Salafus Saliheen Views About Knowledge of Imam Abu Hanifa


اقوا ل السلف الصالحین بہ ثقاہت امام الاعظم نعمان بن ثابت المعروف بہ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

کچھ لوگ حنفیوں کے عظیم امام اور سراج الامت حضرت سیدی مرشدی امام الاعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق اپنے دل کی کدورتیں نکالتے رہتے ہیں، خود کو سلف کے نام کی آڑ میں چھپا کر اپنی بے دینی اور کم علمی کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور شانِ امام الاعظم میں تقصیر کا بھیانک جرم کرتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں حضرت امام الاعظم رضی اللہ عنہ کے متعلق اُنہیں سلف الصالحین کے نظریات بمع عکس کے پیش کیئے جا رہے ہیں اردو زبان میں ، تاکہ انٹرنیٹ پر کچھ نام نہاد سلف کے پیروکاروں کی طرف سے جو کچھ جھوٹ تصنع بیان کیا جاتا ہے ۔ اُس کا مکمل تدارک ہوسکے۔ تاکہ یہ لوگ پڑھے لکھے مسلمانوں کو گمراہ نہ کرسکیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سیدی امام الاعظم کی ثقاہت علم الحدیث کا یہ عالم ہے کہ کتاب الآثار کے سوا آج ہمارے پاس سنن میں کوئی ایسی کتاب موجود ہی نہیں کہ جس کے مصنف کو تابعیت کا شرف حاصل ہو۔ اور یہ وہ فضیلت ہے جس میں امام ابوحنیفہ ؒ اس عہد کے تمام نامور آئمہ میں ممتاز ہیں۔ چنانچہ !

شیخ الاسلام علامہ امام ابن حجر مکی الشافعی (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ) شارحِ مشکوٰۃ حافظ ابن حجر عسقلانی (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ) کے فتاویٰ سے ناقل ہیں؛

“انہ ادرک جماعۃ من الصحابۃ کانو بالکوفۃبعد مولدہ بھاسنۃ ثمانین فھو من طبقۃ التابعین ولم یثبت ذلک لاحد من ائمۃ الامصار المعاصرین لہ کالاوزاعی بالشام والحمادین بالبصرۃ والثوری بالکوفۃ ومالک بالمدینۃ المشرفۃ واللیث بن سعد بمصر”۔

(الخیرات الحسان، فصل سادس،صفحہ24،مصر)

ترجمہ:امام ابوحنیفہ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے صحابہ کی ایک جماعت کو پایا جو کوفہ میں تھے جبکہ سنہ 8 ہجری میں وہاں پیدا ہوئے، لہٰذا وہ تابعین کے طبقہ میں ہیں،اور یہ بات ان کے معاصر آئمہ امصار میں سے کسی کی نسبت جیسے کہ اوزاعی کی نسبت جو شام میں تھے اور حماد بن سلمہ اور حماد بن زید کی نسبت جو بصرہ میں تھے اور سفیان ثوری کی نسبت جو کوفہ میں تھے اور مالک کی نسبت جو مدینہ شریف میں تھے اور لیث بن سعد کی نسبت جو مصر میں تھے، ثابت نہیں ہوئی۔”

امام ممدوح کی جلالت ِ قدر کے لیئے اس سے زیادہ کیا درکار ہے کہ وہ امت میں امام ِ اعظم کے لقب سے مشہور ہیں اور ان کے اجتہادی مسائل پر اسلامی دنیا کی دوتہائی آبادی تیرہ سو برس سے برابر عمل کرتی چلی آرہی ہے ، تمام آئمہ اکابر آپ کے فضل وکمال کے معترف ہیں۔ ابن مبارک کا بیان ہے کہ میں امام مالک  کی خدمت میں حاضر تھا ۔ ایک بزرگ آئے اور جب وہ اُٹھ کر چلے گئے تو امام موصوف نے فرمایا، جانتے ہو یہ کون تھے؟ حاضرین نے عرض کیا نہیں (اور میں ان کو پہچان چکا تھا) فرمانے لگے؛

“ھٰذا ابو حنیفۃ النعمان لوقال ھذہ الاسطوانۃ من ذھب لخرجت کما قال لقد وفق لہ الفقہ حتی ما علیہ فیہ کثیر مؤنۃ۔”

ترجمہ ؛ “یہ ابوحنیفہ نعمان ہیں جو اگر یہ کہدیں کہ یہ ستون سونے کا ہے تو ویسا ہی نکل آئے۔ ان کو فقہ میں ایسی توفیق دی گئی ہے کہ اس فن میں انہیں ذرا مشقت نہیں ہوتی۔” (مناقب ابی حنیفہ از محدث صمیری۔ قلمی نسخہ کتب خانہ مجلس علمی کراچی)

امام شافعی (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں (الناس عیال علی ابی حنیفہ فی الفقہ)۔ یعنی۔ لوگ فقہ میں ابوحنیفہ کے محتاج ہیں۔

ابوبکر مروزی (رح) کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کو یہ فرماتے سنا۔

لم یصح عندنا ان ابا حنیفۃ قال القراٰن مخلوق۔” ترجمہ:”ہمارے نزدیک یہ بات ثابت نہیں کہ ابوحنیفہ (رح) نے قرآن کو مخلوق کہا ہے۔” میں نے عرض کیا کہ “الحمدللہ” اے ابوعبداللہ (یہ امام احمد کی کنیت ہے) ان کا تو علم میں بڑا مقام ہے، فرمانے لگے”سبحان اللہ ھو من العلم والورع وایثار الدارالاٰخرۃ بمحل لایدرکہ احد”۔ ترجمہ۔”سبحان اللہ وہ توعلم ،ورع، زہد اور عالمِ آخرت کو اختیارکرنے میں اس مقام پر فائز ہیں کہ جہاں کسی کی رسائی نہیں۔” (مناقب ابی حنیفہ از امام ذہبی، صفحہ 43،سیکشن 27)

امام سفیان بن عینیہ شہادت دیتے ہیں کہ (ما مقلت عینی مثل ابی حنیفۃ) (حوالہ مناقب ابی حنیفہ از ذہبی،19)۔ ترجمہ”میری آنکھوں نے ابوحنیفہ کی مثل نہیں دیکھا)۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ “العلماء ابن عباس فی زمانہ والشعبی فی زمانہ وابوحنیفۃ فی زمانہ“۔ (علماء تو یہ تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما، اپنے زمانہ میں، شعبی اپنے زمانہ میں اور ابوحنیفہ اپنے زمانہ میں)۔ (حوالہ مناقب صمیری)۔

اسی طرح! عبدالرحمٰن بن مہدی جو فن رجال کے مشہور امام ہیں فرماتے ہیں؛

“کنت نقالاً للحدیث فرایتُ سفیان الثوری امیرالمؤمنین فی العلماء وسفیان بن عیینہ امیر العلماء وشعبۃ عیارالحدیث وعبداللہ بن المبارک صراف الحدیث ویحیی بن سعید قاضی العلماء وابوحنیفۃ قاضی القضاۃ العلماء ومن قال لک سوی ھٰذا فارمہ فی کناسۃ بنی سلیم“۔

ترجمہ۔ “میں حدیث کا بڑا ناقل تھا سو میں نے دیکھا کہ سفیان ثوری تو علماء میں امیرالمؤمنین ہیں اور سفیان بن عیینہ امیرالعلماء اور شعبہ حدیث کی کسوٹی ہیں اور عبداللہ بن مبارک اس کے صراف اور یحیی بن سعید قاضی العلماء ہیں، اورابوحنیفہ قاضی القضاۃ العلماء ۔ اور جو شخص تمہیں اس کے سوا کچھ اور بتائے تو اس کی بات کو بنی سلیم کے گُھورے پر پھینک دو۔”

(حوالہ مناقب امام الاعظم از صدر الائمہ مکی جلد 2، صفحہ 45 طبع دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن)۔

شیخ الاسلام یزید بن ہارون کا قول ہے ؛

“کان ابو حنیفۃ تقیاً فقیاً زاھِدًا عالماً صدوق اللسان احفظ اھل زمانہ سمعتُ کل من ادرکتہ من اھل زمانہ انہ مارؤی افقہ منہ ۔”

ترجمہ؛ “امام ابوحنیفہ متقی، پاکیزہ صفات، زاہد عالم،زبان کے سچے اور اپنے اہل زمانہ میں سب سے بڑے حافظِ حدیث تھے۔ میں نے ان کے معاصرین میں سے جتنے لوگوں کو پایا سب کویہی کہتے سنا کہ ان سے زیادہ فقیہ نہیں دیکھا گیا۔” نیز۔ یہ بھی انہی کا بیان ہے کہ (لم اراعقل ولاافضل وال اورع من ابی حنیفۃ ) یعنی ، “میں نے ابوحنیفہ سے زیادہ عاقل، ان سے افضل اور ان سے زیادہ پاکباز نہیں دیکھا“۔ (حوالہ: مناقب صمیری، و، مناقب ذہبی ص 42،(26))۔

اس کے علاوہ “مقدمہ کتاب التعلیم از مسعود بن شیبہ سندی بحوالہ تاریخ امام طحاوی، جسکا قلمی نسخہ مجلس علمی کراچی کے کتبخانہ میں موجود ہے” میں لکھا ہے کہ امام الجرح والتعدیل یحیی بن سعید القطان فرماتے ہیں؛

“انہ واللہ لاعلم ھٰذہ الامۃ بما جاء عن اللہ ورسولہ۔” ترجمہ۔”واللہ ابوحنیفہ اس اُمت میں خدا اور اس کے رسول سے جو کچھ وارد ہوا ہے اس کے سب سے بڑے عالم ہیں۔”

سید الحفاظ یحیی بن معین سے ایک بار ان کے شاگرد احمد بن محمد البغدادی نے ابوحنیفہ کے متعلق ان کے رائے دریافت کی۔ فرمانے لگے۔ (عدل ثقۃ ماظنک بمن عدلہ ابن المبارک ووکیع)۔ یعنی ۔ “سراپا عدالت ہیں، ثقہ ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں تمہارا کیاگمان ہے جس کی ابن مبارک اور وکیع نے توثیق کی ہے۔” (مناقب الامام الاعظم از علامہ کردری ج 1 صفحہ 19 طبع دائرۃ المعارف دکن)۔

اسی طرح امام عبداللہ بن مبارک (رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ) کہا کرتے تھے کہ (لولا ان اللہ تدارکنی بابی حنیفۃ وسفیان لکنتُ بدعیاً) ۔ ترجمہ ۔ (اگر اللہ تعالیٰ نے ابوحنیفہ اورسفیان ثوری کے ذریعہ میراتدارک نہ کیا ہوتا تو میں بدعتی ہوتا)۔ (حوالہ؛ مناقب ابوحنیفہ از امام ذہبی 18)

شیخ الاسلام ابو عبدالرحمٰن مقری، امام ابوحنیفہ سے حدیث روایت کرتے تو ان ان الفاظ میں کیا کرتے۔ (حدثنا ابوحنیفۃ شاہ مردان)۔(بحوالہ مناقب الامام الاعظم از صدر الائمہ ج 2 ص 32)۔ائمہ اعلام کی ان شہادتوں سے جو صحیح ترین ماخذ سے منقول ہیں آپ ابوحنیفہ کی جلالت علمی کا اندازہ لگا سکتے ہیں، امت محمدیہ میں ان کا مقام کیا ہے، امام اہل بلخ خلف بن ایوب نے بالکل صحیح کہا ہے کہ :

“صارالعلم من اللہ تعالیٰ الیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ثم صار الی اصحابہ ثم صار الی التابعین ثم صار الی ابی حنیفۃ واصحابہ فمن شاء فلیرض ومن شاء فلیسخط۔”

ترجمہ؛ “اللہ تعالیٰ سے علم سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا ، آپ کے بعد آپ کے صحابہ کو ، صحابہ کے بعد تابعین کو، پھر تابعین سے امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کو ملا۔ اس پر چاہے کوئی خوش ہو یا ناراض ۔” (حوالہ؛ تاریخ بغداد از محدث خطیب البغدادی،مجلد الخامس عشر۔ دارالغرب الاسلامی)

مشہور محدث شیخ الاسلام علامہ سیوطی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب ، “تبیض الصحیفۃ فی مناقب ابی حنیفۃ” طبع دائرۃ المعارف دکن ص 36 پر تحریر فرماتے ہیں:

“من مناقب ابی حنیفۃ التی انفرد بھا انہ اول من دون علم الشریعۃ ورتبہ ابواباً ثم تبعہ مالک بن انس فی ترتیب المؤطا ولم یسبق ابا حنیفۃ احد ۔”

ترجمہ ۔ “امام ابوحنیفہ کے ان خصوصی مناقب میں سے جن میں وہ منفرد ہیں ایک یہ بھی ہے کہ آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے علم شریعت کو مدّون کیا اور اس کی ابواب پر ترتیب کی۔ پھر امام مالک بن انس نے موطا کی ترتیب میں انہی کی پیروی کی اور اس امر میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ پر کسی کو اولیت حاصل نہیں ہے۔”

قارئین آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ سید ی امام الاعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ وہ واحد جلیل القدر محدث ، فقیہہ ، اور امام اہل الرائ ہیں جن کی علمی جلالت کے سب ہی معترف ہیں، صرف اور صرف موجودہ دور کے بے دین فرقے ہیں جو کہ فقہ حنفی پر اعتراضات ڈھونڈ ڈھونڈ کر تو لاتے ہیں لیکن یہ کبھی بتا نہیں پاتے کہ جس حدیث حدیث کی وہ رٹ لگاتےہیں، ہمارے امام سراج الامت تو وہ شخصیت ہیں جنہوں نے شریعت کو احادیث کے ذریعے مدوّن کیا ہے۔ اگر یہ علوم الحدیث اور ان کے قواعد و ضوابط نہ ہوتے تو تم لوگ آج اعتراض کس طرح کرتے؟

یہ اسقدر تفصیلی آرٹیکل لکھا جاسکتا ہے کہ جو انتہائی طویل کیا جاسکتا ہے اس میں کوئی بھی شبہ کسی کو بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ آپ نے اوپر پڑھا کہ سلف الصالحین ، محدثین، مفسرین نے امام اعظم کی شان بیان فرمائی ہے۔ نیز یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ وہ واحد علم الحدیث کی شخصیت ہیںکہ جن کو دیگر آئمہ کے مقابلہ میں یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ آپ نے ڈائریکٹ صحابہ کرام سے علم حاصل کیا ۔ جسکی تفصیل مکاشفہ پر ایک دوسرے آرٹیکل میں دی جاچکی ہے۔ یعنی آپ کا مقام تابعیت کا ہے۔ اور تابعی پر انگلیاں اٹھانے والوں کے شر سے ہم اللہ عزوجل کی پناہ مانگتے ہیں۔ اختصار کی وجہ سے کم و بیش ایکسو پچاس سے زیادہ حوالہ جات کے ڈائیریکٹ عکس ، مکاشفہ سکینز لائبریری میں دیئے جاچکے ہیں یہاں نیچے دوبارہ سے اس کا لنک دیا جارہا ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اپنے پاک محترم افضل ترین محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے طفیل ہم سب کو راستی کی راہ عطا ہو، نا کہ اُس کے محبوب بندوں پر بدنما انگشت نمائی کرنے کی جہالت اور سزا۔ آمین۔ بجاہ النبی علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم

احقر، فقیر مجذوب القادری۔عمران اکبر

حوالہ جات کا فولڈر لنک کلک کریں

Advertisements

One thought on “Salafus Saliheen Views About Knowledge of Imam Abu Hanifa”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s