Tafsir Surah aale-Imran-Verse 28 [Urdu / Ar]


تفسیر سورہ آل عمران آیت 28 بابت تقیہ معنی و مفہوم از سنی علماء و شیعہ علماء اور دونوں کا فرق
وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ
ترجمہ ء شیعہ، از ذیشان حیدر جوادی صاحب؛۔
“مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔”
ترجمہ اہلسنت وجماعت،اعلیٰحضرت احمدرضاخان قادری الماتریدی؛۔
“۔۔اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو (ف ٦١) اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،”
تفصیلات و تفسیرات
تقیہ کی تعریف ، اس کی اقسام اور اس کے شرعی احکام
اس آیت میں تقیہ کی مشروعیت پر دلیل ہے۔ تقیہ کی تعریف یہ ہے : جان ، عزت و مال کو دشمنوں کے شر سے بچانا، اور دشمن دو قسم کے ہیں ایک وہ جن کی دشمنی دین کے اختلاف کی وجہ سے ہو، جیسے کافر اور مسلمان، دوسرے وہ ہیں جن کی دشمنی اغراضِ دنیوی کی وجہ سے ہو مثلاً مال، متاع، ملک اور امارت کی وجہ سے عداوت ہو، اس وجہ سے تقیہ کی بھی دوقسمیں ہوگئیں۔
تقیہ کی پہلی قسم جو دین کے اختلاف کی وجہ سے عداوت پر مبنی ہو اس کا حکم شرعی یہ ہے کہ ہروہ مؤمن جو کسی ایسی جگہ پر ہو جہاں مخالفین کے غلبہ کی وجہ سے اس کے لیئے دین کا اظہار کرنا ممکن نہ ہو اس پر اس جگہ سے ایسی جگہ ہجرت کرنا واجب ہے جہاں وہ دین کا اظہار کرسکے، اور اس کے لیئے یہ بالکل جائز نہٰں ہے کہ وہ دینی دشمنوں کی سرزمین میں رہے اور اپنے ضعف کا عذر ظاہر کرکے اپنے دین کو چھپائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے، اگر ہجرت نہ کرنے میں ان کا کوئی عذر شرعی ہو، مثلاً وہ لوگ بچے، عورتیں اور نابینا ہوں یا قید میں ہوں یا ان کے مخالفین نے یہ کہا ہو کہ اگر تم نے ہجرت کی تو ہم تم کو قتل کردیں گے یا تمہاری اولاد یا تمہارے ماں باپ کو قتل کردیں گے خواہ ان کی گردنیں اڑا دیں یا ان کو قید میں رکھ کر بھوکا ماردیں اور اس بات کا ظن غالب ہو کہ وہ اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنائیں گے، اس صورت میں ان کے لیئے کافروں کی سرزمین میں رہنا جائز ہے اور بہ قدر ضرورت تقیہ کرکے ان کی موافقت کرنا جائز ہے اور ان پر واجب ہے کہ وہ اس علاقہ سے نکلنے کا حیلہ تلاش کریں اور اپنے دن کی حفاظت کے لیئے وہاں سے نکل بھاگیں اور اگر مخالفین کسی منفعت کو سلب کرنے کی دھمکی دیں یا ایسی مشقت میں ڈالنے کی دھمکی دیں جس کا برداشت کرنا ممکن ہو مثلاً قید میں ڈال دیں اور قید میں کھانا دیں یا ان کو ماریں لیکن ایسی ضرب نہ ہو جس سے انسان مرجائے تو پھر تقیہ کرنا اور ان کے دین کی موافقت کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جس صورت میں تقیہ جائز ہے اس صورت میں بھی ان کی موافقت کی رخصت ہے اور عزیمت یہ ہے کہ وہ اس صورت میں بھی تقیہ نہ کریں اور اپنے دین کا اظہار کرے اور اگر اس کو دین کے اظہار کے جرم میں مارڈالا جائے تووہ شہید ہے۔
جب کوئی مسلمان کفار کے علاقہ میں ہو اور اسکو دین کے اظہار کے سبب اپنی جان، مال اور عزت کا خطرہ ہو تو اس پر اس علاقہ سے ہجرت کرنا واجب ہے اور تقیہ کرنا اور کفار کی موافقت کرنا جائز نہیں ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ :
قرآن مجید میں ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا فَاُولٰۗىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْھُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا (سورہ النساء آیتان 97 تا 99)۔
ترجمہ؛۔
“بے شک جن لوگوں کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے، فرشتے (ان سے) کہتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بےبس تھے! فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے ۔ مگر وہ لوگ جو (واقعی) بے بس اور مجبور ہیں وہ مرد، عورتیں اور بچے جو نکلنے کا کوئی حیلہ نہ پائیں اور نہ راستے سے واقف ہوں تو قریب ہے کہ اللہ ان سے درگزر فرمائے اور اللہ بہت معاف فرمانے والا بے حد بخشش والا ہے۔”
جبر اور اکراہ کی صورت میں جان بچانے کے لیے تقیہ پر عمل کرنا رخصت اور تقیہ کو ترک کرنا عزیمت ہے اس پر دلیل یہ حدیث ہے؛۔
“حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ علیہ السلام کے دو اصحاب کو گرفتار کرلیا ان میں سے ایک سے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے کہا ہاں پھر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا ہاں، تو اس کو رہا کردیا، پھر دوسرے کو بلا کر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اس نے کہا ہاں، پھر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا میں بہرا ہوں اور تین بار سوال کے جواب میں یہی کہا مسیلمہ نے ان کا سرتن سے جدا کردیا، جب رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام تک یہ خبر پہنچی تو فرمایا جو شخص قتل ہوا اور اپنے صدق اور یقین پر گامزن رہا اس نے فضیلت کو حاصل کیا اس کو مبارک ہو، دوسرے نے رخصت پر عمل کیا اس پر اسے کوئی ملامت نہیں ہے”۔ (احکام القرآن جلد ۲ ص ۱۰ ).

 

تقیہ کی دوسری قسم یعنی جب مال و متاع اور امارت کی وجہ سے لوگوں سے عداوت ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس صورت میں آیا ہجرت واجب ہے یا نہیں؟ بعض علماء نے کہا اس صورت میں بھی ہجرت واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے؛۔
وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ سورہ البقرہ آيت ۱۹۵
ترجمہ؛۔ اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو
دوسری دلیل یہ ہے کہ مال کو ضائع کرنے کی بھی شریعت میں ممانعت ہے
اور بعض علماء نے یہ کہا کہ کسی دنیاوی مصلحت کیوجہ سے ہجرت واجب نہیں ہوتی، اور بعض علماء نے یہ کہا کہ جب اپنی جان یا اپنے رشتہ داروں کی جان کا یا اپنی اور ان کی عزت کا خطرہ ہو تو حق یہ ہے کہ ہجرت واجب ہوتی ہے لیکن یہ عبادت اور قرب الٰہی نہیں ہے جسکی وجہ سے ثواب حاصل ہو، کیونکہ اس ہجتر کا وجوب محض دنیاوی مصلحت کی وجہ سے ہے دین کی حفاظت کی وجہ سے نہیں ہے اور ہرواجب پر ثواب نہیں ملتا، کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ ہرواجب عبادت نہیں ہوتا بلکہ بہت سے واجبات پر ثواب نہیں ملتا جیسے سخت بھوک کے وقت کچھ کھانا واجب ہے اور اس پر ثواب نہیں ہے، اسی طرح بیماری میں جن چیزوں کے کھانے سے ضرر کا یقین ہو یا اس پر ظن غالب ہو ان سے احتراز کرنا واجب ہے اور اس صحت کی حالت میں مضر صحت اور زہریلی اشیاء کو کھانے سے احتراز کرنا واجب ہے ۔ یہ ہجرت بھی اسی قسم کی ہے ۔ یہ اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کی طرف ہجرت کے مثل نہیں ہے، ہرچند کہ یہ اعلیٰ درجہ کی ہجرت نہیں ہے لیکن یہ ہجرت بھی اجروثواب سے خالی نہیں ہے۔ اسی طرح مفید اشیاء کو کھانا اور مضر اشیاء سے اجتناب کرنا بھی اجروثواب سے خالی نہیں اور بعض علماء کا یہ کہنا کہ ہرواجب پر ثواب نہیں ملتا درست نہیں ہے
تقیہ کے متعلق شیعہ کا نظریہ
شیعہ علماء کی تقیہ میں بہت مختلف اور مضطرب عبارات ہیں ، بعض علماء نے یہ کہا کہ ضرورت کے وقت تمام اقوال میں تقیہ کرنا جائز ہے اور بعض اوقات کسی مصلحت کیوجہ سے تقیہ واجب ہوتا ہے اور ایسے کسی فعل میں تعقیہ کرنا جائز نہیں جس سے مومن قتل ہو یا اس کے قتل کیئے جانے کا طن غالب ہو۔ مفید نے کہا کبھی تقیہ کرنا واجب ہوتا ہے اور کسی وقت میں تقیہ کرنا افضل ہوتا ہے اور کسی وقت میں تقیہ نہ کرنا افضل ہوتا ہے۔ ابوجعفر طوسی نے کہا ظاہر الروایات میں یہ ہے کہ جب جان کا خطرہ ہو تو تقیہ کرنا واجب ہے،اوربعض علماء نے کہا مال کے خطرہ کے وقت بھی تقیہ کرنا واجب ہے اور عزت کی حفاظت کے لیئے تقیہ کرنا مستحسن ہے۔ حتیٰ کہ سنت یہ ہے کہ جب شیعہ اہل سنت کے ساتھ جمع ہوں تو نماز، روزہ اور باقی دینی امور اہلسنت کے مطابق کریں، انہوں نے بعض ائمہ اہل بیت سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے کسی سنی کی اقتداء میں تقیۃً نماز پڑھی اس نے گویا نبی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز پڑھی، اور بعد میں اس نماز کے اعادہ میں ان کے مختلف اقوال ہیں، کسی نے ایک سنی سے مذہب شیعہ کو بچانے کے لیئے تقیہ کی افضلیت میں ان کا اختلاف ہے بعض نے کہا ہے جائز ہے بعض نے کہا معمولی سے خوف یا معمولی سے لالچ کی بنا پر تقیتہً کفر کو ظاہر کرنا واجب ہے ، علماء شیعہ کے نزدیک تقیہ دین کی عظیم اصل ہے حتیٰ کہ انہوں نے انبیاء علہم السلام کی طرف بھی تقیہ منسوب کیا ہے، ان کے تقیہ سے اہم غرض خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو باطل ٹھہرانا ہے۔ اللہ ان سے پناہ میں رکھے۔
تقیہ کے بطلان پر نقلی اور عقلی دلائل
“کتب شیعہ سے حضرت علی اور ان کی اولاد امجاد کا تقیہ نہ کرنا ثابت ہے اور اس سے تقیہ کی وہ فضیلت بھی باطل ہوتی ہے جس کا انہوں نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ نہج البلاغۃ ص ۲۹۶ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) جو ان کے نزدیک کتاب اللہ کے بعد روئے زمین پر صحیح ترین کتاب ہے اس میں لکھا ہے: حضرت علی نے فرمایا؛ ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تم کو صدق سے نقصان اور کذب سے نفع ہو وہاں تم کذب پر صدق کو ترجیح دو”۔
کہاں حضرت علی کا یہ ارشاد اور کہاں ان کا (ان اکرمکم عند اللہ اتقکم) کی یہ تفسیر کرنا (اللہ کے نزدیک مکرم وہ ہے جو زیادہ تقیہ کرے) اور اسی نہج البلاغت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛ “خدا کی قسم اگر میرا دشمنوں سے مقابلہ ہو درآں حالیکہ میں اکیلا ہوں اور ان کی تعداد سے زمین بھری ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی، نہ گھبراہٹ ہوگی کیونکہ جس گمراہی میں وہ مبتلاء ہیں اور اس کے مقابلے میں میں جس ہدایت پر ہوں اس پر مجھے بصیرت ہے اور مجھے اپنے رب پر یقین ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور حسن ثواب کی امید ہے۔” حضرت علی کے اس ارشاد میں یہ دلالت ہے کہ حضرت امیر اکیلے ہوں اور دشمن بہت ہوں تب بھی وہ نہیں ڈرتے تو یہ کیسے متصور ہوسکتا ہے کہ تقیہ نہ کرنا بے دینی ہو؟۔ نیز عیاشی نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کرکے مسجد میں داخل ہوا حضرت علی آئے اور اس کی گدی پر ضرب لگا کرفرمایا:” افسوس! تو بے وضو نماز پڑھ رہا ہے، اس نے کہا مجھے عمر نے کہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا ہاتھ پکڑ کرحضرت عمر کے پاس لے گئے اور بہ آوازِ بلند فرمایا؛ دیکھو یہ تمہارے متعلق کیا کہہ رہا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اس کو میں نے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا تھا”۔ اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہ آواز بلند گفتگو کی اور تقیہ نہیں کیا۔
تقیہ کے بطلان پر واضح دلیل یہ ہے کہ تقیہ خوف کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور خوف دو قسم کا ہے ایک جان کی ہلاکت کا اور دوسرا تکلیف ، اذیت ۔مشقت بدنی اور سب و شتم کا۔ اول الذکر یعنی جان کا خوف حضرات ائمہ میں دو وجوہات سے مشتفی ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک ائمہ کی طبعی موت ان کے اختیار سے واقع ہوتی ہے جیسا کہ کلینی نے کافی میں اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیئے پورا ایک باب لکھا ہے اور اس پر تمام امامیہ کا اجماع بیان کیا ہے، دوسری وجہ یہ ہے ہ ان کے نزدیک تمام ائمہ کو ماکان و مایکون کا علم ہوتا ہے پس ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مدت حیات کتنی ہے اور موت کی کیا کیفیت ہے اور کس وقت میں موت واقع ہوگی وہ تمام تفاصیل اور کیفیات پر مطلع ہوتے ہیں، لہٰذا موت کے وقت سے پہلے ان کو موت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے اور نہ تقیہ کرنا چاہیئے۔ ثانی الذکر خوف کی وجہ سے بدن کی تکلیف اور اذیت اور سب وستم اور بےعزتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا ہمیشہ سے صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں ہمیشہ مشقتوں کو برداشت کرتے رہے ہیں اور بسا اوقات انہوں نے جابر سلطانوں سے مقابلہ کیا اور اپنے جد کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے دین کی نصرت کے لیئے حضراتِ اہل بیت کا اذیتوں اور مصیبتوں کو برداشت کرنا اور تکلیفوں پر صبر کرنا دوسرے صلحاء امت کی بہ نسبت انہیں زیادہ لائق ہے پھر ان تکلیفوں اور مصیبتوں سے بچنے کے لیئے تقیہ کرنے اور باطل کی موافقت کرنے کی کیا حاجت ہے۔
اس کو یوں بھی سمجھیئے کہ جیسے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یزید پلید ملعون کیوجہ سے بازاروں سے گزار کر ناپاک آنکھوں کے سامنے لایا گیا، ان کے سر کی چادر اتاری گئی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ان کی یاد میں مصنوعی رونے رونے والی اکثریت بازاروں میں خواتین کی سینہ کوبی کرنا کہاں سے جائز ہوگیا؟ انہوں نے تو اس توہین پر ازراہ غم اور ایسا کرنے والوں کو لعنت کا مستحق قرار دیا تھا۔ تم اچھے لوگ ہو کہ بجائے ان کی پردہ کرنے کی سنت پر چلو ، الٹا بہنیں بیٹیاں بیبیاں سڑکوں پر ماتم کرنے نکل پڑتیں ہیں یہ دراصل اپنی ذاتی خواہشات کو مذہب کے آڑ میں چھپانا ہے اور بدترین تقیہ ہے
نیز اگر تقیہ واجب ہوتا تو حضرت علی ابتداء (تقیہ) کرلیتے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے میں چھ ماہ تک توقف نہ کرتے۔ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تقیۃً یزید کی بیعت کرلیتے اور اپنے رفقاء سمیت کربلاء میں شہید نہ ہوتے، کیا حضرت علی اور حضرت الامام حسین رضی اللہ عنہما کو یہ علم نہیں تھا کہ جان کی حفاظت کے لیئے تقیہ کرنا واجب ہے؟ اور کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ امام الائمہ تارک واجب تھے؟۔
علماء شیعہ نے انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف جو تقیہ کی نسبت کی ہے اس کے بطلان کے لیئے خود قرآن مجید کی یہ آیات کافی ہیں ؛۔
الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخْشَوْنَهٗ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ ۭوَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيْبًا (سورہ الاحزاب آیت ۳۹)۔
ترجمہ؛۔ جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (سورہ المائدہ ۶۷)۔
ترجمہ؛۔ اے رسول ! جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اس کو پہنچا دیجیئے اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر اور ضرر) سے بچائے گا۔
اس کے علاوہ اور بھی قرآن مجید میں آیات ہیں جو تقیہ کے بطلان پر دلیل بنتی ہیں۔
تقیہ کے متعلق ائمہ اہلسنت کے مذاہب
امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص الحنفی لکھتے ہیں؛۔
“اضطرار کی حالت میں تقیہ کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے ، اور یہ واجب نہیں ہے بلکہ تقیہ کو ترک کرنا افضل ہے ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ جس شخص کو کفر پر مجبورکیا گیا اور اس نے کفر نہیں کیا حتیٰ کہ وہ شہید ہوگیا وہ اس شخص سے افضل ہے جس نے تقیہ کیا،مشرکین نے حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرلیا حتیٰ کہ ان کو شہید کردیا، مسلمانوں کے نزدیک وہ حضرت عمار بن یاسر سے زیادہ افضل تھے جنہوں نے تقیتہً کفر کو ظاہر کیا۔” احکام القرآن جلد 2 ص 10 مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور 1400ھ
علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں
“امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ تقیہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے اور اس کو ترک کرنا افضل ہے ، کسی شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ کفر نہ کرے، حتیٰ کہ اس کو قتل کردیا جائے تو وہ اس شخص سے افضل ہے جو جان بچانے کے لیئے تقیتہً کفر کو ظاہر کرے، اسی طرح ہرکام جس میں دین کا اعزاز ہو اس کو بہ روئے کارلانا خواہ قتل ہونا پڑے رخصت کی بہ نسبت افضل ہے۔ امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو تلوار پر پیش کیا جائے تو آپ تقیتہً جواب دیں گے؟ فرمایا نہیں۔ امام احمد نے فرمایا جب عالم تقیہ سے جواب دے اور جاہل جہالت کا اظہار کررہا ہو تو حق کیسے ظاہر ہوگا؟ اور جو چیز ہم تک تواتر اور تسلسل سے پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کو خرچ کردیا اور انہوں نے اللہ کی راہ میں کبھی کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ کی نہ کسی جابر کے ظلم کی۔ “
امام رازی نے کہا کہ ضرورت کی بنا پر تقیہ کی رخصت کا تعلق صرف اظہار حق اور دین کے ساتھ ہے اور جس چیز میں ضرورت کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہو اس میں تقیہ کرنے کی اجازت نہٰں ہے مثلاً جان بچانے کے لیئے کسی کو قتل کرنا، زنا کرنا، کسی کا مال چھیننا، جھوٹی گواہی دینا،پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا اور مسلمانوں کے رازوں سے کفار کو مطلع کرنا اس قسم کے امور کو تقیتہً انجام دینا بالکل جائز نہیں ہے۔
اس آیت سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ جب کفار غالب ہوں تو ان کے ساتھ تقیہ کی رخصت ہے ، مگر امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں ایسی صورتحال پیدا ہوجائے تو جان ومال کی حفاظت کے لیئے ان کے درمیان بھی تقیہ کرنا جائز ہے۔
تفسیر کبیر ، ابوحیان اندلسی ، دارالاحیاء التراث ایڈیشن مجلد ۳ ص ۶۷۹ / تفسير الکبير امام ابوحيان الاندلسي مجلد ۲ ص ۴۴۲/۴۴۳ زير تحت ايت سوره ال عمران ۲۲ تا ۳۲ ، تفسير کبير جلد ۳ ص ۹۵ ط دارالفکر بيروت

 

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی فرماتے ہیں؛۔
“جب مسلمان کافروں کے درمیاں گھر جائے تو اسکے لیئے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لیئے نرمی سے جواب دے درآں حالیکہ اس کا دل تصدیق سے مطمئن ہو اور جب تک قتل کا ، اعضاء کاٹنے کا یا سخت اذیت پہنچانے کا خطرہ نہ ہو تقیہ کرنا جائز نہیں ہے، اور جس شخص کو کفر پرمجبور کیا جائے تو صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ ثابت قدمی سے دین پر جما رہے اور کفریہ کلمہ نہ کہے اگرچہ اس کی رخصت ہے۔”
جامع الاحکام القران للقرطبی جلد 4 ص 57 مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران۔ و۔ دار عالم الکتب للنشر وتوزيع، عبدالعزيز بن آل سعود مجلد ۴ ص ۵۷

علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی الحنبلی لکھتے ہیں؛۔
“تقیہ کرنے کی رخصت ہے عزیمت نہیں ہے۔ امام احمد سے پوچھا گیا کہ آپ کے سر پر تلوار رکھ دی جائے تو کیا آپ تقیہ سے جواب دیں گے فرمایا نہیں، آپ نے فرمایا جب عالم تقیہ سے جواب دے اور جاہل جہالت پھیلا رہا ہو تو حق کیسے ظاہر ہوگا۔” زاد المسیر فی علم التفسیر جلد ۱ ص ۳۷۳، المکتب الاسلامي

امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی الشافعی لکھتے ہیں؛۔
“جب کوئی شخص کافروں میں رہتا ہو اور اس کو اپنی جان اور مال کا خظرہ ہو تو وہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرے اور دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ ان سے اسطرح باتیں کرے جس سے ان کی محبت اور دوستی ظاہر ہو لیکن دل سے محبت نہ رکھے بلکہ دشمن جانے ، نیز جس صورت میں جان بچانے کے لیئے تقیہ کرنا جائز ہے وہاں بھی حق کا اور ایمان کا اظہار کرنا افضل ہے” ۔ بحوالہ تفسیر کبیر
تمت بالخیر

For full size  scans and Updates can be followed on our forum [here]

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s