madad Mang sakte hain. Uske Ilawa koi Zariya nahi.

    OR Auliya ya Anbiya se Madad maangne ka Matlab ye Hargiz nahi keh Wo khudanakhwasta ALOHIYAT ya KHUDAI ky Haamil ho gay. Balke Qurani Hukm or Uswa e Hasana ki Perwi main un ko Alam-e-Asbab ki Dunya ka Sabab jaan kar Madad mangna Ain ALLAH HE KA HUKM HAI

    mazeed tafseel ye rahi

    اولیائے کرام سے مدد عارف باللہ علامہ عبدالغنی نابلسی دمشقی الحنفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے قلم سے۔
    ہمارے پیشوا حضرت سیدنا شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں؛۔
    وہ تمام راہبر جن سے میں نے طریقت کی راہ میں نفع حاصل کیا، ان میں سے ایک وہ پرنالہ بھی ہے جو (فاس) شھر کی دیوار میں لگا ہوا ہے۔ جس سے چھت کا پانی نیچے گرتا تھا۔ میں نے اس سے بھی راہنمائی حاصل کی (یعنی اللہ عزوجل کی ساری مخلوق وسائل اور اسباب کی حیثیت رکھتی ہے، اور ان کے سبب حاصل ہونے والا تمام نفع و نقصان اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ہوتا ہے)۔ حضرت سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ کے راہنماؤں میں سے ایسے بھی ہیں جن کا سایہ ان کی ذات سے بھی دراز تھا۔ (یعنی سایہ لمبا ہونا کمال نہیں کیونکہ وہ تو صاحبِ سایہ کا عکس ہے۔ اسی طرح تمام مخلوق سے نفع و نقصان کا حاصل ہونے میں مخلوق کا کوئی کمال نہیں کیونکہ تمام نفع ونقصان اللہ عزوجل ہی کی طرف سے ہوتا ہے)۔ اور اس طرح کی کئی مثالیں انہوں نے اپنی کتاب (روح القدس) میں بیان فرمائی ہیں۔
    تو یہ تمام اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم جو اپنی قبروں میں تشریف فرما ہیں کیا یہ سب اس پرنالہ اور سایہ سے بھی اعلیٰ نہیں؟ جن سے شیخ اکبر رحمتہ اللہ علیہ اپنی طلب صادق کی وجہ سے راہنمائی لیتے تھے۔ تو ایک عقلمند شخص کیسے کسی فوت شدہ ولی سے مدد چاہنے کا انکار کرسکتا ہے۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اولیاء کرام علیہم الرحمۃ کی روحانیت قبروں میں انکے اجسام کے ساتھ متصل ہیں، اور کوئی مسلمان ان فوت شدہ اولیائے کرام سے مدد چاہنے کو کیسے بعید جان سکتا ہے، جو یقیناً اللہ تعالیٰ عزوجل کی معرفت سے غافل زندہ لوگوں سے افضل ہیں۔
    اسکو بیان کرنے کے بعد امام عارف باللہ عبدالغنی بن اسمٰعیل نابلسی دمشقی الحنفی علیہ الرحمتہ الرضوان فرماتے ہیں؛۔
    جو اولیائے اللہ سے مدد طلب کرنے کو ناجائز کہتا ہے، جب خود اسے کوئی حاجت پیش آتی ہے اور اسے کسی ظالم، فاسق یا کافر کے پاس جانا پڑتا ہے تو وہاں اسکے سامنے بڑی عاجزی وانکساری کرتا ہےاور اسکی چاپلوسی بھی کرتا ہے، اور اسے اپنی حاجت پوری کرنے کو کہتا ہے، اس سے مدد مانگتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ فلاں نے میری حاجت پوری کردی یا فلاں نے مجھے نفع دیا۔ بلکہ جب وہ بھوکا ہو تو بھوک مٹانے اور پیاسا ہو تو پیاس بجھانے اور بے لباس ہو تو ستر چھپانے میں مدد لیتا ہے۔ اسی طرح طبیعت کے مطابق کئی قسم کی مدد طلب کرتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہےکہ کھانا پینا اور لباس وغیرہ تمام اشیاء بے جان ہیں۔ تو اگر اس مدد طلب کرنے کی صراحت کرتے ہوئے یوں کہہ دے کہ (میں جو کھاناپینا وغیرہ اشیاء سے مدد حاصل کرتا ہوں یہ سب حقیقتاً نہیں بلکہ مجازاً ہیں کیونکہ میرا عقیدہ ہے کہ حقیقی طور پر مدد کرنے والا اللہ عزوجل ہی ہے) تو اس میں کوئی خطا نہیں، کوئی گناہ نہیں کوئی عار نہیں۔
    کشف النور عن اصحاب ِ القبور۔ عارف باللہ امام عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی دمشقی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ متوفیٰ ۱۱۴۳ھ۔
    یعنی ہم اہلسنت وجماعت سلف الصالحین کے اصلی حقیقی پیروکار و جانشین یعنی صوفیاٗ وغیرہ جو نعرہ رسالت، نعرہ حیدری، نعرہ غوثیہ وغیرہ لگاتے ہیں وہ سب کا سب عین اسلامی اظہار ہے ان تعلیمات کا جو ہمارے اسلاف نے قرآن و سنت کے ذریعے اپنا عمل بنایا اور پھر ہم تک پہنچایا۔ آج کے دور میں کچھ گمراہ لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو اگر کوئی نعرہ رسالت لگائے تو اسکو (بدعتی یا صوفی یا بریلوی) کہتے ہیں اور اگر کوئی نعرہ حیدری لگائے تو اسکو (رافضی ، یا ، شیعہ، یا بدعتی صوفی) کہتے ہیں۔ حالانکہ اسلاف کی تعلیمات بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہیں کہ جب کوئی مسلمان کسی ولی کو یا کسی پیغمبر کو اپنی مدد کے لیے پکارتا ہے تو اسکا معنی یہ نہیں ہوتا کہ وہ نبی یا رسول یا ولی یا پیر یا بزرگ کو (معاذ اللہ، خدائی حاصل ہوگئی یا خدا جیسے اختیارات مل گئے) بلکہ یہاں مجازی معنوں میں مدد لی جاتی ہے یعنی ان کو وسیلہ سمجھ کر جو قرآن و سنت اور خیرالقرون کے افعال و کردار سے ثابت ہے۔ ان کو اللہ کی طرف رسائی کا ذریعہ اور ہماری دعاوں کی قبولیت کی نزدیکی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی لیے وہ مددگار بھی ہیں ہمارے۔ اب اتنی سے بات کے یار لوگوں نے افسانے بنا دیئے اور امت کو شکوک میں مبتلا کردیا صرف اس لیئے کہ دین بیچ بیچ کر اپنا پیٹ بھرا جاسکے اور سروں پر دستار باندھ کر بھی دین سے غداری کی جاسکے۔ ایک اور اصولی بات یہ سمجھ لیجئے کہ اولیائے کرام سے مدد مانگنے کا بہترین ذریعہ ان سے (اگر وہ زندہ ہیں) اور خدا نے شرف ملاقات بخش دیا تو دعا کروائی جائے، اور اگر وہ (فوت ہوچکے ہیں) تو ان کے مزارات پر حاضری دے کر ان سے اللہ کے حضور اپنی حاجت روائی کے لیئے دعا کی درخواست کی جائے۔ جبکہ جسکو حقیقی مدد کہتے ہیں وہ تو فقط راہ سلوک میں ہی مانگنی چاہیئے ان مرشدوں سے تاکہ روحانی ترقی کی راہ میں جو مشکلات ہیں وہ راہ سلوک کے ان غازیوں سے معلوم کر کے اپنی عاقبت کو سنوارا جاسکے اور اپنے درجات کی بلندی حاصل کی جاسکے۔ اللہ سب کو ہدایت دے

    mazeed tafseelat Tafsir or Hadith w Salaf k aqwal se parhne ky liye Waseela ka section mulahiza karen or main article se ruju karen shukriya

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s