Aqeeda e Hazir o Nazir and We Ahlu Sunnah (Urdu)


عقیدہ حاضر وناظر اور ہم اہلسنت

شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی رح فرماتے ہیں:

علماء امت کے مذاہب اور اختلافات کی کثرت کے باوجود کسی ایک شخص کا بھی اس مسئلے میں اختلاف نہیں ہے کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم مجاز کے شائبہ اور تاویل کے وہم کے بغیر حقیقی حیات کے ساتھ دائم وباقی اور اعمال ِ امت پر حاضر وناظر ہیں۔ (عبدالحق محدث دہلوی ، شیخ محقق، مکتوبات برحاشیہ اخبار الاخیار(طبع سکھر) ص 551)

روح اعظم کی کائنات میں جلوہ گری

عقیدہ حاضر و ناظر ؛
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے لفظ حاضر وناظر بولا جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ کی بشریت مطہرہ اور جسم خاص ہرجگہ ہرشخص کے سامنے موجود ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقام رفیع پر فائز ہونے کے باوجود تمام کائنات کو ہتھیلی کی طرح ملاحظہ فرماتے ہیں؛

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی روحانیت اور نورانیت کے اعتبار سے بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوسکتے ہیں اور اولیائے کرام بیدار ی میں آپ کے جمال اقدس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں نظر رحمت وعنایت سے مسرور فرماتے ہیں۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے غلاموں کے سامنے ہونا، سرکار کے حاضر ہونے کا معنی ہیں اور انہیں اپنی نظرمبارک سے دیکھنا حضور کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔

یہ بھی پیش نظر رہے کہ یہ عقیدہ ظنیہ اور از قبیل فضائل ہے۔ اس کے لیئے دلائل قطعیہ کا ہونا ہی ضروری نہیں، بلکہ دلائل ظنیہ بھی مقید مقصد ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے؛

یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدا (الاحزاب 33،51) 

ترجمہ: اے غیب کی خبریں دینے والے نبی ! بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر۔

علامہ ابوالسعود (م 159ھ) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے تمہیں ان لوگوں پر شاہد (حاضر وناظر) بنا کر بھیجا جن کی طرف آپ مبعوث ہیں۔ آپ ان کے احوال و اعمال کا مشاہدہ اور نگرانی کرتے ہیں۔ آپ ان سے صادر ہونے والی تصدیق وتکذیب اور ہدایت وضلالت کے بارے میں گواہی حاصل کرتے ہیں اور قیامت کے دن اُن کے حق میں یا ان کے خلاف جو گواہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیں گے مقبول ہوگی۔

(محمد بن محمد العمادی، ابوالسعود امام، تفسیر، ابوالسعود (احیاء التراث العربی، بیروت، ج 7، ص 24)

علامہ سلمان جمل نے الفتوحات الالٰہیہ (ج 3 ص 244) اور علامہ سید محمود آلوسی  نے تفسیر روح المعانی (ج 22 ص 54) میں یہی تفسیر کی ہے۔

امام محی السنہ علاء الدین خازن  (م 147ھ) نے ایک تفسیر یہ بیان کی ہے۔

شاھدا علی الخلق کلھم یوم القیامۃ۔
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن تمام مخلوق پر گواہ ہوں گے۔

(علی بن محمد البغدادی الشہیر بالخازن؛ تفسیر لباب التاویل فی معانی التنزیل (مصطفےٰ البابی مصر) جلد 5، ص 662)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام ہرمومن وکافر کو شامل ہے۔ لہٰذا امت دعوت میں ہرمومن وکافرداخل ہے، البتہ! اُمتِ اجابت میں صرف وہ خوش قسمت افراد داخل ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آیت مبارکہ کی تفسیر میں علیٰ من بُعُثُ اِلَیھِم (جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا) اور علی الخلق کلھم کہہ کر حضرات مفسرین نے اشارہ کیا ہے کہ آپ صرف اہل ایمان کو ہی نہیں، بلکہ کافروں کے احوال بھی مشاہدہ فرمارہے ہیں، اسی لیئے مومنوں کے حق میں کافروں کے خلاف گواہی دیں گے۔

علامہ سید محمود آلوسی  فرماتے ہیں:

بعض اکابر صوفیہ نے اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بندوں کے اعمال پر آگاہ کیا اور آپ نے انہیں دیکھا، اسی لیئے آپ کو شاہد کہا گیا۔

مولانا جلال الدین رومی  قدس سرہ نے فرمایا:

در نظر بودش مقامات العباد۔ زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد
(محمد آلوسی؛ علامہ سید؛ روح المعانی جلد 22، ص 54)

بندوں کے مقامات آپ کی نظر میں تھے اس لیئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شاہد رکھا۔

امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کے فرمان شاھدا میں کئی احتمال ہیں (پہلا احتمال یہ ہے کہ) آپ قیامت کے دن مخلوق پر گواہی دینے والے ہیںجیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ (رسول تم پر گواہ ہوں گے اور نگہبان) اس بنا پر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم شاہد بنا کر بھیجے گئے ہیں ، یعنی آپ گواہ بنتے ہیں اور آخرت میں آپ شہید ہوں گے یعنی اس گواہی کو ادا کریں گے جس کے آپ حامل بنے تھے۔
(محمد بن عمر بن حسین الرازی، امام ، تفسیر کبیر (مطبعۃ بہیہ مصر) ج 52، ص 612)

علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کا مطلب یہ ہے کہ اس ظاہر وباطن میں آپ کی سنت کی حقیقی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ آپ موجودات کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی محبوب ازلی ہیں، باقی تمام مخلوق آپ کے تابع ہے ، اسی لیئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا۔

چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی پہلی مخلوق ہیں اس لیئے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربوبیت کے شاہد ہیں اور عدم سے وجود کی طرف نکالی جانے والی تمام ارواح، نفوس، احرام و ارکان،اجسام واجساد، معدنیات، نباتات،حیوانات، فرشتوں،جنات، شیاطین اور انسانوں وغیرہ کے شاہد ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کے افعال کے اسرار عجائب صنعت اور غرائب قدرت میں سے جس چیز کا ادراک مخلوق کے لیئے ممکن ہو وہ آپ کے مشاہدہ سے خارج نہ رہے، آپ کو ایسا مشاہدہ عطا کیا کہ کوئی دوسرا اس میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہے۔

اسی لیئے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا علمت ما کان وماسیکون (ہم نے جان لیا وہ سب جو ہوچکا اور جو ہوگا) کیونکہ آپ نے سب کا مشاہدہ کیا۔ اور ایک لمحہ بھی غائب نہیں رہے، آپ ﷺ نے آدم علیہ السلام کی پیدائش ملاحظہ فرمائی، اسی لیئے فرمایا؛ ہم اس وقت بھی نبی تھے جب کہ آدم ؑ مٹی اور پانی کے درمیان تھے، یعنی ہم پیدا کیئے تھے اور جانتے تھے کہ ہم نبی ہیں اور ہمارے لیئے نبوت کا حکم کیا گیا ہے جبکہ حضرت آدم ؑ کا جسم اور روح ابھی پیدا نہیں کی گئی تھی۔ آپ نے ان کی پیدائش، اعزاز واکرام کا مشاہدہ کیا اور خلاف روزی کی بنا پر جنت سے نکالا جانا ملاحظہ فرمایا:

آپ نے ابلیس کی پیدائش دیکھی اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کے سبب اس پر جوکچھ گزرا ، اسے رائندہ درگاہ اورملعون قراردیاگیا، سب کچھ ملاحظہ فرمایا، ایک حکم کی مخالفت کی بنا پر اس کی طویل عبادت اور وسیع علم رائیگاں گیا۔ انبیاء ورسل اور ان کی امتوں پر وارد ہونے والے حالات کے علوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئے۔

(اسماعیل حقی ، امام: روح البیان (دار احیاء التراث العربی، بیروت) جلد 9، ص 81)
(2) ارشاد باری تعالیٰ ہے:

البقرہ 2 ، 341۔ و يکون الرسول عليکم شهيدا ۔ترجمہ: اور یہ رسول تمہارے گواہ (اور حاضروناظر ہیں)

علامہ اسماعیل حقی  اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گواہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نور نبوت کےذریعے ہردیندار کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس کے دین کا مرتبہ کیا ہے، اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس حجاب کو بھی جانتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کمال دین سے روک دیا گیا ہے۔ پس آپ امتیوں کے گناہ، ان کے ایمان کی حقیقت، ان کے اعمال، نیکیوں ، برائیوں اور اخلاص ونفاق وغیرہ کو جانتے ہیں۔

(اسماعیل حقی ،امام، روح البیان(دار احیاء التراث العربی ،بیروت) جلد 9،ص 842، عبدالعزیز،محدث دہلوی، علامہ شاہ، تفسیر عزیزی فارسی (طبع دہلوی) جل 1، ص 815)

علامہ امام ابن الحاج فرماتے ہیں:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ملاحظہ فرماتے ہیں ۔ ان کے احوال، نیتوں، عزائم اور خیالات کو جانتے ہیں اور اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور وصال میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور یہ سب کچھ آپ پر عیاں ہے اور اس میں کچھ اخفاء نہیں ہے۔

(ابن الحاج امام، المدخل (دارالکتاب العربی ، بیروت) ج 1،ص 252،احمد بن محمد القسطلانی،امام ، مواہب اللدنیہ مع الزرقانی (طبع مصر 2921ھ) جلد 8، ص 843)

(3)  و جنا بک على هؤلاء شهيدا۔ ترجمہ اور ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے۔ (النساء،4،14)

ان آیات مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد اور شہید کہاگیا ہے۔ ان دونوں کا مصدر شہود اور شہادت ہے۔ آئیے دیکھیں کہ علماء لغت اور ائمہ دین نےا س کا کیا معنی بیان کیا ہے؟

امام راغب اصفہانی (م205ھ) فرماتے ہیں:

الشھود والشھادۃ الحضور مع المشاھدۃ اِماََ بالبصر او بالبصیرۃ والشھادۃ قولُ صادرِ عن علم حصل بمشاھدۃ بصیرۃ او بصرِ واما الشھید فقد یقال للشاھد والمشاھدُ للشئیی وکذا قولہ فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنابک علیٰ ھٰئولآء شھیدا۔

ترجمہ: شہود اور شہادۃ کا معنی مشاہدہ کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔ مشاہدہ آنکھ سے ہو یا بصیرت سے شہادت اس قول کو کہتے ہیں جو آنکھ یا بصیرت کے مشاہدہ سے حاصل ہونے والے علم کی بنا پر صادر ہو، رہا شہید تو وہ گواہ اور شے کا مشاہدہ کرنے والے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہی معنی ہے (جس کا ترجمہ یہ ہے) کیا حال ہوگا ؟ جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے۔

(حسین بن محمد المقلب بالراغب اصفہانی ، المفردات (نورمحمد، کراچی)ص 962۔07)

امام فخر الدین رازی رحمتہ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

(شہادت) ، مشاہدہ، اور شہود کا معنی دیکھنا ہے، جب تم کسی چیز کو دیکھو تو تم کہتے ہو شھدت کذا (میں نے فلاں چیز دیکھی) چونکہ آنکھ کے دیکھنے اور دل کے پہچاننے میں شدید مناسبت ہے، اس دل کی معرفت اور پہچان کو بھی مشاہدہ اور شہود بھی کہا جاتا ہے۔
(محمد بن عمر بن حسین الرازی، امام ، تفسیر کبیر (المطبعۃ المصریہ) جلد 4، ص 311،411)

امام قرطبی (م 176ھ) فرماتے ہیں:

شہادت کی تین شرطیں ہیں جن کے بغیرو ہ مکمل نہیں ہوتی۔ (1) حاضر ہونا ۔(2) جو کچھ دیکھا اسے محفوظ رکھنا، (3) گواہی کا ادا کرنا۔ (محمد بن احمد القرطبی، امام، التذکرہ (المکتبۃ التوفیقیۃ) ص 381)

امام ابوالقاسم قشیری  (م564ھ) فرماتے ہیں:
ومعنی الشاھد الحاضر فکل ماھو حاضر قلبک فھو شاھدلک ۔ (عبدالکریم بن ہوازن، ابوالقاسم الامام، الرسالہ القشیریہ (مصطفیٰ البابی ، مصر) ص 74)

قرآن پاک سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شاہد ہیں اور شاہدکا معنی حاضر ہے جیسے کہ امام قشیری نے فرمایا کہ امام اصفہانی کے مطابق شہادت کا معنی حضور مع المشاہدہ ہے۔ خواہ مشاہدہ سر کی آنکھوں سے ہو یا دل کی بصیرت سے، کہنے دیجئے کہ قرآن پاک کی آیات سے ثابت ہوگیا کہ حضور سید یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حاضر وناظر بنایا ہے۔ اس عقیدے کو اپنی نادانی کی بناء پر کوئی شخص نہیں مانتا تو بے شک نہ مانے لیکن اسے شرک قرار دینے کا کوئی قطعاََ جواز نہیں ہے۔

سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کس کی نسبت سے حاضر و ناظر ہیں؟ اس سے پہلے مستند تفاسیر کے حوالے سے بیان کیا جاچکا ہے ۔ امام رازی اور امام خازن نے فرمایا کہ آپ قیامت کے دن تمام مخلوق پر گواہ ہوں گے، امام ابوسعود نے فرمایا؛ جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے جو امام رازی نے بیان کیا، کیونکہ حدیث شریف میں ہے:

ارسلت الی الخلق۔ ہم تمام مخلوق کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

(مسلم بن الحجاج القشیری، امام، صحیح مسلم شریف (طبع کراچی) جلد 1، ص 991)

مخالفین کہتے ہیں کہ شاہد اور شہید کے الفاظ دوسرے لوگوں کے لیے بھی وارد ہوئے ہیں ، کیا آپ انہیں بھی نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حاضر وناظر مانیں گے؟

 اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہرشاہد اپنی شہادت کے دائرہ کار تک حاضر وناضر رہتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام امت اور تمام مخلوق کے شاہد ہیں، کوئی ایسا شاہد نہیں پیش کیا جاسکتا جس کی شہادت کا دائرہ اتنا وسیع ہو، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کسی کو حاضر وناظر ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں وہ الگ بات ہے کہ جیسے وہابی/دیوبندی دھرم میں انبیاء کو اپنی طرح عام بشر سمجھنے کا مشرکینِ مکہ کا جو عقیدہ رائج ہے وہ ہی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے)۔

(5) النبي اولى بالمؤمنين من انفسهم ۔ (الاحزاب،33،6)

ترجمہ: نبی ان کی جانوں کی نسبت زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان کے زیادہ قریب ہیں۔

(علامہ محمود آلوسی، روح المعانی جلد 12،ص 151)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رح نے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے ۔

پیغمبر نزدیک تراست، بمومناں از ذات ہائے ایشاں۔
(یعنی ! پیغمبر مومنوں کے زیادہ قریب ہیں ان کی ذوات سے بھی)۔ (مدارج النبوۃ ؛ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر) جلد 18)

دیوبندی مکتب فکر کے پہلے امام، قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:
النبي اولى بالمؤمنين من انفسهم ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ نبی نزدیک ہے مومنوں سے بہ نسبت ان کی جانوں کے یعنی ان کی جانیں ان سے اتنی نزدیک نہیں جتنا نبی ان کے نزدیک ہے۔ اصل معنی اولیٰ کے اقرب ہیں۔ (مولوی قاسم نانوتوی، آب حیات (مجتبائی، دہلی) ص 37، ب ایضاََ تحذیر الناس ، ص 01)

کیا یہ قرب صرف صحابہ کرام سے خاص تھا یا قیامت تک آنےوالے تمام مومنوں کو شامل ہے؟ اس سلسلے میں امام بخاری کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ خود کریں۔

مامن مئومن اِلا واَنَا الناسِ بہ فی الدنیا والاخرۃ۔

ہم دنیا اور آخرت میں دوسرے تمام لوگوں کی نسبت ہرمومن کے زیادہ قریب ہیں۔ (امام محمد بن اسماعیل البخاری: صحیح بخاری؛ ج 2، ص 507)

وما ارسلنٰک اِلا رحمۃ للعالمین۔ اے حبیب! ہم نے تمہیں نہیں بھیجا مگر رحمت تمام جہانوں کے لیے۔ (الانبیاء: 12:701)

یہ بھی ارشاد ربانی ہے۔

وما یعلم جنود ربک اِلا ھو۔ (المدثر: 47،13) ۔ ترجمہ: اور تیرے رب کے لشکروں کو وہی جانتا ہے۔

ان آیات کے پیش ِ نظر ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات بے شمار ہیں اور ہمارے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیئے رحمت ہیں، یہ تعلق سمجھنے کے لیئے درج ذیل تصریحات ملاحظہ کریں۔

علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ  اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں؛

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام جہانوں کے لیئے رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ممکنات پر ان کی قابلیتوں کے مطابق جو فیض الٰہی وار د ہوتا ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس فیض کا واسطہ ہیں۔ اسی لیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور سب سے اول پیدا کیا گیا۔

حدیث میںہے: اے جابر! اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا۔ اور یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ دینے والا ہے اور ہم تقسیم کرنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں صوفیاءکرام کا کلام کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔

(علامہ آلوسی ، روح المعانی ج 71، ص 501)

علامہ اسماعیل حقی  (م 7311ھ) تفسیر عرائس البیان کے حوالے سے فرماتے ہیں:

اے دانشور بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اس نے سب سے پہلے حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا کیا، پھر عرش سے لے کر تحت الثریٰ تک تمام مخلوقات کو آپ کے نور کی ایک جز سے پیدا فرمایا: پس آپ کو وجود اور شہود کی طرف بھیجنا ہر موجود کے لیئے رحمت ہے۔ لہٰذا آپ کا موجود ہونا مخلوق کا ہونا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا موجود ہونا وجودِ مخلوق اور تمام مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی رحمت ہیں جو سب کے لیئے کافی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی سمجھا دیا کہ تمام مخلوق قضاء قدرت میں بے روح صورت کی طرح پڑی ہوئی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا انتظار کررہی تھی۔ جب حضور اقدس تشریف لائے تو عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود کی بدولت زندہ ہوگیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات کی روح ہیں۔

(شیخ اسماعیل حقی  ، العلامہ، روح البیان (طبع بیروت) ج 5، ص 825، ب: روزبہان، العلامہ، شیخ: عرائس البیان (طبع لکھنئو) ج2، ص 25)

یہ سلسلہ بشرط وقت جاری رہے گا۔ پہلی قسط کے طور پر مختصراََ یہ آرٹیکل عقیدہ اہلسنت وجماعت برائے حاضر وناظر کی بابت تحریر کیا گیا ہے۔ اسی بلاگ پر مزید پوسٹس پڑھنے کے لیئے حاضر وناظر کے سیکشن پر کلک کریں۔

Updated On 10:16 Am: Sat-Aug-9-2014 – 

مصباح الغات میں لفظ (الشھید،والشھید) کے معنی میں لکھا گیا ہے کہ ۔ حاضر ۔ گواہی میں امانت دار۔ وہ ذات جس کے علم سے کوئی چیز غائب نہ ہو۔ اللہ کی راہ میں مقتول ۔
مزید

لفظ (اشھدَہ) ۔ کےمعنوں میں لکھا ہے کہ ۔ حاضر کرنا۔ گواہی کے معاملہ کو مدد دینا۔

اسی طرح الشھادۃ ۔تشھد۔گواہی طلب کرنا۔ یعنی ساتھ میں ہی التحیات کے حوالے سے ذکر ہے۔ جیسا کہ آپ سکینز میں پڑھ سکتے ہیں ۔

ثابت ہوا کہ شاہد کے لیئے حاضروناظر ہونا ضروری ہے۔جس کو واقعہ کے علم ہو، اپنی آنکھوں دیکھا حال جانتے ہوں۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لیئے تمام امتوں پر شاہد ہیں خصوصی طور پر اس اُمتِ مرحومہ پر۔ آج بھی اور قیامت تک جو بھی مسلمان ہوگا وہ کلمہ میں شہادت دیئے بنا ایمان ہی نہیں لا سکتا، اور شہادت دینے کا مطلب یہی ہے کہ آپ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر شاہد ہیں کہ اور شاہد ، شھدہ سے مشہود ہے یعنی، حاضر وناظر۔

حوالہ جات درج کیئے جاچکے ہیں

دی وهابیانو، دیوبندو! خپل کتاب مصباح اللغات مطابق دي ټکي (شاهد) مطلب دا دئ چه کم واقعه په خپل موجودګئ کي کتلي وی او ګواهی هُم هغه ورکړئ شی چه چا په خپلو سترګو لیدلی وی.

نو مراد دا شو چه کلمه شهادت مطلب دا وی چه ایمان راوړونکئ ده نبی علیه السلام باندئ حاضر او ناظر وګنړلو نو هله ئي ایمان مکمل شولو.ګني شهادت ځنګه شو چه نبی خو ائ لیدلئ نه دئ او نبی علیه السلام په حقله وئیلي نه شي چه هغو ته پته دا دي امت او دي ټولو انبیاءو امتونو حالونه ورته دي الله ترمخه معلوم دی او ستاسو ئي مشاهده کونکي ئی.

دي نبی علیه السلام دا حاضر او ناظر نه دغه مراد نه وی چه هغه علیه السلام هرځائ موجود دئ بلکه مطلب دغه دئ چه الله ستاسو له دا مرتبه روکړئ ده چه تاسو دا امتونو حالونه او احوالونه داسئ ګورئ لګه خپل دا لاس تله.

نیز داهُم دي الله ترمخه عطا شوئ یو اعزاز دي چه په یو وخت کي ستاسو په ډیرو مقاماتو باندي هم موجودګی ظاهرولي شي.شهادت هغه ورکوے شی چه کُم سړی هرځه په خپلو سترګو لیدلي وی.مزید تفصیلاتو له پاره اردو او دي انګریزي آرتیکل ووائې

 

 

Updated 4:40 PM Sat, Aug-9-2013

Pashto Translation of Passage: 

علامه اسماعیل حقی رحمه الله دي عرائس البیان تفسیر په حقله وائي چه:

ائ دانشور! بیشک چه الله پاک مونګ خبر کړی یو،چه هغه تبارک وتعالي دی ټولو نه اول دی نبی محمد علیه السلام نور پیدا کړو.بیا دا عرشه ترتحت الثری پورئ هرمخلوق ستاسو دي نبی علیه السلام ده نور دي یو جُز نا پیدا کړل.پس ستاسو علیه السلام دي وجود نا شهود تا مبعوث کول دي کلهم موجود له پاره رحمت دئ.او ستاسو علیه السلام موجودګئ ده مخلوق وجود او تمام مخلوقاتو لره سبب ده رحمت شو.پس ستاسو علیه السلام هغسي رحمت ئی چه ټولو لره کافی ده.

خدائ پاک دغه علم هم راکوی چه ټول مخلوقات قدرت ده الله کي بي روح پراته په انتظار دي نبی علیه السلام وه.او چه کله ستاسو علیه السلام تشریف راوړو نو عالم دا ستاسو علیه السلام دي نور له برکته ژوندي شو.زکه چه ستاسو علیه السلام دي ټولو مخلوقاتو رُوح ائ.

تفسیر روح البیان، ماتحت آیت وما ارسلنک الا رحمته اللعالمین، مطبعته العثمانیه، ۱۳۳۱ھ، صفحه رقم،۵۲۸، عربی جلد ۵. بیروت ،لبنان، قاهره ایډیشن

11

 

Scans added click the Button given below to access:

Scans Link Icon

Advertisements

8 thoughts on “Aqeeda e Hazir o Nazir and We Ahlu Sunnah (Urdu)”

  1. سورۃ احزاب ایت 6 النبی اولی بالمومینین من انفسیھم کی تفسیر بریلویوں کے پیر کرم شاہ جو مترجم ھے تفسیر قرطبی کے وہ پیر اس ایت کی تفسیر بلکل الگ کرتے ھے وہ تفسیر ملاحظہ کرنے کے لیے لنک پر کلک کرے اور اصل تفسیر پرھے جو بریلویوں کے پیر کی ترجمہ کی ھوئی ھے
    http://www.hasbunallah.com.au/tafseer-e-qurtubi-urdu/
    اسی طرح تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ دیکھ لے تفسیر ابن کثیر دیکھ لے تفسیر کمالین دیکھ لے سب میں ایت ھذا کا مطلب و مراد یہ ھے کے اللہ فرما رھے ھیں کہ نبی کا حق مومینین کی اپنی جانوں پر جو حق ھے اس سے زیادہ ھے پھر اسی ایت میں اگے اولی کا لفظ رشتے داروں کے لیے بھی لایا ھے کا انکا حق مہاجرین سے زیادہ ھے جو مواخات مدینہ میں بھائی بناے گئے تھے اللہ کے نزدیک بریلوی بدعتی قران کے معنی کو تبدیل کرنے والے اولی کا معنی حاضروناظر کے لیے ایت کو سیاق و سباق سے ھٹا کر کر رھے ھیں اللہ امت مسلمہ کو فتنہ بریلویت سے بچائے اور بریلویوں کو عقل سلیم و شرح صدر نصیب فرمائے آمییییین
    مسلمانوں بس سابقہ تفاسیر جیسے ابن کثیر ابن عباس رضہ قرطبی وغیرہ ملاحظہ کیا کرے جو انتہائی سابقہ و صحیح ھے
    ونعم بالله
    والسلام
    جلالی

    1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

      جلالی صاحب گزارش یہ ہے کہ اُمت کو گمراہ کرنے کوشیش کرنے کی بجائے اپنی جہالت پر نظرِ ثانی کریں، ہم نے جتنے بھی حوالے دیئے ہیں یا تو اُن کو غلط ثابت کریں ورنہ اپنی دین جدید یعنی وہابی / دیو کی بندی دھرم کی وکالت چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں

      آپ کی خرافات اور بکواسات کے جواب میں آپکے ہیں مُلاؤں اور پنڈتوں کی طرف سے جواب ملاحظہ کریں

      1

      آپکے پہلے پنڈت تفسیر مکہ میں مولانا صلاح الدین لکھتے ہیں اسی آیت کی تفسیر میں

      ۔١ نبی اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپکو مومنوں کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حق دار، آپ کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان کے جن مالوں کا مطالبہ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ پر نچھاور کر دیں چاہے انھیں خود کتنی ہی ضرورت ہو ۔ آپ سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں (جیسے حضرت عمر کا واقعہ ہے) آپ ﷺ کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ ﷺ کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں ۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہوگی (فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ) (النساء۔ ٦٥) کے مطابق آدمی مومن نہیں ہوگا۔ اسی طرح جب تک آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی وہ صحیح مومن نہ ہوگا۔

      سوال: اب ذرا یہ بتاؤ پنڈت جلالی صاحب، کہ آپ کے دھرم کے مطابق اب کیا آپ کے مفتی بھی مشرک اور بدعتی ہوگئے قرآن کی تفسیر کو بدلنے میں؟

      2

      آپ کے دیوبندی دھرم کے دوسرے مہاگرو پنڈت مفتی عثمانی کی تفسیر دیکھو جاہل انسان

      ف ٦  مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے اس نور اعظم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ آفتاب نبوت پیغمبر ﷺ ہوئے۔ بنا بریں مومن (من حیث ھو مومن) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لئے حرکت فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پیشتر اس کو پیغمبر ﷺ کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور ــــ اگر اس روحانی تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے بلکہ اس سے بھی بمراتب بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں ” انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ۔” اور ابی بن کعب وغیرہ کی قرآت میں آیت “اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ الخ کے ساتھ وھو اب لھم “کا جملہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلق میں غور کرو تو اس کا حاصل یہ ہی نکلے گا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت و شفقت طبعی اوروں سے بڑھ کر ہے لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے؟ یقینا امتی کا ایمان و روحانی وجود نبی کی روحانیت کبریٰ کا ایک پر تو اور ظل ہوتا ہے اور شفقت و تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اسکا نمونہ نہیں مل سکتا۔ باپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا کی عارضی حیات عطا فرمائی تھی۔ لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت و تربیت فرماتے ہیں جو خود ہمارا نفس بھی اپنی نہیں کر سکتا۔ اسی لئے پیغمبر ﷺ کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ “نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان و مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی کا چلتا ہے۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنا روا نہیں اور اگر نبی حکم دے دے تو فرض ہو جائے۔” ان ہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں ۔

      سوال: اب کیا کہتے ہو جالی جلالی؟ تمہارے پیروں کا بھی یہی کہنا ہے۔ اب گر تمہارے بیوقوف وہابی دیوبندی دماغ کی خناسی میں اپنے پیرومرشد نہی، پیرو مرشد تو ہم مسلمانوں میں ہوتا ہے، تمہارے تو پنڈت اور مہاگرو ہوتے ہیں ، تو پہلے اپنے فتوے کی فیکٹری سے ان دو پنڈتوں پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور پھر یہاں اپنی بیہودہ جاہلانہ طفلانہ اور عامیانہ بکواس کرو

      3

      تمہارے تیسرے مشہور پنڈت فتح محمد اپنی تفسیر ابن کثیر کے ترجمے میں جو کہ دارالسلام یہودی عرب سے چھپی ہے۔ کچھ ایسے لکھا ہے

      تکمیل ایمان کی ضروری شرط
      چونکہ رب العزت وحدہ لاشریک کو علم ہے کہ حضور ﷺ اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں ۔ اس لئے آپ کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیاردیا۔ یہ خود اپنے لئے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول کو بدل وجان قبول کرتے جائیں جیسے فرمایا آیت ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀) 4- النسآء:65)، تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو بدل وجان بکشادہ پیشانی قبول نہ کرلیں ۔ صحیح حدیث شریف میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اسکی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا یارسول اللہ آپ مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں عمر جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔ یہ سن کر جناب فاروق ؓ فرمانے لگے قسم اللہ کی یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں آپ نے فرمایا اب ٹھیک ہے ۔ بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں ۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو آیت ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Č۝) 33- الأحزاب:6) سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مرجائے اور اسکے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس کے قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے۔ پھر فرماتا ہے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود کی اپنی مائیں ۔ ہاں ماں کے اور احکام مثلا خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھاہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ حکم کا اثبات ۔ حضرت معاویہ ؓ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المومنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضور ﷺ کو ابو المومنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ خیال رہے کہ ابو المومنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آجائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ نہیں کہہ سکتے امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی قرأت میں امھاتھم کے بعد یہ لفظ ہیں وھو اب لھم یعنی آپ ان کے والد ہیں ۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔ اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے لے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجاکرے۔ آپ تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرماتے تھے (نسائی وغیرہ ) میں دوسرا قول یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت ( مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40؀ۧ) 33- الأحزاب:40) حضور تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں ۔ اس سے پہلے رسول کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی ﷺ نے بھائی چارہ کرادیا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام ؓ کا بیان ہے کہ یہ حکم خاص ہم انصاری ومہاجرین کے بارے میں اترا ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس مال کچھ نہ تھا یہاں آکر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ حضرت ابو بکر کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ حضرت عمر ؓ کا فلاں کے ساتھ۔ حضرت عثمان کا ایک زرقی شخص کے ساتھ ۔ خود میرا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہوجاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لئے بھی ہوگیا۔ پھر فرماتا ہے ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو ۔ پھر فرماتا ہے اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لئے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا واللہ اعلم۔

      سوال؛ یہاں کتنے معنی بدلے ہیں تمہارے وہابی/دیوبندی سلفی عرف سفلی دھرم کے پنڈتوں نے مہاشے؟ مثل مشہور ہے کہ وہابی بولتا ہے لیکن سمجھتا نہیں، وہ اس لیئے کہ خدا نے ابوجہل کی نسل کو دین سمجھنے کی توفیق نہیں دی کبھی۔

      4
      یہی فتح محمد آگے کیا لکھ رہا ہے جالی صاحب وہ پڑھو اور اپنا منہ دھو کر آؤ

      ۱۔ البخاری وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی مومن نہیں ہے مگر میں دنیا آخرت میں تمام لوگوں سے میں اس کا زیادہ قریب ہوں ۔ اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم سو جس مومن نے مال چھوڑا اس کا خفیہ دوست ہو یا اس نے قرض چھوڑا جس میں کسی کا نقصان نہیں تھا ۔ تو اس کو چاہیے کہ میرے پاس آجائے میں اس کا مولی ہوں۔
      نبی کریم ﷺ کا امت سے محبت وشفقت
      ۲۔ الطیالسی وابن مردویہ نے ابوہریر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فوت ہوجاتاتھا اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آتے آپ پوچھتے کہ اس نے مال چھوڑا ہے جو اس کے قرض کو کافی ہو اگر لوگ بتاتے یہ مال نہیں چھوڑا ہے تو آپ فرماتے تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھو ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہم پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ نے فرمایا میں مومنین کے ان کی ذاتوں سے زیادہ قریب ہوں جس نے قرض چھوڑا تو میرے ذمہ ہے اور جو کوء مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے وارث کا ہیں ۔
      ۳۔ احمد وابو داوٗد وابن مردویہ نے جابر رضی اللہ عہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے میں ہر مومن کے ساتھ اس کی جان سے بھی زیاہد اس کا قریبی ہوں جو آدمی مرگیا اور قرضہ چھوڑ گیا تو وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے ۔
      ٤۔ ابن ابی شیبہ واحمد ولنسائی نے بردہ ؓ سے روایت کیا کہ میں علی ؓ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شریک ہوا میں نے ان سے کچھ زیادتی دیکھی جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں علی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے شان میں تنقید کی میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو متغیر دیکھا اور فرمایا اے بریدہ کیا میں ایمان والوں پر ان کی ذاتوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ آپ نے فرمایا میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے ۔
      ۵۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وازواجہ امہتہم کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اس وجہ سے ان کے حق کو عظیم جانو۔
      ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں
      ٦۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وازواجہ امہتہم سے مراد ہے کہ ازواج مطہرات حرمت کے لحاظ سے ان کی مائیں ہیں کسی مومن کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بیویوں میں سے کسی سے نکاح کرے ان کی زندگی میں اگر وہ طلاق دے دیں اور نہ ان کی موت کے بعد ان سے کرسکتا ہے یہ ازواج مطہرات مومنوں پر اس طرح حرام ہیں جس طرح ان کی مائیں حرام ہیں۔
      ۷۔ ابن سعد وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے ان سے کہا اے میری ماں تو انہوں نے فرمایا میں تمہارے مردوں کی ماں ہوں اور تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔
      ۸۔ ابن سعد نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں تم میں سے مردوں اور عورتوں کی ماں ہوں۔
      ۹۔ عبدالرزاق نے وسعد بن منصور واسحق بن راہویہ وابن المنذر والبیقہی نے بجالہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک لڑکے پاس سے گزرے اور وہ مصحف (یعنی قرآن مجید) سے پڑھ رہا تھا۔ آیت النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہتہم عمر نے فرمایا اے لڑکے وہو اب لہم کو مٹادے ۔ اس نے کہاکہ یہ ابی کا مصحف ہے حضرت عمر ان کے پاس تشریف لے گئے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے قرآن غافل کرتا تھا اور آپ کو بازار میں تالیاں غافل کرتی ہیں۔
      ۱۰۔ الفریابی وابن مردویہ والحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ وہ اس آتی کو یوں پڑھتے تھے آتی النبی اولی بالمونین من انفسہم وازواجہ امہتہم یہ نبی مومنوں کے ساتھ خوف ان کے نفسوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور ان کے باپ ہیں اور نبی کی ہویا مومنوں کی باتیں ہیں۔
      ۱۱۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہتہم
      ۱۲۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں تھا آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وہوا ٰت لہم ۔
      ۱۳۔ ابن جریر نے حسن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں تھا آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وہو اٰت لہم ۔
      ۱٤۔ ابن جریر نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمہجرین اور اللہ کی کتاب میں دوسرے مومنوں اور مہاجروں کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں یعنی مسلمان ایک زمانے میں اس حال میں رہے کہ وہ ہجرت کے ذریعے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے ۔ جبکہ اعرابی مسلمان کسی مہاجر کا وارث نہ بنتاتھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملادیا تو میراث کی وجہ سے جاری ہوگئی ۔
      ۱۵۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت الا انتفعلوا الی اولیئکم معروفا ۔ مگر یہ کہتم اپنے دوستوں سے یعنی مہاجر بھائیوں سے کسی مومن سے سلوک کرنا چاہو تو جاء زہے یعنی تم ان حلیفوں کے حق میں وصیت کرتے ہوجن کے درمیان نبی ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان دوستی یعنی بھائی چارہ قائم کردیا تھا۔
      ۱٦۔ ابن المنذر وابن جریر وابن ابی حاتم نے محمد بن علی بن الحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروف کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی کہ مسلمان یہودی اور نصرانی کے حق میں وصیت کرسکتا ہے ۔
      ۱۷۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا سے مراد ہے کہ اہل شرک کے ساتھ جو رشتہ داری ہے معروفا یعنی وصیت کرنا جائز ہے اور ان کے لیے میراث نہیں ہوگی آیت کان ذلک فی الکتاب مسطورا ۔ یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے اور بعض قراءت میں یوں ہے کان ذلک فی الکتب مکتوبا ۔ اور یہ اللہ کے پاس لکھا ہوا ہے کہ مشرک کسی مومن کا وارث نہیں ہوگا۔
      ۱۸۔ عبدالرزاق نے قتادہ اور حسن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا سے مراد ہے کہ اس صورت میں کہ وہ تیرے کوئی رشتہ دار نہ ہو اور وہ تیرے دین کے خلاف ہو تو وہ اس کے حق میں وصیت کرے اور وہ تیرا ولی نسبت میں اور دین میں تیرا ولی نہیں۔
      انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا گیا

      تکمیل ایمان کی ضروری شرط
      چونکہ رب العزت وحدہ لاشریک کو علم ہے کہ حضور ﷺ اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں ۔ اس لئے آپ کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیاردیا۔ یہ خود اپنے لئے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول کو بدل وجان قبول کرتے جائیں جیسے فرمایا آیت ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀) 4- النسآء:65)، تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو بدل وجان بکشادہ پیشانی قبول نہ کرلیں ۔ صحیح حدیث شریف میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اسکی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا یارسول اللہ آپ مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں عمر جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔ یہ سن کر جناب فاروق ؓ فرمانے لگے قسم اللہ کی یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں آپ نے فرمایا اب ٹھیک ہے ۔ بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں ۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو آیت ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Č۝) 33- الأحزاب:6) سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مرجائے اور اسکے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس کے قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے۔ پھر فرماتا ہے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود کی اپنی مائیں ۔ ہاں ماں کے اور احکام مثلا خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھاہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ حکم کا اثبات ۔ حضرت معاویہ ؓ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المومنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضور ﷺ کو ابو المومنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ خیال رہے کہ ابو المومنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آجائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ نہیں کہہ سکتے امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی قرأت میں امھاتھم کے بعد یہ لفظ ہیں وھو اب لھم یعنی آپ ان کے والد ہیں ۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔ اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے لے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجاکرے۔ آپ تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرماتے تھے (نسائی وغیرہ ) میں دوسرا قول یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت ( مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40؀ۧ) 33- الأحزاب:40) حضور تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں ۔ اس سے پہلے رسول کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی ﷺ نے بھائی چارہ کرادیا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام ؓ کا بیان ہے کہ یہ حکم خاص ہم انصاری ومہاجرین کے بارے میں اترا ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس مال کچھ نہ تھا یہاں آکر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ حضرت ابو بکر کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ حضرت عمر ؓ کا فلاں کے ساتھ۔ حضرت عثمان کا ایک زرقی شخص کے ساتھ ۔ خود میرا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہوجاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لئے بھی ہوگیا۔ پھر فرماتا ہے ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو ۔ پھر فرماتا ہے اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لئے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا واللہ اعلم۔

      یہ تو تھا تفسیر درمنثور اور ابن کثیر کا فتح محمد کا چھاپا کارنامہ۔

      اب تمہاری اسی بکواس کو دوبار رد کرنے کے لیئے تفسیر تیسیر القران جو کہ تالیف ہے عبدالرحمن کیلانی وہ پنڈت کیا لکھتے ہیں اور اس سے کونسے معنی نکلتے ہیں وہ اپنے ہی کسی مشہور پنڈت سے پوچھ لینا

      [٨] آپ مومنوں کے ان کی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں:۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ۔ ایک مطلب یہ ہے کہ تم خود بھی اپنے اتنے خیر خواہ نہیں ہوسکتے جتنا کہ نبی تمہارا خیر خواہ ہے۔ پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی لحاظ سے آپ کی تمام امت کو آپ ہی کی وساطت سے ہدایت کا راستہ ملا جس میں ہماری دنیوی اور اخروی فلاح ہے۔ آپ ہمارے معلم بھی ہیں اور مربی بھی، اس لحاظ سے آپ تمام امت کے روحانی باپ بھی ہوئے اور روحانی استاد بھی۔ اور دنیوی پہلو میں آپ کی سب سے زیادہ خیرخواہی درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے۔
      سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جتنے بھی مومن ہیں میں ان سب کا دنیا اور آخرت کے کاموں میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار (اور خیر خواہ) ہوں ۔ جو مومن مرتے وقت مال و دولت چھوڑ جائے اس کے وارث اس کے عزیز و اقارب ہوں گے جو بھی ہوں اور اگر وہ کچھ قرضہ یا چھوٹے چھوٹے بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا کام چلانے والا ہوں” (بخاری۔ کتاب التفسیر)
      خ تمام لوگوں سے بڑھ کر آپ سے محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا:۔ اور آپ کی اس حد درجہ کی خیرخواہی کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان بھی آپ کا دوسرے سب لوگوں سے بڑھ کر احترام کریں اور ان کی اطاعت کریں تاکہ آپ کی تعلیم و تربیت سے پوری طرح فیض یاب ہوسکیں اور اس پہلو پر درج ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں:
      ١۔ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو میری محبت، اولاد، والدین اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو” (مسلم، کتاب الایمان۔ باب وجوب محبۃرسول اللہ )
      ٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: کہ ”کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہش نفس کو اس چیز کے تابع نہ کر دے جو میں لایا ہوں” (شرح السنتہ۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔ فصل ثانی)
      ٣۔ سیدنا عبداللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ تھے اور آپ سیدنا عمر کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر ؓ کہنے لگے: یارسول اللہ آپ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، تم مومن نہیں ہوسکتے” سیدنا عمر نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں” آپ نے فرمایا: ”اب اے عمر!” (یعنی اب تم صحیح مسلم ہو) (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کان یمین النبی )

      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      یعنی ثابت ہوا کہ تم بکواس کر رہے تھے جبکہ تمہارے اپنے پنڈت اس کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں اب ذرا قدیم تفاسیر کی طرف آجائیں، تم نے تفسیر ابن عباس کی بات کی اور پیر کرم شاہ الازہر رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر کا حوالہ دیا، پہلی بات تو یہ ہے کہ تفسیر ہر بندہ الگ ہی کرتا ہے جاہل گستاخ رسول، تجھے زندگی میں کبھی اپنی فیبریکیٹد تفسیر اور ترمیم شدہ دھرم سے نکل کر پڑھنے کا اتفاق ہوتا تو سمجھ آتا کہ اوپر کیا بات کی گئی ہے۔ تم نے اس کابھی جواب نہیں دیا کہ تمہارے ہی مولوی قاسم نانوتوی نے بھی وہی کہا ہے جو کہ پیر کرم شاہ الازہر نے اپنے الفاظ میں تحریر کیا ، اور ہاں اس کے لیئے کسی ویب سائٹ پر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ لے پیرکرم شاہ صاحب نے جو کہا ہے وہ بھی سکینز کے لنک میں پڑھ لے

      تم جماعت منافقین کا کام ہی یہی ہے ہر چیز کو متن سے الگ کر کے اور لفظی معنوں میں اپنے پیشروؤں یعنی یہودی اور عیسائیوں کی طرح طرزِ عمل اختیار کرتے ہو۔

      تمہارا پنڈت قاسم نانوتوی، (نام بھی ہندوانہ ہیں)، نے لکھا کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ نبی نزدیک ہے مومنوں سے بہ نسبت ان کی جانوں کے یعنی ان کی جانیں ان سے اتنی نزدیک نہیں جتنا نبی ان کے نزدیک ہے۔ اصل معنی اولیٰ کے اقرب ہیں۔ حوالہ تحذیر الناس، اور مجتبائی،دہلی، ص 37 اور 1

      اب آتے ہیں تمہاری جہالت پر کہ تم نے کہا کہ معنی کو ہم بریلویوں نے تبدیل کیا؟ تو اگر جہالت کا کوئی عالمی ریکارڈ ہوتا مفتی جلالی صاحب تو تیرے پچھواڑے پر دینا تھا ہم نے۔ کیونکہ جاہل نسل اپنی جہالت اور بغض میں تم اتنے اندھے ہو کہ تم نے پورا آرٹیکل نہیں پڑھا، لعنی انسان، اوپر سوال ہوا ہے کہ مخالفین یعنی تمہاری نجدی نسل کہتے ہیں کہ شاہد اور شہید کے الفاظ دوسرے لوگوں کے لیئے بھی وارد ہوئے ہیں، کیا آپ انہیں بھی نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح حاضر ناظر مانیں گے؟

      تواس گندی گھٹیا نسل کے جواب میں یہ تفصیل بیان ہوئی ہے جس کو تم نے اپنی فطرت کے مطابق انتہائی جہالت ، بدکردار اور منافقت سے آیت 6 پر اپنی جاہلانہ ریمارکس دیئے۔ پہلے جا اور جا کر شیخ اسماعیل حقی رح، شیح محدث عبدالحق دہلوی، شیخ محدث عبدالعزیز دہلوی، شاہ ولی اللہ دہلوی اور دیگر کی تفاسیر اور سکینز کا جواب لا۔ یہاں امت کو گمراہ کرنے کا تجھ جیسے منافقین کے لیئے کوئی چانس نہیں۔

      نیچے دیئے گئے لنک کو کلک کرو اور تمام سکینز بشمول ابن عباس، تفسیر جلالین مطبوعہ دار ابن کثیر، وغیرہ دیکھ

      نیز تو نے پیر کرم شاہ صاحب پر تو فالتو ہی اپنی جہالت میں بھونکا ورنہ تو یہی تفسیر سب نے کی ہے۔ اور اس آرٹیکل میں شاہد اور شہود کے معنی کو قرآن کی آیات سے ثابت کیا گیا ہے۔ جیسا اوپر لکھا ہوا ہےکہ شیخ اسماعیل حقی اور علامہ زبیدی جیسے مفسرانِ قرآن کی کتب کا سکین دیا گیا ہے جسکا تیرے دھرم اور گندی نجس پلید وہابی کھوپڑی میں کوئی جواب نہیں آسکا اور الٹا، وہ جو سوال کیا گیا تھا اس کے تناظر میں یہی بتایا ہے کہ چونکہ نبی مومنوں کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے اور قرآن میں یہ آیت ہے کہ آپ کو شاہد بنایا گیا ہے تمام امتوں کے احوال پر، تو جب نبی تمام مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوگئے تو یہ بھی ثبوت ہوا کہ آپ حاضر و ناظر ہیں کیونکہ شہادت وہی دیتا ہے جو واقعہ کو اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ سکے۔

      اب تم نے اپنی جہالت میں اس کو نجدی فطرت کے عین مطابق، اعتراض کرنا ہی تھا، تو انتہائی جاہلانہ بھونڈا اور بکواس اعتراض کیا۔ اس لیئے پہلے آنکھیں کھول کر پڑھ لیا کرو۔ آئندہ ایسی ہی بکواس کرنی ہو تو فیس بک گروپ کا لنک مین پیج پر دیا ہے وہاں آؤ ، تمہاری اس سے بھی بہتریں خاطر کریں گے۔

      اور ہاں کچھ کہنے سے پہلے شیخ اسماعیل حقی، کے ریفرنسس کا جواب پہلے لانا۔

      احقر مجذوب القادری

      https://c47e86d39286913c46137574281873926df103c7.googledrive.com/host/0B8z_2vr4j6TFV000U1RSaHhtZUU/

  2. بریلویوں نے اپنے خود ساختہ عقیدہ حاضر و ناظر کو اوپر جن جن آیات قرآنی سے ثابت کررھے ھیں وہ سب سیاق و سباق اور شان نزول سے ھٹ کر کیا ھے جبکہ انھی آیات کا معنی و مفہوم سابقہ مانی ھوئی تفاسیر جیسے تفسیر ابن کثیر ابن عباس رضہ تفسیر قرطبی ,جلالین جیسی سے بلکل مختلف ھیں
    اگر ان آیات سے حاضر و ناظر مراد ھوتا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول ھیں آقا مدنی صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ قرآن کا معنی و مفہوم سیکھا ھے وہ بھی حاضر و ناظر ھوناثابت کرتے جو کے نہیں کیا کیوں کہ ان آیات کا معنی و مفہوم وہی ھے جو انہوں نے اپنی تفسیر میں کیا
    دوسری دلیل یہ ھے کہ اللہ نے سورۃال عمران پارہ 3 آیت 44 میں اپنے محبوب علیہ الصلاۃ و اسلام کو مخاطب کر کے فرما رھے ہے کہ ترجمہ یہ خبر غیب کی خبروں میں سے ھے جسے ھم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ھے تو ان کے پاس نہ تھا جبکہ وہ اپنی قلمیں ڈال رھے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت انکے پاس تھا
    دوسری جگہ سورۃ یوسف آیت 102 میں اللہ فرماتا ھے کہ ترجمہ یہ غیب کی خبروں میں سے ھے جس کی ھم تیری طرف وحی کررھے ھے تو تو انکے پاس نہ تھا جبکہ انہوں نے اپنی ٹھان لی تھی اور وہ فریب کرنے لگے تھے
    سورۃ قصص آیات 44-46 میں بھی اللہ حضور علیہ الصلاۃ و السلام کو مخاطب کر کے کہتے ھیں کہ ترجمہ طور کی جانب کہ ھم نے موسی کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی نہ تو توموجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا لیکن ھم نے بہت سے زمانے پیدا کیے جن پر لمبی مدتے گزر گئی اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میںسے تھا کہ ان کے سامنے ھماری آیتوں کی تلاوت کرتا الخ
    یہ بتائی گئی آیات کا معنی و مفہوم تفسیر ابن کثیر ابن عباس رضہ قرطبی میں ملاحظہ فرما لی جائے توآپکومعلوم ھوجائے گا کہ اللہ صاف حضور صہ کا حاضر و نا ظر ھونے کا رد کررھے ھیں
    اسلام میں پھیلی دلیل قرآن ھے جس سےصاف ظاہر ھے کہ حضور صہ حا ضر و ناظر نہیں ھے
    بس بریلویوں کے علماء یہودیوں کی طرح قرآن کے معنی و مفہوم کو تبدیل کر کے اپنا عقیدہ ثابت کررھےھے جو کے ٹھیک نہیں بس گنے چنے انکے عالم ٹھیک ھو تو ھو ورنہ زیادہ علماء سوءھیں
    والسلام

    1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

      جلالی صاحب گزارش یہ ہے کہ اُمت کو گمراہ کرنے کوشیش کرنے کی بجائے اپنی جہالت پر نظرِ ثانی کریں، ہم نے جتنے بھی حوالے دیئے ہیں یا تو اُن کو غلط ثابت کریں ورنہ اپنی دین جدید یعنی وہابی / دیو کی بندی دھرم کی وکالت چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں

      آپ کی خرافات اور بکواسات کے جواب میں آپکے ہیں مُلاؤں اور پنڈتوں کی طرف سے جواب ملاحظہ کریں

      1

      آپکے پہلے پنڈت تفسیر مکہ میں مولانا صلاح الدین لکھتے ہیں اسی آیت کی تفسیر میں

      ۔١ نبی اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپکو مومنوں کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حق دار، آپ کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان کے جن مالوں کا مطالبہ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ پر نچھاور کر دیں چاہے انھیں خود کتنی ہی ضرورت ہو ۔ آپ سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں (جیسے حضرت عمر کا واقعہ ہے) آپ ﷺ کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ ﷺ کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں ۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہوگی (فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ) (النساء۔ ٦٥) کے مطابق آدمی مومن نہیں ہوگا۔ اسی طرح جب تک آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہوگی وہ صحیح مومن نہ ہوگا۔

      سوال: اب ذرا یہ بتاؤ پنڈت جلالی صاحب، کہ آپ کے دھرم کے مطابق اب کیا آپ کے مفتی بھی مشرک اور بدعتی ہوگئے قرآن کی تفسیر کو بدلنے میں؟

      2

      آپ کے دیوبندی دھرم کے دوسرے مہاگرو پنڈت مفتی عثمانی کی تفسیر دیکھو جاہل انسان

      ف ٦  مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے اس نور اعظم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ آفتاب نبوت پیغمبر ﷺ ہوئے۔ بنا بریں مومن (من حیث ھو مومن) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لئے حرکت فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پیشتر اس کو پیغمبر ﷺ کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور ــــ اگر اس روحانی تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے بلکہ اس سے بھی بمراتب بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں ” انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ۔” اور ابی بن کعب وغیرہ کی قرآت میں آیت “اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ الخ کے ساتھ وھو اب لھم “کا جملہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلق میں غور کرو تو اس کا حاصل یہ ہی نکلے گا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت و شفقت طبعی اوروں سے بڑھ کر ہے لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے؟ یقینا امتی کا ایمان و روحانی وجود نبی کی روحانیت کبریٰ کا ایک پر تو اور ظل ہوتا ہے اور شفقت و تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اسکا نمونہ نہیں مل سکتا۔ باپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیا کی عارضی حیات عطا فرمائی تھی۔ لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت و تربیت فرماتے ہیں جو خود ہمارا نفس بھی اپنی نہیں کر سکتا۔ اسی لئے پیغمبر ﷺ کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ “نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان و مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی کا چلتا ہے۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنا روا نہیں اور اگر نبی حکم دے دے تو فرض ہو جائے۔” ان ہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں ۔

      سوال: اب کیا کہتے ہو جالی جلالی؟ تمہارے پیروں کا بھی یہی کہنا ہے۔ اب گر تمہارے بیوقوف وہابی دیوبندی دماغ کی خناسی میں اپنے پیرومرشد نہی، پیرو مرشد تو ہم مسلمانوں میں ہوتا ہے، تمہارے تو پنڈت اور مہاگرو ہوتے ہیں ، تو پہلے اپنے فتوے کی فیکٹری سے ان دو پنڈتوں پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور پھر یہاں اپنی بیہودہ جاہلانہ طفلانہ اور عامیانہ بکواس کرو

      3

      تمہارے تیسرے مشہور پنڈت فتح محمد اپنی تفسیر ابن کثیر کے ترجمے میں جو کہ دارالسلام یہودی عرب سے چھپی ہے۔ کچھ ایسے لکھا ہے

      تکمیل ایمان کی ضروری شرط
      چونکہ رب العزت وحدہ لاشریک کو علم ہے کہ حضور ﷺ اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں ۔ اس لئے آپ کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیاردیا۔ یہ خود اپنے لئے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول کو بدل وجان قبول کرتے جائیں جیسے فرمایا آیت ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀) 4- النسآء:65)، تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو بدل وجان بکشادہ پیشانی قبول نہ کرلیں ۔ صحیح حدیث شریف میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اسکی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا یارسول اللہ آپ مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں عمر جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔ یہ سن کر جناب فاروق ؓ فرمانے لگے قسم اللہ کی یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں آپ نے فرمایا اب ٹھیک ہے ۔ بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں ۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو آیت ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Č۝) 33- الأحزاب:6) سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مرجائے اور اسکے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس کے قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے۔ پھر فرماتا ہے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود کی اپنی مائیں ۔ ہاں ماں کے اور احکام مثلا خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھاہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ حکم کا اثبات ۔ حضرت معاویہ ؓ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المومنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضور ﷺ کو ابو المومنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ خیال رہے کہ ابو المومنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آجائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ نہیں کہہ سکتے امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی قرأت میں امھاتھم کے بعد یہ لفظ ہیں وھو اب لھم یعنی آپ ان کے والد ہیں ۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔ اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے لے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجاکرے۔ آپ تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرماتے تھے (نسائی وغیرہ ) میں دوسرا قول یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت ( مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40؀ۧ) 33- الأحزاب:40) حضور تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں ۔ اس سے پہلے رسول کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی ﷺ نے بھائی چارہ کرادیا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام ؓ کا بیان ہے کہ یہ حکم خاص ہم انصاری ومہاجرین کے بارے میں اترا ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس مال کچھ نہ تھا یہاں آکر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ حضرت ابو بکر کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ حضرت عمر ؓ کا فلاں کے ساتھ۔ حضرت عثمان کا ایک زرقی شخص کے ساتھ ۔ خود میرا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہوجاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لئے بھی ہوگیا۔ پھر فرماتا ہے ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو ۔ پھر فرماتا ہے اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لئے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا واللہ اعلم۔

      سوال؛ یہاں کتنے معنی بدلے ہیں تمہارے وہابی/دیوبندی سلفی عرف سفلی دھرم کے پنڈتوں نے مہاشے؟ مثل مشہور ہے کہ وہابی بولتا ہے لیکن سمجھتا نہیں، وہ اس لیئے کہ خدا نے ابوجہل کی نسل کو دین سمجھنے کی توفیق نہیں دی کبھی۔

      4
      یہی فتح محمد آگے کیا لکھ رہا ہے جالی صاحب وہ پڑھو اور اپنا منہ دھو کر آؤ

      ۱۔ البخاری وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی مومن نہیں ہے مگر میں دنیا آخرت میں تمام لوگوں سے میں اس کا زیادہ قریب ہوں ۔ اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ کر آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم سو جس مومن نے مال چھوڑا اس کا خفیہ دوست ہو یا اس نے قرض چھوڑا جس میں کسی کا نقصان نہیں تھا ۔ تو اس کو چاہیے کہ میرے پاس آجائے میں اس کا مولی ہوں۔
      نبی کریم ﷺ کا امت سے محبت وشفقت
      ۲۔ الطیالسی وابن مردویہ نے ابوہریر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی مومن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فوت ہوجاتاتھا اس کو نبی ﷺ کے پاس لے آتے آپ پوچھتے کہ اس نے مال چھوڑا ہے جو اس کے قرض کو کافی ہو اگر لوگ بتاتے یہ مال نہیں چھوڑا ہے تو آپ فرماتے تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھو ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہم پر فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ نے فرمایا میں مومنین کے ان کی ذاتوں سے زیادہ قریب ہوں جس نے قرض چھوڑا تو میرے ذمہ ہے اور جو کوء مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے وارث کا ہیں ۔
      ۳۔ احمد وابو داوٗد وابن مردویہ نے جابر رضی اللہ عہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے میں ہر مومن کے ساتھ اس کی جان سے بھی زیاہد اس کا قریبی ہوں جو آدمی مرگیا اور قرضہ چھوڑ گیا تو وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑ گیا تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے ۔
      ٤۔ ابن ابی شیبہ واحمد ولنسائی نے بردہ ؓ سے روایت کیا کہ میں علی ؓ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شریک ہوا میں نے ان سے کچھ زیادتی دیکھی جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں علی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے شان میں تنقید کی میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو متغیر دیکھا اور فرمایا اے بریدہ کیا میں ایمان والوں پر ان کی ذاتوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ آپ نے فرمایا میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے ۔
      ۵۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وازواجہ امہتہم کہ ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اس وجہ سے ان کے حق کو عظیم جانو۔
      ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں
      ٦۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت وازواجہ امہتہم سے مراد ہے کہ ازواج مطہرات حرمت کے لحاظ سے ان کی مائیں ہیں کسی مومن کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بیویوں میں سے کسی سے نکاح کرے ان کی زندگی میں اگر وہ طلاق دے دیں اور نہ ان کی موت کے بعد ان سے کرسکتا ہے یہ ازواج مطہرات مومنوں پر اس طرح حرام ہیں جس طرح ان کی مائیں حرام ہیں۔
      ۷۔ ابن سعد وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے ان سے کہا اے میری ماں تو انہوں نے فرمایا میں تمہارے مردوں کی ماں ہوں اور تمہاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔
      ۸۔ ابن سعد نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں تم میں سے مردوں اور عورتوں کی ماں ہوں۔
      ۹۔ عبدالرزاق نے وسعد بن منصور واسحق بن راہویہ وابن المنذر والبیقہی نے بجالہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک لڑکے پاس سے گزرے اور وہ مصحف (یعنی قرآن مجید) سے پڑھ رہا تھا۔ آیت النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہتہم عمر نے فرمایا اے لڑکے وہو اب لہم کو مٹادے ۔ اس نے کہاکہ یہ ابی کا مصحف ہے حضرت عمر ان کے پاس تشریف لے گئے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے قرآن غافل کرتا تھا اور آپ کو بازار میں تالیاں غافل کرتی ہیں۔
      ۱۰۔ الفریابی وابن مردویہ والحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ وہ اس آتی کو یوں پڑھتے تھے آتی النبی اولی بالمونین من انفسہم وازواجہ امہتہم یہ نبی مومنوں کے ساتھ خوف ان کے نفسوں سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور ان کے باپ ہیں اور نبی کی ہویا مومنوں کی باتیں ہیں۔
      ۱۱۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہتہم
      ۱۲۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں تھا آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وہوا ٰت لہم ۔
      ۱۳۔ ابن جریر نے حسن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ پہلی قراءت میں یوں تھا آیت النبی اولی بالمومنین من انفسہم وہو اٰت لہم ۔
      ۱٤۔ ابن جریر نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المومنین والمہجرین اور اللہ کی کتاب میں دوسرے مومنوں اور مہاجروں کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں یعنی مسلمان ایک زمانے میں اس حال میں رہے کہ وہ ہجرت کے ذریعے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے ۔ جبکہ اعرابی مسلمان کسی مہاجر کا وارث نہ بنتاتھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملادیا تو میراث کی وجہ سے جاری ہوگئی ۔
      ۱۵۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت الا انتفعلوا الی اولیئکم معروفا ۔ مگر یہ کہتم اپنے دوستوں سے یعنی مہاجر بھائیوں سے کسی مومن سے سلوک کرنا چاہو تو جاء زہے یعنی تم ان حلیفوں کے حق میں وصیت کرتے ہوجن کے درمیان نبی ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان دوستی یعنی بھائی چارہ قائم کردیا تھا۔
      ۱٦۔ ابن المنذر وابن جریر وابن ابی حاتم نے محمد بن علی بن الحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروف کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی کہ مسلمان یہودی اور نصرانی کے حق میں وصیت کرسکتا ہے ۔
      ۱۷۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا سے مراد ہے کہ اہل شرک کے ساتھ جو رشتہ داری ہے معروفا یعنی وصیت کرنا جائز ہے اور ان کے لیے میراث نہیں ہوگی آیت کان ذلک فی الکتاب مسطورا ۔ یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے اور بعض قراءت میں یوں ہے کان ذلک فی الکتب مکتوبا ۔ اور یہ اللہ کے پاس لکھا ہوا ہے کہ مشرک کسی مومن کا وارث نہیں ہوگا۔
      ۱۸۔ عبدالرزاق نے قتادہ اور حسن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت الا ان تفعلوا الی اولیئکم معروفا سے مراد ہے کہ اس صورت میں کہ وہ تیرے کوئی رشتہ دار نہ ہو اور وہ تیرے دین کے خلاف ہو تو وہ اس کے حق میں وصیت کرے اور وہ تیرا ولی نسبت میں اور دین میں تیرا ولی نہیں۔
      انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا گیا

      تکمیل ایمان کی ضروری شرط
      چونکہ رب العزت وحدہ لاشریک کو علم ہے کہ حضور ﷺ اپنی امت پر خود ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ مہربان ہیں ۔ اس لئے آپ کو ان کی اپنی جان سے بھی انکا زیادہ اختیاردیا۔ یہ خود اپنے لئے کوئی تجویز نہ کریں بلکہ ہر حکم رسول کو بدل وجان قبول کرتے جائیں جیسے فرمایا آیت ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا 65؀) 4- النسآء:65)، تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو بدل وجان بکشادہ پیشانی قبول نہ کرلیں ۔ صحیح حدیث شریف میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اسکی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا یارسول اللہ آپ مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں عمر جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں ۔ یہ سن کر جناب فاروق ؓ فرمانے لگے قسم اللہ کی یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں آپ نے فرمایا اب ٹھیک ہے ۔ بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں ۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو آیت ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Č۝) 33- الأحزاب:6) سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مرجائے اور اسکے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس کے قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمے ہے۔ پھر فرماتا ہے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات حرمت اور احترام میں عزت اور اکرام میں بزرگی اور عظام میں تمام مسلمانوں میں ایسی ہیں جیسی خود کی اپنی مائیں ۔ ہاں ماں کے اور احکام مثلا خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھاہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ حکم کا اثبات ۔ حضرت معاویہ ؓ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المومنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضور ﷺ کو ابو المومنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ یہ خیال رہے کہ ابو المومنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آجائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ نہیں کہہ سکتے امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔ ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی قرأت میں امھاتھم کے بعد یہ لفظ ہیں وھو اب لھم یعنی آپ ان کے والد ہیں ۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔ اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے لے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجاکرے۔ آپ تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے کی ممانعت فرماتے تھے (نسائی وغیرہ ) میں دوسرا قول یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو باپ نہ کہا جائے کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت ( مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40؀ۧ) 33- الأحزاب:40) حضور تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں ۔ اس سے پہلے رسول کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی ﷺ نے بھائی چارہ کرادیا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام ؓ کا بیان ہے کہ یہ حکم خاص ہم انصاری ومہاجرین کے بارے میں اترا ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس مال کچھ نہ تھا یہاں آکر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ حضرت ابو بکر کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھا۔ حضرت عمر ؓ کا فلاں کے ساتھ۔ حضرت عثمان کا ایک زرقی شخص کے ساتھ ۔ خود میرا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہوجاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لئے بھی ہوگیا۔ پھر فرماتا ہے ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو ۔ پھر فرماتا ہے اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لئے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا واللہ اعلم۔

      یہ تو تھا تفسیر درمنثور اور ابن کثیر کا فتح محمد کا چھاپا کارنامہ۔

      اب تمہاری اسی بکواس کو دوبار رد کرنے کے لیئے تفسیر تیسیر القران جو کہ تالیف ہے عبدالرحمن کیلانی وہ پنڈت کیا لکھتے ہیں اور اس سے کونسے معنی نکلتے ہیں وہ اپنے ہی کسی مشہور پنڈت سے پوچھ لینا

      [٨] آپ مومنوں کے ان کی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں:۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ۔ ایک مطلب یہ ہے کہ تم خود بھی اپنے اتنے خیر خواہ نہیں ہوسکتے جتنا کہ نبی تمہارا خیر خواہ ہے۔ پھر اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک دینی دوسرا دنیوی۔ دینی لحاظ سے آپ کی تمام امت کو آپ ہی کی وساطت سے ہدایت کا راستہ ملا جس میں ہماری دنیوی اور اخروی فلاح ہے۔ آپ ہمارے معلم بھی ہیں اور مربی بھی، اس لحاظ سے آپ تمام امت کے روحانی باپ بھی ہوئے اور روحانی استاد بھی۔ اور دنیوی پہلو میں آپ کی سب سے زیادہ خیرخواہی درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے۔
      سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جتنے بھی مومن ہیں میں ان سب کا دنیا اور آخرت کے کاموں میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار (اور خیر خواہ) ہوں ۔ جو مومن مرتے وقت مال و دولت چھوڑ جائے اس کے وارث اس کے عزیز و اقارب ہوں گے جو بھی ہوں اور اگر وہ کچھ قرضہ یا چھوٹے چھوٹے بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں میں ان کا کام چلانے والا ہوں” (بخاری۔ کتاب التفسیر)
      خ تمام لوگوں سے بڑھ کر آپ سے محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا:۔ اور آپ کی اس حد درجہ کی خیرخواہی کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ تمام مسلمان بھی آپ کا دوسرے سب لوگوں سے بڑھ کر احترام کریں اور ان کی اطاعت کریں تاکہ آپ کی تعلیم و تربیت سے پوری طرح فیض یاب ہوسکیں اور اس پہلو پر درج ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں:
      ١۔ سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو میری محبت، اولاد، والدین اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو” (مسلم، کتاب الایمان۔ باب وجوب محبۃرسول اللہ )
      ٢۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: کہ ”کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہش نفس کو اس چیز کے تابع نہ کر دے جو میں لایا ہوں” (شرح السنتہ۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔ فصل ثانی)
      ٣۔ سیدنا عبداللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ تھے اور آپ سیدنا عمر کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر ؓ کہنے لگے: یارسول اللہ آپ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، تم مومن نہیں ہوسکتے” سیدنا عمر نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اب آپ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں” آپ نے فرمایا: ”اب اے عمر!” (یعنی اب تم صحیح مسلم ہو) (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کان یمین النبی )

      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      یعنی ثابت ہوا کہ تم بکواس کر رہے تھے جبکہ تمہارے اپنے پنڈت اس کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں اب ذرا قدیم تفاسیر کی طرف آجائیں، تم نے تفسیر ابن عباس کی بات کی اور پیر کرم شاہ الازہر رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر کا حوالہ دیا، پہلی بات تو یہ ہے کہ تفسیر ہر بندہ الگ ہی کرتا ہے جاہل گستاخ رسول، تجھے زندگی میں کبھی اپنی فیبریکیٹد تفسیر اور ترمیم شدہ دھرم سے نکل کر پڑھنے کا اتفاق ہوتا تو سمجھ آتا کہ اوپر کیا بات کی گئی ہے۔ تم نے اس کابھی جواب نہیں دیا کہ تمہارے ہی مولوی قاسم نانوتوی نے بھی وہی کہا ہے جو کہ پیر کرم شاہ الازہر نے اپنے الفاظ میں تحریر کیا ، اور ہاں اس کے لیئے کسی ویب سائٹ پر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ لے پیرکرم شاہ صاحب نے جو کہا ہے وہ بھی سکینز کے لنک میں پڑھ لے

      تم جماعت منافقین کا کام ہی یہی ہے ہر چیز کو متن سے الگ کر کے اور لفظی معنوں میں اپنے پیشروؤں یعنی یہودی اور عیسائیوں کی طرح طرزِ عمل اختیار کرتے ہو۔

      تمہارا پنڈت قاسم نانوتوی، (نام بھی ہندوانہ ہیں)، نے لکھا کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ نبی نزدیک ہے مومنوں سے بہ نسبت ان کی جانوں کے یعنی ان کی جانیں ان سے اتنی نزدیک نہیں جتنا نبی ان کے نزدیک ہے۔ اصل معنی اولیٰ کے اقرب ہیں۔ حوالہ تحذیر الناس، اور مجتبائی،دہلی، ص 37 اور 1

      اب آتے ہیں تمہاری جہالت پر کہ تم نے کہا کہ معنی کو ہم بریلویوں نے تبدیل کیا؟ تو اگر جہالت کا کوئی عالمی ریکارڈ ہوتا مفتی جلالی صاحب تو تیرے پچھواڑے پر دینا تھا ہم نے۔ کیونکہ جاہل نسل اپنی جہالت اور بغض میں تم اتنے اندھے ہو کہ تم نے پورا آرٹیکل نہیں پڑھا، لعنی انسان، اوپر سوال ہوا ہے کہ مخالفین یعنی تمہاری نجدی نسل کہتے ہیں کہ شاہد اور شہید کے الفاظ دوسرے لوگوں کے لیئے بھی وارد ہوئے ہیں، کیا آپ انہیں بھی نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح حاضر ناظر مانیں گے؟

      تواس گندی گھٹیا نسل کے جواب میں یہ تفصیل بیان ہوئی ہے جس کو تم نے اپنی فطرت کے مطابق انتہائی جہالت ، بدکردار اور منافقت سے آیت 6 پر اپنی جاہلانہ ریمارکس دیئے۔ پہلے جا اور جا کر شیخ اسماعیل حقی رح، شیح محدث عبدالحق دہلوی، شیخ محدث عبدالعزیز دہلوی، شاہ ولی اللہ دہلوی اور دیگر کی تفاسیر اور سکینز کا جواب لا۔ یہاں امت کو گمراہ کرنے کا تجھ جیسے منافقین کے لیئے کوئی چانس نہیں۔

      نیچے دیئے گئے لنک کو کلک کرو اور تمام سکینز بشمول ابن عباس، تفسیر جلالین مطبوعہ دار ابن کثیر، وغیرہ دیکھ

      نیز تو نے پیر کرم شاہ صاحب پر تو فالتو ہی اپنی جہالت میں بھونکا ورنہ تو یہی تفسیر سب نے کی ہے۔ اور اس آرٹیکل میں شاہد اور شہود کے معنی کو قرآن کی آیات سے ثابت کیا گیا ہے۔ جیسا اوپر لکھا ہوا ہےکہ شیخ اسماعیل حقی اور علامہ زبیدی جیسے مفسرانِ قرآن کی کتب کا سکین دیا گیا ہے جسکا تیرے دھرم اور گندی نجس پلید وہابی کھوپڑی میں کوئی جواب نہیں آسکا اور الٹا، وہ جو سوال کیا گیا تھا اس کے تناظر میں یہی بتایا ہے کہ چونکہ نبی مومنوں کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوتا ہے اور قرآن میں یہ آیت ہے کہ آپ کو شاہد بنایا گیا ہے تمام امتوں کے احوال پر، تو جب نبی تمام مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوگئے تو یہ بھی ثبوت ہوا کہ آپ حاضر و ناظر ہیں کیونکہ شہادت وہی دیتا ہے جو واقعہ کو اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ سکے۔

      اب تم نے اپنی جہالت میں اس کو نجدی فطرت کے عین مطابق، اعتراض کرنا ہی تھا، تو انتہائی جاہلانہ بھونڈا اور بکواس اعتراض کیا۔ اس لیئے پہلے آنکھیں کھول کر پڑھ لیا کرو۔ آئندہ ایسی ہی بکواس کرنی ہو تو فیس بک گروپ کا لنک مین پیج پر دیا ہے وہاں آؤ ، تمہاری اس سے بھی بہتریں خاطر کریں گے۔

      اور ہاں کچھ کہنے سے پہلے شیخ اسماعیل حقی، کے ریفرنسس کا جواب پہلے لانا۔

      احقر مجذوب القادری

      LINK OF SCANS

      https://c47e86d39286913c46137574281873926df103c7.googledrive.com/host/0B8z_2vr4j6TFV000U1RSaHhtZUU/

      1. اور ایک اور اہم بات، تو نے (بریلوی) کہہ کر پیر کرم شاہ الازہری صاحب کو بھی نشانہ بنایا، حالانکہ تمہاری وہابی دیوبندی اہلخبیث اور نجدی دھرم کے مقابل بریلوی ایک صحیح العقیدہ صوفی لوگوں کا نام ہے، افسوس جہالت کے بے مثال مظاہرو یعنی نجدیوں کو یہ بھی نہیں پتا بس اپنے دل کے کمینے بغض میں بھونکنے میں مشاق ہیں۔

        بریلوی علما کی تفسیر دیکھنی ہے اس آیت نمبر 6 سورہ الاحزاب کی تو یہ دیکھ جھوٹے، لعنت اللہ علی الکاذبین

        (ف14) دنیا و دین کے تمام امور میں اور نبی کا حکم ان پر نافذ اور نبی کی طاعت واجب اور نبی کے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب الترک یا یہ معنی ہیں کہ نبی مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ رافت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور نافع تر ہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سید عالم ﷺ نے فرمایا ہر مومن کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ اولٰی ہوں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو ( اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Č۝) 33- الأحزاب:6) حضرت ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ”مِنْ اَنْفُسِھِمْ ” کے بعد ” وَ ھُوَ اَبُ لَّھُمْ ”بھی ہے ۔ مجاہد نے کہا کہ تمام انبیاء اپنی امت کے باپ ہوتے ہیں اور اسی رشتہ سے مسلمان آپس میں بھائی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کی دینی اولاد ہیں ۔
        (ف15) تعظیم و حرمت میں اور نکاح کے ہمیشہ کے لئے حرام ہونے میں اور اس کے علاوہ دوسرے احکام میں مثل وراثت اور پردہ وغیرہ کے ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا اور ان کی بیٹیوں کو مومنین کی بہنیں اور ان کے بھائیوں اور بہنوں کو مومنین کے ماموں خالہ نہ کہا جائے گا ۔
        (ف16) توارث میں ۔
        (ف17) مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اُو لِی الاَرحام ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ، کوئی اجنبی دینی برادری کے ذریعہ سے وارث نہیں ہوتا ۔
        (ف18) اس طرح کہ جس کے لئے چاہو کچھ وصیت کرو تو وصیت ثُلُث مال کے قدر میں توارث پر مقدم کی جائے گی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اوّل مال ذوِی الفروض کو دیا جائے گا پھر عصبات کو پھر نسبی ذوِی الفروض پر رد کیا جائے گا پھر ذوِی الارحام کو دیا جاوے گا پھر مولٰی الموالاۃ کو ۔ (تفسیرِ احمدی)
        (ف19) یعنی لوح محفوظ میں ۔

        یہ ہے تفسیر نعیم الدین مرادآبادی رحمتہ اللہ علیہ، یہی سب کچھ تیرے پنڈتوں نے بھی لکھا ہے، متن سے بات کو الگ کرکے الزام لگانا تو کوئی نجدی خناس سے سیکھے۔مودی کے کاسہ لیسو!،یہ ہے تمہارے علم کا حال

        تمہارا ایک اور مہاگرو، پنڈت اشرف علی تھانوی کیا لکھتا ہے اپنی تفسیر بیان القران میں

        ف٤۔ یعنی مسلمان پر اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کا حق ہے اور آپ کی اطاعت مطلقا اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے ، اور اس میں احکام و معاملات آگئے ۔
        ف۵۔ ازواج کا امہات ہونا باعتبار تعظیم کے ہے ، اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے ، اس لئے تحریم بھی واقع ہوئی۔
        ف٦۔ یعنی اخیر حکم شریعت کا توارث بالارحام ہوجاوے گا۔

        یعنی معلوم ہوا کہ جب نبی مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوگئے تو ظاہر ہے کہ وہ امت کے احوال سے واقف ہیں اور یہی حکم قرآنی اوپر بیان کیا گیا ہے کہ شاہد کے معنی حاضر وناظر ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کی عطا سے نبی بھی مسلمانوں کی جان سے زیادہ قریب ہیں اور ان کے احوال سے واقف ہیں، اب کوئی پتھر اٹھا کر اپنے سر پر مار تاکہ تیرے بھس بھرے دماغ کی کچھ رگوں کو خون مل سکے، حالانکہ خون بہانا وہ بھی مسلمانوں کا تم نجدی منافقوں اور کلاب النار کا ہی کام ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s