Tarikh e Babal – Babylon – Urdu


Scans:

More scans and text file Link

Unicode:

 

کُتب اسلامی سے بابل کی تاریخ

بابل از تاریخِ مسعودی؛

ملوک بابل اور ملوک ِ نبط یعنی کلدانیوں کے حالات وکوائف کا باب:

ملوک بابل ونبط درحقیقت ایک ہی ہیں جنہیں تواریخ عالم میں کلدانی لکھا گیا ہے۔ صاحب “عنایہ” نےملوک عالم کے بارے میں بیانات قلمبند کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سب سے پہلے سطح ارضی پر آباد کاری کا سلسلہ ملوک بابل ہی نے شروع کیا تھا اور فارس کے قدیم بادشاہوں نے حکومت انہیں سے حاصل کی تھی جس طرح رومیوں نے یونانیوں سے۔

نمرود الجبار:

بابل میں کلدانیوں کا سب سے پہلا بادشاہ نمرود الجبار تھا، جس نے وہاں قریباً ساٹھ سال حکومت کی۔ اس نے عراق میں فرات سے نہریں نکالیں، کہاجاتا ہے کہ ایک نہر جو فرات سے نکل کر کونے کی طرف آئی ، وہ نہر کوثی تھی، جو قصر ہبیرہ اور بغداد کےدرمیان بہتی تھی۔ اس کا ذکر چونکہ سبھی نے کیا ہے، اس لیئے وہ تاریخ میں کافی شہرت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں عراق کی دوسری نہروں کا ذکر ہم آگے چل کرفارس کے دوراول اور دور ثانی کے بادشاہوں اورملوک طواف کا ذکرکے ساتھ کریں گے جو ملوک ِ عالم کی نسبت سے وہیں مناسب ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے اپنی پچھلی کتابوں میں اسی ترتیب سے کیا ہے۔ اور اس طرح کی مزید وضاحت بھی ہو جائے گی۔

بابل کے باقی بادشاہ:

نمرود الجبار کے بعد دوسرا بادشاہ “بولوس” ہوا۔ جس نے قریباً ستر سال کی عمر تک حکومت کی۔ وہ بھی بہت تندمزاج اور سخت گیر تھا۔ اس کے زمانے میں بھی متعدد لڑائیاں ہوئیں۔ اس کےبعد “فیومنوس” بادشاہ ہوا جس کے زمانے میں دوسرے اہل ارض نے اس کے خاندان سے بغاوت کردی۔ اس کے دورحکومت میں بابلی خاندان کی حکومت کے سوسال پورے ہوئے ۔ اس کے بعد “سوسوس” بادشا ہ ہوا جس نے نوے سال کی عمر تک حکومت کی۔ اس کےبعد جو بادشاہ ہوا س کا نام “کورش” تھا۔ اس نے پچاس سال حکومت کی۔ اس کےبعد “بوسمیس” نے سترسال حکومت کی۔ اس کےبعد “انیوس” نے تیس سال حکومت کی۔ “انیوس” کے بعد “افلاوس” ، “الحلوس”، “امرونوس” ، “کلوس”، سیبفروس”، “مارنوس”، “وسطالیم”، “امنوطوس”، “تبادلیوس”، “العداس”، “اطیروس”، “ساوساس”، “فاربنوس”، سوساادرینوس”، “مسروس”، “طاطالیوس”، “طاطاؤس” اور “افروس” نے علی الترتیب بیس سال، چالیس سال، تیس سال، چالیس سال، تیس سال، چالیس سال، تیس سال، چالیس سال، ساٹھ سال، پچاس سال، تیس سال، ساٹھ سال، بیس سال، پچاس سال، چالیس سال، تیس سال اور قریباً چالیس سال حکومت کی۔

“فاربنوس” کادورِ حکومت بعض مورخین کےمطابق پینتالیس سال رہا۔ اس کے زمانے میں دارا کے بعد ملوکِ فارس میں سے ایک نے بابل پر حملہ کیا تھا۔ ویسے لڑائیاں ہونےکو قریب قریب سب کے زمانے میں ہوتی رہیں۔

“افروس” کے بعد “لاوسیس” کادورِ حکومت پچاس سال (بعض کے نزدیک پینتالیس سال) “افریقریس” کاتیس سال، “منطوروس” کا بیس سال، “قولاقسما” کا ساٹھ سال ، “ہنقلس” کا پینتیس سال (بعض کے نزدیک پچاس سال) رہا۔ قدیم تواریخ کے مطابق “ہنقلس” کے بعد”مرجد” کا دورِ حکومت تیس سال رہا، “مردوح” کا چالیس سال، “سنجاریب(جس نے بیت المقدس بنایا تھا) کا تیس سال، “نشوہ منوشا” کا تیس سال،۔ بخنقرالجبار کا پینتالیس سال ، “فرمودوج” کا صرف ایک سال ، “بنطسفر” کا قریباً ساٹھ سال ، “فسوس” کا قریباً آٹھ سال (بعض کے نزدیک دس سال) ، “معوسا” کا ایک سال (بعض کے نزدیک اس سے بھی کم) ، “داونوس” کا اکتیس سال (بعض کے نزدیک اس سے کچھ زیادہ) ،”کسرجوس” کا بیس سال رہا۔ “کسرجوس” کے بعد”مرطاسیہ” بادشاہ ہوا۔ لیکن اسے 9 مہینے بعد قتل کردیا گیا۔”مرطاسیہ” کے بعد “فنحت” نے اکتالیس سال، “احترست” نے تین سال (بعض کے نزدیک دوسال دومہینے) ، “شعریاس” نے ایک سال (بعض کے نزدیک صرف 9 مہینے) ،”داریوس” نے بیس سال (بعض کے نزدیک انیس سال) ، “اطحست ” نے انتیس سال اور”دارالسیع”نے پندرہ سال (بعض کے نزدیک دس سال) حکومت کی۔

Babylonian temple raised to the glory of Sargon

 

ملوک بابل کے اعمال:

ملوک بابل کے نام اور ان کے ادوار حکومت کی مدتیں وغیرہ تو سب وہی ہیں جو قدیم تواریخ کے مطابق ہم نے ترتیب وار سطور بالا میں پیش کی ہیں۔ اب ان کے کچھ قابل قدر کارنامے بھی سن لیں؛

انہوں نے بنی نوع انسان کے لیئے آباد کاری کی بنیاد رکھی ، شہر بسائے ، سمندروں کی تشخیص کی، ارضی آثار وکوائف کا پتا لگایا، لوہا، سیسہ اور تانبہ وغیرہ نکالنے کے لئے کانیں کھدوائیں ، تلواریں اور ان کی طبعی تراش خراش ایجاد کیں، لڑائی کے محاذوں اور جنگی فنون کاتعین کیا۔ لڑائی کے قوانین اور عساکر کے قلب، میمنہ ، میسرہ اور ان کے بازوؤں کی ترتیب کا تعین کیا، لڑائی کے پینتروں کاانسانی جسم کے مطابق تعین کیا جوا ن سے قبل کسی کو اس ترتیب سے معلوم نہ تھے، لشکروں کی صفوں کو بالکل اسی طرح مرتب کیا جس طرح ہاتھی ، چیونٹیاں اوردوسرے جانورلڑائی کے مواقع پر فطری طور پر مرتب کرلیتے ہیں۔لڑائی میں حملے کے طریقے بالکل اسی وضع پر نکالے جیسے شیر، چیتے ، تیندوے اور بھیڑیئے اپنے جس کی ساخت اورتوڑ موڑ کے مطابق رکھتے ہیں۔ فوجوں کے علم اس طرح بنوائے کہ افواج کاہرحصہ دوسرے حصے سے ممتاز رہے اورفوراً پہچانا جائے۔ زمین کے مختلف طبقات کی شناخت بالکل اسی طرح کی جیسے بچھو اورزمین کے اندر رہنے والے کیڑے مکوڑے اوردوسری مخلوق اپنے سوراخوں کے لیے کرتی ہے۔ مختلف رنگ بھی انہیں کی ایجاد ہیں۔ اُنہوں نے رنگوں کی تعداد چھ بتائی ، یعنی سیاہ، سفید، صفرادی، سرخ ، سبز اور آسمانی۔

رنگ؛

بعض اقوام نے قوس وقزح کے رنگوں اور ان رنگوں کوملا کرجو ایک دوسرے کے امتزاج سے بنتے ہیں ان کی مجموعی تعداد بتائی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ نور بصارت اور بیرونی رنگوں میں کیا نسبت اور تعلق ہے، مثلاً کونسا رنگ نورِ بصارت سے میل کھاتا ہے اورکونسا نہیں، نیز یہ نگاہ اپنی فطرت کے لحاظ سے کس رنگ پر جمتی ہے اورکس رنگ سے اس میں خیرگی پیدا ہوتی ہے جیسے سیاہ رنگ پر نگاہ ٹھہرتی ہے اور سرخ پر نہیں جمتی ۔ کلدانیوں نے لشکر کے جھنڈوں کے لیے رنگ کا تعین کیا۔ اور محافل نشاط وسرود اور بچوں کے لباس میں ان رنگوں کے استعمال کی ممانعت کی ۔ انہوں نے رنگوں کے استعمال کو الوانِ فلکیات پر منحصر کیا۔ ملوک عالم کے اخبار وسیر ، ان کے فطری عادات وخصائل اور ان کے باہمی اختلافات کا مفصل بیان ہم اپنی دوپچھلی کتابوں “اخبارالزماں” اور “کتاب الاوسط” میں درج کرچکے ہیں۔

بعض مورخین کے مطابق بابلی اور نبطی اقوام درحقیقت ایک ہی قوم کے دونام ہیں۔ کچھ مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ لوگ جو فارس کی طرف بلخ وغیرہ میں جاکربس گئے تھے دراصل نبطی ہی تھے ۔ نبطی قوم کے انساب کے بارے میں آگے چل کر ملوکِ عالم کے سلسلے میں مزید اندرجات کریں گے۔(تاریخ مسعودی جلد 1)

تاریخ ابن خلدون میں علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں:

شہر بابل کی تعمیر:

تاریخ ابن خلدون جلد اول میں لکھا ہے کہ : “علامہ ابن سعید کتاب البدر میں نقل کرتا ہے کہ جس نے اولاد حام ابن نوح  سے پہلے بادشاہت کی اور حکومت وسلطنت کی بنا ڈالی وہ کنعان بن کوش ابنِ حام بن نوح تھا۔ یہ معلوم نہیں کہ کنعان کس وجہ سے کس زمانہ میں اپنی جائے ولادت شام سے زمین کے اس حصہ کی طرف چلاآیا ۔ جس کو اب سرزمین بابل کہتےہیںاورایک شہر اٹھارہ کوس مربع میں بابل نامی آباد کیا۔ اس کے بعد نمردو نامی اسکا لڑکا تخت حکومت پر بیٹھا، یہ بہت بڑا عظیم الشان بادشاہ ہوا اس نے اکثر معمورات ِ عالم پر قبضہ کرلیا۔ اس کی عمر نسبتاً دوسروں سے زیادہ ہوئی ۔ بنی حام میں سے یہ پہلا شخص ہے کہ جس نے دینِ صابیہ اختیار کرلیا تھا اسی کی دیکھا دیکھی تھوڑے دن بعد اولاد سام بھی اس مذہب کی طرف مائل ہوگئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عابر ابن شالخ جو شالخ بن ارفخشند کا جانشین تھا ، یہی کلدانیوں کو لے کر نمرود سے مقابل ہوا لیکن نمرود اس پر غالب آیا اور اسے کوثا سے نکال دیا۔”

babylon

دوسری جگہ ابن خلدون باب اول ، ملوک بابل، موصل ونینویٰ میں لکھتے ہیں:

کنعان بن کوش بن حام:

اس سے پہلے یہ امر ظاہر کردیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلام کے بعد کنعان بن کوش بن حام تختِ حکمرانی پر رونق افروز ہوا۔ اسکےبعد اس کا لڑکا نمرود بادشاہ بنااور یہ صابیہ مذہب کا مقلد تھا، اور بنی سام خالص موحد تھے اور اس توحید کے پابند تھے جو ان سے پہلے کلدانیوں میں رائج تھی۔ ابن سعید کہتا ہے کہ کلدانیوں کے معنی “موحدین ” کے ہیں ۔ توریت میں نمرود کو، کوش بن حام کی طرف منسوب کیا ہے اور کنعان بن کوش کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ واللہ اعلم

babylonian_art_astronomy

واقعہ بلبلہ:

ابن سعید کہتا ہے کہ عابر بن شالخ بن ارفخشند حملہ کرکے اطراف بلاد پر قابض ہوگیا اور کوثا سے جزیرہ موصل کی طرف چلا آیااور یہیں اس نے ایک شہر مجدل نامی آباد کیا اورمرتے دم تک یہیں مقیم رہا۔ اس کےبعد اس کا لڑکا فانع اس کا وارث وقائم مقام ہوا اور نمرود اور اسکی قوم پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بلبلہ آیا۔ بلبلہ ایک مشہور واقعہ ہے اس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے لیکن ہم اس کے معنی نہیں سمجھ سکتے اور یہ کہنا کہ تمام بنی آدم کی ایک زبان تھی ، وہ سب کے سب شب کوسوئے اور صبح کو جب اٹھے توانکی زبانیں مختلف ہوگئیں۔ بالکل خلافِ قیاس اور عادتاً بعید ہے مگر یہ کہ اسے ہم خوارق انبیاء میں شمار کریں تو اس وقت یہ معجزہ میں داخل ہوجائے گا حالانکہ اس کی روایت کسی نے نہیں کی ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اسے خرق عادت اور اختلاف السنہ (زبانوں) کوتقدیرِ الٰہی کا ایک نمونہ اوراسکی کبریائی کا کرشمہ تصور کرلیں اور اس کے علاوہ بلبلہ کے اور کوئی معنی نہیں ہوسکتے۔

موصل بن جرموق کا بابل پر قبضہ:

ابن سعید کابیان ہے کہ سوریان بن نبیط نے فانع کو بابل کی حکومت پر مامور کیا تھا۔ لیکن اس نے عہد توڑ دیا اور اس سے لڑا اور جب فانع مرگیا اور اس کا لڑکا ملکان حکمران ہوا توسوریان نے جزیرہ لے لیا اور بنی عابر( ملکان) کوجزیرہ سے نکال باہر کرکے جزیرہ کی حکومت اپنے ہمشیرزادہ موصل بن جرموق کو دے دی۔ ملکان اپنے اہل وعیال کے ساتھ پہاڑ پر چلا گیااور وہیں اس نے سکونت اختیار کرلی۔ بعض کا خیال ہے کہ خضر اسی کی نسل سے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد موصل اپنے ماموں سوریاں بن نبیط سے باغی ہوکر بابل کا مستقل حاکم بن بیٹھا اسی کے زمانہ سے ایک حکومت جرامقہ کے نام سے قائم ہوگئی اور ملوکِ جرامقہ ملوکِ نبیط سے علیحدہ ہوگئے۔

ابن خلدون آگے تحریر کرتےہیں کہ؛

نمرود: ملوک بابل نبط ہیں اور وہ نبط اشوذ بن سام کی اولاد میں سے ہیں۔ مسعودی ان کو نبط بن ماش بن ارم کی طرف منسوب کرتا ہے۔ یہ بابل میں رہتےتھے ان میں سب سے پہلے شوریان بن نبط نے بادشاہت کی۔ مسعودی کہتا ہے کہ اسے قانع نے بابل کی حکومت پر مامور کیا ۔ فانع کے انتقال کے بعد اس نے بدعت صابیہ ظاہر کی اور اسی مذہب کا پابند ہوا س کے بعد اس کا لڑکا کنعان سلقب بن نمرود تھا اور جس نے آذر (پدرِ سیدنا ابراہیم علیہ السلام) کو طلب کرکے بیت الاصنام (بتُ خانہ) کا داروغہ مقرر کیا تھا کیونکہ ارغو بن فانع اپنے باپ کے انتقال کے بعد کوثی چلا آیا اور نماردہ کے ساتھ مذہب صابیہ اختیار کرلیا یہی مذہب اس کے خاندان میں نسلاً بعدنسل آزاد بن ناحور تک برابر چلاآیا۔ حاجر بن کوش نے ہاجر کو بیت الاصنام کا داروغہ مقرر کیا اور ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔”

مزید لکھتے ہیں :

بخت نصر کا بیت المقدس پر حملہ:

الغرض بابل میں نماردہ (نمرودوں) کی حکومت کا سلسلہ برابرجاری رہا اور بخت نصر انہیں میں سے تھاجیسا کہ بعضوں نے لکھا ہے بعضے کہتے ہیں کہ جرامقہ (اہل نینویٰ) نے بابل پر فوج کشی کی۔ چنانچہ سنجاریف اس پر قابض ہوا اور اس نے اپنے امراء میں سے بخت نصر کو اس کا گورنر مقررفرمایا۔ پھر کچھ عرصہ بعد اہل بیت المقدس نے عہد توڑ دیا ۔ تب بخت نصر نے بنی اسرائیل سے بیت المقدس میں معرکہ آرائی کی اور محاصرہ وقتل اورقید کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہ کو قتل کرڈالا اور ان کی مسجد کوویران کردیا۔

ایرانیوں کا بابل پر تسلط:
پھر جب بخت نصر مرگیا تواس کا لڑکا نشبت نصر بادشاہ ہوا۔ اس کے بعد منبفیر حاکم ہوا۔ اس سے اورارتاق مرزبان کسریٰ سے لرائی ہوئی، ارتاق نے اسے مارڈالا اور بابل اور اطرافِ بابل کا حاکم بن بیٹھا اس کے بعد نبیط اور جرامقہ دولت فارس کی رعیت میں شمار کئے جانے لگے اور نمرودوں کی بابل سے حکومت ختم ہوگئی ۔ (ھذا ذکر ابن سعید ونقلہ من داھر مؤرخ دولۃ الفٰرس) ایسا ہی ابنِ سعید نے ذکر کیا ہے اور اس کو نقل کیا ہے داہر مؤرخ دولت فارس سے۔” 

stc357940

ابن خلدون کی ہی تاریخ میں مزید لکھا ہے کہ : 

سریانئیین : ابن سعید نے سرنائیین اور نبیط کو ایک گروہ اور ایک ہی حکومت قرار دیا ہے ۔ لیکن مسعودی کا یہ خیال ہے کہ یہ دودو حکومتیں تھیں۔ سریانئیین کی نسبت وہ کہتا ہے کہ طوفان کے بعد دنیا میں سب سے پہلے سریانئیین نے بادشاہت کی ایک صدی یا کسی قدر اور زیادہ زمانہ میں ان کے نوبادشاہوں کے نام عجمی ناموں میں تحریر کئے ہیں جنہیں ہم عدم اعتماد اور عدم صحت کے باعث تحریر نہیں کرنا چاہتے ہاں شوشان کے بارے میں وہ تحریر کرتا ہے کہ سب سے پہلے اس نے اپنے سرپرتاج رکھا تھا اور یہی تاج کا موجد ہوا تھا اور چوتھے بادشاہ نے قلعے بنوائے ، شہرآباد کئے اس کے زمانہ میں ہند کا بادشاہ ریبل تھا اوراس نے اکثر ملوکِ مغرب کی سلطنتیں چھین لیں اور ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ آٹھویں کا نام ماروت بتلاتا ہے اور اپنے آخر کلام میں ظاہر کرتا ہے کہ وہ لوگ موصل اور بابل کے حاکم تھے ملوکِ یمن ان سے اکثر مغلوب اور کبھی غالب رہتے تھے نویں کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ غیرمستقل مزاج تھا اس کی طبیعت میں تلون حد سے زیادہ پایا جاتا تھااوراس کے بھائی نے سلطنت تقسیم کرلی تھی۔” غرض کہ اسی طرح وہ تحریر کرتا ہے کہ سب سے پہلے جس نے خمر (شراب) کھینچی وہ فلاں شخص تھا ، جس نے شطرنج کا کھیل ایجاد کیا وہ فلاں تھا، جو سب سے پہلے بادشاہ ہوا وہ فلاں تھا (وغیرذلک) حالانکہ ہمارے نزدیک یہ سب خلاف قیاس باتیں اور صحت سے منزلوں دور ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ سریانئیین اقدم الخلیقہ (خلقت میں سب سے مقدم) ہیں اسی وجہ سے تمام پرانی چیزیں مثلاً لغت، سحر، خط وغیرہ ان کی جانب منسوب کیئے جاتے ہیں ۔ واللہ اعلم

نبط:
نبط کی نسبت مسعودی کا یہ خیال ہے کہ یہ بابل سے تھا وہ لکھتا ہے کہ ان کا پہلا بادشاہ نمرود جبار تھا اور یہ ماش بن ارم بن سام کی طرف منسوب کیاجاتا ہے اس نے بابل میں محل بنوایا تھا اور کوفہ کی نہر کھدوائی تھی اور دوسرے مقام پر اسی نمرود کو،کوش بن حام کی طرف منسوب کیا ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ دونوں نمرود ایک تھے یا کہ دوپھرنمرود کے بعد چودہ سوبرس کے اندرچھیالیس بادشاہوں کے نام عجمی ناموں میں تحریر کرتا ہے جن کو ہم عدم صحت کی وجہ سے نقل نہیں کرنا چاہتے لیکن “الموفی” میں نو صدی کے اندر بیس بادشاہوں کے نام تحریر کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ نویں صدی میں ملوک بابل، اہل فارس سے لڑے اور چودہویں صدی میں بیان کرتا ہے کہ اس صدی میں سنجاریف بادشاہ تھا۔ یہی بنی اسرائیل سے لڑا تھا اور انہیں بیت المقدس میں گھیررکھا تھا اوراس نے ان سے جزیہ لیا تھا اور اس کا سب سے پچھلا بادشاہ دارنیوش تھا جو دارا کے لقب سے مشہور تھا جسے سکندر نے قتل کیا جبکہ اس نے بابل پر قبضہ حاصل کرلیا تھا اس نے اپنے اس سلسلہ کلام اور ملوک بابل کے بیان میں خلیل علیہ السلام کے نمرود کا کچھ ذکر نہیں کیا حالانکہ ان نماردہ (نمرودوں)کو سکونت بابل بتلاتا ہے۔ واللہ اعلم۔

نمرود کے متعلق طبری کا بیان؛

طبری کہتا ہے کہ نمرود بن کوش بن کنعان بن حام، ابراہیم علیہ السلام کے عہد میں تھا پہلے یہ لوگ عادارم سے مشہور تھے جب وہ گروہ ہلاگ ہوگیا تو ثمودارم کہے جانے لگے، جب یہ بھی ہلاک ہوگئے تو نمرود ارم کے نام سے مشہور ہوئے اور جب یہ بھی ہلاک ہوگئے تو تمام اولادِ ارم کو ارمان کہنے لگے ۔ یہ سب نبط ہیں اور یہ موحد تھے اور بابل شہر میں رہتے تھے یہاں تک کہ نمرود بادشاہ ہوا اور اُس نے ان کو بت پرستی سکھلائی ۔ انتھیٰ کلام الطبری۔

بابل ؛ ہروشیوش مؤرخ روم کہتا ہے کہ جس نے اہل بابل کو بت پرستی کی طرف مائل کیا وہ نمرود الجسیم تھا اور بابل مربعۃ الشکل آباد کیا گیا تھااس کی شہر پناہ اسی میل کی تھی اس کی دیواریں دوسوگز بلند اور پچاس گز چوڑی اینٹ اور چونے سے بنائی گئی تھیں۔ شہر پناہ کے سودروازے تھے جن میں تابنے کے کواڑ لگے ہوئے تھے اور اس کے اوپر محافظین کے رہنے کے لیئے مقامات بنے ہوئے تھے ۔ جنگی سپاہیوں کا فصیلوں اور دیواروں پر پہرہ رہتا تھا۔ شہرپناہ کے باہر خندق تھی اور خندق کے باہر ایک عمیق نہر تھی اس شہرِ پناہ کو ملک بیرش (کسریٰ اول) بادشاہ فارس نے مسمار کیا جب کہ اسے بابل پر قبضہ حاصل ہوا۔ انتہی کلا ہردشیوش ۔ان لوگوں کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ نمرود بقی نام ہربادشاہِ بابل کا ہے ۔ اسی وجہ سے انسابِ مختلفہ میں کبھی سام کی طرف اور کبھی حام کی طرف منسوب کردیتا ہے۔

نمرود کے متعلق دوسری روایت؛

nebuchadnezzar

بعض مورخین یہ گمان کرتےہیں کہ خلیل اللہ علیہ السلام کا نمرود، نمرود بن کنعان بن سنجاریف بن نمرودالاکبر تھا اور بخت نصر اس کی نسل سے ہیں اور یہ ابن برازادبن سنجاریف بن نمرود ہے اور شاہانِ کیانی (فارس والے) بابل پر چڑھ آئے تھے اور اسکو مغلوب کرلیا تھا۔ لیکن پھر اسے بحال رکھا اور کسی قدر خراج مقرر کرلیا تھا اور بنی ساسان میں سے کسریٰ اول نے شہر بابل کو ویران کیا ہے اور اسرائیلین اپنے انبیاء دانیال اور ارمیا کی کتاب سے نقل کرتےہیں کہ بختِ نصر کاسدبن حاور کی نسل سے ہیں اور یہ ابراہیم الخلیل علیہ السلام کا بھائی ہے۔ بنو کاسد ملوکِ بابل میں شمار کئے جاتے ہیں اور انہیں کیدانیین بھی کہتے ہیں انہیں میں سے بخت نصر بھی تھا جو اکثر معموراتِ عالم پر قابض ہوگیا تھا اور بنی اسرائیل کو مغلوب کردیا تھااور ان کی حکومت چھین لی تھی اور بیت المقدس کو ویران کردیا تھا۔ اس کی حکومت مصر سے متجاوز ہوگئی تھی ، پینتالیس برس تک یہ سلطنت کرتارہا۔ اس کےبعد اسکا بیٹا اوبل مردود بن بخت نصر تئیس برس تک حکومت کی کرسی پر بیٹھا رہا۔ اس کے بعد بلینصر بن اوبل مردو تین برس تک حکمران رہا۔ اسی کے اخیر زمانہ میں دارا( شاہ فارس) اور اس کے داماد کورش نے بابل پر چڑھائی کی اور اس کا محاصرہ کرلیا۔ بعض اسرائیلیین کا یہ خیال ہے کہ بخت نصر اور ملوک بابل کسدیم کی اولاد سے ہیں اور کسدیم عیلام بن سام (برادراشوز) کی نسل سے ہیں اور اشوز سے ملوک موصل ہیں ۔ انتھیٰ الکلام فی ملوک الموصل وملوک البابل ، وھذا غایتہ ما ادی الیہ البحث من اخبارھم وانسابھم)۔

ابن خلدون لکھتے ہیں:

“ملوک بابل وموصل ستاروں کی پرستش کرتے تھے اور اسکی روحانیت کا بذریعہ طلسم اور سحر اتارتے تھے اسی طریقہ کا نام صابیہ ہے ، طلسمات اور سحر میں ان کو بڑا دخل تھا۔ ستاروں کی حرکت اور آثار کے خوب ماہر تھے کبھی اس دعوی ٰ پر آیت (ومآ اُنزل علی الملکین ۔ البقرہ ایک سودو) بکسراللام کی شہادت پیش کی جاتی ہے کہ ہاروت وماروت ملوک سریانئیین میں سے تھے اور یہی اول ملوک بابل ہیں اور بقرات مشہور یہ دونوں (ہاروت وماروت) فرشتہ تھے اس صورت میں اس فتنہ کی بابل کے ساتھ تخصیص یہ ظاہر کرتی ہے کہ اہل بابل سحر وطلسمات میں اور باشندگان ِ عالم کی بہ نسبت زیادہ ملکہ رکھتے تھے اور ان دلائل کے علاوہ جو ان کی نجومیت اور ساحریت پر پیش کیئے جاسکتے ہیں یہ ہیں کہ ہم نے یہ علوم (نجو م وسحر) اہل مصر سے حاصل کئے ہیں اور اہل مصر ان کے ہمسایہ تھے ملوکِ مصر کو بھی اس فن کی طرف خاص توجہ تھی ۔ چنانچہ جناب موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے جادوگر جمع کئے گئے تھے۔ صعید مصر میں اب تک جادوکے آثار اس دعویٰ کی شہادت دے رہےہیں ۔ (واللہ اعلم)”۔۔

bakhtnasar
البدایہ والنہایہ کی جلد دوئم کے باب بیت المقدس کی تباہی کے بیان میں ابن کثیر نے بھی تقریباً انہیں سب واقعات کا ذکر لکھا ہے جس کومکررتحریر کے سبب نہیں لکھا جارہا یہاں پر۔ لیکن اس میں سے کچھ معلومات کے غرض سے جو چیز مختلف ہے وہ یہاں لکھی جارہی ہے ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں :

“بہرکیف اب بخت نصر کے ہاتھوں بیت المقدس کی تباہی کو ایکسو بیس سال سے زیادہ گزر چکے تھے اور اس دور ان میں بابل کا وہ پہلا بادشاہ جس کے ساتھ رہ کر بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کیا تھا مرچکا تھااوربادشاہت اس کے بیٹے لہراسپ کے حصے میں آئی تھی۔ پھر اسکے مرنے کے بعد اس کا بیٹا بشتاسب بابل کا بادشاہ ہوگیا تھا اور اس نے بابل پر اسوبیس سال حکومت کی تھی جب کہ اس سے قبل لہراسپ کے زمانہ میں بخت نصر بھی فوت ہوچکا تھا۔ تاہم بشتاسب نے بابل سے شام میں جاکر دمشق کی ویرانی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی اوریہ بھی دیکھا تھا کہ اس کے کھنڈرات میں درندوں نے بسیرا کرلیا ہے بلکہ اس تمام عرصے میں سرزمین فلسطین کی بھی یہی حالت ہوچکی تھی اوروہاں کوئی فردبشر نظر نہیں آتاتھا۔

یہ دیکھ کر بشتاسب نے بنی اسرائیل کے ان لوگوں کو جنہیں بخت نصر بیت المقدس سے گرفتار کرکے اور غلام بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا تھا آزاد کرکے یہ اجازت دے دی تھی کہ ان میں سے جو چاہےوہاں سے اپنی آبائی سرزمین فلسطین واپس جاسکتا ہے چنانچہ وہ لوگ فلسطین واپس آگئے تھے اور انہوں نے وہاں جگہ جگہ کئی شہر بھی آباد کرلیئے تھے بلکہ جہاں تک ہوسکا تھا بیت المقدس کی بھی ازسرنو تعمیر کرلی تھی اور اس دوران میں آلِ داؤد ہی کا ایک شخص ان کا حکمران رہا تھا۔ جب ارمیا علیہ السلام اپنی ستر سالہ نیند سے بیدار ہوئے تووہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے اور پکار اٹھے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “

1-NEB-ANGRY-PUT-IN-FURNACE

تاریخ طبری جلد اول کے باب بادشاہ جمشید ، نوح اور انکی اولاد ، میں طبری نےلکھا ہے کہ “ابوجعفر سے مروی ہے کہ بخت نصر اور جم کے درمیان کافی زمانہ کا وقفہ ہے مگر ضحاک بھی بخت نصر کو ہی کہا جاتا ہے لہٰذابخت نصر سے مراد ضحاک ہی ہے۔ نیز ضحاک کے باب میں یہ بھی لکھا ہے کہ : ” ضحاک (بخت نصر) نے سرزمین بابل میں ایک شہر تعمیر کیا جس کا نام حوب رکھا تھا وہاں اس نے قبطیوں کو مصاحب اور روزہ دار بنا کررکھا تھا جبکہ باقی قبائل کے لوگوں پر وہ ظلم وتشدد کرتا تھا اور ان کے بچوں کو ذبح کردیا تھا۔ “

اسی طرح طبری کی تاریخ میں بیوراسپ یعنی ازدہاق کے تذکرے کے باب میں تحریر ہے کہ : “سوق ثمانین میں آبادی کا اضافہ: ابن عباس سے مروی ہے کہ جب نوح علیہ السلام کے بیٹوں کے لیئے اَسّی کا بازار تنگ پڑگیا تووہ بابل کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے تعمیر کیا ۔ یہ فرات اور سرات کے درمیان واقع ہے اس کی لمبائی اور چوڑائی بارہ بارہ فرسخ تھی اور اس کا دروازہ مقام دوران میں تھا۔ اگر آپ کوفہ کے پل کو عبور کریں تو یہ بائیں جانب ہے پس اس کی تعداد یہاں بڑھتے بڑھتے ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور وہ تمام مسلمان تھے۔” 

مصادر:

طبقات ابن سعد، تاریخ ابن خلدون، تاریخ ابن کثیر البدایہ والنہایہ، تاریخ طبری

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s