Hz. Qalandar Rahman Baba (rta)’s Tawheed Teachings


 

Unicode for mobile readers:

 

صوفیائے پختونخواہ کی توحید

مشہور پشتو صوفی شاعر اور قلندرولی اللہ، حضرت عبدالرحمٰن بابا رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ وہ اپنے مشہور دیوان ، دیوانِ رحمان بابا رحمتہ اللہ علیہ کا پہلا کلام تحریر فرماتے ہیں جو کہ حمدِ باری تعالیٰ ہے اس میں اللہ رب العزت کے اوصاف و کمالات کا تذکرہ ہے اور جوجو کچھ قرآن وسنت میں فرمایا ہے اس کو اللہ کے اس پاک ولی نے اپنے اشعار میں انتہائی خوبصورتی سے ڈھالا ہے۔ اسی میں سے چند اشعار بمع معنی و ترجمہ پیش خدمت ہیں۔جس میں ہم سب کے لیئے بہت کچھ سیکھنے کومل سکھتا ہے اگر ہم سیکھنے کے موڈ میں ہوں اور خود کو مفکر اور عقلِ کل نہ سمجھیں تو۔

فرماتے ہیں:

ګوره هسي کردګاردي رب څما

چه صاحب دکل اختيار دي رب څما

دیکھو کیسا کردکار(تخلیق کار) ہے رب میرا

کہ صاحبِ کُل اختیار ہے رب میرا

شريک نه لري په خپلي بادشاهئي کښ

بي شريک شهريار دي رب څما

اپنی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں رکھتا

ایسا بے شریک شہنشاہ ہے رب میرا

هسي نه چه واحدي ئي دَه له عجزَ

په واحد وجود بسيار دي رب څما

ایسا نہیں کہ وحدانیت بقصد عجز ہے

کافی ہے واحد الوجودیت پر رب میرا

حاجت نه لري دهيچا ويارئي ته

له هغو سره چه ياردي رب څما

کسی کی بھی دوستیاں اسکو احتیاج نہیں 

ان کے ساتھ بھی کہ جنکا دوست ہے رب میرا

هيڅ تغير وتبديل نه لري رحمانَ

تل ترتل برقرار دي رب څما

اسکو ہرگز کوئی تغیر وتبدیل نہیں اے رحمان

ازل سے ابدسے موجود ہے رب میرا

تشریح؛

جیسے کہ آ پ نے ملاحظہ کیا کہ رحمان بابا رحمتہ اللہ علیہ نے اسلامی عقائد کو تصوف کی شاعری میں کس خوبصورتی سے ڈھال کر اسکو بیان کیا ہے۔ اس سے چند باتیں پتہ چلتی ہیں۔ یہ صرف چند اشعار ہیں جبکہ یہ ایک لمبا کلام ہے جس میں سے چند منتخب اشعار لیئے گئے ہیں۔ ایک تو کہ اللہ ہمیشہ سے ہی ہے (تل ترتل) کا لفظ ایسا ہے کہ جو پشتو زبان میں ناقابلِ بیان اور ازلی ابدی تصور کو اجاگر کرتا ہے کہ یعنی جس کا ہم لوگ احاطہ نہیں کرسکتےیعنی جتنا بھی انسانی دماغ قدیم کے بارے میں سوچے گا لفظِ قدیم ہمارے انسانی جذبات کے لیئے ہے ورنہ رب ہمارا ہی واحد قدیم ہے جسکی قدامت کا انسانی دماغ احاطہ نہیں کرسکتا۔پھر یہ جیسا کہ پہلے شعر میں لکھا ہے کہ اللہ ہی ہے وہ واحد خالق جس کے پاس سب اختیارات ہیں اس سے اگلا شعر دیوان میں جو لکھا ہے وہ اس پر روشنی ڈالتا ہے کہ جتنے بھی بزرگ گردانے جاتے ہیں یعنی قابل تعظیم ان سب سے زیادہ قابل تعظیم ہے رب میرا۔ اور ان سب کا بھی وہی ازلی و ابدی رب ِ عظیم ہمارا رب ہے۔وہ اپنی بادشاہت میں بھی یکتا ہے اور یہ وحدانیت اسکی عاجز ی نہیں بلکہ اسکی عظمت نشانی ہےکہ اسکا کوئی شریک یا مثل ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کی وحدانیت ہی اسکے کمال کا اظہار ہے اور یہی عظمت ہے۔ پھر رحمان بابا سمجھا رہے ہیں کہ جن لوگوں کو وہ محبوب رکھتا ہے اگرچہ وہ ان کو محبوب رکھنے میں محتاج نہیں یا پابند نہیں ہے۔ مگر یہ اسکی عظمت ہے کہ انکو محبوب رکھتا ہے۔ یہاں بہت لطیف نقطہ بیان کیا ہے صوفی شاعر حضرت رحمان بابا نے کہ وہ کسی بھی طرح کسی چیز کے لیئے مجبور نہیں ہے۔ پشتو میں الفاظ بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو اردو میں بیان کرنا کافی مشکل ہوتا ہے کیونکہ بظاہر وہ الفاظ دکھتے نہیں ہیں لیکن جیسے دیگر لکھے گئے ہوتے ہیں وہ ان کو ملا کر ایک بڑا اور گہرا معنی بناتے ہیں ۔یعنی یہاں وہ یہی معنی بیان کررہے ہیں کہ اگرچہ وہ کسی کی محبت کا محتاج نہیں ہے لیکن جن کو وہ اپنا دوست رکھتا ہے ان پر نظرِ کرم رکھتا ہے۔پھر آخری شعر میں موجودہ خوارجی نظریا ت یعنی تجسیم کا رد ہے کہ ، اللہ کو کسی قسم کا بھی تغیر وتبدیل نہیں ۔وہ ازل سے قائم و باقی ہے اس کو کوئی زوال نہیں۔ یہاں لطیف نقطہ یہ بیان ہورہا ہے کہ تغیر کہتے ہیں کسی بھی قسم میں حرکت ہونے کو، اور تبدل ظاہر ہے کہ تبدیلی کو کہتے ہیں۔ اب وہ لوگ جنکا دھرم کہتا ہے کہ اللہ کرسی پر بیٹھا ہے اور اسکے ساتھ دیگر کرسیاں پڑی ہیں اور وہ اوپر سے علو مراد لیتے ہیں اور اسکے لیئے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے کا کفریہ شرکیہ عقیدہ رکھ کربھی خود کو سلف کا پیروکار کہتے ہیں۔ اور وہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسکے آسمان پر چلنے پھرنے سے آسمان وکرسی چرچراتی ہے۔ (معاذ اللہ) یہ سب شرک اکبر کے زمرے میں آتا ہے۔ اور یہ معزز صوفی بزرگ شاعر (اب یہ مت کہہ دینا کہ رحمان بابا بھی بریلوی تھے) ہمارے اسلاف کا اصلی اور ابدی عقیدہ بیان کررہے ہیں ۔ کہ حرکت اور تغیر سے وہ پاک ہے ارفع و اعلیٰ ہے۔ ظاہر ہے کہ اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا دیکھا جائے تو یہ زمان ومکاں میں حرکت کے ہی باعث ہےاور حرکت کرنا بذات ِ خود بھی ایک وجود سے مشابہہ ہے یعنی تشبیہہ ہے ۔جو کہ شرک اکبر ہے۔ اللہ کی قدرت میں ہرچیز ہے کچھ بھی اسکی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اللہ کو کہیں بیٹھا ہوا کہنا بدترین شرک اور تجسیم ہے جس کی ابتداء تاریخ اسلام میں ابن تیمیہ مردود نے کی تھی اور جس پر آج بھی فرقہ وہابیہ دیوبندیہ قائم ودائم ہوکربھی خود کو سلف کا پیروکار کہتے ہیں۔ اور خود کو دین کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ توحید توحید چلانے والے خود توحید سے ناواقف ہیں اور انکی توحید پرستی دراصل بت پرستی ہے کیونکہ اللہ وجود سے ، زمان و مکاں کی قیود سے، حدود سے، مثل سے ، مثال سے، حرکت وتغیر سے پاک ہے۔ قرآن واضح کہتا ہے کہ (کوئی اسکی مثل نہیں) کوئی میں ہر چیز آجاتی ہے۔ جو کہ مکاں و مافیہا میں ہے۔ لہٰذا صوفیائے کرام کو مشرک اور بدعتی کہنے والے ان نام نہاد دیوبندی وہابی ابلیسی توحید پرستوں کو پھر سے دعوتِ اسلام دی جاتی ہے۔ ایسے توحید پرست صوفی ولی اللہ اور قلندرِ وقت کوکیا دارالعلوم دیوبند وخوارجِ وہابیت سے سندِ ایمان کی ضرورت ہے؟ جبھی تو ان کا مزار ِ مبارک شہیدکیا گیا۔ اپنے خطبات میں تبلیغی مُلا بہت ان کے اشعار پڑھتے ہیں لیکن کیا انہوں نے کبھی انکی تعلیمات پر عمل کرنے کی بھی کوشش کی ؟ نہیں بلکہ ان کے مزار کو شرک قرار دے کر اس پر بم دھماکہ کروادیا گیا۔ یہ ہے ان نام نہاد توحیدیوں کی توحید۔ کیا یہ تبلیغ ہے؟فیصلہ آپ کے ضمیر پر چھوڑا جارہا ہے۔ اگر ایمان رکھتے ہیں تو ایمان داری سے اللہ سے ہدایت مانگیں،اور میرے پختون بھائی اپنے گمراہ نام نہاد دورجدید کے علماء سوء کو چھوڑ دیں۔ اسلاف کی تعلیمات اور حضرت رحمان بابارحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ جیسے عظیم صوفی بزرگوں کی تعلیمات کی طرف رجوع کریں۔ ہمارے پختونوں نے اس دنیا کو کسی زمانے میں داتا گنج بخش علی الہجویری، خواجہ بختیار کاکی، خواجہ غریب نواز ، اخوند صاحب سوات ، دیئے ، آج ہم اپنے گھر میں ان ہندوستانی دیوبندی وہابی قادیانی فتنے کا شکار ہیں اور اس دنیا کو ملا فضل اللہ جیسے منافق خوارجی جہنمی کتے کاشت کرکر کے دے رہے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s