Ameer Muawiya (rd) Allegations – Answers [En/Urdu]


Note: This is only for educational purposes not for waging sectarianism. and do not read it while having been a Sunni-Shia-Wahabi-Deobandi etc etc. Its still under process article not completed yet.
Ameer Muawiya (rd) par Kuch log Aitrazat karte hain , humare baaz ‘apne’ or ‘ache’ log bhi basa owqat ghalat baat kar jate hain. yahan par wese he cheezon par baat ki jaigi. Maqsad kisi ki tazlil nahi balke haqaiq bayan karna hain.
ایک اعتراض اور اسکا جواب
 
اعتراض۔ امیر معاویہ نے ہزارہا مسلمانوں کا خون کیا اور کرایا، نہ یہ حضرت علی سے جنگ کرتے نہ مسلمانوں کا اتنا خون ہوتا اور مومن کو قتل کرنے والا دائمی جہنمی ہے رب فرماتا ہے۔
 
 
ومن یقتل مؤمناً معتمداً فجزاؤہ جھنم ط خالداً فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذاباً عظیماً
 
اور جوکوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب اور لعنت کریگا اور اس کے لیئے بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ (نساء)۔
 
جواب؛۔
 
اس کے دو جواب ہیں ایک الزامی دوسرا تحقیقی ۔
 
جوابِ الزامی تو یہ ہے کہ پھر تو سیدنا عائشہ صدیقہ ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین پر بھی یہ ہی الزام عائد ہوسکتا ہے کیونکہ یہ تمام حضرات علی المرتضیٰ کے مقابل ہوئے اور جنگ جمل وغیرہا میں ہزارہا مسلمان شہید ہوئے حالانکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنتی ہونا ایسا ہی یقینی ہے جیسے اللہ کا ایک ہونا۔ کیونکہ قرآن کریم میں ان کے جنتی ہونے کی نص قطعی وارد ہوچکی اور حضرت طلہ و زبیر بھی قطعاً جنتی ہیں عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں۔
 
 
جوابِ تحقیقی یہ ہے؛۔
 
کہ مومن کے قتل کی تین صورتیں ہیں ایک تو اس لیئے اسے قتل کرنا کہ یہ مسلمان کیوں ہوگیا یہ کفر ہے کہ اس میں ایمان سے ہمیشہ ناراضی ہے ۔ اس آیت مذکورہ میں یہ ہی مراد ہے کیونکہ جہنم میں ہمیشہ رہنا صرف کافر کے لیئے ہے، دوسرے کسی مسلمان کو دنیاوی عناد اور ذاتی دشمنی کی وجہ سے قتل کرنا جیسے دن رات ہوتا رہتا ہے ۔ یہ فسق اور گناہ ہے۔ تیسرے غلط فہمی کی بنا پر مسلمانوں میں جنگ ہوجائے اور مسلمان مارے جائیں یہ غلط فہمی ہے نہ فسق ہے نہ کفر ۔ اس تیسری قسم کے لیئے آیت کریمہ ہے کہ؛۔
 
 
وان طائفتان من المؤمنین اقتلوا فاصلحوا بینہما (حجرات)
 
اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ کربیٹھیں تو ان میں صلح کرادو۔
 
 
یہاں قتال اور جنگ کرنے والی دونوں جماعتوں کو مومن فرمایا گیا۔ اور ان میں صلح کرا دینے کا حکم دیا گیا، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی جنگ اس تیسری قسم میں داخل ہے
 
بلکہ ان کا یہ الزام خود امیرالمؤمنین علی پر بھی پڑتا ہے کیونکہ جیسے امیر معاویہ کے ہاتھوں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی مومن شہید ہوئے ویسے ہی علی المرتضیٰ کے ہاتھوں امیر معاویہ اور حضرت عائشہ صدیقہ کے ساتھی حضرت طلحہ و زبیر وغیرہم شہید ہوئے (اللہ سمجھ دے)۔
 
Hum Ahlu Sunnat ka Aqeedah yeh hai keh Hum Sahaba e Kiram k apas ke jhagron par apni Zubano ko band rakhte hain or Un Sahaha ki Perwi karte hain jinho ne Sakoot ikhtiyar kiya or is Maamla ko Haq Tala par chor diya. Hum ye bhi manty hain keh Syaduna ALi (rd) k khilaf Ameer Muawiya (Rd) se Ijtahadi khata hovi thi or Syaduna Ali (Rd) haq par thay.
 
 
Ab ye parhen
 
امیر معاویہ کی مخالفت کی وجہ؛۔۔
 
 
یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ آخر امیر معاویہ کو علی المرتضیٰ سے کیا اختلاف پیدا ہوا اور کیوں ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا مصریوں نے محاصرہ کیا۔ تین دن یا زیادہ تک پانی نہ پہنچنے دیا۔ اور پھر گھر میں داخل ہوکر محمد ابن ابوبکر الصدیق اور تیرہ آدمیوں نے انہیں نہایت بے دردی سے شہید کیا۔ آپ کی شہادت کے بعد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ مہاجرین و انصار کے اتفاق رائے سے امیر برحق مقرر ہوئے لیکن چند وجوہات کی بنا پر قاتلینِ عثمان غنی سے قصاص نہ لیا جاسکا۔ ادھر امیر معاویہ کے دل میں یہ بات (خوارج) کی طرف سے ذہین نشین کرادی گئی کہ علی المرتضیٰ معاذاللہ دیدہ ودانستہ قصاص لینے میں کوتاہی فرمارہے ہیں ، اور اس قتل میں نعوذ باللہ ان کا ہاتھ ہے بلکہ خود ان کے قاتلین کو پولیس یا فوج میں بھرتی کرلیا گیا ہے۔ غرضیکہ بیچ کے ان مفسدوں نے یہ بات ان کے دل میں ڈال دی، لیکن امیر معاویہ کی طرف سے قصاص کا مطالبہ برقرار رہا۔ ابھی تک آپ نے نہ انکی خلافت کا انکار کیا تھا نہ اپنی حکومت علیحدہ کرنے کا خیال صرف، خونِ عثمانی کے قصاص کا مطالبہ تھا۔
 
آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ امیر معاویہ کے دل میں یہ جاگزیں ہوگئی بات کہ علی المرتضیٰ خلافت کے لائق نہیں اور وہ خلافت کی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا نہیں کرسکتے ۔ کیونکہ اتنے بڑے اہم خون کا قصاص نہ لیا جاسکا تو دیگر انتظامی امور کیا ادا ہوسکیں گے۔ اختلاف کی اصل بنیاد یہ تھی ۔ باقی سارے اختلافات اسی جڑ کی شاخیں تھیں۔ دیگر تمام حضرات کی وجہ مخالفت بھی یہی قتلِ عثمانی تھا ۔ اب صحابہ کرام کی تین جماعتیں ہوگئیں تھیں۔ ایک وہ جو غیرجانبدار رہے۔ کسی طرف جنگ مین شریک نہ ہوئے۔ جیسے عبداللہ ابن عباس، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن سلام وغیرہ، بعض وہ جو حضرت علی کے مخالف رہے جیسے حضرت عائشہ ، حضرت طلحہ حضرت زبیر حضرت معاویہ وغیرہ۔ بعض وہ جو حضرت علی کے معاون ہوئے جیسے ان کے تمام حق پرست ساتھی ۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔
 
خیال رہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضرت علی کے خلاف، اور حضرت عائشہ کے حقیقی بھائی عبدالرحمٰن حضرت علی کی فوج کے سپاہی تھے۔ خود حضرت علی کے بھائی عقیل اس جنگ میں غیرجانبدار رہے اور حضرت علی کی اجازت سے امیر معاویہ کے گھر مہمان بن کر رہے جس کے حوالے موجود ہیں
جاری ہے
اعتراض
 
امیر معاویہ نے یزید کو اپنی حیات میں اپنا خلیفہ مقرر کردیا۔ اس میں امیر معاویہ نے تین قصور کیئے ایک یہ کہ خلیفہ کا انتخاب رائے عامہ سے ہونا چاہیئے انہوں نے خود کیوں اسے خلیفہ بنادیا۔ دوسرے یہ کہ اپنے بیٹے کو اپنا جانشین کرنا اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ تیسرے یہ کہ فاسق و فاجر کمینہ بیٹے کے ہاتھ میں حکومت کی ڈور دے دینا بڑا جرم ہے۔ کربلا کے تمام مظالم کی ذمہ داری امیر معاویہ پر ہے جب فاسق و فاجر کو نماز کا امام نہیں بنا سکتے تو اسے امام المسلمین بنانا کیسے درست ہوسکتا ہے۔
 
 
ضروری نوٹ ؛ تعجب ہے کہ یہ اعتراض وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کے نزدیک خلافت الٰہیہ موروثی جائیداد کی طرح صرف علی المرتضیٰ کے خاندان کے بارہ افراد میں بطور میراث محدود ہے اور لطف یہ کہ اس موروثیت پر نہ کوئی قرآنی آیت گواہ نہ کوئی حدیث صرف اپنی ذاتی رائے ہے جب ان کی ذاتی رائے سے خلافت الٰہیہ موروثی جائیداد بن سکتی ہے تو امیر معاویہ بھی اپنا ولی عہد اپنے بیٹے کو کرسکتے ہیں۔
 
 
اب جواب
 
یہ تینوں اعتراضات مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہیں۔ پہلے خلیفہ کا دوسرے کو اپنی زندگی میں خلیفہ کرنا درست ہے خلافت کے چند طریق ہیں۔
 
رائے عامہ سے خلیفہ بننا جیسے صدیق اکبر کی خلافت، پہلے خلیفہ کے انتخاب سے جیسے عمرفاروق کی خلافت کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خود اپنی حیات شریف میں آپ کو خلیفہ بنا گئے۔ اور تین خاص اہل حل و عقد کے انتخاب سے جیسے خلافت عثمانی و مرتضوی ۔ اگر امیر معاویہ اس انتخاب کی وجہ سے قصوروار ہیں تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر بھی یہی اعتراض ہوگا۔
 
اپنے بیٹے کو اپنا جانشین کرنا کسی آیت یا حدیث کی رُو سے ممنوع نہیں اگر ممنوع ہے تو وہ آیت یا حدیث پیش کرو۔ آج عام طور پر صوفیاء مشائخ سلاطین اپنی اولاد کو گدی نشین اپنا جانشین بنا جاتے ہیں کیا ان مشائخ صوفیاء کرام کو فاسق و فاجر کہو گے؟ غرض کہ اپنی اولاد کو اپنا جانشین کرنا کسی آیت و حدیث کی رو سے جرم نہیں۔ اس سے پہلے امام حسن ، حضرت علی کے خلیفہ بن چکے تھے، بیٹے کا خلیفہ بننا حضرت حسن سے شروع ہوا۔
 
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ مولیٰ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے
 
واجعل لی وزیراً من اھلی ھارون اخی اشدد بہ ازری اشرکہ فی امری
 
اور میرے لیئے میرے گھروالوں میں سے ایک وزیر کردے یعنی میرے بھائی ہارون کو ان سے میری کمر مضبوط کر اور انہیں میرے کام میں شریک فرمادے۔ (ظٰہٰ)۔
 
آپ کی یہ دعا قبول فرمائی گئی رب نے آپ پر ناراضی نہ فرمائی کہ تم اپنوں کے لیئے کوشش کیوں کرتے ہو۔
 
زکریا علیہ السلام نے رب العالمین سے فرزند مانگا اور دعا کی کہ وہ میرا بیٹا میرا جانشین ہو یہ دعا قبول ہوئی ۔ رب فرماتا ہے
 
 
نھب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویرث من اٰ ل یعقوب۔ پس مجھے اپنی طرف سے ایک وارث دے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ (مریم)۔
 
غرضکہ اپنے فرزند اپنے بھائی اپنے اہل قرابت کو اپنا نائب کرنا نہ حرام ہے نہ مکروہ بلکہ اس کی کوشش کرنا اسکی دعا کرنا انبیاء سے ثابت ہے۔
 
کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ امیر معاویہ کی حیات میں یزید فاسق و فاجر تھا اور امیر معاویہ نے اس کو فاسق و فاجر جانتے ہوئے اپنا جانشین مقرر کیا ہو۔ یزید کا فسق وفجور امیر معاویہ کے بعد ظاہر ہوا آئندہ کا فسق فی الحال فاسق نہ بنائے گا۔
 
 
دیکھو رب تعالیٰ نے شیطان کو اس کے کفر ظاہر ہونے کے بعد جنت اور جماعت ملائکہ سے نکالا اس سے پہلے اسے ہرجگہ رہنے کی اجازت دی گئی اس کی عظمت و حرمت فرمائی گئی ۔ جب شیطان کفر وعناد کے ظاہر ہونے سے پہلے کافر قرار نہ دیا گیا تو یزید فسق وفجورکے ظہور سے پہلے فاسق و فاجر کے زمرہ میں کیسے آسکتا ہے اور امیر معاویہ کیسے موردِ الزام بن سکتے ہیں؟
 
اور اگر کوئی روایت ایسی مل بھی جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ امیر معاویہ نے یزید کے فسق و فجور سے خبردار ہوتے ہوئے اسے اپنا خلیفہ مقرر کیا تو وہ روایت جھوٹی ہے اور راوی یا شیعہ ہے یا کوئی اور دشمنِ اصحاب جو روایت امیر معاویہ یا کسی صحابی کا فسق ثابت کرے وہ مردود ہے کیونکہ قرآن کے خلاف ہے تمام صحابہ بحکم قرآنی متقی ہیں۔
 
یہ تمام گفتگو اس صورت میں ہے کہ ہم امیر معاویہ کا یزید کو خلیفہ بنانا مان لیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تاریخی روایات سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ امیر معاویہ نے یزید کے لیئے لوگوں سے بیعت لینے کی کوشش کی خبر نہیں کہ یہ روایات بھی کہاں تک درست ہیں اگر یزید باقاعدہ خلیفہ پہلے ہی بن چکا ہوتا تو امیر معاویہ کی وفات کے بعد اپنی بیعت کے لیئے کیوں کوشش کرتا اور پھر بیعت کے جھگڑے اب کیوں پیدا ہوتے۔ لہٰذا یہ اعتراض اصلی بنیاد ہی سے غلط ہے۔
 
نوٹ ضروری؛۔
 
 
امیر معاویہ اور امام حسن کی صلح کے موقعہ پر امیر معاویہ نے امام حسن کی خدمت میں سادہ کاغذ بھیج دیا تھا کہ آپ جو شرط چاہیں لکھ لیں مجھے منظور ہے۔ (کتب السیر۔ صواعق محرقہ۔ کتاب الناہیہ) شرائط صلح میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ امیر معاویہ کے بعد امام حسن خلیفہ ہوں گے جسے امیر معاویہ نے قبول کرلیا تھا۔ (کتاب الناہیہ و صواعق) بخاری میں بروایت حسن بصری ہے کہ امام حسن بیشمار لشکر لے کر امیر معاویہ کے مقابلہ میں آئے امیر معاویہ نے عمرو بن عاص سے کہا کہ ان دونوں لشکروں میں سے جو بھی جسے قتل کرے مسلمان ہی شہید ہوں گے ان کی بیوی بچے ہم کو ہی سنبھالنے پڑیں گے۔ کوئی صورت ہو کہ صلح ہوجائے، چنانچہ امیر معاویہ نے عبدالرحمٰن ابن سمرہ اور عبدالرحمٰن ابن عامر قرشی کو صلح کے لیئے بھیجا انہیں اپنا مختار عام کردیا۔ امام حسن نے جو بھی شرط پیش کی ان دونوں بزرگوں نے کہا ہم کو منظور ہے آخر صلح ہوگئی الخ۔۔۔۔۔۔ یہ صلح ماہ ربیع الاول سنہ 41 ہجری میں ہوئی۔ اس صلح کے بعد امام حسن کے ساتھیوں میں سے ایک ساتھی نےا مام حسن سے کہا کہ اے مسلمان کے ذلیل کرنے والے امام حسن نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کو ذلیل کرنے والا نہیں بلکہ ان کی عزت وجان و مال محفوظ کرنے والا ہوں میں نے اپنے والد علی مرتضیٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ امیر معاویہ کی امارت کو برا نہ سمجھو۔ کیونکہ میرے بعد امیر معاویہ مستقل امیر ہوجائینگے اور امیر معاویہ کے بعد ایسے فتنہ ہوں گے کہ تم سروں کو نیزوں پر دیکھو گے (کتاب الناہیہ)
پھر آپ کوفہ سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں ہی آخر دم تک مقیم رہے (صواعق) ۔
 
اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کمالِ علم معلوم ہوا کہ جو کچھ آپ نے فرمایا ہوکررہا۔
 
ان روایات سے معلوم ہوا کہ اگر امیر معاویہ کی وفات کے وقت امام حسن زندہ ہوتے تو وہ ہی خلیفہ مستقل ہوتے نیز اگر امیر معاویہ کو یزید کا ہی خلیفہ بنانا مقصود ہوتا تو یہ شرط ہرگز قبول نہ فرماتے۔ اور اگر امیر معاویہ اہلبیت کے دشمن ہوتے تو امام حسن کی خلافت پر اپنےبعد کبھی راضی نہ ہوتے، علامہ ابو اسحاق نے اپنی کتاب نورالعین فی مشہد الحسین مین مبادیات شہادت میں لکھا کہ امیر معاویہ نےا مام حسین کو حاکمِ مدینہ مقرر فرمایا پھر آپ کو تمام شاہی خزانہ کا مہتمم ومالک بنا دیا بلکہ کچھ عرصہ بعد امیر معاویہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور آپ کو اپنے ہمراہ دمشق لے گئے مع تمام اولاد کے اور وہاں آپ کو ہی سلطنت کا مختارِ عام بنایا۔
 
اسی کتاب نورالعین فی مشہد الحسین میں امیر معاویہ کی وصیتین بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیں جن میں سے کچھ کا ترجمہ یہ ہے؛۔
 
جب امیر معاویہ کا وقت وفات قریب آیا تو یزید نے پوچھا کہ اباجان! آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا تو آپ نے کہا کہ خلیفہ تو تُو ہی بنے گا مگر جو کچھ میں کہتا ہوں اسے غور سے سن ۔ کوئی کام امام حسین کے مشورہ کے بغیر نہ کرنا (یعنی وہ تیرے وزیر اعظم ہیں) انہیں کھلائے بغیر نہ کھانا نہیں پلائے بغیر نہ پینا سب سے پہلے ان پر خرچ کرنا پھر کسی اور پر، پہلے انہیں پہنانا پھر خود پہننا ۔ میں تجھے امام حسین ان کے گھر والوں ان کے کنبے بلکہ سارے بنی ہاشم کے لیئے اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔
 
اے بیٹے! خلافت میں ہمارا حق نہیں وہ امام حسین ان کے والد اور ان کے اہلبیت کا حق ہے تو چند روز خلیفہ رہنا پھر جب امام حسین پورے کمال کو پہنچ جائیں تو پھر وہی خلیفہ ہوں گے یا جسے وہ چاہیں تاکہ خلافت اپنی جگہ پہنچ جائے۔ ہم سب امام حسین اور ان کے نانا کے غلام ہیں انہیں ناراض نہ کرنا ورنہ تمجھ پر اللہ ورسول ناراض ہوں گے اور پھر تیری شفاعت کون کرے گا۔
 
یہ وصیت نامہ بہت دراز ہے ۔ اب غور کریں کہ دیگر تواریخ کیا کہہ رہی ہیں اور یہ تاریخ کیا بتا رہی ہے
 
جاری ہے۔۔۔۔۔
When Uthman (rd) attained martyrdom, all the Muslims elected Hazrat Ali (rd) Khalifa. The first thing Hazrat Khalifa try to do was to re-establish peace. Most of the Sahaba-e-Kiram (alehumarRizwan) demanded of the Khalifa that he arrest the murderers of Hazrat Uthman (rd) as soon as possible and retaliate on them. Among the people who supported this view were two of the ‘Ashra-e-Mubashhira‘. i.e., Talha (rd) who was related to our master the Prophet Muhammad Sal Allaho alehi wasalam by the seventh grandfather in retrospect and who had joined the Believers during the earliest days of Islam and had undergo very cruel torments inflicted by the unbelievers, -for instance, the unbelievers would tie him and Abu Bakr (rd) to a post in order to prevent them from performing namaz-, (and he and Khalid ibn Zayd aba Ayyub al-Ansari (rd) were brothers of the Hereafter); and Zubayr (rd)’; and our Mother Aisha (rda), who had attained the honour of being praised in the Quran al Karim by Allah ShanuhuwaTaa’la and who had been our Prophet’s darling till death separated them. Yet the Khalifa said, “The country is still in turmoil. If I start now, it may escalate the fitna and may perhaps cause a second catastrophe. Let me put down the insurrection first, and then I will carry out the retaliation, which is a commandment of Allah tala“. The other party was of the ijtihad that any delay would “make it quite impossible to find the murderers and carry out Islam’s commandment. Now is the best time to do it.”

Talha (rd), who was one of the honders of former ijtihad, had not oined the Holy War of Badr because he had been in Damascus for some duty, yet he had joined all the other Holy Wars. In Ghazwa e Uhud, for one, he had undergone various tortures in the way of Allah. He had shielded Rasul-alehisalatowasalam with his own body and had carried out our master Peace be Upon him on his back up to the rocks under a shower of arrows.

It is reported ont he authority of Hazrat Ali (Rd) that Prophet alehisalam stated, “Talha and Zubayr are my neighbours in Paradise.” Zubayr bin Awwam (rd) was the son of Khadija-tul-Kubra’s (rda) brother, and his mother was Safiyya, a paternal aunt of our Prophet alehisalam. He was fifteen years old when he embraced Islam during the earliest days of Islam. He was the first person to draw a sword in the way of Allah tala. In other words, he was the first Islamic officer. At the most dangerous moments of most of the Holy Wars, he fought before the Messenger of Allah, which cost him many a wound. Our master the Prophet Sal Allaho Alehi Wasalam stated, “Every Prophet has a Hawari (friend/apostle). My hawari is Zubayr.” Two of the six people whom Umar (rd) named as the people whom he thought would be worthy of succeeding him as Khalifa as he was about to pass away were Talha and Zubayr. Zubayr was very rich and had sacrificed all his wealth for the sake of the Messenger of Allah.

These great persons insisted positively that qisas (retaliation) be made immediately because their ijtihad showed so. At that time, the ijtihad performed by the Ashab-e-Kiram (companions)(rdaj) led them to three different conclusions. The ijtihad of one group agreed with that of the Khalifa, while another group were of the ijtihad concordant with that of the other party. There was yet a third group whose members preffered silence. Each and every one of these people had to act upon his own ijtihad and not to follow someone else. People in the first and second groups increased in number. Meanwhile, a Jew named Abdullah bin Saba incited the difference into a warlike situation, which ended in the events called Basra and Jamal (Camel).

In those days, Muawiya (rd) was in Damascus as the governor of the territory. Being of the ijtihad concordant with that of the third group, he did not let Muslims under his administration take part in the combats. Owing to his policy, all the Muslims living there led a life of comfort and peace. However, when Ali (rd) invited the Damascenes, Muawiya (rd) reconsidered the situation int he light of a number of hadith shareefs and reached a new ijtihad agreeing with that of the other party. The Khalifa was about to make an agreement with the Damascenes, when the Jews intruded their Zionist finger into the matter, inflaming the two parties to the warfare known as the combats of Siffin.

In those wars, the Ashab-e-Kiram never thought of hurting one another, wreaking vengeance on one another, or attaining caliphate, sovereignty, high positions or wealth; all they endeavoured to do was to carry out Islam’s commandment, on which they had different ijtihads. A number of documentary accounts of the wars expose the fact that even during the wars they exchanged letters, counselled one another and extended best wishes to one another. For instance, during the Siffin, Constantine II, the emperor of Byzantium, was harassing the Muslim cities along the border. Muawiya (rd) wrote him a letter that said: “If you do not stop this molestation right away, I will make peace with my master, assume commandership of his army, be there and burn your cities, making your a swineherd.” It was amidst those same commotions when Ali (Rd), the Khalifa, addressed to a mass audience, saying, “Our brothers disagree with us. This does not make them sinners or disbelievers. It is their ijtihad that is different.” As they fought against each other, one party said, “My brother,” about the other, while the other party said, “My master,” about the former. Their fights were on account of different ijtihads and were not intended to seize power, to acquire wealth, or to achieve fame. Our Prophet alehisalam stated that a mujtahid with the correct ijtihad would receive two to ten blessings whereas the mistaken one would be given one. All the Ashab-e-Kiram were mujtahids. And it is fard (obligatory) for each mujtahid to act upon his own ijtihad.

Abu Zur’at-ir-Razi, one of the greatest teachers who added to Imam Muslim’s education states as follows in a book of his: “A person who belittles or vilifies the Ashab-e-Kiram alehumarridwan , is a zindiq {heretic; a blasphemous person}. Muslims should know the enemies of the Messenger of Allah alehisalam as their own enemies, and they should feel deeper antipathy towards them than they do towards the enemies of Ahlu Bait. While they do not accurse or even criticize Abu Jahl, who was an arch enemy of the Messenger of Allah (alehisalatowasalam) and prepetrated the bitterest torments and persecutions against him, they look on Muawiya (rd), who attained praisals and affefctions of the part of the Prophet alehisalam, as an enemy of the Ahlu-Bayt, vilify and accurse that blessed person -May Allah protect us against that abominate misdeed!

What kind of faith is that, and what kindo f Muslims are they? The Ashab e Karam are the people who conveyed to us the fact that Muhammad Peace be Upon him is the Prophet of Allah Tala and that the Quran-e-Karim is the heavenly book that Allah Tala revealed to him. Denying the greatness and the rectitude of the Ashab-e-Kiram is synonymous with rejecting the information they conveyed to us, (which is Islam) it goes without saying, therefore, that people who will do so will demolish their own faith.”

Allama Sa’daddin Taftazain (rehmatullahi tala aleh) states in his books Sharh-e-Aqaid that the wars that took place among the Sahaba e Kiram alehumarRidwan were based on religious reasons. If the statements criticizing them are in contradiction to adilla-i-qat’iyya (definitely authentic documents), i.e., ayat-e-kerimas and hadith-e-sherifs, people who make those statements became disbelievers. If not so, they become sinful, heretical and aberrant people.

The following hadith sharif is written in Mawahib-e-ladduniyah: “Be quiet when you hear the names of Ashab (radi Allaho tala anhum ajmain)’! DO not make Statements that would not go with their honour!”

It would not befit Muslims to make statements that would not go with the honour of the Sahaba-e-kiram. Their combats were not based on bad reasons or evil intentions. Company with the best and the highest of mankind Sal Allaho Alehi Wasalam, which meant a lifetime illuminated with his blessed lectures and counsels, had purified and enlightened their Nafoos and souls, purging their hearts of all sorts of rancour and strife. Because each and every one of them had attained the grade of ijtihad, it was obligatory and wajid for them to act upon their own ijtihad. When their ijtihads disagreed, the right course of each of them to follow was to act upon his own ijtihad and not to follow the others. Their diagreements, as well as their agreements, were the requriements of the right way and had nothing to do with the desires of the nafs.

Some people stigmatize those who fought against Imam Ali (rd) as disbelievers. However, more often than not there were differences of ijtihad also between our master the Prophet alehisalam and some of the Sahaba alehumarridwan. These differences did not make them sinful. When Jebrail (Archangel Gabriel) alehisalam came (to rectify any possible mistakes), no message (in the nature of reproof) was sent (through him). Then, could those blessed people be blamed for disagreeing with Syaduna Ali (Rd) in ijtihad? Could they ever be called disbelievers? In fact, the ones with the disagreeing ijtihad were in the majority, and they were mostly greater ones of the Sahaba-e-Kiram alehumarridwan; among them were the beloved ones of the Messenger of Allah, as well as those who had been blessed with the good nes that they were People of Paradise. Could they ever be criticized or called disbelievers? It is these people who conveyed to us almost half of Islam’s religious knowledge. None of Islam’s great authorities has ever done anything that would mean disrespect to those great people. Leaders of the four Madhabs and greater ones of the Sofiya-e-aliya deemed those people as great and exalted.

Islam’s second most correct book after The Quran al Karim (the tremendous book of hadith entitled) Bukhari Sharif. Shiites agree with this fact. This very book, Bukhari sharif, contains all the Hadith-e-Sharifs that were conveyed by any one fo the Sahabi (rad Allaho anh). The wars among the Sahaba did not bring any harm to the authenticity and truthfulness of their reports. This book, (Bukhari) as well as all the other books of hadith, contains hadith e sharifs conveyed by Hazrat Ali as well as those conveyed by Hazrat Ameer Muawaiya (rd). The wars they fought against one another did not devalue their reports. Books contain reports from the ones who were with Hazrat Muawiya as well as reports from those who sided with Hazrat Ali (rd). Had Hazrat Muawiya (rd) and those who were with him had a venial offense, the hadith they conveyed would not have been written in books. None of the religious scholars took it into consideration to have agreed with Imam Ali (rd) as a criterion in their selections of hadith e Sharifs. It should be added, however, that Imam Ali (rd) was the rightful side in these wars. Yet those who did not agree with his ijtihad cannot be said to have erred. For, many of the Sahaba and the Tabi’in, and some of the highest scholars, including leaders of our Madhhabs, disagreed with Imam Ali (rd) in a number of matters that needed ijtihad. If it were to be taken for granted that Imam Ali’s ijtihad was always correct, all this number of greatest religious authorities would not have disagreed with him in their ijtihad. In some matters, even Hazrat Ali (Rd) himself admitted ijtihads that were discordant with his ijtihads.

The following hadith sharif is written in 327 th page of Mir’at-i-Kainat:

“Beat those people who vilify my Ashab and those who make statements offensive to their honour.”

Imam Jalaladdin Suyuti (Rta) quotes the following hadith in his book Jami-us-Sagheer: “Allah tala will forgive my Ashab for the mistakes they will make after me. For, no other people did the service equal to theirs to Islam.” The following hadith is written in the same book: “I shall do Shafa’at, (i.e., I shal intercede in the Hereafter) for everybody. Yet i shal not intercede for those who vilify my Ashab.”

This thing continues in next updates……….. stay tunned.

Advertisements