Tafsir e Qurtubi Surah al Isra 1 (a)

Tafsir of Surah al Isra Verse 1 (Urdu)


سورہ الاسراء (واقعہ معراج) آیت و تفسیر
آیت:
سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
ترجمہ: (کنزالایمان شریف) ۔ پاکی ہے اسے (ف۲) جو اپنے بندے (ف۳) کو، راتوں رات لے گیا (ف٤) مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک (ف۵) جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی (ف٦) کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے،
مختصر تفسیر:
(ف1) سورہ بنی اسرائیل اس کا نام سورہ اسراء اور سورہ سبحان بھی ہے یہ سورت مکّیہ ہے مگر آٹھ آیتیں ( وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ ڰ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا 73؀) 17- الإسراء:73) سے نَصِیْراً تک ۔ یہ قول قتادہ کا ہے ۔ بیضاوی نے جزم کیا ہے کہ یہ سورت تمام کی تمام مکیہ ہے ، اس سورت میں بارہ ۱۲ رکوع اور ایک سو دس آیتیں بصری ہیں اور کوفی ایک سو گیارہ ۱۱۱ اور پانچ سو تینتس ۵۳۳ کلمے اور تین ہزار چار سو ساٹھ ۳٤٦۰ حرف ہیں ۔
(ف2) منزّہ ہے اس کی ذات ہر عیب و نقص سے ۔
(ف3) محبوب محمد مصطفٰے  ۔
(ف4) شب معراج ۔
(ف5) جس کا فاصلہ چالیس منزل یعنی سوا مہینہ سے زیادہ کی راہ ہے ۔
شان نزول : جب سید عالم شب معراج درجات عالیہ و مراتبِ رفیعہ پر فائز ہوئے تو رب عزّوجلَّ نے خطاب فرمایا اے محمد ( ) یہ فضیلت و شرف میں نے تمہیں کیوں عطا فرمایا ؟ حضور نے عرض کیا اس لئے کہ تو نے مجھے عبدیّت کے ساتھ اپنی طرف منسوب فرمایا ۔ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ۔ (خازن)
(ف6) دینی بھی دنیوی بھی کہ وہ سرزمین پاک وحی کی جائے نزول اور انبیاء کی عبادت گاہ اور ان کا جائے قیام و قبلہ عبادت ہے اور کثرت انہار و اشجار سے وہ زمین سرسبز و شاداب اور میووں اور پھلوں کی کثرت سے بہترین عیش و راحت کا مقام ہے ۔ معراج شریف نبیٔ کریم ﷺ کا ایک جلیل معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حضور کا وہ کمال قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں آپ کے سوا کسی کو میسر نہیں ۔ نبوت کے بارہویں سال سید عالم ﷺ معراج سے نوازے گئے مہینہ میں اختلاف ہے مگر اشہر یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی مکہ مکرمہ سے حضور پُرنور ﷺ کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے حصّہ میں تشریف لے جانا نصِّ قرآنی سے ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور منازلِ قرب میں پہنچنا احادیث صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِّ تواتر کے قریب پہنچ گئی ہیں اس کا منکر گمراہ ہے ، معراج شریف بحالت بیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی یہی جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحاب رسول ﷺ کی کثیر جماعتیں اور حضور کے اجلّہ اصحاب اسی کے معتقد ہیں ۔ نصوص آیات و احادیث سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے ، تِیرہ دماغان فلسفہ کے اوہامِ فاسدہ محض باطل ہیں قدرت الٰہی کے معتقد کے سامنے وہ تمام شبہات محض بےحقیقت ہیں ۔ حضرت جبریل کا براق لے کر حاضر ہونا ، سید عالم ﷺ کو غایت اکرام و احترام کے ساتھ سوار کر کے لے جانا ، بیت المقدس میں سید عالم ﷺ کا انبیاء کی امامت فرمانا پھر وہاں سے سیرِ سمٰوٰت کی طرف متوجہ ہونا ، جبریلِ امین کا ہر ہر آسمان کے دروازہ کو کھلوانا ، ہر ہر آسمان پر وہاں کے صاحب مقام انبیاء علیہم السلام کا شرف زیارت سے مشرف ہونا اور حضور کی تکریم کرنا ، احترام بجا لانا ، تشریف آوری کی مبارک بادیں دینا ، حضور کا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرمانا ، وہاں کے عجائب دیکھنا اور تمام مقرّبین کی نہایتِ منازل سِدرۃ المنتہٰی کو پہنچنا ، جہاں سے آگے بڑھنے کی کسی مَلَکِ مقرّب کو بھی مجال نہیں ہے ، جبریلِ امین کا وہاں معذرت کر کے رہ جانا ، پھر مقامِ قربِ خاص میں حضور کا ترقیاں فرمانا اور اس قربِ اعلٰی میں پہنچنا کہ جس کے تصوّر تک خَلق کے اوہام و افکار بھی پرواز سے عاجز ہیں ، وہاں موردِ رحمت و کرم ہونا اور انعامات الٰہیہ اور خصائصِ نِعَم سے سرفراز فرمایا جانا اور ملکوتِ سمٰوٰت و ارض اور ان سے افضل و برتر علوم پانا اور امّت کے لئے نمازیں فرض ہونا ، حضور کا شفاعت فرمانا ، جنت و دوزخ کی سیریں اور پھر اپنی جگہ واپس تشریف لانا اور اس واقعہ کی خبریں دینا ، کفار کا اس پر شورشیں مچانا اور بیت المقدس کی عمارت کا حال اور ملک شام جانے والے قافلوں کی کیفیّتیں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے دریافت کرنا ، حضور کا سب کچھ بتانا ، اور قافلوں کے جو احوال حضور نے بتائے قافلوں کے آنے پر ان کی تصدیق ہونا ، یہ تمام صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور بکثرت احادیث ان تمام امور کے بیان اور ان کی تفاصیل سے مملو ہیں ۔
مکمل تفسیر:
اسریٰ کا معنی:
اسریٰ کا لفظ سری سے بنا ہے ، اس کا معنی ہے رات کو جانا، اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا:
فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ سورہ الھود آیت اکیاسی، ترجمہ ؛ آپ رات میں اپنے اہل کو لے جائیں۔
نیز فرمایا: (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا ) ۔ یعنی۔ سبحان ہے وہ جو اپنے بندے کو رات کے ایک لمحے میں لے گیا (الاسراء ؛1)۔
حوالہ؛ المفردات ج 2 ص تین سو پانچ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ۔
خواب میں معراج ہونے کی روایات
بعض روایات میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ معراج خواب کا واقعہ ہے اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف آپ کی روح کو معراج ہوئی تھی آپ کے جسم کو معراج نہیں ہوئی تھی، ہم ان روایات کو ذکر کرکے پھر ان کے جوابات کا تذکرہ کریں گے انشاء اللہ۔
امام ابوجعفر محمد بن جریر الطبری رحمتہ اللہ علیہ متوفی تین سو دس ہجری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں؛
عتبہ بن مغیرہ بن الاخنس بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا یہ اللہ کی طرف سے سچا خواب تھا۔
جامع البیان رقم الحدیث سولہ ہزار چھ سو اٹھائیس ، الدرالمنثور ج 5 ص دوسو ستائیس مطبوعہ دارالفکر بیروت
محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے بعض آل ابی بکر نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم گم نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو سیر کرائی تھی۔
جامع البیان حدیث سولہ ہزار چھ سو تیس ، الدرالمنثور ج 5 ص دوسو ستائیس مطبوعہ دارالفکر بیروت
آیت بنی اسرائیل ساٹھ۔ ترجمہ؛ اور وہ جلوہ جو ہم نے آپ کو (شب معراج) دکھایا تھا ہم نے اس کو لوگوں کےلیئے محض آزمائش بنا دیا۔
امام ابن سحاق کا استدلال اس سے ہے کہ رویا کا معنی خواب ہے یعنی شب معراج آپ کو جو خواب دکھایا تھا اس کی وجہ سے لوگ فتنہ میں پڑگئے بعض اس کی تصدیق کرکے اپنے ایمان پر قائم رہے اور بعض اس کا انکار کرکے مرتد ہوگئے، (ہمیں مرتد ہونے والوں کے ناموں کی تصریح نہیں ملی) اور حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے سے کہا۔
يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى سورۃ الصافات آیت ایک سو دو
ترجمہ؛ اے میرے بیٹے ! بے شک میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں تو اب غور کرو تمہاری کیا رائے ہے۔
پھر حضرت ابراہیم نے اپنے خواب پر عمل کیا، اس سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس خواب اور بیداری دونوں حالتوں میں وحی نازل ہوتی تھی اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل جاگتا رہتا ہے اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ واقعہ معراج آپ کو نیند میں دکھایا گیا تھا یا بیداری میں، اور یہ واقعہ جس حالت میں بھی پیش آیا تھا وہ حق اور صادق ہے۔ از۔ جامع البیان رقم الحدیث سولہ ہزار 6سو تیس مطبوعہ دارالفکر بیروت۔
خواب میں معراج کی روایات کے جوابات:
امام ابوجعفر طبری لکھتے ہیں:
“ہمارے نزدیک صحیح اور برحق قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں مسجد حرام سےمسجد اقصیٰ تک کی سیر کرائی جیسا کہ احادیث میں ہے ، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ علیہ السلام کو براق پر سوار کرایا اور آپ نے مسجد اقصیٰ میں انبیاء و رسل کو نماز پڑھائی ، اور آپ کو بہت سی نشانیاں دکھائیں، اور جس شخص نے یہ کہا کہ صرف آپ کی روح کو معراج کرائی گئی تھی اور یہ معراج جسمانی معراج نہیں تھی تو یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ واقعہ آپ کی نبوت پر دلیل نہ ہوتا، اور نہ اس کی حقیقت کا منکرین انکار کرتے ، اور اگر یہ صرف خواب کا واقعہ ہوتا تو مشرکین اس کا رد نہ کرتے، کیونکہ خواب میں کسی عجیب و غریب چیز کو دیکھنےپر کسی کو حیرت نہیں ہوتی اور نہ کوئی اس کا انکار کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اسری ٰ بعبدہ یہ نہیں فرمایا کہ اسریٰ بروح عبدہ ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر سوار ہونا بھی اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ معراج جسمانی معراج تھی کیونکہ کسی سواری پر سوار ہونا جسم کا تقاضا ہے نہ کہ روح کا۔ از جامع البیان۔

345mvzb

2q1e6fq

علامہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں؛
اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا توا للہ تعالیٰ فرماتا (بروح عبدہ ) اور بعبدہ نہ فرماتا، نیز اللہ نے فرمایا:
مازاغ البصر وما طغیٰ (النجم ، سترہ) یعنی، نہ نظر ایک طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی۔
سورہ النجم کی یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ بیداری کا واقعہ تھا، نیز اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا تو اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی اور معجزہ نہ ہوتا، اور آپ سے حضرت ام ہانی یہ نہ کہتیں کہ آپ لوگوں سے یہ واقعہ بیان نہ کریں وہ آپ کی تکذیب کریں گے ، اور نہ حضرت ابوبکر کی تصدیق کرنے میں کوئی فضیلت ہوتی، اور نہ قریش کے طعن وتشنیع اور تکذیب کی کوئی وجہ ہوتی ، حالانکہ جب آپ نے معراج کی خبر دی تو قریش نے آپ کی تکذیب کی اور کئی مسلمان مرتد ہوگئے، اور اگر یہ خواب ہوتا تو اس کا انکار نہ کیا جاتا، اور نیند میں جو واقعہ ہو اس کے لیئے اسریٰ نہیں کہا جاتا۔ از۔ جامع لاحکام القرآن للقرطبی۔

 

2uo49k42ec0lk834o32mb
علامہ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں؛
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو فرمایا ہے کہ آپ کا جسم شب معراج گم نہیں ہوا تھا اور آپ کی روح کو سیر کرائی گئی تھی۔ حضرت عائشہ سے یہ روایت صحیح نقل نہیں کی گئی کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت آپ بہت چھوٹی تھیں، تقریباً ساڑھے چار سال کی، اس وقت تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بھی نہیں تھیں، اور معاویہ بن ابی سفیان اس وقت کافر تھے، اور اس آیت سے جو استدلال کیا گیا ہے۔
وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ ، سورۃ اسراء ۶۰
ترجمہ؛ اور ہم نے آپ کو جو رویا دکھایا وہ صرف اس لیئے تھا کہ لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کریں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ رویا نیند اور بیداری دونوں میں دیکھنے کے لیئے آتا ہے اور جمہور کے نزدیک یہ رویا بیداری میں بدن اور روح کے ساتھ واقع ہوا۔
تفسیر روح المعانی جز ۱۵ ص ۷ مطبوعه احيا التراث العربي بيروت لبنان

 

2wr25x1t0j5fr

شریک کی ایک روایت جس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ معراج کا واقعہ خواب کا تھا:۔
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر بیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے معراج کا واقعہ سنا انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کعبہ میں سوئے ہوئے تھے، نزول وحی سے پہلے آپ کے پاس تین شخص آئے، پھر معراج کا پورا واقعہ بیان کیا۔ امام مسلم فرماتے ہیں کہ شریک نے بعض چیزوں کو مقدم کردیا اور بعض کو مؤخر کردیا اور روایت میں بعض چیزوں کی زیادتی کی اور بعض کی کمی کی۔
حوالہ جات؛
صحیح مسلم باب الاسراء ۲۶۲ رقم الحديث ۲۶۱ ، رقم الحديث المسلسل ۴۰۷، صحيح بخاري رقم الحديث ۳۵۷۰/۷۵۱۷
علامه یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں؛۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کے متعلق علماء کا اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ پوری معراج خواب میں ہوئی تھی، لیکن اکثر متقدمین اور متاخرین علماء ، فقہاء ، محدثین اور متکلمین کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی معراج ہوئی ہے، اور تمام احادیث صحیحہ اس پر دلالت کرتی ہیں اور بغیر کسی دلیل کے ان کے ظاہر معنی سے عدول کرنا جائز نہیں ہے، شریک کی جس روایت کا ابھی ذکر کیا گیا ہے وہ بظاہر اس کے خلاف ہے، لیکن شریک کے بہت اوہام ہیں جن کا علماء نے انکار کیا ہے، اور خود امام مسلم نے اس پر تنبیہہ کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے اپنی رویت میں تقدیم، تاخیر اور زیادتی اور کمی کی ہے، اور یہ کہا کہ معراج کا واقعہ نزول وحی سے پہلے کا ہے، اس کا یہ قول غلط ہے کسی نے اسکی موافقت نہیں کی، معراج کی تاریخ میں کافی اختلاف ہے زیادہ قوی یہ ہے کہ معراج ، ہجرت سے تین سال پہلے ہوئی ہے، کیونکہ اس میں اختلاف نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نماز کی فرضیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے پہلے ہوئی ہے ایک قول یہ ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے اورایک قول یہ ہے کہ ہجرت سے پانچ سال پہلے۔
صحیح مسلم بشرالنووی جلد 1 ص ۹۳۹/۹۳۵ مطبوعه مکتبه نزار مصطفي الباز مکه
علامه نووي نے یہ تحقیق قاضی عیاض مالکی اندلسی متوفی 544 ھ سے اخذ کی ہے۔
اکمال المعلم بفوائد مسلم جلد 1 ص 497/491 مطبوعہ دارالوفاء 1419 ھ۔
مسجد اقصیٰ سے ہوکر آسمانوں کی طرف جانا
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث معراج بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں براق پر سوار ہوا حتیٰ کہ میں بیت المقدس پہنچا پھر میں نے براق کو اس حلقہ میں باندھ دیا جہاں انبیاء علیہم السلام کی سواریاں باندھی جاتی ہیں، پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دورکعت نماز پڑھی، پھر میں مسجد سے باہر آگیا، پھر میرے پاس جبریل علیہ السلام ایک برتن میں شراب اور ایک برتن میں دودھ لے کر آگئے، میں نے دودھ لے لیا تو جبریل نے کہا آپ نے فطرت کو اختیار کرلیا، پھر ہمیں آسمان کی طرف معراج کرائی گئی۔
صحيح مسلم رقم الحديث ۱۶۲
اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست آسمانوں کی طرف کیوں نہیں لے جایا گیا درمیاں میں مسجد اقصیٰ کیوں لے جایا گیا اس کی حسب ذیل حکمتیں ہیں؛۔
اول۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف آسمانوں پر جانے کا ذکر فرماتے تو مشرکین کےلیئے اطمنان اور تصدیق کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا کیونکہ آسمانوں کے طبقات اور درجات، سدرہ سے اوپر کے حقائق میں سے کوئی چیز اُن کی دیکھی ہوئی تھی نہ انہیں اس کے متعلق کچھ علم تھا۔ لیکن مسجد اقصیٰ ان کی دیکھی ہوئی تھی تو جب آپ نے یہ فرمایا کہ میں رات کے ایک لمحے میں مسجد اقصیٰ گیا اور واپس آگیا، اور ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ اس سے پہلے مسجد اقصیٰ نہیں گئے ہیں، تو انہوں نے آپ سے مسجد اقصیٰ کی نشانیاں پوچھنی شروع کیں اور جب آپ نے سب نشانیاں بتادیں تو واضح ہوگیا کہ آپ کے دعویٰ کا اتنا حصہ تو بہرحال سچا ہے کہ آپ مسجد اقصیٰ جا کر واپس آئے ہیں جبکہ بظاہر یہ بھی بہت مشکل اور مستبعد اور محال تھا، تو پھر آپ کے دعویٰ کے باقی حصہ کا بھی صدق ثابت ہوگیا کیونکہ جب آپ رات کے ایک لمحہ میں مسجد اقصیٰ تک جاکر واپس آسکتے ہیں تو پھر آسمانوں تک بھی جاکر واپس آسکتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد اقصیٰ کی نشانیوں کے متعلق سوالات اور آپ کے جوابات دینے کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا اللہ نے میرے لیئے بیت المقدس منکشف کردیا تو میں بیت المقدس کی طرف دیکھ دیکھ کر ان کو اس کی نشانیاں بتا رہا تھا۔
حوالہ جات
صحيح البخاري رقم الحديث ۴۷۱۰
صحيح مسلم شريف ، ح ۱۷۰
سنن الترمذي رقم الحديث ۳۱۳۳
مسند احمد بن حنبل ، ح، ۱۵۰۹۹
مسند عبدالرزاق ، ح، ۹۷۱۹
صحيح ابن حبان ، ح ۵۵
دوئم
دوسری وجہ یہ ہے کہ عالم میثاق میں تمام انبیاء اور مرسلین نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ جب ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں تو تمام انبیاء علیہم السلام ان پر ایمان لے آئیں اور ان کی نصرت کریں قرآن مجید میں ہے؛
وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ 81؀
فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ 82؀
ترجمہ 81 و 82
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵٦) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں، تو جو کوئی اس (ف۱۵۸) کے بعد پھرے (ف۱۵۹) تو وہی لوگ فاسق ہیں (ف۱٦۰)
امام ابوجعفر محمد بن جریر الطبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں؛۔
ابوایوب بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛ اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کے بعد جس نبی کو بھیجا اس سے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق عہد لیا کہ اگر آپ کو اس نبی کی حیات میں مبعوث کیا گیا تو وہ ضرور آپ پر ایمان لائے اور آپ کی مدد کرے اور اپنی امت سے بھی آپ کی اطاعت کا عہد لے۔
حواله. جامع البيان رقم الحديث ۵۷۹۰ ، الدرالمنثور جلد ۲ ص ۲۵۲/۲۵۳ ، و، تفسير فتح القدير جلد ۱ ص ۵۸۷
اسی طرح کی احادیث و تفاسیر سے ریلیٹڈ کچھ مزید حوالہ جات دیئے جارہے ہیں
امام مسعود الفرا البغوی اپنی معالم التنزیل جلد 1 ص 350 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت
حافظ عمر بن اسماعیل ابن کثیر الدمشقی متوفی 774ھ اسی آیت کی تفسیر میں دیگر احادیث کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔ از۔ تفسیر ابن کثیر جلد 1 ص 426 مطبوعہ دارالفکر بیروت
تیسری وجہ؛
مسجد اقصیٰ سے ہوکر آسمانوں کی طرف جانے کی تیسری حکمت یہ ہے کہ آپ کا مسجد اقصیٰ جانا اور نبیوں کی امامت فرمانا معراج کی تصدیق کا اور خصوصاً بیداری میں اور جسم کے ساتھ معراج کی تصدیق کا ذریعہ بن گیا۔
حافظ ابن کثیر لکھتےہیں؛
محمد بن کعب القرظی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ السلام نے حضرت دھیہ بن خلیفہ کو قیصر روم کے پاس بھیجا پھر ان کے وہاں جانے اور قیصر روم کے سوالات کے جوابات دینے کا ذکر کیا، پھر بیان کیا کہ شام کے تاجروں کو بلایا گیا تو ابوسفیان بن صخربن حرب اور اسکے ساتھیوں کے آنے کا ذکر کیا، پھر ہرقل نے ابوسفیان سے سوالات کیئے اور ابوسفیان نے جوابات دیئے جن کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری اور مسلم میں ہے۔ ابوسفیان نے پوری کوشش کی کہ قیصر روم کی نگاہوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ کم کردے، ان ہی باتوں کے دوران اس کو واقعہ معراج یاد آیا، اس نے قیصر روم سے کہا اے بادشاہ! کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤن جس سے اس شخص کا جھوٹ تم پر واضح ہوجائے، اس نے پوچھا وہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک رات ہماری زمین ارض حرم سے نکل کر تمہاری اس مسجد ، بیت المقدس میں پہنچے اور اسی رات کو صبح سے پہلے ہمارے پاس حرم میں واپس پہنچ گئے، بیت المقدس کا بڑا عابد جو بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہوا تھا وہ کہنے لگا مجھے اس رات کا علم ہے۔ قیصر نے اسکی طرف دیکھا اور پوچھا تمہیں اس رات کا کیسے علم ہے؟ اس نے کہا میں ہررات کو سونے سے پہلے مسجد کے سارے دروازے بندکردیا کرتا تھا، اس رات کو میں نے ایک دروازہ کے علاوہ سارے دروازے بند کردئے وہ دروازہ بند نہیں ہوا، اس وقت جتنے کارندے دستیاب تھے سب نے پوری کوشش کی مگر وہ دروازہ بند نہیں ہوا، ہم اس دروازہ کو اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں سکے، یوں لگتا تھا جیسے ہم کسی پہاڑ کے ساتھ زور آزمائی کررہے ہوں، ہم نے کہا صبح کو بڑھیوں کو بلا کر دکھائیں گے کہ اس میں کیا نقص ہوگیا ہے، اور اس رات کو دروازہ یونہی کھلا چھوڑ دیا، صبح کو ہم نے دیکھا کہ مسجد کے ایک گوشے میں جو پتھر تھا، اس میں سوراخ تھا اور پتھر میں سواریوں کے باندھنے کے نشانات تھے، میں نے اپنے اصحاب سے کہا گزشتہ رات کو وہ دروازہ اسلیئے بند نہیں ہوسکا تھا کہ اس دروازہ سے ایک نبی کو آنا تھا، اور اس رات ہماری اس مسجد میں نبیوں نے نماز پڑھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مجلد الثامن ۸، موسسته القرطبه مکتبه اولاد الشيخ للتراث ص ۴۳۳/۴۳۴

3097urn2vbwu9en6e1ae

چوتھی حکمت؛۔
یہ تھی کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں مدفون ہیں، اور وہ سب اس رات کو مسجد اقدس میں جمع ہوئے، تمام انبیا نے خطبات پڑھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں دی ہیں ان کا بیان کیا، اور سب کے آخر میں سیدنا محمد علیہ السلام نے خطبہ دیا اور اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا اور آپ نے سب نبیوں کو نماز پڑھائی اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں اور جہاں چاہتےہیں چلے جاتے ہیں۔ اور ایک وقت میں متعدد جگہ بھی تشریف لے جاتے ہیں، اس وقت سب نبی اپنی اپنی قبروں میں بھی تھے اور مسجد اقصیٰ میں بھی تھے۔
دیوبندیوں کے شیخ اشرف تھانوی لکھتے ہیں؛
حضرت آدم علیہ السلام جمیع انبیاء میں اس کے قبل بیت المقدس میں بھی مل چکے ہیں اور اسی طرح وہ اپنی قبر میں بھی موجود ہیں اور اسی طرح بقیہ آسمانوں میں جو انبیاء علیہم السلام کو دیکھا سب جگہ یہی سوال ہوتا ہے کہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ قبر میں تو اصل جسد سے تشریف رکھتے ہیں اور دوسرے مقامات پر ان کی روح کا تمثل ہوا ہے یعنی عنصری جسد سے جس کو صوفیہ جسدِ مثالی کہتے ہیں روح کا تعلق ہوگیا اور اس جسد میں تعدد بھی اور ایک وقت روح کا سب کے ساتھ تعلق بھی ممکن ہے لیکن ان کے اختیار سے نہیں بلکہ محض بہ قدرت و مشیت حق۔
نشر الطیب ص 65/64 مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی۔
خلاصہ یہ کہ مسجد اقصیٰ میں آپ کے تشریف لے جانے کی وجہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اور ایک وقت میں کئی جگہ بھی ہوتے ہیں اسی مفہوم کو بعض علماء حاظر و ناظر سے بھی تعبیر کرتے ہیں لیکن اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہروقت ہرجگہ موجود ہوتےہیں ، ہروقت ہرجگہ موجود ہونا اور ہروقت ہرچیز کا علم ہونا یہ صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔
والحمدللہ رب العالمین
واللہ اعلم ورسولہ

For reading in proper inpage format visit our forum (Click Here)

Click to Access Scans Folder

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s