Barelwi Sufi Beliefs From Akabareen of Deoband (Ur/Eng)


Unicode :

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اہلسنت وجماعت فقہ حنفی ،طریقت قادری صوفی سلسلہ بریلوی کے عقائد دیوبندیوں کے پیرومرشد کے قلم سے

ہمارے ہاں اکثر کچھ کم علم حضرات یا شرعی تاریخ اور تحقیق سے ناواقف حضرات سوچتے ہیں کہ آخر سنی شیعہ تقسیم تو چلو شروع سے ہی موجود ہے ۔مگر خود کو سنی کہنے والے لوگوں میں بھی تو تفریق موجود ہے آخر یہ تفریق آئی کہاں سے اور کیونکر اس نے ہمارے معاشرے میں جڑیں گہری کیں، سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگران سب کا،جو خود کو اہلسنت وجماعت کہنے کی دعویدار بھی ہیں تو پھر یہ تفریق کیوں ہے۔ اس اہم اور حساس موضوع پر آج پوری دیانتداری اور انصاف کے ساتھ آپ کے سامنے چند گزارشات پیش کی جارہی ہیں۔

موجودہ دور اور تاریخِ قریب کے خوارجی ؛

ابن تیمیہ کے مرنے کے بعد ایک طویل عرصے تک خوارج دبے رہے، پھر سلطنت عثمانیہ کے خلاف انگریز کے ساتھ سازباز کرکے ابن وہاب نجدی نے اپنی تحریک شروع کی۔جسکی شاخوں کو آج دنیا میں اور خصوصاً پاکستان میں بنیادی طور پر (سلفی،وہابی، اہلحدیث) کہا جاتا ہے۔ آلِ سعود کی مدد سے یہ دینِ جدید حجازِ مقدسہ پر قابض ہوگیا۔ یہاں طویل بحث نہیں کی جارہی کیونکہ یہ تاریخ کا آرٹیکل نہیں لیکن چند اہم چیزیں بیان کی جارہی ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ تقسیم کہاں کیوں اور کیسے ہوئی۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس دور میں اہلسنت میں حنفی، مالکی،شافعی اور حنبلی ہی تھے اس کے علاوہ صوفی سلسلے جیسے قادری،چشتی سہروری نقشبندی وغیرہ وغیرہ بھی موجود تھے۔ اور سب کے سب ایک اہلسنت وجماعت ہی کہے اور سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ دورِ جدید کی نجدی تحریک نے ہندوستان کو بھی متاثر کیا۔یہاں پر کون پہلی بار نجدی خیالات لایا اور ان کو کتابی صورت میں دہلی میں شائع کیا گیا۔ وہ ایک الگ بحث ہے۔ ہماری اصل کہانی اس دور سے متعلق ہے۔ جو کہ تقسیمِ پاک و ہند سے کچھ پہلے کی ہے۔

دیوبندی حضرات کے شیخ الشیوخ اور پیر طریقت و شریعت کا نام حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ،چشتی، صابری رحمتہ اللہ علیہ ہے۔ یہ دیوبندیوں کے شیوخ کے استاذ اور پیر طریقت ہیں۔ اور اٹھارہ سو ستاون کے جنگ غدر کے اصلی ماسٹرمائنڈ بھی تھے۔ جو کہ انگریزوں کے خلاف تھی۔ چودہویں صدی کے ایک عظیم مجدد ہیں۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ سرکار فاتح قادیانیت گولڑہ شریف رحمتہ اللہ علیہ ، اپنی نسبتِ سلسلہ عالیہ قادریہ میں، جو کہ انہوں نے اپنے والد سے ، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت شمس الدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ سے، جنہوں نے سلسلہ چشتیہ صابریہ کی نسبت حاجی صاحب سے حاصل کی ہوئی ہے، سے بھی تعلق بنتا ہے۔ علمائے دیوبند کے اکثریتی علماء حضرات انہیں حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مرید ہیں۔ لہٰذا یہ ایک حساب سے بریلوی،دیوبندی دونوں کے اکابر ہیں۔

فیصلہ ہفت مسئلہ کے متعلق جب میں نے تحقیق شروع کی تو پایا کہ دیوبندی مکتب فکر کی ہردکان میں یہ موجود تو ہے مگر ساتھ ساتھ میں اس کی تاویلات ،آئیں بائیں شائیں اور شروحاتِ خودساختہ بھی دی ہوئی ہیں۔ لہٰذا کافی تلاش کے بعد جو کتاب نفسِ اسلام کی ویب سائٹ سے پی ڈی ایف کی صورت میں ملی، وہ بھی اوپن ہونے میں مسئلہ دیتی ہے۔ لہٰذا میں نے اس کی پکچر فارمیٹ حاصل کرکے مکاشفہ سائٹ کے پڑھنے والوں کے لیئے اسکو دوبارہ سے ورکنگ پی ڈی ایف اور پکچر کی صورت میں مکاشفہ ڈرائیو میں اپلوڈ کردی ہے جسکا لنک آپ کو آخر میں مل سکتا ہے۔نفس اسلام کے ورژن کو پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے چھاپا ہے اس، مگر یہ بتادوں کہ اس آن لائن ورژن میں سے بھی چند صفحے غائب ہیں۔ اگر مجھے لوکل کہیں سے اس کا اصلی نسخہ مل گیا بغیر شروحات اور تاویلات کے تو وہ بھی اپلوڈ کردیا جائےگا۔ فی الحال اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ وہابی تحریک کے ہندوستان میں جڑ پود پھیلانے سےپہلے انگریز نے قادیانیت کا پودا کاشت کیا تھا جو کہ خاطر خواہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکا۔ اس بات کا ثبوت وکٹورین دور کے وہ خطوط اور انگریزوں کے بنائے کمیشنز کی وہ رپورٹ ہے جو کہ انہوں نے ہندوستان پر اپنا کولونیئل راج قائم کرنے کے بعد مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیئے سازش کے خدوخال بتانے کے لیئے اور آگاہ کرنے کے لیئے لکھے تھے اور انٹرنیٹ پر آسانی سے مل جاتے ہیں۔ کئی کتابوں میں بھی ذکر ہوا۔ لہٰذا قادیانی تحریک کی ناکامی کے بعد ابن وہاب تحریک کو یہاں پر پروموٹ کیا گیا، کیونکہ ابن وہاب کی تحریک کی وجہ سے وہ لوگ سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے اور فلسطین کو یہودیوں کے ہاتھ دینے پر قادر ہوئے تھے۔ نیز حجازِ مقدس کی حکومت بطور ڈیل آلِ سعود کو دے دی گئی جو کہ ان وہاب نجدی کے جدید دین کا کٹر حامی اور پیروکار تھا۔ اور اس سے پہلے یہ بِدو عرب ، حجاج کے قافلوں کو لوٹ کر اپنی گزربسر کرتے تھے۔

ہندوستان میں اُس دور میں وہابی تحریک سے جو پہلا آدمی متاثر ہوا وہ اسماعیل دہلوی تھا۔ مولوی اسماعیل دہلوی کا تعلق اگرچہ خانوادہ ء شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جیسے اکابرین سے تھا مگر، اس دینِ جدید کے خیالات سے متاثر ہوکر اُس نے دہلی کی جامع مسجد پر کھڑے ہوکر ابن وہاب کے خیالات کی اشاعت شروع کردی۔ جس کی مخالفت اس دور کے اکابرین نے خود ہی کی بھی اور اس کو دہلی کی جامع مسجد میں شکست دی۔ علامہ فضل حق خیرآبادی رحمتہ اللہ علیہ جیسے عظیم اکابرین نے اسکے غلط عقائد کا ہر ممکن رد کیا۔ اسکی تعلیمات جب حضرت شاہ محدث عبدالعزیز دہلوی کے کانوں میں پڑیں جو کہ اس وقت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے سجادہ نشین اور مسند پر براجمان تھے۔ ولی اللٰہی تحریک کے سرخیل سمجھے جاتے تھے وہ انتہائی ضعیف ہوچکے تھے۔ مگر انہوں نے کہا کہ اگر میری صحت اجازت دیتی تو میں اس کے باطل خیالات کا رد لکھتا۔ مگر ایسا نہیں کہ دیگر علمائے وقت نے اس کا رد نہیں کیا تھا۔ بلکہ جب اس نے تقویۃ الایمان تصنیف کی تو اس میں خوارجی عقیدوں کی پوری پوری اشاعت کی۔ اور یہی وہ دور تھا جب علماء نے اس کی کتابوں کا رد بھی تصنیف کیا۔

حضرت امداد اللہ مہاجر مکی جو کہ اسماعیل دہلوی کے بھی اکابرین میں شمار ہوتے ہیں انہوں نے اشرف علی تھانوی، گنگوہی وغیرہ اور دیگر اپنے شاگردوں کے ان باطل نظریات جو کہ اسماعیل دہلوی سے متاثر ہوگئے تھے اس کا رد کرنے کے لیئے یہ رسالہ فیصلہ ہفت مسئلہ تحریر کیا۔ اس میں آپ کو وہی سب عقائد کی حمایت ملے گی جو کہ آج ہم سنیوں  جن کو یہ وہابی دیوبندی حضرات بریلوی کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے کے لیئے اور ان کو ایک چھوٹا فرقہ بناکراپنا الو سیدھا کرتے ہیں اسکے ہی عقائد موجود ہیں۔ یعنی دیوبندیوں کے اکابرین کا ، جیسے شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، شاہ عبدالحق ،شاہ محمد رحیم وغیرہ اور حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی، نہ صرف میلاد، بلکہ، نذر نیاز، فاتحہ خوانی، عرس ، گیارہویں وغیرہ سب کرتے تھے جن پر آج دیوبندیوں نے اختلاف کا بھوت کھڑا کرکہ اپنی جہالت میں امت کو تقسیم کررکھا ہے۔ بجائے اپنے ان پیرومرشد اور اکابرین کے انہوں نے اسماعیل سلفی کی قیادت میں دیوبند کو ایک عجیب دوراہے پر کھڑا کررکھا ہے۔ اگر تو وہ چودہ سو سال کے اسلام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں توا ن کو اسماعیل دہلوی اور اپنے تمام تر عقائد ، وہ والے کہ جن پر یہ لوگ دیگر لوگوں یعنی صوفیوں کو بریلوی بدعتی کہتے ہیں وہ ماننے پڑیں گےاور اسماعیل دہلوی اور اسکے گمراہ نجدی عقیدہ ء خوارجیت کو رد کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ یہ سب نہیں مانتے تو پھر ان کا راستہ اُمت سے الگ ہے۔ اس دور میں چونکہ ان کے تمام اکابرین دنیائے فانی سے رخصت ہوچکے تھے لہٰذا ان کی اصلاح کا فریضہ حضرت مجدد امام احمد رضا ؒ فاضل بریلوی نے سنبھالا، لیکن انہوں نے اسماعیل دہلوی کی پیروی نہ چھوڑی۔ حالانکہ اسماعیل دہلوی تقلید کا منکر ہوچکا تھا اور مقلد نہیں رہا تھا۔ اب اگر موجودہ دیوبند لاکھ خود کو مقلد کہے رہیں گے تو وہ غیرمقلد کے ہی ہم مذہب اور یہ اجماع اُمت کی خلاف ورزی ہے اور اجماع ء امت سے ہٹنے والا اُمت سے باہر ہوتا ہے۔ اور امت سے باہر صرف خوارج اور روافض ہیں۔ہمارا سوال ٹھنڈے دل سے سمجھیں کہ بالفرض اگر امام احمد رضا صاحب بجائے بریلی کے رہنے والے اگر وہ دیوبند کے رہنے والے ہوتے تو امام احمد رضا دیوبندی کہلاتے ۔ یا اس سوال کو یہ سمجھو کہ دیوبندی یا بریلوی کہلانے سے کیا کوئی فرقہ بن جاتا ہے؟ 

اسی سوال کو پھر سے غور سے یوں سمجھیں کہ اگر ہم سنی جن کو تم بریلوی کہتے ہو، جن کے عقائد وہی ہیں جو شاہ ولی اللہ ، حاجی امداداللہ کے ہیں۔ تو اگر ہم کل تم دیوبندیوں کو تھانوی ، یا گنگوہی ، یا امدادی امدادی کہنا شروع کرکے تم کو ایک الگ سے فرقہ بنا کر لوگوں میں اپنا الو سیدھا کرنا شروع کردیں تو تمہارے کیا جذبات ہوں گے؟ آیا تم چند سال بلکہ سو سال بعد کے لوگوں کے لیئے الگ سے فرقہ نہیں سمجھے جاؤ گے؟ کیا یہ دین سے بدترین خیانت نہیں ہوگی؟ یا امدادی کہلانے کی وجہ سے ہم کہیں کہ امدادی تو اہلسنت وجماعت سے الگ ایک فرقہ ہے تو تمہارے کیا خیالات ہوں گے؟

ویسے ہی دیوبند نے عقائد ابن وہاب کی پیروی اور اسماعیل دہلوی کی اسماعیلیت کی اندھی تقلید میں دیوبند کو دیگر مسلمانوں سے الگ کرکے ایک فرقہ بنا دیا۔ دیوبند کی پیدائش سے پہلے بریلوی کا کوئی وجود نہ تھا۔ سب سنی ہی کہلاتے تھے لیکن دیوبندیوں نے اپنا یہ نیا عقیدہ اور وجود قائم رکھنے کے لیئے انہی سنی صوفی لوگوں کے ایک عظیم عالم دین اور بزرگ ِ سلسلہ صوفیہ قادریہ ، جنکا نام احمد رضا ہے ان کے علاقائی نام کو تھوپ تھوپ کر الگ سے فرقہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور یہ ان کی جہالت بے دینی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکہ صوفی تو آپ کو سیدنا اویس قرنی بھی ملیں گے لیکن دیوبندی آپ کو کوئی بھی نہیں ملے گاتاریخ میں وہابی آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا۔

فیصلہ ہفت مسئلہ بمع انگریزی ترجمہ نیچے دیا جارہا ہے ۔جس سے آپ پر واضح ہوجائے گا کہ دیوبندی اکابرین کا وہی عقیدہ ہے ہرمسئلہ کے بارے میں جو ہم سنی بریلویوں کا ہے۔ تو تقسیم تو دیوبند نے کی ، ہم سنیوں نے نہیں۔ ہم صوفیوں نے نہیں۔ حتیٰ کہ ہم صوفی تو نقشبندی بھی ہیں اور سہروردی بھی ہیں حقانی بھی ہیں اور مجددی بھی ہیں۔ ہمارے اکابرین اور سلسلہ طریقت کے بزرگوں میں ممکن ہے امام احمد رضا بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ شامل نہ ہوں توکیا پھر ہم نقشبندی وغیرہ کا بھی کوئی الگ فرقہ ہوگیا؟

دیوبند نے جو مکاریاں کی ہیں اگرچہ وہ ایک آرٹیکل میں بیان نہیں ہوسکتیں لیکن یہ وہ غلطیاں ہیں جن کیو جہ سے آج ایک عام آدمی سمجھ ہی نہیں پاتا کیونکہ ہر شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا کہ وہ تحقیق کرے اور جڑ سے مسئلوں کو سمجھے۔ صوفی سلسلے کروڑوں ہیں جیسے بریلوی، جو کہ قادری مشہور صوفی سلسلے کی ایک چھوٹی سے کڑی ہے جس کے شیخ ہمارے مجدد امام احمد رضا ہیں جو کہ بریلی کے رہائشی تھے۔ چشتی، سہروری، حقانی، ولی الٰہیہ،(یعنی دیوبندی اکابرین)، نقشبندی، مجددی، نظامیہ، وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب سلسلے کہلاتے ہیں فرقے نہیں۔ فرقہ وہ ہوتا ہے جو کہ اپنی الگ سے عقائد کی وجہ سے شناخت جدا رکھے جیسے کہ وہابی، شیعہ ، دیوبندی، اہلحدیث ، قادیانی۔ یہ سب فرقے ہیں کیونکہ ان کا اپنا اپنا عقیدہ ، چودہ سو سال کی چلی آرہی امت سے جدا ہے اسی لیئے یہ فرقہ کہلاتے ہیں۔ جس کو دیوبندی فرقہ بنا کر پیش کرتے ہیں یعنی بریلوی وہ تو صوفی سلسلہ ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔ اب فیصلہ ہر دیوبندی کے ہاتھ میں ہے کہ آیا وہ اپنے پرانے اکابرین کے طریقے کو صحیح سمجھتے ہوئے فالو کرتے ہیں یا اپنے موجودہ دور کے نام نہاد دیوبندیت کو جو کہ تبلیغ کے نام پر خارجی عقائد دیوبندی دماغوں میں کاشت کررہےہیں ۔

صوفی اکثریت میں ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثریت کے ساتھ رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ لہٰذا جو بھی اکثریت کے ساتھ ہوگا چاہے وہ کسی بھی فرقے سے ہو وہ اہلسنت ہی رہے گا۔ جو اکثریت سے ہٹے گا وہ خارج از امت ہے۔ فیصلہ دیوبندیوں کے ایمان پر چھوڑا جاتا ہے کیونکہ ان میں کچھ اچھے خداترس لوگ بھی ہوں گے۔

وآخرالدعوانہ

 

Scans

 

For reading full book and Downloading use the links below

(Picture Format Click)
(PDF Format Click)

English Translation:

Faisla Haft Masla By Haji Imadad Ullah Hanafi Muhajir Makki Chishti Saabri

[Haji Imdad Ullah Muhajir Makki Sahib is a great scholar of Pre-Partition India. He is a great Shaykh of Silsila e Aliya Chishtiya Saabiriya and has Ijaza from all Salasil. He is the actual mastermind behind the freedom movement of 1857. The great Mujaddid of the 14th century, Hazrat Peer Mehar Ali Shah Sahib, in addition to his Nisbat in Silsila e Aliya Qadriya from his father and Silsila e Aaliya Chishtiya Nizaamiya from Hazrat Shams UD Deen Siyaalvi Sahib, received the Chishtiya Saabriya Nisbat from Haji Sahib. Majority of the Akaabireen of Dar -ul- Uloom Deoband are Haji Sahib’s mureed.]

 

Chapter 1 Preface

“Alhamdolillahy nahmado wa nastaeno wa nastaghfaro wa nomino behee, wala tawakalo wa naooz billahy min sharoor e un fosayna wamin saeyat-e-amalayna min yohdi Allah fala mudil lahoo wa min yohdil lalah fala h adi ala wa nashhado an lailaaha il Allah wahda hoo la sharik ala hoo wa nashhado ana sayedana wa maulana Mohammad an abda hoo wa Rasulo (Sal Allaho alehi wasalam).”

“I, Imdad Ullah, Hanafi, Muhajir Makki, Allah’s humble servant wish to emphasise to all Muslims in general and my associates in particular that the unity amongst us Muslims in the real key for our worldly progress and for getting the Divinely Blessings. Unfortunately , certain Religious matters have become a bone of contention among the Muslim ummah these days. This is resulting in Muslim scholars wasting their precious time and energy on the one hand and the detonation of Deen of the Muslim Ummah on the other hand. But in actual fact, in most of these so called controversial matters, the differences lie not in the essence but only in the wording and expression.

 

Being desperately concerned at the frustration these matters have caused to my associates [deobandis] in particular and to our Muslim ummah in general, I deeply felt the need to write and publish a booklet concerning these matters with a firm hope that the present prevailing arguments and controversies eill come to an end. Though at present there are many controversial matters but I have picked up only those in which my associates differ. There are two reasons for this. Firstly, the controversial matters are so numerous that it is difficult to cover them all and that there is least likelihood that my explanation will be accepted by scholars other than my associates. Secondly, the differences among my associates are only in a few matters and there is every likelihood that my point of view will be accepted by my associates.

 

 

The matters in which my associates mostly argue are only seven, five of which involve Islamic practices while the other two come under belief. The order of preferences in which these matters are being discussed is based upon their level of controversy. I have also mentioned the righteous practice and my practice in these disputed matters. I pray to Allah Almighty that this attempt of mine becomes the tool in eradicating the controversies and quarrels among Muslims. Furthermore, persons other than my associates who also accept it and benefit from it, are requested to pray for me. I also wish to mention that nobody should waste energies in publishing answers refutating my deliberations because I do not want to enter into any dialogue whatsoever.”

 

 

Chapter 2: Maulood un Nabi (sal Allaho alehi wasalam)

 

 

“There is no controversy that the Dhikr (remembrance) of the birth of the Pride of Adam and the best of Allah’s creation (Sal Allaho alehi wasalam) is a means of Allah’s Blessings and Good Tidings, both in this world and in the world hereafter. the disputes, however, are about fixing of date and time and celebrating in a special manner, under some restrictions, the prominent being the Aqama (standing position) during Salam. Some scholars forbid this practice on the basis of the Tradition “kulo bidah dalala” (Sahih Muslim, Abwab al Juma) i.e., “every innovation is wrong”. But most of the scholars, however allow it on the grounds of great blessings and honour that the Dhikr brings to us. In actual fact and in every fairness bidah applies only if something alien is introducted in the Deen as is apparent from the following Tradition “mun ahdasa fi amrena haza ma laisa minho fahowa radan” (Sahih Bukhari, Kitab ul Sulhah) i.e., introducting something new in Deen which is not part of the Deen is not acceptable. Thus if a believer considers that his primary aim, the Dhikr of the Holy Prophet (sal Allaho alehi wasalam) with respect is Ibadah and means of Allah’s blessings while the conditions are only optional and not obligatory which he follows due to certain interpretations, then this will be far from innovation. If a believer considers that the Dhir of the Holy Prophet (sal Allaho tala alehi wasalam) with respect is Ibadah and that he can do it at any time though he fixes some time and date like 12th Rabi-ul-Awwal due to certain reasons, conveniences or interpretations lest he forgets and misses his (Blessed Dhikr), then there is nothing wrong with it. Talking of interpretations, there are so many of them and that they vary froms ituation to situation. If one is not aware of them all, one should follow those scholars who have the knowledge of the way the earlier believers would have done in these matters. The specific spiritual practices, meditation, the establishments of schools and Dargahs are result of these interpretations. However, if a believer considers all the things discussed above as obligatory (like Salaat and Fasting), then these become innovation. Thus for example, if anyone believes that there will be no Divinely blessings if Maulood is performed on a fixed date or in a position other than Aqama or perfumes and food are not made available at the occasion, then such a belief is certainly wrong because it amounts to exceeding the limits of the Shariah. Similarly considering any Mubah (good action permissible in Shariah) as Haram (sin) is also wrong and amounts to exceeding the bounds of Shariah. In both these cases, considering a Mubah as Wajib (necessary) or Haram will amount to exceeding the limits of Shariah and are wrong. If one does not consider these things as Wajib from the Shariah point of view but follows them because there are certain blessings associated with them and certain desired effects are not attained without adhering to them, then there is no justification to call them Bidah. For example there are certain actions which only produce specific effects and results when performed in standing posture only and that these effects are not possible in sitting posture. The reason for such a belief is based upon the Kashf (inspiration) or Ilham (revelation) fo the initiator of that action. In the same way, based upon one’s own experience or on the evidence of the person blessed with spiritual knowledge and Divinely wisdom, if one considers that special effect would not be possible except carrying them out in special conditions like the standing posture, one cannot be accused of Bidah. Belief is something hidden and cannot be known unless asked about it. It is, therefore not right to doubt anybody’s Iman from merely seeing some of the outward signs of his actions.
Some people, however criticize those who do not stand up during Maulood. Such criticism is not right because from Shariah’s point of view standing position is not Wajib. According to Muslim Jurists even a Mustahhab (likeable action) becomes Masiat (disobedience or bad tidings) when insisted upon. One should insist only on the Wajib and not on optional actions. But to regard such a critic as the supporter of Qiyam from Shariah poitn of view is also not right. There are so many reasons on which this criticism could be based. It could be on the grounds of beliefs, customs or habits, which could be religious or otherwise. Sometimes a critic, rightly or wrongly, directs his criticism on an activity, which in his opinion is a symbol of a non-believer’s community. Thus if a holy person comes to a meeting and everyone stands up in respect except one person, the later is criticised not because he has contravened any Wajib of Shariah but on the grounds that he has acted against the Aadab (manners) of the Majlis (association). Another example is the custom prevalent in Indo-Pak Sub-continent, of the distribution of sweetmeats at the completion of Holy Quran at the end of Tarawih during Ramadhan. Those who do not distribute sweetmeats at such occasions will be criticised but this criticism is only on the grounds that a good custom is ignored. Sometimes in the past saying, “Bahaq” was a symbol of Mutazila sect. If an ignorant person these days, finds someone calling Bahaq, accuses and criticizes the later for belonging to and for possessing the same beliefs as Mutazila will be committing a great mistake. It is therefore apparent that simply on the basis of an action, wwe cannot regard the critic to be believing int hat action as Wajib. If, however, we assume that someone in the community believes that such an action is obligatory or Wajib, it will be Bidah for that specific person only. It will still be permissible and likeable action for those who do not believe this way. Another example is of Rujat-e-Qahqary”. If anybody considers Rujat-e-Qahqary as likeable action though not necessary (from Shariah point of view), it will be far from Bidah. On the basis of certain silly actions like reading of week Traditions or singing etc., of ignorant people in some meetings, some scholars give a general verdict of Haram or Bidah on such meetings. This is not justified. If because of some speakers preaching week Traditions or due to the mixed assemblies of men and women trouble shoots out, all religious assemblies will not be banned. There is a well known saying “Do not burn your blanket because of one bug”.

 

 

[Rujat-e-Qahqary is a walking back without turning one’s back on the Holy Kaaba. Some people insist after Tawaf-e-Widah (farewell circumulation of the Kaaba), when walking away, one should not turn one’s back to the Kaaba. They believe it is a great disrespect and therefore a sin. Though it is a wrong belief, yet anyone who hasn’t got this belief but does it as a mark of respect only cannot be blamed to be doing an act of Bidah.]

 

To regard the belief that the Holy Prophet (sal Allaho alehi wasalam) actually honours the meeting of Maulood by his presence, as Kufr or Shirk is exceeding the limits and is outrageous. This is possible both rationally and through recorded experiences. Actually it does not happen on certain occasions. The doubt how the Prophet (sal Allaho alehi wasalam) could know about the Maulood meeting and how he could be present at many places at one time is very weak and baseless doubt. These things are insignificant before the vast Divinely Wisdom and Spiritual powers of Holy Prophet (sal Allaho alehi wasalam) which are supported by right Traditions and proved by people of inspiration and revelations. Besides, nobody can doubt the powers of Allah Almighty who could lift all the veils so that the Prophet (sal Allaho alehi wasalam) can see everything while sitting in his own place. In fact, in every respect this is possible. This belief does not mean that Syadina Muhammad (sal Allaho alehi wasalam) possesses Ilm-e-Ghayb (knowledge of Unseen) specific to Allah Almighty. One is said to have ilm-e-Ghayb when such knowledge is specific and peculiar to one alone without being informed from the outside agency. This type of Ilm-e-Ghayb is characteristic of Allah Almighty alone. The knowledge given to someone else by (Allah Almighty) is, therefore not someone’s personal knowledge but dependent on the Informer (Allah Almighty). This sort of knowledge is not possible for the Allah’s creations but there are prominent and famous instances of its occurrences, examples of which are Alqa (intuition), Kashf (inspiration) and Wahi (revelations).

 

 

The belief in something possible cannot be regarded as Kufr or Shirk even if such thing does not occur, though of course an evidence is necessary for its happening. If this evidence is available through one’s own inspiration or is informed by “a person of inspiration” believing in such a thing is definitely allowed. However, without an evidence such a thing will be wrong and should be given up. But it cannot be regarded as Kufr or Shirk. This is a brief investigation of this Masla (issue).

 

So far as I am concerned, I, not only participate in the Maulood gatherings but also hold them regularly every year as means of blessings and find pleasure and (spiritual) uplift in Qiyam. Since, it is a controversial matter in which both the opposing factions have evidences from Shariah, though some of them are weak, the scholars should follow the line which they think is right on the basis of their evidences as is customary in such controversial matters. Nevertheless, they should neither hate nor look down on their opposing faction or call them Fasiq (corrupt) or Gumrah (deviator). They should, rather consider the differences in this matter like the differences of Hanafi and Shafi (jurisprudence). Moreover, both factions should meet and greet each other, communicate through letters and writings and keep it up their love and co-operation with each other. They should refrain from debating and contradicting with each other. They should specially avoid involving indecent and evil people from the public since it is contrary to the dignity of a Muslim scholar. They should neither give fatwa (definite decision based on Shariah) nor sign nor put their seal on any document relating to these matters since it is needless and useless.

 

Furthermore, they should accomudate each other. Thus, if people who support Qiyam happen to be in the company of those who do not support Qiyam, the former should join the Qiyam. The aim should be to avoid any trouble erupting out. Any objectionable extremes practiced by some members of general public should be pointed out and advised to be given up. This is better done by those scholars who support and are involved in Qiyam and not by those scholars who oppose it. The later should not talk about it, rather should remain quiet. In brief do not oppose these things where these are in practice but do not invent them where these are not practiced. The case of Hateem is a good evidence in this matter. Those who support Qiyam should accoummodate the opposing faction assuming that the latter’s stand is based upon their own interpretation and on the grounds that the public can give up the extremities only when told to stop the activity. Similarly, those who oppose the Qiyam should accommodate the supporters of Qiyam assuming that the latter’s stand is based upon their interpretations coupled by being overwhelmed with the love of the Holy Prophet (sal Allaho alehi wasalam) and that they give permission to other Muslims with good intentions. This should be in thel ine of action of the scholars while the public in general should follow that scholar whom they consider pious and verified. Nevertheless, they should not criticize people and in particular insult scholars from the opposing faction which amounts exceeding one’s limits. Remember jealousy and backbiting destroy your good deeds and therefore refrain from these bad things. Do not let envy and hatred overtake you. (The general public is advised that) reading of books and magazines relating to these matters is Ulama’s Job and not yours because if you do, these will build up suspicions against the Ulama and worries for you in these matters.
The investigations and the line of action which has been discussed and commented as regards to the above matter are not specific to it only but are so useful that they can be rightly applied to most of the disputed matters because they are based upon the same principles. Put this to your mind, it will certainly benefit you.”

[Hateem: (Original inside portion of the Kaaba now left outside the building)]

Chapter 2 Translation Ends Here.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s