Objection and Answer on Imam Shaybani (rta) (Urdu)


فخر احناف مجتہد امام محمد بن حسن الشيباني رحمتہ اللہ علیہ پر کذّاب کی جرح کا علمی محاسبہ
اعتراض نمبر۱
الضعفاء الكبير للعقيلي ۴/۵۲
حدثنا أحمد بن محمد بن صدقة قال: سمعت العباس بن محمد البصري، يقول سمعت يحيى بن معين، يقول: محمد جهمي كذاب.
ترجمہ – یعنی يحيى بن معين رحمتہ اللہ علیہ نے محمد (محمد بن حسن الشيباني رحمتہ اللہ علیہ) کو کذّاب کہا ہے.
الجواب
جواب نمبر ۱
امام يحيى بن معين رحمتہ اللہ علیہ سے اس جرح کو امام محمد بن حسن الشيباني رحمتہ اللہ علیہ کے ترجمہ میں نقل کرنا حافظ عقیلی رحمتہ اللہ علیہ کی بہت بڑی خطاء و غلطی ہے. بعد کے ائمہ جرح و تعدیل نے حافظ عقیلی کی تقلیدِ جامِد میں اس جرح کو يحيى بن معين رحمتہ اللہ علیہ سے امام محمد بن حسن الشيباني رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں منسوب کر دیا ہے. يحيى بن معين رحمتہ اللہ علیہ نے اس جرح میں صرف ” محمد جهمي كذاب” منقول ہے . محمد بن حسن الشيباني کہا ہے ؟ ؟ ؟یہ محمد کونسا راوی ہے ؟ اس محمد کا تعّین نہی کیا گیا ہے. اس جرح کو امام محمد بن حسن الشيباني پر فِٹ کرنا حافظ عقیلی کا تشدّد و تعصّب ہے. مشہور غیر مقلد محّق شیخ معلّمی یمانی نے التنکیل۱/۴۶۵ میں حافظ عقیلی رحمتہ اللہ علیہ کو متشدّدین میں شمار کیا ہے.
اہم بات یہ ہے کہ امام يحيى بن معين نے اپنی خود کی کتاب تاريخ ابن معين (رواية الدوري) میں صرف “لَيْسَ بِشَيْء” کہا ہے اور یہ بہت ہلکی جرح ہے. اوربعض محدثین نے لَيْسَ بِشَيْء کو جرح میں شمار ہی نہیں کیا ہے. اس حوالے کی خاص بات یہ ہے کی اس میں محمد بن حسن الشيباني کے نام کا تعّین ہے.
تاريخ ابن معين – رواية الدوري (3/ 364)
1770 – سَمِعت يحيى يَقُول مُحَمَّد بن الْحسن الشَّيْبَانِيّ لَيْسَ بِشَيْء
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام يحيى بن معين سے امام محمد بن حسن الشيباني پر کذّاب کی جرح منسوب کرنا خطاءِ فاحِش ہے.
يحيى بن معين رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی خود کی کتاب میں پانچ /5 محمد بن حسن راویوں کے بارے میں لکھا ہے
تاريخ ابن معين – رواية الدوري
(1) – 1060 – سَمِعت يحيى يَقُول بن زبالة اسْمه مُحَمَّد بن الْحسن بن زبالة وَكَانَ كذابا وَلم يكن بِشَيْء وَهُوَ مدنِي
(2) – 1686 – قَالَ يحيى مُحَمَّد بن الْحسن الْهَمدَانِي لَيْسَ بِثِقَة
(3) – 1687 – وَمُحَمّد بن الْحسن الْأَسدي قد أَدْرَكته وَلَيْسَ هُوَ بِشَيْء
(4) – 1770 – سَمِعت يحيى يَقُول مُحَمَّد بن الْحسن الشَّيْبَانِيّ لَيْسَ بِشَيْء
(5) – 1808 – حَدثنَا يحيى قَالَ مُحَمَّد بن الْحسن بن أَبى يزِيد يكذب
مذکورہ حوالوں میں صرف دو / 2 محمد بن حسن کو “کذّاب” کہا گیا ہے. اور ان کے نام کا تعّین بھی ہے.
متابعات کا جواب
يحيى بن معين رحمتہ اللہ علیہ سے یہی جرح محمد بن احمد اصفری ( مجہول ) ، محمد بن سعد العوفی ( ضعیف ، خود زبیر زئی نے ضعیف تسلیم کیا ہے مقالات 2/342 )، مزید یہ کی خطیب کی سنَد میں محمد بن احمد بن عصام اور احمد بن علی جیش کی توثیق بھی ثابت نھی ہے.
خطیب کی سنَد میں نصر بن محمد بغدادی بھی مجہول ہے. زبیر زئی نے تعصّب کی وجہ سے اسکی سند کو صحیح کہاہے. یہی راوی جب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی توثیق میں آیا تو اپنے رسالہ الحدیث نمبر : 73 صفحہ 12 پر نامعلوم ( مجہول ) کہہ کر ضعیف ثابت کر دیا .
جواب نمبر۲
یہ جرح مبہم ہے. کیوں کذّاب ہیں ؟ ؟ ؟ کیا جھوٹ بولا ہے ؟ ؟ ؟ اسکی کوئی وضاحت نہیں ہے. اور جرح مبہم مردود ہوتا ہے.
غیر مقلّدین علماء کی ڈبل پالیسی
شیعہ راوی محمد بن اسحاق پر امام مالک رحمتہ اللہ علیہ ، یحیی بن سعید قطان رحمتہ اللہ علیہ،سلیمان تیمی رحمتہ اللہ علیہ نے کذّاب کی جرح کر رکهی ہے. حا لانکہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی جرح مفَسّرہے.کذّاب کی جرح کی وجوہات بهی بتایاہے پھر بھی غیر مقلّدین علماء حافظ گوندلوی و ارشادالحق اثری نے اس مفَسّر جرح کو ردّ کر کے محمد بن اسحاق کا دفاع کیاہے.
اور یہاں پر تو امام محمد بن حسن شیبانی رحمتہ اللہ علیہ پر جرح کی وجوہات بھی نہیں بتائی گئی ہے ، پھر بھی زبیر زئی اینڈ کمپنی نے اس جرح پر ایمان رکھ لیا. آخر کیوں ؟ ؟ ؟
جواب نمبر۳
کذب بمعنی خطاء ( وہم ) پر بھی بولا جاتاہے ( تنقیح الکلام ارشادالحق اثری 244 ) . ارشادالحق اثری صاحب نے کذب بمعنی خطاء ( وہم ) ثابت کرنے کے لئیے 3,4 صفحات سیاہ کئے ہیں .
اعتراض نمبر۲
تاريخ بغداد۔ ت ۔بشار۵۶۱/۲
قرأت على الحسن بن أبي بكر عن أحمد بن كامل القاضي، قَالَ: أَخْبَرَنِي أحمد بن القاسم، عن بشر بن الوليد، قَالَ: قَالَ أبو يوسف: قولوا لهذا الكذاب، يعني محمد بن الحسن، هذا الذي يرويه عنى سمعه مني ؟
ترجمہ – قاضی امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، اس کذّاب یعنی محمد بن حسن سے کہو. یہ جو مجھ سے روایتیں بیان کرتا ہے کیا اس نے سنی ہیں ؟ ؟ ؟
الجواب
جواب نمبر۱
مذکورہ سنَد خالص خطیب بغدادی کے ذہن کی پیداوار ہے ، اور خطیب کے ہاتھ کی صفائی ہے. خطیب احناف و حنابلہ کے خلاف سنَد میں ہیر پھیر کرنے میں ماہر ہے.
مذکورہ سنَد میں الحسن بن أبي بكر ( مجہول ) کون ہیں ؟ ؟ ؟
اگر کوئی کہے کی امام ذہبی رحمتہ اللہ علیہ نے اس راوی کا تعّین کیاہے
سير أعلام النبلاء ط الرسالة ۴۱۵/۱۷
ابن شاذان الحسن بن أحمد بن إبراهيم البغدادي **الامام، الفاضل، الصدوق، مسند العراق، أبو علي الحسن بن أبي بكر أحمد بن إبراهيم
(1) بن الحسن بن محمد بن شاذان البغدادي، البزاز،الأصولي
سير أعلام النبلاء ط الرسالة ۴۱۶،۱۷
(1) ورد اسمه في ” تاريخ بغداد ” الحسن بن إبراهيم بن أحمد.
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے بر خلاف خود خطیب نے اپنے اُستاد کا نام اس طرح لکھا ہے.
تاريخ بغداد وذيوله ط العلمية ۲۲۸۔۷
۳۲۲۷څ الحسن بن إبراهيم بن أحمد بن الحسن بن محمد بن محمد بن شاذان بن حرب بن مهران، أبو علي البزاز
اس سے ثابت ہوتاہے کہ ” الحسن بن أبي بكر ( مجہول )” کوئی اور ہے.خطیب کے سنَد میں ہیر پھیر کرنے کی وجہ سے امام ذہبی رحمتہ اللہ علیہ جیسے اسماء الرجال کے ماہر بھی کنفیوز ہو گئے.اس لئے حاشیہ نگار محقّق کو لکھنا پڑا
سير أعلام النبلاء ط الرسالة۴۱۶،۱۷
(1) ورد اسمه في ” تاريخ بغداد ” الحسن بن إبراهيم بن أحمد.
یعنی تاریخ بغداد میں ” الحسن بن إبراهيم بن أحمد” ہے اور امام ذہبی رحمتہ اللہ علیہ کو سہو و وہم ہوا ہے ،اس لئے “أحمد بن إبراهيم بن الحسن ” لکھ دیا.
الحسن بن أبي بكر ( مجہول ) کا تعّین کرتے ہوئے زبیرعلی زئی لکھتا ہے.
روایت مذکورہ میں الحسن بن أبي بكر : إبراهيم بن أحمد بن الحسن بن محمد بن محمد بن شاذان بن حرب بن مهران البزاز ثقہ ہیں. ( مقالات 2/ 359 ).
جبکہ تاریخ بغداد میں الحسن بن إبراهيم بن أحمد بن الحسن بن محمد بن محمد بن شاذان بن حرب بن مهران ہے. اور الحسن بن أبي بكر کی کوئی کنّیت موجود نہیں ہے.
خلاصہ کلام روایت مذکورہ میں الحسن بن أبي بكر “مجہول” ہے. اس لئے سنَد سخت ضعیف ہے.
جواب نمبر۲
یہ جرح مبہم ہے. کیوں کذّاب ہیں ؟ ؟ ؟ کیا جھوٹ بولا ہے ؟ ؟ ؟ کون سی روایتیں ہیں اسکی کوئی وضاحت نہیں ہے. اور جرح مبہم مردود ہوتا ہے.
اہم نوٹ
” امام ” یہ لفظ بھی زبردست تعدیل( توثیق ) میں شمار ہوتاہے.
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ ، امام محمّد رحمتہ اللہ علیہ ، جمہور امّت کے نز دیک امامت کے درجہ پر فائز ہیں.
اگر زبیر علی زئی اور اس کا مقّلد اعتراض کرے کی جمہور کے نز دیک یہ تینوں ضعیف ہیں. اس کا جواب یہ ہے کے آخر کتنے لوگوں کے مجموعہ کا نام جمہور ہے ؟ ؟ ؟ لسٹ بنا کر دے. انشاء اللہ ہم بهی 1400 سو سالہ اسلامی تاریخ سے لسٹ بنا کر دیں گے.اور ثابت کرے گیں کی جمہور امّت کے نزدیک تینوں ائمہ رحمتہ اللہ علیہ امامت کے درجہ پر فائز ہیں.

اس پوسٹ کو صاف ان پیج میں پڑھنے کے لیئے ہمارے فورم پر وزٹ کریں جسکا لکنک نیچے دیا جارہا ہے۔

 [Forum Link Click Here] – [Admin-AbuNasar Meer]

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s