Mukhtasar Tarikh-e-Tameer-e-Mazarat Aur Fitna Wahhabiyah [Urdu]


تاریخ کے چند محققانہ اوراق بابتِ نشاناتِ مقدسہ برسرزمین حجاز
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین
ترکوں نے حجاز پر اپنے دور حکومت کے دوران رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے لے کر آپ علیہ السلام کے وصال تک کے ہرلمحے سے وابستہ ہر جسمانی، روحانی، تاریخی اور جمالیاتی کیفیت کو آئندہ نسلوں کے واسطے محفوظ کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ کام ایک غیر شعوری سطح پر تو عہد نبوی ہی سے جاری تھا۔ مگر اب کوئی ایک ہزار برس گزر چکے تھے اور اب یہ ضروری تھا کہ ایک شعوری اور حتمی سطح پر یہ عمل ہو۔ اس کام کے واسطے جنون کی حد تک رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انسانی حواس کی حدود تک نفاست اور ذہنی سچائی کی ضرورت تھی۔ یہ رحمت تُرک لحن میں موجود تھی اور اس واسطے وہ اس کام میں تقریباً مکمل کامیاب ہوئے تھے ۔ ترکوں کا انسانیت پر یہ سب سے بڑا احسان ہے۔
ان کو علم تھا کہ جس خطہء زمین پر آپ کا نزول ہوا او رآپ کا پہلا قدم پڑا کہ جس ہوا کا پہلا سانس آپ کے اندر جذب ہوا اور جس نے آپ کی آواز کا گداز پہلی بار برداشت کیا کہ جس ہوا کی سہار سے پہلے پرندے کی پکار آپ کے گوش گزار ہوئی اور پھر جس خلا کے خم سے چاند اور سورج نے پہلی بار آپ کا دیدار کیا اور آپ نے جن کا پہلی بار بصری آنکھوں سے نظارہ فرمایا کہ جہاں جہاں آپ کی بینائی میں نئے ستاروں کو وقوع ہوا اور جس جس طور آپ کی وسیع ہوتی آنکھوں نے ان کی دوہری حرکت کو واحد کرکے اپنے لہو میں سمویا کہ یہ قدآور لمحے، گوشے، چپے اور ہوا وبینائی ، صدا و شنوائی کے نقشِ اول محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے نہیں بلکہ آتی دنیا تک ہرکلمہ گوکے لہو اول، ازلی، آبائی نشان ہیں۔ اس بات کا ان کو مکمل علم تھا، سو ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پنپ پا کر اس بڑے ہوتے بچے میں بنو سعد کی خصلت اور محبت سے آغاز کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر سب سے پہلے انہوں نے مدینہ منورہ میں اس میدان کا تعین کیا جہاں مرنے سے پہلے ایک خوبرو کم عمر نوجوان نے اپنے گھر سے دور، بخارکی گرمی اور بے چینی کو مٹانے کے وسطے، ایک شام، چند لمحات کے واسطے گشت کیا تھا اور پھر اپنی کم سن، خوبصورت اور ہنس مکھ بیوی گو بیوہ اور ابھی ماں کے بدن ہی میں قائم بچے کو یتیم اور بے سہارا چھوڑ کر اپنی تمنائیں اپنے دل ہی میں لیئے وفات پاگیا تھا۔
پھر انہوں نے ایک پہاڑ کی کوکھ میں اس چھوٹے سے گھر کا تعین بھی کیا تھا جس کی پہلی منزل پر شمال کی جانب قائم، ایک چھوٹے سے بالکل چوکور کمرے میں جہاں چہارآئینوں کی اوٹ میں چہار سمتیں ملتی تھیں، ایک بچہ کہ جس کو کائنات کی امان تھی، ظہور میں آیا تھا۔ پھر اس بچے کو ایک بزرگ انسان نے اپنے محنت اور سورج سے کملائے ہاتھوں سے اپنی ایک چادر میں لپیٹا تھا اور وہ پگڈنڈی طے کی تھی کہ جو اللہ کے گھر تک جاتی تھی۔ وہاں پہنچ کر اس ضعیف انسان نے چادر میں لپٹے ہوئے نوزائیدہ بچے کو ہاتھوں میں رکھ کر کائنات کی جانب بلند کیا تھا اور دعا کی تھی کہ اے خالق کائنات اس بچے پر رحم فرما اس واسطے کہ یہ بے آسرا اور یتیم ہے۔ ترکوں نے اس شمالی کمرے ، اس آبائی پگڈنڈی اور اس دعاکے مقام کا بھی نہایت کاوش سے تعین کرکے نشان چھوڑا تھا۔
پھر انہوں نے پہلی رگوں کے سیاہ پہاڑوںاور اکثر اوقات خاموش ریگستان کے سنگم پر قائم اس جگہ کو بھی دریافت کرکے محفوظ کیا تھا۔ جہاں اس دعا کے کوئی چھ برس بعد اپنے جواں مرگ خاوند کی قبر سے واپسی پر اپنے چھ برس کے حیران بچے کی انگلی پکڑے پکڑے جب اس کم سن خاتون نے ایک رات کے واسطے پڑاؤ کیا تھا، تووفات پائی تھی۔
اگلے روز حیران آنکھوں والے اس چھ برس کے بچے نے اپنی ماں کا چہرہ کہ جس سے اب آہستہ آہستہ وہ مانوس ہورہا تھا، آخری بار دیکھا تھا اور پھر اپنی ماں کو اپنے کچے کچے ہاتوں سے انجان خاک میں اتار کر قافلے کے ساتھ مقدر کی جانب چل پڑا تھا۔ ترکوں نے اپنی مثالی درستگی، سادگی، صفائی اور خوش اسلوبی سے ایک کتبہ یہاں بھی چھوڑ دیا تھا کہ آنے والوں کو آگاہی ہو کہ معصوم دلوں کی اکیل ہی ہے کہ جوان کو وحدت کا ہمراز بتاتی ہے۔
ان کا اگلا قدم اس راستے کا تعین کرنا تھا جس پر اس واقعے کے تین برس بعد یہ بچہ ایک ضعیف میت کے ساتھ ساتھ چارپائی کا پایا پکڑ کر سب کے سامنے بلک بلک کرروتا ہوا چلا تھا۔ اس کو شاید احساس تھا کہ آج کے بعد اس کی اکیل کائناتی وحدت کی اکیل ہے اور آجکے بعد شاید وہ کبھی کھل کر رو بھی نہ سکے گا۔۔۔۔ غرض یہ کہ ترکوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے لے کر آپ کے وصال تک کے واقعات کو آنے والی نسلوں کے تاریخی، جمالیاتی اور ایمانی شعور کے واسطے درستگی اور سادگی کے ساتھ محفوظ کرنے کا جو بیڑا اٹھا یا تھا، اس میں وہ ایک بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔ آپ کے بچپن سے جوانی تک کی سمتوں کا تعین کرنے کے بعد انہوں نے غارِ حرا کی چوٹی سے آسمانوں کو دیکھا اورپھر اونچے پہاڑ کی نشیبی وادی میں قائم شہر کے ایک گھر کے اس چھوٹے سے کمرے کا تعین کیا کہ جہاں حیرت پرے سے اپنے نام کی پکار سننے کے بعد واپس آکر رسول پاک علیہ التحیہ والثناء نے آرام فرمایا تھا۔ اور جہاں حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ پر اپنے مکمل اعتماد سے آپ کو ا س حد تک حوصلہ دیا تھا کہ جب فتح مکہ کے بعد آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام کریں گے ، تو آپ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی قبر کے ساتھ آپ کا خیمہ نصب کیا جائے۔ بعض لوگوں کے استفسار پر کہ آخر ایک قبر کے کنارے ایک قبرستان میں کیوں؟ آپ نے فرمایا:
“جب میں غریب تھا، تو اس نے مجھ کو مالامال کیا۔ جب انہوں نے مجھ کو جھوٹا ٹھہرایا تو صرف اس ہی نے مجھ پر اعتماد کیا اور جب سارا جہان میرے خلاف تھا، تو صرف اس اکیلی ہی کی وفا میرے ساتھ تھی”۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
ترکوں کے ماہرین نے پہلے اس گھر کا پھر اس گھر میں اس کمرے کا تعین کیا کہ جہاں مکمل اعتماد کا یہ بنیادی لمحہ گذرا تھا۔ یہاں یہ بیان کرنا شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ کمرے اوراس کمرے کے بارے میں کہ جہاں آپ کا ظہور ہوا تھا، عثمانی حکومت کی جانب سے جو جاری احکامات تھے، وہ کیا تھے؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھروالے کمرے کے بارے میں جاری حکم تھا کہ ہربار رمضان کا چاند دیکھتے ہی اس میں سفیدی کی جائے اور پھر فجر کی اذان تک خواتین بآوازِ بلند قرآ ن کی تلاوت کریں، جب کہ حضرت عبدالمطلب کے گھر میں واقع اس شمالی کمرے کے بارے میں احکامات یہ تھے کہ پہلی ربیع الاول کو کمرے کے اندر سفید رنگ کیا جائے۔ رنگ ساز حافظِ قرآن ہوں اور پھر ربیع الاول کی اس رات کہ جب آپ کا ظہور ہوا، معصوم بچے اس کمرے کے اندر آئیں اور قرآن کی تلاوت کریں۔ اگلی صبح  پرندے آزاد کرنے کا حکم اور رواج تھا۔
سوجہاں انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان اور مقبرے کا تعین کیا، وہاں انہوں نے بنو ارقم کی بیٹھک کو محفوظ، ورقہ نوفل کی دہلیز کو پختہ اور حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے آنگن کی نشاندہی بھی کروائی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مکہ اور مدینہ شریف میں قائم ان ازلی قبرستانوں کو جن میں خانوادہء رسو ل کے بیشتر افراد ، اصحاب کرام اور ان کے خاندان کے چیدہ ترین بزرگانِ دین قیامت کے منتظر سوتے تھے، صاف ستھرا اور پاک کروایا اورپھر نہایت ہی سلیقے سے قبروں کی نشاندہی کرکے مکمل نقشے مرتب کروائے۔
ان تمام کاموں میں ترکوں کا طریقہ کار بہت مؤثر اور یکتا ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر جب ترک حجاز پہنچے، تو مسجد بلال جو کہ خانہ کعبہ کے سامنے ایک پہاڑ پر واقعہ ہے، صدیوں کی غفلت کی وجہ سے تقریباً مٹی اور پتھر ہوچکی تھی۔ اس چھوٹی سے مسجد کو اس کے اصلی خطوط پر دوبارہ تعمیر کرنے کے واسطے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ یہ تھا کہ پہلے تمام مٹی کو الگ کرلیا گیا او رپھر تمام چونے کو اور اس کے بعد تمام اصلی پتھروں کو، اس کے بعد مٹی اور چونے کو پیس کر اور نہایت ہی باریک چھلنیوں سے چھان کر الگ الگ تیار کرلیا گیا۔ بجھے ہوئے چونے کا کیمیائی تجزیہ کرکے اس کے اجزاء معلوم کیئے گئے۔ پھر ان اجزاء کے اصلی اور پرانے مآخذ دریافت کرنے کے بعد ایک ہی مآخذ کے نئے اور پرانے چونے کو ملا کر اور مزید طاقتور بنا کرچنائی کے واسطے استعمال کیا گیا۔ پتھر بھی اپنی تراش، کیفیت اور ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً اسی طرح اور اسی جگہ نصب ہوئے کہ جہاں پہلی مرتبہ عہد نبوی کے فوراً بعد نصب ہوئے تھے۔
اسی طرح وہی مٹی ، وہی گارا اور وہی چونا وپتھر بالکل اسی طرح استعمال ہوا جیسا کہ صدیوں پہلے مسجد کی تعمیر اول میں استعمال ہوا تھا۔ مسجد نئی بھی ہوگئی اور اپنے اصلی اور اول خطوط پر قائم بھی رہی۔ یہ ترکوں کی محض ایک اور قدرے معمولی مثال ہےطریقہ کار کی۔
جب ۵۳ برس مکے میں بیت گئے اور زمین کی گردش اس شہر کو ایک بار پھر وہیں لے آئی کہ جہاں وہ ۵۳ گردشوں پہلے تھا، تو نئے ستاروں کا وقوع ہوا تھا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کا رخ کیا تھا۔ سو ترک بھی اس آبائی راستے پر چل نکلے تھے۔ غارِ ثور کو انہوں نے کچھ نہ کہا اور یہی مناسب سمجھا کہ نہ تو اس کے جالے صاف کریں اور نہ یہ کبوتروں کے صدیوں پرانے گھونسلوں کے جھاڑ جھنکار کو کاٹیں یا ہٹائیں۔ غار ثور کو انہوں نے مکڑیوں اور کبوتروں کے سپرد ہی رہنے دیا کہ اب جائز طور پر وہی اس گوشے کے مالک اور حقدار تھے۔ غارِ حرا تک کی نہایت ہی مشکل چڑھائی کو بھی انہوں نے آسان بنانے کی کوئی کوشش نہ کی تاکہ چڑھنے والوں کی چوٹی تک پہنچنے کے جتن کا احساس برابر ہوتا رہے۔ ہاں البتہ اتنا ضرور کیا کہ دوتہائی چڑھائی پر ایک نہایت سادہ سی ناند بنا دی تاکہ بارش کا پانی کبھی کبھی جمع ہوسکےاور بچے، بوڑھے اور عورتیں اگرچاہیں، تو چڑھائی کے دوران پیاس بجھا سکیں۔
اس کے بعد انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے لے کر مدینہ کے اطراف میں قائم بنو نجار کی کچی بستی تک ہجرت کے راستے کا حتمی تعین کرکے نقشہ مرتب کیا۔ ترک جب حجاز پہنچے تو بنونجار تتر بتر ہوچکے تھے۔ پھر بھی ترکوں نے بچے کھچے لوگوں کو تلاش کیا اور سینہ بہ سینہ محفوظ، ان لوگوں کے لوک گیتوں کو پہلی بار قلمبند کرکے باقائدہ محفوظ کیا۔ مسجد قبا کو نہایت ہی ہنر سے بحال کرنے کے بعد وہ کچھ دیر اس کنوئیں کے منڈیر پر بھی سستانے کو بیٹھے کہ جہاں ہجرت کے بعد پہلی نماز ادا کرکے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا اور جس کے آپ کو دیکھ کر آپ ہی آپ اونچے ہوتے پانی میں آپ نے اپنے چہرہ مبارکہ کا شفاف عکس دیکھ کر پہلے ایک لمحہ توقف ، اور پھر مسرت کا اظہار فرمایا تھا۔
اس کنوئیں سے اب راستہ مدینے کو جاتا تھا۔ مدینے کے اس میدان تک کہ جہاں آپ کی آمد سے کوئی ۵۳ برس پہلے ، ایک شام ، وفات سے پہلے ایک خوبرو اور کم عمر نوجوان نے اپنے گھر سے دور اپنے بخار کی گرمی اور بے چینی مٹانے کے لیئے چند لمحات کے واسطے گشت کیا تھا اور پھر اپنی بیوی جو حاملہ بھی تھیں کو بیوہ اور یتیم چھوڑ گیا تھا اور اپنی تمنائیں اپنے دل ہی میں لیئے وفات پا گیا تھا ۔
ایک بار پھر وہی میدان تھا۔ مسجد نبوی کو اب یہاں تعمیر ہونا تھا۔
مسجد نبوی کی تعمیر بھی ایمان، ہنر مندی، پاگیزگی اور نفاست کی ایک عجیب اور انوکھی داستان ہے۔
پہلے پہل برسوں تک تو ترکوں کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ مسجد نبوی کی تعمیر کرسکیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک کائناتی اور انسانی حدود سے ماؤرا طاقتوں کے بس کا عمل تھا اور وہ محض انسان تھے۔ مگر جب انسان سچی محبت کی سچائی کے سہارے انہوں نے یہ کام شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ ترکوں نے اپنی وسیع سلطنت اور پھر پورے عالم اسلام میں اپنے ارادے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ اس حتمی کام کے واسطے ان کو عمارت سازی اور اس سے متعلقہ علوم وفنون کے ماہرین درکار ہیں۔ یہ سننا تھا کہ ہندوستان، افغانستان، چین، وسطی ایشیاء، ایران، عراق، شام، مصر، یونان، شمالی اور وسطی افریقہ کے اسلامی خطوں اور نہ جانے عالمِ اسلام کے کس کس کونے اور کس کس چپے سے نقشہ نویس، معمار، سنگتراش، بنیادیں زمین کی زندہ رگوں تک اتارنے کے ماہرین، چھتوں اور سائبانوں کو ہوا میں معلق کرنے کے ہنرمند، خطاط، پچہ کار، شیشہ گر اور شیشہ ساز، کیمیاگر، رنگساز اور رنگشناس ، ماہرینِ فلکیات، ہواؤں کے رخ پر عمارتوں کی دھار کو بڑھانے کے ہنرمند اور نجانے کن کن عیاں اور کیسے کیسے پوشیدہ علوم کے ماہرین ، اساتذہ ، پیشہ ور اور ہنرمندوں نے دنیائے اسلام کے گوشے گوشے میں اپنے اہل و عیال کو سمیٹا اور اس ازلی بلاوے پر قسطنطنیہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ کہیں بیحد دور، ایک چٹیل ریگستان میں جنت کی کیاری کے کنارے ، ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام گاہ پر تعمیر ہوتی تھی وہ اور ان کے ہنر اب ہرطرح اس کام کے واسطے وقف تھے۔
ترکوں کو اس والہانہ کیفیت کی ایک حد تک امید تھی، مگر پھر بھی کہا جاتا ہے کہ اس اجتماعی بے اختیاری اور مکمل اطاعت پر ان کو تعجب ضرور ہوا تھا۔ بہرکیف ان کی تیاریاں بھی مکمل تھیں۔ عثمانی حکومت کی تقریباً ہرشاخ، اعلان سے پہلے ہی حرکت میں آچکی تھی اور حکومت کے اہلکار اپنی حدود میں اور سفیر دوسرے اسلامی ممالک میں اس انداز اور ارادے کےتمام لوگوں کی اعانت کے واسطے تیار تھے۔ ان اہلکاروں اورسفیروں کو یہ احکامات تھے کہ وہ ان تمام ماہرین اور ن کے ہمراہ ان کے اہل وعیال کو اگر وہ چاہیں ، تو قسطنطنیہ تک کے راستے میں ہرطرح کی سہولت فراہم کریں۔ ادھر سلطانِ وقت کے حکم سے قسطنطنیہ سے چند فرسنگ باہر میدانوں میں ایک خودکفیل اور کشادہ بستی تیار ہوچکی تھی۔ سو پھر جب ان یکتائے روزگار لوگوں کے قافلے پہنچنے شروع ہوئے، تو ان کو ان کے روزگار کے اعتبار سے اس نئی بستی کے الگ الگ محلوں میں بسایا جانے لگا اور حکومت مکمل طور پر ان کی کفیل ہوئی۔
اس عمل میں کوئی پندرہ برس گزر گئے، مگر اب یہ یقین سے کہا جاسکتا تھا کہ اس بستی میں اپنے وقتوں کے عظیم فنکار جمع ہوچکے ہیں۔ اب خود سلطانِ وقت اس نئی بستی میں گیا اور اس نے خاندانی سربراہوں کا اجلاس طلب کرکے منصوبے کا اگلا حصہ ان کے سامنے رکھا۔ منصوبے کا اگلا حصہ اسطرح تھا۔ ہر ہنرمند اپنے سب سے نونہار بچے یا بچوں (اولاد نہ ہونے کی صورت میں ہونہار ترین شاگرد) کا انتخاب کرے اور اس بچے کے جوان ہوکر پختہ عمر تک پہنچنے تک ان کے بد ن اور لحن میں اپنا مکمل فن منتقل کردے۔ ادھر حکومت کا ذمہ تھا کہ وہ اس دوران اس اندازے کے اتالیق مقررکرے کہ ہر بچے کو پہلے قرآن کریم پڑھائیں اورپھر قرآن حفظ کروائیں۔ ساتھ ساتھ بچہ سواری سیکھے۔ اس تمام تعلیم و تربیت اور تیاری کے واسطے پچیس برس کا عرصہ مقرر کیا گیا۔
اس منصوبے پر ہر ایک نے لبیک کہا۔ صبر، محنت، محبت اور حیرت کا یہ بالکل انوکھا عمل شروع ہوا۔
چنانچہ ۲۵ برس بیت گئے اور ان انوکھے ہنرمندوں کی ایک نئی اور خالص نسل نشونماپاکر تیار ہوگئی۔ یہ تیس سے چالیس برس عمر کے مخصوص اور نیک اطوار نوجوانوں کی ایسی جماعت تھی کہ جو محض اپنے اپنے آبائی اور خاندانی فنون ہی میں یکتا اور عنقا نہیں تھے بلکہ اس جماعت کا ہرفرد حافظِ قرآن اور فعال مسلمان ہونے کے علاوہ ایک صحتمند نوجوان اور اچھا شہسوار بھی تھا۔ بچپن کے لمحہ اول سے ان کو علم تھا کہ یہ وہ چیدہ لوگ ہیں کہ جن کو ایک روز کہیں بیحد دور ایک چٹیل ریگستان میں۔ جنت کی کیاری کے کنارے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ کے گرد ایک ایسی کائناتی عمارت تعمیر کرنی ہے کہ جو آسمان کی جانب اس زمین کا واحد نشان ہو۔
ترکوں کے اعلان اول سے لے کر اب تک کوئی تیس برس سے زیادہ بیت چکے تھے اور مسجد نبوی کے معمار، جن کی تعداد کوئی پانچ سو کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے تیار تھے۔ ایک طرف تو ہنرمندوں کی یہ جماعت تیار ہورہی تھی اور دوسری طرف ترک حکومت کے اہلکار عمارت کے واسطے سامان اکٹھا کرنے میں ایک خاص قرینے کے ساتھ مصروف تھے۔ حکومت کے شعبہء کان کنی کے ماہرین نے خالص اور عمدہ رگ وریشے کے پتھر کی بالکل نئی کانیں دریافت کی جن سے صرف ایک بار پتھر حاصل کرکے ان کو ہمیشہ کے واسطے بند کردیاگیا۔ ان کانوں کی جائے وقوع کو اس حد تک صیغہء راز رکھا گیا کہ آج تک کسی کو علم نہیں کہ مسجد نبوی میں استعمال ہونے والے پتھر کہاں سے آئے تھے۔ بالکل نئے اوراَن چھُوئے جنگل دریافت کیئے گئے اور ان کو کاٹ کر ان کی لکڑی کو بیس برس تک حجاز کی آب وہوا میں آسمان تلے موسمایا گیا ۔ رنگ سازوں نے عالم اسلام میں اگنے والے درختوں اور خاکی و آبی پودوں سے طرح طرح کے رنگ حاصل کیئے اور شیشہ گروں نے شیشہ بنانے کے واسطے حجاز ہی کی ریت استعمال کی، پچکاری کے قلم ایران سے بن کرآئے جب کہ خطاطی کے واسطے نیزے دریائے جمنا اور دریائے نیل کے پانیوں کے کنارے اگائےگئے۔ غرض یہ کہ جب تک ان ہنرمندوں کی جماعت تیار ہوئی۔ ان ہی کے بزرگوں کی خاص طور پر تیارکردہ ٹولیوں نے عمارتی سامان بھی فراہم کرلیا۔ یہ سارا عمارتی سامان بمع ہنرمندوں کی جماعت کے، نہایت ہی احتیاط کے ساتھ پہلے خشکی، پھر سمندر اور پھر خشکی کے راستے حجاز کی سرزمین تک پہنچا دیا گیا کہ جہاں مدینہ سے چارفرسنگ دور ایک نئی بستی اس تمام سامان کو رکھنے اور ہنرمندوں کے تعمیر کے دوران رہنے سہنے کے واسطے پہلے ہی تیار ہوچکی تھی ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعمیر مدینہ میں ہونی تھی ، تو پھر سازوسامان مدینے ہی میں رکھا جاتا۔ آخر یہ چار فرسنگ (بارہ میل) دور کیوں؟ اس کی وجہ ترک یہ بتاتے ہیں کہ آخر میں ایک بہت بڑی عمارت تیار ہونی تھی کہ جس واسطے مختلف جسامت کے ہزاروں پتھر کاٹے جانے تھے، بڑے بڑے مچان ٹھوک ٹھاک کر تیار ہونے تھے، اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے ضروری عمارتی عمل ہونے تھے کہ جن میں بے حد شور کا امکان تھا۔ جبکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ عمارت کی تعمیر کے دوران مدینہ میں ذرہ برابر بھی کوئی شور نہ ہو اور جس فضا میں رسول اللہ علیہ التحیہ والثناء کی آنکھیں دیکھیں اور آواز سنی ہوئی تھی، وہ اپنی حیا، سکون اور وقار قائم رکھے۔
سوایسا ہرکام کہ جس میں ذرا بھی شور کا امکان تھا، مدینہ سے چار فرسنگ کے فاصلے پر ہوا اور پھر ہر چیز کو ضرورت کے مطابق مدینہ لایا گیا۔ ایک ایک پتھر پہلے وہیں کاٹا گیا اور پھر مدینہ لاکرنصب کیا گیا۔ کبھی ایس بھی ہوا کہ چنائی کے دوران کسی ایک پتھر کی کٹائی ذرا زیادہ ثابت ہوئی یا کوئی مچان یا جنگلا چھوٹا یا بڑا پڑا، تو اس کو عجلت میں ٹھوک بجا کر وہی رسول اللہ علیہ السلام کے سرہانے ٹھیک نہ کیا گیا، بلکہ چارفرسنگ دور کی بستی میں لے جاکر اور درست کرکے دوبارہ مدینہ لایا گیا۔ یہاں یہ بھی یادرکھیں کہ اس دور میں ذرائع مواصلات کیا تھے۔ بھاری بوجھ نہایت سست رفتاری اور صبر سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا تھا اور انسانی نقل و حمل کے واسطے سب سے تیز رفتار سواری گھوڑے کے علاوہ کوئی اور نہ تھی۔
سو جب کہ سارا عمارتی سامان اپنی خام شکل میں مدینہ کے مضافات والی بستی میں پہنچ گیااور پھر پانچ سو کے لگ بھک ہنرمندوں کی جماعت نے بھی اسی بستی میں آن کر سکونت پا لی، تو سب کچھ اب اس جماعت کے سپرد کردیا گیا۔ اپنے فنون کے استعمال اور اپنے تخلیقی عمل میں یہ فنکار وہنرمند بالکل آزاد تھے۔ صرف دواحکامات ان کو دیئے گئے ۔ اول یہ کہ تعمیر کے لمحہ اول سے لے کر لمحہ تکمیل تک اس جماعت کا ہر ہنرمند اپنے کام کے دوران باوضو رہے اور دوم یہ کہ اس دوران وہ ہرلمحہ تلاوتِ قرآن جاری رکھے۔
سو باوضو حافظ قرآن ، ہنرمندوں کی یہ جماعت پورے پندرہ برس تک مسجد نبوی کی تعمیر میں مصروف رہی اور پھر ایک صبح آئی کہ مسجد نبوی کے خلائی نشان کی چوٹی سے فجر کی اذان نے، زمین سے نہایت ہی بھروسے اور ایمان سے اگی اس عمارت کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا۔ اب خلا محفوظ بھی تھا اور آزاد بھی۔
یہ عمارت کیسی ہے، کیا ہے، کہاں ہے، اور کہاں لے جاتی ہے؟ اس کے بارے میں تو ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ یہاں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہوگا کہ ۔ یہ عمارت اس جہان میں ہوتے ہوئے بھی اس جہان میں نہیں ہے۔ اپنے آپ میں قائم رہ کر اس عمارت کو دیکھو تو یہ کہیں اور ہے۔ اپنے آپ سے باہر قدم دھر کے اس کو دیکھو تو یہ کہیں اور ہے، اور ہم کچھ اور ہیں۔ پتھر، خلا، ہوا، آواز، لحن، نیت، ایمان، اور نور نے مل کر صبر کی ایک نئی بُنت کی ہے۔متوازی اوقات اگر رنگ برنگ کے دھاگے ہیں تو ان کی بُنت میں بے رنگ کا دھاگہ اس عمارت کا نور ہے جو کہ اس بُنت کو محض معنی ہی نہیں دیتا بلکہ اوقات کا ایک دوسرے سے ایک جائز اور مخفی رابطہ بن کر اوقات کو ایک مرکز بھی فراہم کرتا ہے او ر اوقات کے اس مرکز سے ہم کو اپنےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز یوں آئی ہے کہ جیسے خلا محفوظ بھی ہو اور آزاد بھی، کہ جیسے آواز پرندہ بھی ہو اور لہو بھی کہ اندھیرے میدانوں میں کبھی نور کا شجرا گے تو کبھی نور کی وادیوں میں اندھیرا خود ایک شجر ہو کہ جیسے نور محض نور نہ ہو، بلکہ نور کا منبع بھی ہو۔ سو جب ریاض الجنۃ میں اس خلا کے خم پر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھیں ، تو کشف ہوتا ہے کہ آخر محبت کے کیا معنی ہیں اور نیت کی کیا حدود ہیں۔ اور پھر وہ بے نام ہنرمند یاد آجاتے ہیں کہ جن کو اپنے ہنر سے اس واسطے محبت تھی کہ وہ ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے تھا کہ جنہوں نے چٹیل میدان میں اس جنت کی کیاری کے کنارے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ کی حیا، سکون اور حیرت کو قائم رکھتے ہوئے اس عمارت کو اس خلا کے خم پر تعمیر کیا تھا کہ آج اس عمارت میں محض ان کا ہنر ہی نہیں بلکہ ان کے ہنر کا غیب بھی محفوظ ہےاورپھر ترکوں کے واسطے دعا ہمارے پور پور سے بلند ہوتی رہے گی تاقیامت۔
قسط دوم:۔
پھر کئی صدیاں بیت گئیں ۔
اندرونی سازشوں اور بیرونی نیتوں کے دباؤ کے تحت پرانی حکومتیں کمزور اور نئی حکومتیں اور طاقتیں ظہور میں آتی رہیں۔ پھر جب بیسویں صدی کا آغاز ہوا تو پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس جنگ میں عثمانی حکومت نے انگریز، فرانسیسی، اور اطالوی طاقتوں کے خلاف جرمن قوم کا ساتھ دیا۔ ۱۹۱۸ء میں ترک جرمن محاذ کو شکست ہوئی اور فتح پانے والوں نے جہاں جرمنی کے ٹکڑے کرکے شکست کے ساتھ ساتھ ان کے اجتماعی وقار کو خاک میں ملادیا۔ وہاں ترکمانی ناموس بھی خون کے ساتھ ساتھ بہہ کر خاک میں شامل ہوگیا اور عثمانی حکومت کی کشادہ و حدود بھی فاتح ٹولے کے تصرف میں آگئیں۔ اپنی نوآبادیاتی خواہشات کو آگے بڑھانے کے واسطے اس فاتح ٹولے نے عثمانی سلطنت کے خطوں پر حکومت کرنے کے دو طریقے رائج کیئے۔ پہلا طریقہ براہ راست حکومت تھا اور جہاں براہ راست ممکن نہ تھی وہاں ایک خاص منصوبے کے تحت ایسے قبیلوں، سیاسی جماعتوں اقلیتوں کے افراد کو سہارا یا طاقت دینا طے پایا تھا کہ جن کی وساطت سے محض دائرہ اثر ہی کو قائم نہ رکھا جاسکے، بکہ ہوسکے تو ملت اسلامیہ میں مزید انتشار اور کشیدگی بھی پھیلائی جاسکے۔(یعنی کروسیڈ زندہ تھا)
ترکوں کی جنگ عظیم میں شکست کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں جن طاقتوں نے علاقائی افراتفری کا فائدہ اٹھاکر کھلم کھلا ہاتھ پاؤں نکالنے شروع کردیئے تھے۔ ان میں صوبہ نجد کے ایک پیشہ ور باغیوں کا سعود نامی قبیلہ بھی شامل تھا۔ جنگ عظیم کے دوران ہی یہ لوگ ایک خفیہ معاہدے کے تحت انگریزوں (ماسونی اور صیہونیوں) سے مل چکے تھے۔ اس معاہدے کی رو سے انگریز یہ چاہتا تھا کہ جنگ عظیم کے دوران یہ قبیلہ اپنی بغاوتوں ، حملوں، جنگوں اور چھاپوں وغیرہ سے ترک کو اتنا تنگ کرے اور برسرپیکار رکھے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں انگریز حملہ آوروں کی طرف پوری طرح دھیان نہ دے سکیں۔ اس کے عوض انگریز نے عہد کیا تھا کہ اگر وہ جنگ جیت گیا تو وہ پہلے نجد اور پھر جزیرہ نمائے عرب پر اس نجدی قبیلے کا تسلط قائم کرنے میں ان کی مدد کرے گا۔ مگر یہ انگریز کا عہد تھا جو کہ کم از کم دوطرفہ تو ضرور ہوتا ہے ۔ سو یہی عہد انہوں نے حجاز کے حسینی قبیلے سے بھی کیا ہواتھا۔ بس جو چیز دونوں ناموں میں مشترک تھی وہ تھی ترکوں کی شکست اور جزیرہ نمائے عرب سے انخلاء۔
بہرکیف ترکوں کی ہار کے بعد ان فاتح طاقتوں (اور بعد میں امریکہ) کے ایماء اور امداد پر سعودیوں نے اپنے علاقائی حریفوں کو آخرکار شکست دے کر ۱۹۲۱ء میں صوبہ نجد پر اپنی عملداری اور بادشاہت کا اعلان کردیا۔ عالمی جنگ کے اختتام پر ہی ترکوں نے حجاز کا نظام حجاز کے سربراہ قبیلے کے سردار کے سپرد کرکے اپنی فوجیں حجاز سے واپس بلا لی تھیں۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جنگ میں شکست کے بعد وہ حجاز میں اپنی حکومت صرف فوجی طاقت کے ذریعے قائم رکھ سکتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی حملے کی صورت میں خاکِ حجاز پر لہو بہنا لازم ہوجائے گااور خدانخواستہ مکہ اور مدینہ میں گولی چلانی لازمی ہوجائے گی۔ یہ کیفیت ترک لحن اور خصلت کے بالکل برعکس تھی۔ سو کچھ عرصہ سوچ و بچار کے بعد حجاز کے تر ک گورنر کا حکم ہوا تھا اور ترکوں نے خانہ کعبہ کے گرد آخری طواف کرکے مسجدِ نبوی کی دہلیز کو آخری بار چوما تھا اور خاکِ حجاز سے ہمیشہ کے واسطے چلے گئے تھے۔
اب اہل نجد اور اہل حجاز دونوں جزیرہ نمائے عرب کی بادشاہت کے خواہاں تھے اور دونوں کو انگریز کی حمایت حاصل تھی۔
اس سیاسی خلا کو سعودیوں نے پُر کیا اور ۱۹۲۴ء میں مکہ پر اور ۱۹۲۵ میں مدینہ اور جدہ پر قبضہ جمانے کے بعد اس نجدی قبیلے کے سردار نے ۱۹۲۶ء میں نجد و حجاز کی بادشاہت کا اعلان کردیا ۔ یہاں سے حجاز پر سعودیوں کے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔ یہ دور ابھی تک جاری ہے ۔ چونکہ آل سعود پر ہم مفصل طور پر ایک اور آرٹیکل میں بیان کرچکے ہیں ۔ یہاں تھوڑی سی مزید روشنی ڈال دی جائے۔محقق اہلسنت مفتی عبدالقیوم قادری مذظلہ العالی کی تحقیق کے مطابق، جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب کے ایک مشرقی صوبے نجد سے ان کا تعلق ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقتوں میں جس قبیلے نے سب سے آخر میں اسلام قبول کیا تھا اور پھر آپ کے وصال کے فوراً بعد ہی جو قبیلہ اسلام سے منحرف ہوگیا تھا، وہ یہی سعودیوں کا قبیلہ تھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی ہی سرکوبی کے لیئے حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کوایک لشکر کے ساتھ نجد روانہ کیا تھا اور ایک جنگ میں مکمل شکست پانے کے بعد ان میں سے کچھ پھر سے اسلام لے آئے تھے۔ اس موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس علاقے میں ایک مسجد بھی تعمیر کی تھی۔ اس مسجد کے آثار ایک کھنڈر کی صورت میں ابھی تک قائم ہیں۔
نسبیات ٭geneologyکے جدید ماہرین کا کہنا ہے کہ مسیلمہ کذاب کا تعلق بھی اسی قبیلے یا اس قبیلے کی ایک مرکزی شاخ سے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہیبت ناک بات غلط ہو، مگر حجاز میں اقتدار سنبھالتے ہی جو بدسلوکی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وابستہ تاریخی، جمالیاتی، روحانی جسمانی اور معاشرتی نشانات کے ساتھ کی ہے۔ اس سے تو یہی اندازہ ہے کہ علم نسبیات کے ماہرین کا یہ کہنا غلط نہیں ہے۔ اس کی مزید تصدیق آل سعود کے ہی ایک محقق نے بھی کی جس نے ان کو سرے سے عرب ہی ماننے سے انکار کیا ہے بلکہ ان کا تعلق بنو قینقاع کے یہود سے قرار دیا۔ جس کی تحقیقات کے منظرعام پر آنے کے بعد اس کو شہید کردیا گیاتھا۔ اور جس کی مکمل تحقیق مکاشفہ میں انگریزی میں موجود ہے۔
پھر اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ایک شخص محمد بن عبدالوہاب نے انہیں میں سراٹھایا۔ ان کی بلاسوچے سمجھے کاٹنے والی تلوار کو اس کی تقریر اور نظریات ِ باطلہ سے سہارا ملا۔ اور اس کی تقریر کو کہ جس پر بیمار دماغ کی بڑ سمجھ کر کوئی کان نہ دھرتا تھا، ان کی تلوار اور شاطرانہ خصلت کی مدد سے طاقت حاصل ہوئی، حتیٰ کہ اٹھارہویں صدی کے وسط تک محمد بن عبدالوہاب اور اس کے سعودی سرپرست کی اتنی ہمت ہوئی کہ ان دونوں نے مل کر عالم اسلام کے ہر بادشاہ اور فرماں روا کو خطوط بھیجے ۔ ان خطوط میں اور باتوں کے بعد ٹیپ کے بند کے طور پر مندرجہ ذیل عبارت درج تھی؛۔
“اللہ ایک ہے اور محمد اسکے بندے اور رسول ہیں ، مگر محمد کی تعریف کرنا یا ان کی تعظیم کرنا کوئی ضروری نہیں”۔
آج تک سعودی یہودی خون کی خصلت یہی ہے۔
سو حجاز پر قبضہ جمانے کے فوراً بعدہی جو سب سے پہلا کام سعودیوں نے کیاتھا، وہ حجاز کے طول و عرض سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو محو کرنے کا تھا۔ مسجد نبوی، خانہ کعبہ کی مسجد اور اس کے علاوہ جہاں جہاں اور جس جس عمارت اور مسجد پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہایت ہی فن اور محبت سے جائز کندہ تھا ۔ اس کو نہایت ہی بھونڈے پن سے مٹا دیا گیا۔ ایمان، محبت ، فن ، خطاطی اور دیگر فنون لطیفہ کے ان نادر نمونوں پر کہیں ان خوارج کی اولادوں نے تارکول پھیر دیا گیااور کہیں ان پر پلستر تھوپ دیا گیا۔ اکثر اوقات لوہے کی چھینی اور ہتھوڑے کا استعمال بھی کیا گیا۔ اس بے مثال گستاخی اور وندالیت کے نشانات آج تک حجاز کے طول و عرض میں اور خاص طور پر خانہ کعبہ کی پرانی مسجد اور مسجد نبوی کے درودیوار پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ نیز موجودہ دو ر میں بھی اگر غور کریں تو یہ سلطنت عثمانی کے تاریخی نشانات کو جگہ جگہ مٹانے کی ناپاک جسارت کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان ابلیس پرستوں نے معاہدے بھی کررکھے ہیں کہ کسی چیز میں تبدیلی نہ ہوگی۔ لیکن ذرا دماغ میں پچھلی قسط کا تصور لائیں کہ کس محنت محبت سے تعمیر ہوتی تھی اور اب، اب یہ حال ہے کہ ماسونیوں کی تنظیموں سے پیرس اور فرانس کے ناپاک کافر ہاتھوں سے تیار ہوئی تعیش کو پروموٹ کیا گیا۔ ان کو لگانے والے بھی اکثر کافر یا خوارج، اور جو مسلمان ہیں وہ بیچارے بھی نیم وہابی۔ اسی لیئے کرینیں کریش ہوتی ہیں۔ بہرحال!
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک مٹانے کے بعد سعودیوں نے ایک باقاعدہ نظام کے تحت حیات طیبہ سے منسلک تقریباً ہر تاریخی ، جمالیاتی، روحانی، جسمانی اور معاشرتی نشان کو اپنی ذہنی قلت اور قلیل ترعقیدے کا ہدف بنایا۔
جنت الاولیٰ اور جنت البقیع کے قبرستان کہ جن کی بھربھری خاک میں حضرت عبدالمطلب، ابوطالب، ورقہ بن نوفل، حضرت خدیجۃ الکبریٰ، حضرت عباس، حضرت بی بی حلیمہ سعدیہ، امہات المؤمنین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں، آپ کے صاحبزادگان اور خانوادہء رسول کے دیگر افراد، صحابہ کرام اور ان کے پورے پورے خاندان ، مشائخ وصوفیائے کرام ، نامورانِ اسلام اور دوجہانوں کی چہار سمتوں سے محبت اور ایمان کی خاطر آئے ہوئے انگنت گمنام مسلمان سکون اور شائستگی سے سوتے تھے، لوہے کی مشینی ہل چلا کرکھود ڈالے گئے، اور پھر پٹیلا پھروا کر برابر کروادیئے گےبعد میں جنت البقیع کے سامنے سڑک کے پار قائم شہدائے کرام کے مزار، سڑک چوڑا کروانے کی نذر ہوئے۔ اور حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کے مزار اور تابوت کو ایک بازار کی توسیع کے دوران راتوں رات غائب کروادیا گیا۔ نہ ابوطالب کا محلہ رہا۔نہ ورقہ بن نوفل کی دہلیز، نہ ام ہانی کا آنگن رہا، اور نہ ہی بنو ارقم کی بیٹھک جیسی کوئی چیز۔ تمام مسلم تاریخ کا ستیہ ناس ان خبیث پلید ، ملعون دجالی کذابی وہابیت نے کردیا۔ اس ٹیلے پر جہاں ابوطالب کا محلہ تھا۔ ایک بدصورتی کی حد تک جدید متعدد منزلوں کی عمارت کھڑی ہے۔ ورقہ بن نوفل کا مکان، ایک کپڑے کے بازار کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ دارارقم کی جگہ کرائے کی موٹرگاڑیوں کا اڈہ ہے۔اور رہا ام ہانی کا گھر کہ جس کے آنگن میں دو وقت مل کر ایک ہوئے تھے، تو وہ مسجد حرم کی “توسیع” کے دوران مٹ کر بے نشان ہوچکا ہے۔ کیا ہمیں کسی ہنودی، یہودی نصاری دشمن کی ضرورت ہے ان کے ہوتے ہوئے؟یہ وہی خبیث خوارج ہیں کہ جن کی ایک شاخ نے خود کو ملکہ وکٹوریہ سے ہندوستان میں اہلحدیث نام رکھوایا ، دوسری نے عرب میں سلفیت کا نام استعمال کیا۔اور ہندوستان میں سب سے پہلے اس دھرم کا پرچار کرنے والادیوبند گروپ کا اسماعیل دہلوی تھا، اور پھر اس کے قدم پر پورا دیوبند۔
بہرحال!
جب حضرت عبدالمطلب کی قبر نہ رہی ، تو اس تک جاتا وہ راستہ بھی نہ رہا کہ جس پر نو برس کا ایک بچہ آخری بار کھل کر رویا تھا اور نہ ہی وہ پگڈنڈی رہی کہ جس پر ایک ضعیف انسان اپنی چادر میں ایک نوزائیدہ بچے کو لپیٹ کر لے چلا تھا۔ ہاں! اس بے وضع عمارت کے سائے میں کہ جو ابوطالب کے محلے کو کھود کربنائی گئی ہے۔ ایک گھر اور اس کا وہ شمالی کمرہ کہ جس میں چار آئینوں کی اوٹ میں کبھی چار سمتیں ملتی تھیں۔ ابھی تک بمشکل موجود ہے۔ مگراس کمرے میں عرصے سے سفیدی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی تیسرے چاند کے بارہویں دن معصوم بچے تلاوت کرنے اس گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ (نئی تحقیق کے مطابق یہ نشانات بھی دجالیوں نے معدوم کردیئے ہیں)۔ اور پرندے آزاد کرنے کارواج تو اس شہر میں کبھی کا ختم ہوچکا ہے۔ اب زندہ انسانوں کو پرندوں کی طرح کفیل اپنے پنجوں میں دبا کر رکھتے ہیں۔ آقائے دوجہاں کے گھر مبارک(جس کی جگہ اب کچھ اور ہے) جب اس میں آپ دو رکعت نماز ادا کر کے شکر کرنا چاہیں تو ہنٹر بردار آپ کو روک دیتا تھا۔ حضرت خدیجہ کا مکان بھی گم ہوچکا ہے۔ ہجرت کے راستے کا نشان تک مٹ چکا ہے۔کیونکہ نئی حکومت نے مکے سے مدینے تک جانے کے نت نئے راستے جو اختیار کرلیئے ہیں۔ پھر مدینہ پہنچے ہی انسان مسجد قبا کر رخ کرتا تھا جس کے سامنے والے احاطے میں وہ نہایت قدیم کنواں تھا کہ جس کے پانی نے آپ کا رخ مبارک دیکھا تھا، مگر چند برس پہلے اس کنوئیں کو بھی پتھر کی بڑی سلیں رکھ کر بند کیا جاچکا اور اس کی جگہ اب وہاں نجدی کوڑا کرکٹ پھینکتے ہیں ۔ پوچھنے پر یہ اطلاع دی جاتی تھی کہ چونکہ مشینی پمپ ایجاد ہوچکے ہیں اسلیئے اب کنوئیں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ذرا جہالت کے ان مظاہروں کو سمجھیں۔
اس مضمون میں محقق علامہ مفتی عبدالقیوم قادری اور صلاح الدین محمود کے سفرنامہ حجاز “نقش اول کی تلاش” سےتاریخ اخذ کی گئی ہے ۔ صلاح الدین محمود کا یہ سفر ۱۳۹۰ هجري اور ۱۳۹۱ هجري میں اختیار کیا گیا تھا۔
پیشکش ۔ایڈمنز مکاشفہ تاریخ سیکشن

For reading in Unicode Inpage format please visit our Forum [here]

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s