Tafsir Surah Tauba 9-28 [From 4 School of Thoughts] Ur


تفسیر سورہ توبہ 9۔ 28

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا  ۚ وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ    

مسجد میں کافر کے داخلے کے متعلق شافعی عقیدہ

امام فخر الدین رازی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں؛۔

امام شافعی رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ کفار کو صرف مسجد حرام میں دخول سے منع کیا جائے گا، اور امام مالک کے نزدیک ان کو تمام مساجد میں دخول سے منع کیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک مسجد حرام میں دخول سے منع کیا جائے گا نہ کسی اور مسجد سے، اس آیت کے صریح الفاظ سے امام ابوحنیفہ کا مذہب باطل ہے اور اس آیت کے مفہوم مخالف سے امام مالک کا قول باطل ہے؛ ہم یہ کہتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ کفار کو مسجد میں دخول سے نہ منع کیا جائے لیکن اس صریح نص قطعی کی وجہ سے ہم نے اس اصل کی مخالفت کی اور کفار کو مسجد میں دخول کی اجازت دی اور مسجد حرام کے علاوہ باقی مساجد میں ہم نے اصل پر عمل کیا اور ان مساجد میں کفار کو مسجد میں دخول کی اجازت دی اور مسجد حرام کے علاوہ باقی مساجد میں ہم نے اصل پر عمل کیا اور ان مساجد میں کفار کو داخل ہونے کی اجازت دی۔

حوالہ تفسیر کبیر ج ۱۶ ص ۲۷ دارالفکر بيروت

مسجد میں کافر کے دخول کے متعلق مالکی فقہ کا نظریہ؛۔

علامہ قرطبی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں؛۔

اہل مدینہ (مالکیہ) نے کہا کہ یہ آیت تمام مشرکین اور تمام مساجد کے حق میں عام ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عمال کو یہی حکم لکھوایا تھا اور اس حکم کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے۔

فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ۔ سورہ النور آیت 36

ترجمہ؛۔ اللہ کے ان گھروں میں، جنہیں اللہ نے بلند کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں اللہ کا نام لیا جائے۔

اور کفار کا مساجد میں داخلہونا اللہ کی مساجد کے بلند کرنے کے منافی ہے اور صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں مذکور ہے:۔ “ان مساجد میں پیشاب کرنا یا کسی قسم کی کوئی اور نجاست ڈالنا جائز نہیں ہے” اور کافر ان نجاستوں سے خالی نہیں ہے۔ (یعنی وہ استنجا کرتا ہے نہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مسجد کو حائض اور جنبی کے لیئے حلال نہیں کرتا، اور کافر جنبی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: انما المشرکون نجس (التوبہ 28) یعنی مشرکین نجس ہیں، اب یا تو یہ نجس العین ہیں یا حکماً نجس ہیں اور ہرصورت میں ان کو مساجد سے منع کرنا واجب ہے کیونکہ منع کرنے کی علت (نجاست) ان میں موجود ہے اور مساجد میں حرمت موجود ہے۔

حوالہ ۔ الجامع الاحکام القرآن للقرطبی ج ۱۰ ص ۱۵۴ موسسته الرسالۀ

مسجد میں کافر کے داخلے سے متعلق فقہاء حنابلہ کا مؤقف؛۔

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں؛۔

حرم میں ذمیوں کا داخل ہونا کسی صورت جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے؛۔

مشرکین نجس ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ۔ التوبہ 28

غیر حرم کی مساجد کے متعلق دو روایتیں ہیں: ایک روایت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اجازت کے بغیر ان کا مساجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک مجوسی مسجد میں داخل ہوکر منبر پر بیٹھ گیا تو حضرت علی نے اس کو منبر سے اتار کر مارا اور مسجد کے دروازوں سے نکال دیا اور مسلمانوں کی اجازت سے ان کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے اور یہی صحیح مذہب ہے، کیونکہ اسلام لانے سے پہلے اہل طائف کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا اور سعید بن مسیب نے کہا کہ ابوسفیان حالتِ شرک میں مدینہ کی مسجد میں اتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عمیر بن وہب آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے مسجدِ نبوی میں داخل ہوئے (اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتادیا کہ تم کس ارادہ سے آئے ہو) تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولتِ اسلام سے سرفراز کردیا۔

اور دوسری روایت یہ ہے کہ کافروں کا کسی صورت میں بھی مسجد میں دخول جائز نہیں ہے کیونکہ حضرت ابوموسیٰ ، حضرت عمر کے پاس گئے۔ ان کے پاس ایک مکتوب تھا جس میں عمال کا حساب لکھا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے کہا اس کے لکھنے والے کو لاؤ تاکہ وہ اس کو پڑھ کر سنائے۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا وہ مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت عمر نے پوچھا: کیوں؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا وہ نصرانی ہے ، اس اثر میں یہ دلیل ہے کہ کافروں کا مسجد میں داخل نہ ہونا صحابہ کرام کے درمیان مشہور و معروف اور مقرر ہے، نیز جنابت، حیض اور نفاس کا حدث مسجد میں دخول سے مانع ہے تو شرک کا حدث بطریقِ اولیٰ مانع ہوگا۔

المغنی ص ۲۳۵۶ بيت الافکار الدوليۀ

مسجد میں کافر کے داخلے کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ؛۔

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتےہیں؛۔

اس آیت کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے ، امام مالک اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ مشرک مسجد ِ حرام میں داخل نہیں ہوگا اور امام مالک کہتے ہیں کہ وہ کسی اور مسجد میں بھی داخل نہیں ہوسکتا، البتہ ذمی کسی ضرورت کی بنا پر مسجد میں جاسکتا ہے، مثلاً کسی مقدمہ کی پیروی کے لیئے حاکم کے پاس مسجد میں جاسکتا ہے، اور ہمارے اصحاب (یعنی فقہاء احناف) نے یہ کہا ہے کہ ذمی کے لیئے تمام مساجد میں داخل ہونا جائز ہے، اور اس آیت کے دو محمل ہیں؛ اول یہ کہ یہ آیت غیر ذمی مشرکین کے لیے ہے جو کہ مشرکینِ عرب ہیں، ان کو مکہ مکرمہ اور تمام مساجد میں داخلہ منع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ذمی نہیں ہوسکتے ان کے لیئے صرف دو راستے ہیں: اسلام یا تلوار! دوسرا محمل یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین کو حج کے لیئے مکہ میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس سال حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا تو اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و حضرت علی کو یہ اعلان کرنے کے لیئے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، پھر اس کے اگلے سال جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور اس معنی پر دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں اس کے متصل کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو اگر تم کو تنگدستی کا خوف ہو تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا”۔ اور تنگ دستی کا خوف اس وجہ سے ہوسکتا تھا کہ حج کے موسم میں بکثرت لوگ حج کے لیے آتے تھے اور اہل مکہ ان سے تجارت اور خرید وفروخت کے ذریعہ نفع اٹھاتے تھے اور جب کہ مشرکین کو حج پر آنے سے روک دیا گیا تو اہل مکہ کی تجارت میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا، سو اللہ تعالیٰ نے اس کا ازالہ فرمایا کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اس معنی کی مزید تائید اس بات سے ہے کہ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ مشرکین کو عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کرنے اور حج کے تمام افعال سے منع کیا جائے گا خواہ وہ افعال مسجد میں نہ کیئے جاتے ہوں، اور ذمیوں کا ان جگہوں میں جانا منع نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں مشرکین کو حج کرنے سے منع کیا گیا ہے اور حج کے بغیر مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا گیا، نیز اس آیت میں مسجد حرام کے قریب جانے کی ممانعت ہے مسجد حرام میں جانے کی ممانعت نہیں ہے اور مسجد حرام کے قریب جانا حج کے لیئے جانے میں متحقق ہوسکتا ہے۔

حماد بن سلمہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ نے ان کے لئے مسجد میں خیمہ لگوایا۔ صحابہ نے کہا کہ یارسول اللہ! یہ تو نجس لوگ ہیں۔ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا: لوگوں کی نجاست زمین پر نہیں لگتی ان کی نجاست ان میں ہی رہتی ہے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان زمانہ کفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوتا تھا البتہ ان کا مسجد حرام میں داخل ہونا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (وہ (غیرذمی مشرک) مسجد حرام کے قریب نہ ہوں)۔

علامہ ابوبکر رازی کہتےہیں کہ ثقیف کاوفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (آٹھ ہجری) میں فتح مکہ کے بعد آیا تھا اور یہ آیت نو ہجری میں نازل ہوئی ہے جب حضرت ابوبکر صدیق امیر حج بنے کر گئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا اور یہ خبر دی کہ کفار کی نجاست ان کو مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتی اور ابوسفیان فتح مکہ سے پہلے صلح کی تجدید کے لیئے آئے ہوئے تھے وہ اس وقت مشرک تھے اور یہ آیت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس آیت کا تقاضا صرف مسجد حرام کے قریب جانے سے ممانعت ہے اور یہ آیت کفار کو باقی مساجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتی۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ زید بن یشیع حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ ندا کی کہ حرم میں کوئی مشرک داخل نہ ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان الفاظ کے ساتھ روایت صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حرم میں کوئی مشرک حج کے لیئے داخل نہ ہوگا کیونکہ حضرت علی سے احادیث میں یہ روایت ہے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس حدیث میں حج کے لیئے حرم میں داخلے سے ممانعت ہے اور شریک نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سال کے بعد مشرکین مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ، البتہ کسی ضرورت کی وجہ سے غلام یا باندی مسجد حرام میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس حدیث میں آپ نے ضرورت کی وجہ سے غلام یا باندی کا مسجد حرام میں داخلہ جائز قرار دیا ہے اور حج کیلیئے اجازت نہیں دی ، اور یہ اس پر دلیل ہے کہ آزاد ذمی بھی ضرورت کی وجہ سے مسجد حرام میں داخل ہوسکتا ہے ، کیونکہ اس مسئلہ میں کسی نے بھی آزاد اور غلام میں فرق نہیں کیا اور حدیث میں غلام اور باندی کا بالخصوص اس لیئے ذکر کیا ہے کہ یہ عام طور پر حج کے لیئے نہیں جاتے اور امام عبدالرزاق نے سورہ توبہ کی اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت ذکر ی ہے ۔

حضرت جابر بن عبداللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے تھے البتہ غلام یا کوئی ذمی شخص ہو تو وہ جاسکتا ہے۔

تفسیر عبدالرزاق ، رقم الحدیث ۱۰۶۹ جامع احکام القرآن ج ۱۰ ص ۱۵۴ و ۱۵۵ زير تحت ايت سوره توبه ۲۸ موسسته الرسالته بيروت

حضرت علامہ محمود آلوسی الحنفی متوفی 1270ھ لکھتے ہیں؛۔

امام الاعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس آیت میں مشرکین کو حج اور عمرہ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو اس سال (یعنی نو ہجری) کے بعد سے مقید کیا ہے اور جو کام سال بہ سال کیا جاتا ہے وہ ھج یا عمرہ ہے۔ اگر مشرکین کو مسجد میں مطلقاً داخل ہونے سے منع کرنا مقصود ہوتا تو اس سال کے بعد کی قید لگانے کی ضرورت نہ تھی اور دوسری دلیل یہ ہے کہ مشرکین کو اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب جانے سے ممانعت کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے فرماتا ہے: (اور اگر تم کو تنگ دستی کا خوف ہو تو اگر اللہ نے چاہا تو وہ عنقریب تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا) اور تنک دستی کا خوف اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ مشرکین کو حج کے لیئے آنے سے روک دیا جائے، کیونکہ حج کے موقع پر مشرکین کے آنے سے مسلمانوں کو تجارت میں بہت فائدہ ہوتا تھا اور ان کے نہ آنے سے اس تجارت کے منقطع ہونے کا خدشہ تھا، اس لیئے امام اعظم کے نزدیک مشرکین اہل ذمہ کا مسجد حرام اور دیگر مساجد میں دخول جائز ہے۔

روح المعانی ۔ مجلد ۱۰ ص ۷۷ احيا التراث العربي بيروت

علامہ سید محمد امین ابن عابدین الشامی الحنفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں؛۔

امام شافعی وغیرہ نے قرآن مجید کی آیت کریمہ (لا یقربوا المسجد الحرام) یعنی مشرکین مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ۔ سے استدلال کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہی تکوینی ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان میں مسجد حرام کے قریب جانے کا فعل پیدا نہیں کرے گا، اور یہ منقول نہیں ہے کہ اس ممانعت کے بعد مشرکین میں سے کسی نے برہنہ ہوکر حج یا عمرہ کیا ہو، اور اس نہی کو تکوینی اس لیئے قرار دیا ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک کفار احکام فرعیہ کے مکلف نہیں ہیں۔

رد المحتار۔ ج ۵ ص ۳۴۰ و ۳۴۱ مطبوعه استنبول ، ج ۵ ص ۲۴۸ مطبوعه داراحيا التراث العربي بيروت ۱۴۰۷ هجري

[Scans Folder A] – [Scans Folder B]

For Inpage – Visit Forum 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s