Was Yazeed Active In the Battle of Qastantunya?


سوال و جواب، کیا یزید بقول وہابیوں کے قسطنطنیہ والی حدیث کے زمرے میں آتا ہے؟
اہلحدیث وہابیوں نے اپنی جو پراپیگنڈہ کتاب اپنے بہنوئی یزید کے لیئے شائع کی ہے اور کسی شیخ سنابلی نے شگوفے چھوڑے ہیں جو کہ جھوٹ در جھوٹ ہیں اس میں پہلا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ قسطنطنیہ کے سلسلہ میں بخاری شریف میں دو روایتیں یعنی احادیث مروی ہیں جو کہ یہ ہیں۔
اول؛۔
اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم۔
میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ آور ہوگا اسکی مغفرت کردی گئی ہے۔
دوئم؛۔
قال محمود بن الربیع فحدثتھا قوماً فیھم ابوایوب الانصاری صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی غزوۃ التی توفی فیھا ویزید بن معاویہ علیھم بارض الروم۔
محمود بن ربیع کا بیان ہے کہ پھر میں نے اس کا ذکر کچھ لوگوں کے سامنے کیا جن میں حضور علیہ السلام کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ اس غزوہ کا واقعہ ہے کہ جس میں حضرت ابو ایوب انصاری، کی وفات ہوئی۔ اور یزید بن معاویہ ، روم میں اسوقت فوج کا امیر تھا۔
غرض یزید جس لشکر کا کمانڈر تھا اس لشکر کے لیئے مغفرت کی بشارت ہے۔
جواب۔
اگر یزیدی دوسری حدیث پر غور کرلیتے تو سرے سے یہ اشکال ہی پیش نہ آتا کیونکہ اسی حدیث میں یہ بھی وارد ہے کہ
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فان اللہ قدحرم علی النار من قال لاالٰہ الااللہ یتبغی بذالک وجہ اللہ
رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نےا س شخص پر دوزخ کو حرام کردیا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیئے لاالٰہ الااللہ کہا۔
اب ظاہر ہے کہ یہ حدیث اسی صورت پر محمول ہے کہ صدق دل سے لاالٰہ الااللہ کہنے کے بعد اس کے تقاضے بھی پورے کرے۔ یہ نہیں کہ بس ایک مرتبہ اخلاص سے کلمہ طیبہ پڑھ لیا تو سو خون معاف ہوجائیں، اور اب جو چاہے کرتا پھرے۔ حیرت ہے کہ یزیدیوں نے یزید کی منقبت مٰں اس حدیث کو پھر کیوں نہیں پیش کیا۔ حالانکہ غزوہ قسطنطنیہ کی حدیث میں تو صرف (مغفورلہم) کے الفاظ ہیں اور اس حدیث میں صراحتاً دوزخ کے حرام ہونے کی تصریح ہے۔ پس جو تاویل یا تشریح حدیثِ مذکور (دوئم) کی ہوگی وہی تشریح حدیث مذکور (اول) کی ہونی چاہیئے۔
احادیث کےتتبع سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے اعمال خیر پر مغفرت کی بشارت ہے۔ اور اس کا مطلب آج تک کسی عالم کے ذہن میں نہیں آیا کہ بس اس عمل خیر کے بعد جنتی ہونا لازمی ہے۔ اور اب ظلم کی کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرے جنت اس کے لیئے واجب ہے۔
خوب سمجھ لیں کہ کسی شخص کا نام لے کر اسے جنتی کہنا اور بات ہے اور کسی عمل ء خیر پر جنت یا مغفرت کی بشارت دینا الگ چیز ہے۔
حضرات عشرہ مبشرہ اور سیدنا حسن وحسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا نام لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنتی فرمایا ہے۔ لیکن یزید کا نام لیکر اس کو جنتی ہونے کی بشارت کہیں نہیں دی گئی۔ کسی روایت کے عموم میں داخل ہونا اور چیز ہے۔ اور کسی بشارت میں مخصوص طور پر نامزد ہونا اور بات ہے بیشک اس حدیث میں غازیانِ مدینہ قیصر کے لیئے مغفرت کی بشارت ہے جیسا کہ غازیانِ ہند کے لیئے۔ لیکن اس سے ہر غازی کا اس وقت تک جنتی ہونا لازم نہیں آتا۔ جب تک اس کی زندگی اعمالِ خیر پر ختم نہ ہو۔ اور مستند روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یزید اس پہلے گروہ میں شامل ہرگز نہ تھا بلکہ قیصر روم پر آٹھویں حملے میں کہیں شامل ہوا تھا۔ بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ یزید غزوہ قسطنطنیہ میں شریک ہوا لیکن اس غزوہ میں شرکت کے بعد جب اس کو اقتدار نصیب ہوا تو اس کے بیشتر اعمال ایسے تھہ جو لعنت ہی کے موجب تھے۔
البتہ خود یزید نے اپنی خوش فہمی سے حدیث کا یہی مطلب سمجھا تھا کہ جب کلمہ طیبہ پڑھ لیا گیا تو پھر گناہوں کی کھلی چھٹی مل گئی۔ اور جس طرح کفر کے بعد کوئی طاعت مقبول نہیں اسی طرح ایمان کے بعد پھر کوئی معصیت مضر نہیں ہوتی۔ یہی (مرجئہ) کا مذہب ہے جو ایک گمراہ فرقہ ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں جہاں مسند احمد کی یہ دوروایتیں نقل کی ہیں
اول۔
یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا ۔ جس کے غازیوں میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ شامل تھے اور جب حضرت ابوایوب انصاری کی وفات کا وقت قریب آیا تو یزید انکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے یزید کو مخاطب ہوکر فرمایا۔ کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میرا سلام کہنا اور ان کو یہ بتا دینا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ
من مات لایشرک باللہ شیئاً دخل الجنہ
جس شخص کی موت اس حال میں واقع ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ممدوح نے وفات کے وقت فرمایا؛۔
قد کنت کتمت عنکم شیئاً اسمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمعتہ یقول: لولا انکم تذنبون لخلق اللہ قوماً یذنبون فیغفرلھم
میں نے تم سے ابھی تک ایک حدیث چھپارکھی تھی جو میں نے رسول اللہ علیہ السلام سے سنی تھی ۔ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ اگر تم گناہ نہ کرتے ہوتے ، تو البتہ حق تعالٰی ایسی قوم پیدا کرتا ، جو کہ گناہ کرتی اور پھرحق تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا۔
وہاں ان دو حدیثوں کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن کثیر کہتے ہیں؛۔۔
ان ھذا الحدیث والذی قبلہ ھو الذی حمل یزید بن معاویۃ علیٰ طرف من الارجاء ورکب بسببہ افعالا کثیرۃًانکرت علیہ کما سنذکرہ فی ترجمتہ واللہ تعالیٰ اعلم
یہ حدیث اور اس سے پہلے والی حدیث جو گزری ۔ اسی نے یزید بن معاویہ کو ارجاء کیطرف ڈالدیا۔ اور اس کے باعث اس نے ایسے بہت سے کام کرڈالے جس کی بناء پر اس پر نکیر کی گئی۔ جیسا کہ ہم اس کے تذکرہ میں عنقریب ذکر کریں گے ۔ آگے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
جلد 8 ص 59
اب اگر سوال کرنے والا یعنی سائل بھی یزید کی طرح اہلسنت کے زمرہ سے خارج اور مرجئہ کے دھرم میں داخل ہے تو اس کو دوسری حدیث ہی یزید کی فضیلت کے لیئے کافی ہے۔ کہ چونکہ وہ کلمہ گو تھا۔ اسلیئے ایمان لانے کے بعد اب کسی گناہ پر اس کی پکڑ نہیں ہوسکتی ۔ سب گناہ معاف ہیں۔ شیعانِ بنی امیہ کاب ھی یہی مذہب تھا کہ (امام اور خلیفہ کے حسنات مقبول ہیں اور گناہ سب معاف۔ اس کی اطاعت ، طاعت ومعصیت دونوں واجب ہے) اور اگر سوال کرنے والا اہلسنت میں داخل ہے تو جو تاویل اس حدیث کی ہوگی وہی حدیثِ غزوہ قسطنطنیہ کی ہوگی۔
اب ذرا یزید کی شرکت پر کچھ تصحیح
حدیث اول میں غور کرنے سے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاد کے لیئے تصحیح نیت ضروری ہے۔ یعنی جو جہاد بھی کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیئے ہو۔ اور اپنے ذوق وشوق سے ہو۔ یہ نہیں کہ دوسرے کے کہے میں آکر ناخوش دلی سے جنگ میں شریک ہوا جائے۔ اور صرف امارت کے خیال سے روانہ ہوجائے۔ یزید کے ساتھ یہی صورت ہوئی کہ وہ اس جہاد میں شریک ہونے کو بالکل تیار نہ تھا اور جہاں تک بن سکا اس نے ٹال مٹول کی کوشش کی۔ بلکہ جب مجاہدین کرام محاذ پر تھے اور وہاں مختلف قسم کی مشقتیں برداشت کررہے تھے وباء اور قحط میں مبتلا تھے۔ تو یہ بڑے ٹھاٹھ سے اپنے عشرت کدہ میں بیٹھا ہوا اپنی بیوی کے ساتھ دادِ عیش دے رہا تھا۔ اور مجاہدین کا مذاق اڑا رہا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب اسکی اس حرکت کی خبر ہوئی تو آپ نے سختی کے ساتھ حکم دے کر بہ جبر اس کو اس محاذ پر روانہ کیا اس سارے واقعہ کی تفصیل تاریخ ابن خلدون جلد 3 ص 20 اور تاریخ کامل ابن اثیر میں موجود ہے چنانچہ حافظ مؤرخ ابن الاثیر 49 ھ کے واقعات کے ذکر میں لکھتے ہیں
ترجمہ؛۔
اور اسی سنہ میں اور یہ بھی کہا گیا کہ 50 ھ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جہاد کے لیئے بڑا بھاری لشکر بلادِ روم کی طرف روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر سفیان بن عوف کو مقرر کیا، اور اپنے بیٹے یزید کو بھی اس غزوہ میں شرکت کا حکم دیا ۔ مگر یزید نے تعمیل حکم میں سستی کی اور معذرت کردی۔ یہ دیکھ کر اسکے والد نے بھی اس کو رہنے دیا۔ وہاں جنگ میں لوگ بھوک اور شدید مرض کا شکار ہوئے تو یہ یزید نے شعر کہے
ترجمہ: مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ خذقدونہ (قسطنطنیہ کے قرب وجوار میں ایک مقام کا نام) (روم میں مسلمانوں کا فوجی کمپ) میں مسلم مجاہدین کی افواج کے دستے کو بخار اور چیچک کا سامنا ہے۔ جبکہ میں دیرمُران میں گدوں پر اونچے اونچے تکیوں کے سہارے بیٹھا ہوں اور میرے سامنے ام کلثوم ہے۔
آگے ابن اثیر اسی کے تسلسل میں لکھتے ہیں (ترجمہ)۔
ام کلثوم یزید کی بیوی، عبداللہ بن عامر کی بیٹی تھی۔ حضرت معاویہ کو جب اس کے ان اشعار کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس کو قسم دیکر بتاکید کہا کہ اسے روم میں سفیان کے پاس پہنچنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ لوگ جس مصیبت میں گرفتار ہیں یہ بھی گرفتار ہو۔ اب جو یہ روانہ ہوا تو اسکے والد ماجد نے ایک انبوہ کثیر کا اس کے ساتھ اور اضافہ کردیا اسی لشکر میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابن زبیر، اور حضرت ابو ایوب انصاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وغیرہ بھی تھے۔ اور عبدالعزیز بن زرارہ کلابی بھی۔ چنانچہ یہ لوگ بلادِ روم میں گھستے ہی چلے گئے تاآنکہ تیزی کے ساتھ یلغار کرتے ہوئے قسطنطنیہ تک جاپہنچے۔
تاریخِ کام ابن اثیر جلد 3 ص 181 / 182
یہ ہے یزید کے غزوہ قسطنطنیہ میں شرکت کی حقیقت ، واقعہ یہ ہے کہ یزید سیر و شکار، شعر وشاعری ، غنا اور موسیقی کا متوالا تھا۔ وہ جہاد کے جھنجھٹ میں نہ اپنے والد کی زندگی میں پڑنا چاہتا تھا اور نہ اپنے ایامِ خلافت میں۔ لہٰذا اس سوال کا جواب یہ رہا کہ
اول ۔ یزید ہرگز اس پہلی فوج میں شامل نہیں تھا جسکو حدیث میں بشارت دی گئی ہے بلکہ کہیں آٹھویں ساتویں یا نویں مرتبہ کی جنگ میں شامل تھا وہ بھی برائے نام۔ لہٰذا بخاری شریف کی جس حدیث کو بہانہ بنا کر یزید پرست اپنے بھائی بند یزید کی پیروی کرتے ہیں وہ سرے سے اس کے بارے میں ہے ہی نہیں اور یہ فریب وہابیت مسلمانوں کو ہمیشہ سے دیتی آئی ہے
شکریہ
اسی آرٹیکل کو انپیج فارمیٹ میں واضح اور بڑا پڑھنے کے لیئے ہمارے فورم کو ملاحظہ ، فرمائیں جس کا لنک یہ رہا مزید سوالات کے جوابات اور سکینز وغیرہ فورم پر ہی اپڈیٹ کی جائیں گی دیگر آرٹیکلز کی طرح۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s