Tafsir of Surah Naml Verse 80


Surah al Naml (27) Verse (80-81)

انک لا تسمع الموتى و لا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرين

و ما انت بهدي العمي عن ضللتهم ان تسمع الا من يؤمن بايتنا فهم مسلمون

 

English Translation Verse 80:
Indeed the dead* do not listen to your call nor do the deaf* listen to your call, when they flee turning back. (The dead and deaf implies the disbelievers.)”

English Translation Verse 81:
And you will not guide the blind out of their error; and none listen to you except those who accept faith in Our signs, and they are Muslims.”

Also the same kind of verse can be found in Surah al Ruum 30:52…………

کچھ گمراہ فرقے یعنی جیسے خوارج وہابی دیوبندی ، اس اور اس طرح کی دیگر آیاتِ قرآنی کو اپنے حق میں ظاہر کرنے کے لیئے اپنی لاعلمی ، منافقت یا پھر نری نالائقی کے سبب استعمال کرتے ہیں جو کہ سراسر بددیانتی اور جہالت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظی معنی اخذ کرنے کی وجہ سے یہ لوگ اسلام سے باہر ہوجاتے ہیں۔ قرآن ِ پاک کوئی میٹرک کی کتاب تو ہے نہیں کہ جسے کوئی بھی ایراغیرا اٹھا کر اس سے اپنے قانون اخذ کرنے شروع کردیں، جو بدقسمتی سے یہ جاہل طبقہ کرتا ہے بشمول مودودی مائنڈ سیٹ کے۔ اسی لیئے ہم یہاں پر براہ راست سب کی خدمت میں ان کے باطل عقیدے کا رد پیش کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اس آیت سے یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ اولیاء جو کہ فوت ہوچکے ہیں ان کو پکارنا جائز نہیں ۔ یہ بات بالکل تفسیرات ِ قرآنی سے انکار ہے کیونکہ یہ اور اس جیسی دیگر آیات کفار اور مشرکین کے حق میں نازل کی گئی ہیں اور ان سے کہیں بھی یہ مراد نہیں لی گئی کسی بھی مفسر اور ائمہ کرام میں سے کسی نے بھی جو آجکل کا یہ گستاخ وہابی دیوبندی ٹولہ لیتا ہے۔ اللہ ان کو دین سمجھنے کی ہدایت دے آمین۔

اس آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

بیشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے (ف۱۳۳) اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھریں پیٹھ دے کر (ف۱۳٤)

ف133 مُردوں سے مراد یہاں کفار ہیں جن کے دل مردہ ہیں چنانچہ اسی آیت میں ان کے مقابل اہل ایمان کا ذکر فرمایا ۔ (اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ 53؀ۧ 30 الروم:53 جو لوگ اس آیت سے مردوں کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ان کا استدلال غلط ہے چونکہ یہاں مردہ کفار کو فرمایا گیا اور ان سے بھی مطلقاً ہر کلام کے سننے کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ پند و موعِظت اور کلام ہدایت کے بسمعِ قبول سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافر مردہ دل ہیں کہ نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت کے معنی یہ بتانا کہ مردے نہیں سنتے بالکل غلط ہے صحیح احادیث سے مردوں کا سننا ثابت ہے ۔
(ف134 معنی یہ ہیں کہ کفار غایت اعراض و روگردانی سے مردے اور بہرے کے مثل ہوگئے ہیں کہ انھیں پکارنا اور حق کی دعوت دینا کسی طرح نافع نہیں ہوتا ۔

کنز الایمان مع تفسیر خزائن العرفان

آیئے دیکھتے ہیں کہ دیوبندی وہابی تفسیر معارف کیا کہتی ہے

خلاصہ تفسیر
آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں (خصوصاً) جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر چل دیں اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (بچا کر) رستہ دکھانے والے ہیں، آپ تو صرف ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں کا یقین رکھتے ہیں (اور) پھر وہ مانتے (بھی) ہیں ۔

معارف ومسائل
ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے ساتھ جو شفقت و ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے اس کا تقاضا تھا کہ سب کو اللہ کا پیغام سنا کر جہنم سے بچا لیں جو لوگ اس پیغام کو قبول نہ کرتے تو آپ کو سخت صدمہ پہنچتا تھا اور آپ ایسے غمگین ہوتے تھے جیسے کسی کی اولاد اس کے کہنے کے خلاف آگ میں جا رہی ہو ۔ اس لئے قرآن نے جا بجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لئے مختلف عنوانات اختیار فرمائے ہیں ۔ سابقہ آیات میں وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ، اسی سلسلہ کا ایک عنوان تھا۔ مذکور الصدر آیت میں بھی تسلی کا مضمون دوسرے انداز سے بیان فرمایا ہے کہ آپ کا کام پیغام حق کو پہنچا دینے کا وہ آپ پورا کر چکے ہیں جن لوگوں نے اس کو قبول نہیں کیا اس میں آپ کا کوئی قصور اور کوتاہی نہیں جس پر آپ غم کریں بلکہ وہ اپنی صلاحیت قبول ہی کو کھو چکے ہیں ۔ ان کے گم کردہ صلاحیت ہونے کو اس آیت میں قرآن کریم نے تین مثالوں میں ثابت کیا ہے ۔ اول یہ کہ یہ لوگ قبول حق کے معاملہ میں بالکل مردہ لاش کی طرح ہیں جو کسی کی بات سن کر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ دوسرے یہ کہ ان کی مثال اس بہرے آدمی کی ہے جو بہرا ہونے کے ساتھ بات سننا بھی نہیں چاہتا بلکہ جب کوئی سنانا چاہے تو اس سے پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ان کی مثال اندھوں کی سی ہے کہ کوئی ان کو راستہ دکھانا بھی چاہے تو وہ نہیں دیکھ سکتے ان تین مثالوں کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں فرمایا۔

تفسیر معارف القرآن زیر تحت آیت 80 اور 81 سورۃ النمل

ایک اور مشہور وہابی تفسیر تیسیر القرآن کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا ہے ملاحظہ کیجیئے 

[٨٤] اس آیت میں موتیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں ۔ یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت نہ تو ان لوگوں کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے جن کے دل مرچکے ہیں اور نہ ان کو جن کے دلوں کے کان بہرہ ہوچکے ہیں ۔ بالخصوص اس صورت میں وہ بہرے الٹے پاؤں بھاگے جارہے ہوں ۔ بہرے کا بھی چہرہ اگر بات کرنے والی کی طرف ہو تو وہ متکلم کے اشاروں سے یا بات کرنے کے انداز سے ہی اس کا کچھ نہ کچھ مفہوم سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا رخ ہی بات کرنے والے سے الٹی طرف ہو، مزید براں وہ بھاگے جارہا ہو ۔ تو اس سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ وہ متکلم کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ سکے گا۔

اب انصاف سے فیصلہ کیجیئے کہ کیا یہ آیت اسی لیئے ہے جس کے لیےیہ خوارج اسکو استعمال کرتے ہیں؟ یعنی اولیاء اللہ کی پروردگارعالم کی طرف سے دی گئی مدد کرنے کی صلاحیت کو یہ لوگ رد کرنے کے لیئے قرآن کے معنیٰ تک غلط استعمال کرتے ہیں اور اپنی من مانی تفاسیر نکالتے ہیں۔ لہٰذا ان تمام ثبوتوں کی روشنی میں فیصلہ پرھنے والوں پر چھوڑا جاتا ہے کہ آیا آپ کو یہ نئے نئے بدمذاہب کے 72 گروہوں کا اپنی مرضی سے کیا ہوا معنیٰ اور تفسیر مقبول ہیں یا 1400 سال سے چلے آرہے اصلی سنی سلف صالحین کا منظورشدہ اور قابل اعتماد تفاسیر ومعنے قبول ہیں۔

Deviants like Wahabi/Salafi/Ahlehadith/Deobandis use this Verse of Holy Quran considering that may be this verse can validate their wrong belief but alas!

When they take the literal meanings of Holy Quran then, they get involved in wrong interpretations without the proper and actual meaning of the verse along with its Shan-e-Nuzul (Reason of Revelation).

They always use those verses which are revealed for Kufaars and Mushrikeens upon Muslims. This is also mentioned in Hadith(s) of Holy Prophet alehisalam that Khawarij will do this kind of thing. 

So in short! Here is refutation to their wrong interpretation of Holy Quran which they use to apply because they think this can suits them.

Quran says Verily, you cannot make the dead to hear , nor can you make the deaf to hear the call, when they flee,  turning their backs (27:80 and 30:52) 
.
Question : Does above verse mean that Dead (Muslims and non Muslims cannot hear)
.
Answer : This verse has more of a methaphoric meaning, secondly it refers to the kufaar not muslims in this case

Next verse says: 

Nor can you lead the blind out of their error, you can only make to hear those who believe in Our Ayât, and who have submitted

[Quran 27:81 and 30:53]

this doesn’t only refute the argument regarding first verse which some put forward that dead cannot hear in any circumstances but also makes it clear that muslims can hear as Allah says himself in the next verse , you can only make to hear those who believe in Our Ayât,

now let us go and check various authentic tafsirs regarding this verse
.

Tafsir ibn e khateer
for verse 27:80/1 and 30:52/3 says

{ إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ } أي: لا تسمعهم شيئاً ينفعهم، فكذلك هؤلاء، على قلوبهم غشاوة، وفي آذانهم وقر الكفر، ولهذا قال تعالى: { وَلاَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ وَمَآ أَنتَ بِهَادِي ٱلْعُمْيِ عَن ضَلالَتِهِمْ إِن تُسْمِعُ إِلاَّ مَن يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ } أي: إنما يستجيب لك من هو سميع بصير، السمع والبصر النافع في القلب والبصيرة، الخاضعُ لله ولما جاء عنه على ألسنة الرسل عليهم السلام.

(Verily, you cannot make the dead to hear) meaning, you cannot cause them to hear anything that will benefit them. The same applies to those over whose hearts is a veil and in whose ears is deafness of disbelief. Allah says:

(nor can you make the deaf to hear the call, when they flee, turning their backs. Nor can you lead the blind out of their error. You can only make to hear those who believe in Our Ayat, so they submit (became Muslims).) meaning, those who have hearing and insight will respond to you, those whose hearing and sight are of benefit to their hearts and who are humble towards Allah and to the Message that comes to them through the mouths of the Messengers, may peace be upon them.[end]

From above it seems these verses are not for those in Grave even , its talking about non Muslims in the world who don’t get hidaya and don’t listen to word of Allah with an open  heart, whose Hearts are dead,

People quote these verses out of context without going into Authentic tafsirs or reading the next verse, which brings them ultimately to wrong concepts and thus they rejects the basic fundamentals of Islamic teachings because of their ignorance  and arrogance.

In Short here is the huge list of Authentic Exegesis Regarding this Verse of Holy Quran.

These all given scans contains the same explanation and meanings, for huge list of references along with scans see the folder drive

Access to Drives for Scans regarding this Verse kindly click below

cc  bb

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s