Exegesis of Word Emaan


تفسیر البقرہ ۔ ا تا 5در لفظ ایمان۔
ایمان کے لغوی معنی کی تفصیل اور تحقیق؛۔
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں؛۔
“ایمان امن سے ماخوذ ہے اور امن کا معنی ہے: نفس کا مطمئن ہونا اورخوف کازائل ہونا، امن ، امانت اور امان اصل میں مصادر ہیں، امان انسان کی حالت امن کو کہتے۔ہیں،انسان کے پاس جو چیز حفاظت کے لیئے رکھی جائے اس کو امانت کہتےہیں، قرآن مجید میں ہے؛۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ ۔ ترجمہ۔ اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو، اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال ۲۷)۔
نیز قرآن مجید میں ہے؛۔
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ۔ ترجمہ۔ بے شک ہم نے آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت پیش کی۔ (الاحزاب۔ ۷۲)۔
اور قرآن مجید میں ہے؛۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ۔ترجمہ۔بےشک اسلام قبول کرنے والے، یہودی، عیسائی اور ستارہ پرست،،،، (البقرۃ ۶۲)۔
اور
وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ۔ ترجمہ۔ اور جو حرم میں داخل ہوا وہ بے خوف ہوگیا۔ (آلِ عمران؛۹۷)۔
یعنی وہ دوزخ سے بے خوف ہوگیا ، یا وہ دنیا کی مصیبتوں سے بے خوف ہوگیا، اس کامعنی ہے کہ حرم میں اس سے قصاص لیا جائےگا نہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ اور البقرۃ والی آیت سے یہ کہ ، ایمان کے ساتھ ہر اس شخص کو متصف کیا جاتا ہے، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں داخل ہو درآں حالیکہ وہ اللہ تعالیٰ کا اور آپ کی نبوت کا اقرار کرتاہو۔
اور کبھی ایمان کا استعمال برسبیل مدح کیاجاتاہےاوراس سے مراد ذہن کا بطورتصدیق حق کو ماننا اور قبول کرنا ہے اور اس کا تحقق دل کے ماننے، زبان کے اقرار کرنےا ور اعضاء کے عمل کرنے سے ہوتاہے۔اس اعتبار سے ایمان کا اطلاق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ ڰ وَالشُّهَدَاۗءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَنُوْرُهُمْ (الحدید: ۱۹)۔ ترجمہ۔ “اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر (کامل) ایمان لائے وہی اپنے رب کی بارگاہ میں صدیق اور شہید ہیں، ان کے لیئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے”۔
تصدیق بالقلب، اقرار باللسان اور عمل بالارکان میں سے ہرایک پر ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ تصدیق بالقلب پر ایمان کا اطلاق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:۔
اُولٰۗىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ ۔ (المجادلہ: ۲۲)۔ ترجمہ ۔ “وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرمادیا”۔
دل میں صرف تصدیق ہوتی ہے اسلیئے اس آیت سے مراد صرف تصدیق ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی ایمان کا اطلاق تصدیق پر کیا گیا ہے:۔
وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ ۔(یوسف:۱۷)۔ ترجمہ۔ “اور آپ ہماری بات کی تصدیق کرنے والے نہیں ہیں خواہ ہم سچے ہوں”۔
اوراعمالِ صالحہ پر ایمان کا اطلاق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۔ (البقرۃ ۱۴۳)۔ ترجمہ ۔”اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ (تحویل قبلہ سے پہلے تمہاری پڑھی ہوئی) تمہاری نمازوں کوضائع کردے”۔
جب جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اسکے صحیفوں ، اس کے رسولوں ، قیامت اور ہر اچھی اور بری چیز کو تقدیر کے ساتھ وابستہ ماننا ایمان ہے، اس حدیث میں چھ چیزوں کے ماننے پر ایمان کا اطلاق کیا گیا ہے، یہ حدیث صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور حدیث کی دوسری مشہور کتابوں میں ہے۔ (المفردات)

 

علامہ زبیدی لکھتے ہیں؛۔
“ایمان تصدیق ہے، علامہ زمخشری نے “اساس” میں اسی پر اعتماد کیا ہے، اور اہل علم میں سے اہل لغت وغیرہ کا اسی پر اتفاق ہے، علامہ سعدالدین تفتازانی نے کہا ہے کہ ایمان کا حقیقی معنی تصدیق ہے، اور “کشاف” میں لکھا ہے کہ کسی شخص پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ اس کو تکذیب سے مامون اور محفوظ رکھا جائے، بعض محققین نے کہا ہے کہ ایمان کا معنی تصدیق ہو تو یہ بنفسہ متعدی ہوتا ہے، اور جب اس کا معنی اذعان (ماننا اور قبول کرنا) ہو تو لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور جب اس کا معنی اعتراف ہو، تب بھی لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے، ازہری نے کہا ہے: اللہ تعالیٰ نے بندے کو جس امانت پر امین بنایا ہے اس میں صدق کے ساتھ داخل ہونا ایمان ہے، اگر بندہ جس طرح زبان سے تصدیق کرتا ہےاسی طرح دل سے بھی تصدیق کرے تو وہ مؤمن ہے اور جو صرف زبانی اقرار کرے اور دل سے تصدیق نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت کو ادا نہیں کررہا، وہ منافق ہے اور جس کا یہ زعم ہے کہ تصدیق بالقلب کے بغیر صرف زبان سے اظہار کرنا ایمان ہے وہ یا منافق ہوگا یا جاہل (علامہ زبیدی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ کبھی صرف زبانی اقرار پر بھی ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ہے؛۔
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ(المنافقون: ۳)۔ ترجمہ۔ “یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے پھر انہوں نے (دل کا) کفر (ظاہر) کیا تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی۔” اور اس آیت میں بھی زبانی اظہار پر ایمان کا اطلاق ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا (النساء :۱۳۷)۔ ترجمہ۔”بے شک جو لوگ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے، پھر (زبان سے) ایمان لائے، پھر کافر ہوئے ، پھر وہ کفر میں اور بڑھ گئے۔”
زجاج نے کہا ہے: کبھی ایمان کا اطلاق اظہار خشوع پر کیا جاتا ہے اور کبھی شریعت کے قبول کرنے پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے ہیں اس پر اعتقاد رکھنے اور دل سے اسکی تصدیق کرنے پر ایمان کااطلاق کیا جاتاہے، امام راغب نے کہا ہے کہ ایمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کا نام ہےاور کبھی بہ طور مدح حق کی تصدیق کرنے اور ماننے کو ایمان کہتےہیں، ایمان تصدیق ، اقرار اور عمل سے متحقق ہوتا ہے اور ان میں سے ہرایک پر الگ الگ بھی ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے، مومن اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جس کا معنی ہے: مخلوق کو ظلم سے امن دینے والا، یا اپنے اولیاء کو عذاب سے امن میں رکھنے والا، منذری نے ابوالعباس سے روایت کیا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ امتوں سے اپنے رسولوں کی تبلیغ کے متعلق سوال کرے گا وہ تمام امتیں انبیاء کی تکذیب کریں گی اور اللہ تعالیٰ کے مسلمان بندے انبیاء کی تصدیق کریں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا جائےگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی تصدیق کریں گے اور اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی تصدیق کرے گا اور اسی تصدیق کیو جہ سے اللہ کا نام مومن ہے، ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کیئے ہوئے وعدہ کو پورا کرتا ہے اوروہ اس اعتبار سے مومن ہے، ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں کو عذاب سے امان میں رکھے گااس وجہ سے وہ مومن ہے ، یہ علامہ ابن اثیر کا قول ہے۔ ” (تاج العروس)

 

ایمان کی تعریف میں اہل قبلہ کے مذاہب؛۔
ایمان کے تعریف میں اہل قبلہ کے مذاہب کا خلاصہ یہ ہے:۔
(۱)۔ جمہورمتکلمین کے نزدیک صرف تصدیق بالقلب کا نام ایمان ہے۔(۲)۔امام ابومنصور ماتریدی (رضی اللہ عنہ) کا مذہب ہے کہ ایمان صرف تصدیق بالقلب کا نام ہے اور اقرار اجراء احکام مسلمین کے لیئے شرط ہے۔ یہ دونوں تعریفیں نفس ایمان کی ہیں۔(۳)۔امام الاعظم ابوحنفیہ (رضی اللہ عنہ) کے نزدیک ایمان کے دو جز ہیں ، اقرار اور تصدیق، لیکن اکراہ کے وقت اقرار ساقط ہوسکتا ہے۔(۴)۔ ائمہ ثلاثہ اور محدثین کے نزدیک ایمان کے تین جز ہیں، تصدیق، اقرار اور اعمال صالحہ، لیکن اعمال کے ترک کرنے سے انسان ایمان سے خارج ہوتا ہے نہ کفر میں داخل ہوتا ہے بلکہ فاسق ہوجاتا ہے، یہ تعریف ایمان کامل کی ہے۔(۵)۔ معتزلہ میں سے واصل بن عطا، ابوالہذیل اور قاضی عبدالجبار کا یہ نظریہ ہے کہ تصدیق، اقرار، اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے، اور اعمال میں واجب اور مستحب داخل ہیں اور عمل کے ترک کرنے سے انسان ایمان سے نکل جاتا ہے لیکن کفر میں داخل نہیں ہوتا، عمل کے نفی سے وہ ایمان سے خارج ہوگیا اور تکذیب نہ کرنے کی وجہ سے وہ کفر میں داخل نہیں ہوا۔(۶)۔ابوعلی جبائی معتزلی اور ابوہاشم معتزلی کا یہ مسلک ہے کہ فقط اعمال ِ واجبہ کا نام ایمان ہے، باقی تفصیل حسبِ سابق ہے۔ (۷)۔نظام معتزلی کا مذہب ہے؛ جس کام پر وعید ہے اس کے ترک کرنے کا نام ایمان ہے۔(۸)۔خوارج کا مذہب ہے: تصدیق ، اقرار اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور انسان معصیت کے ارتکاب سے کافرہوجاتاہےخواہ معصیت صغیرہ ہو یا کبیرہ۔ (نوٹ: یہی عقیدہ موجودہ خوارج یعنی وہابی دیوبندی کا بھی ہے)۔ (۹)۔کرامیہ کا یہ قول ہے کہ فقط زبان سے اقرار کرنا ایمان ہے۔ (۱۰)۔ غیلان بن مسلم دمشقی اور فضل رقاشی کا یہ نظریہ ہے کہ اقرار بہ شرط معرفت کا نام ایمان ہے۔ (۱۱)۔ جہم بن صفوان کا یہ نظریہ ہے کہ فقط معرفت بالقلب کا نام ایمان ہے۔ (۱۲)۔ مرجئہ کے نزدیک ایمان صرف تصدیق کا نام ہے اور اعمال کی کوئی ضرورت نہیں۔
نفسِ ایمان اور ایمان ِ کامل کا بیان:۔
علامہ بدرالدین عینی (رحمتہ اللہ علیہ) لکھتے ہیں؛۔
“امام شافعی سے منقول ہے کہ ایمان تصدیق، اقرار اور عمل کا نام ہے، جس کی تصدیق میں خلل ہووہ منافق ہے، جس کے اقرار میں خلل ہو وہ کافر ہے اور جس کے عمل میں خلل ہو وہ فاسق ہے، وہ دوزخ کے دائمی عذاب سے نجات پالے گا، اور جنت میں داخل ہوجائے گا، امام رازی نے کہا: اس مسلک پر یہ قوی اشکال ہے کہ جب اعمال ایمان کا جز ہیں اور جز کی نفی سے کل کی نفی ہوجاتی ہے، تو بے عمل شخص مومن کیسے ہوگا؟ اور وہ کیسے دوزخ سے خارج اور جنت میں داخل ہوگا؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ شارع کے کلام میں ایمان کبھی اصل ایمان کے معنی میں ہوتا ہے اور اصل ایمان میں اعمال کا اعتبار نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:۔
“ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس سے ملاقات پر، اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان لاؤ، اور اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرواور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔” (صحیح مسلم)۔
اورکبھی شارع کے کلام میں ایمان ، ایمانِ کامل کے معنی میں ہوتا ہے جس میں اعمال داخل ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ علیہ السلام نے وفد عبدالقیس سے فرمایا:
“کیا تم جانے ہو کہ اللہ وحدہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سواکوئی عبادت کا مستحق نہیں، محمد اللہ کے رسول ہیں ،ا ور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور مالِ غنیمت سے خمس ادا کرنا “۔ (صحیح مسلم)
پہلی حدیث میں ایمان اصل ایمان یا نفس ایمان کے معنی میںہے اور اس دوسری حدیث میں ایمان، ایمانِ کامل کےمعنی میں ہے، اور جن احادیث میں اعمال کی نفی سے ایمان کی نفی کی گئی ہے ان میں ایمان سے مراد ایمانِ کامل ہے، اور جن احادیث میں عمل کی نفی کے باوجود ایمان کا اطلاق کیا گیا ہے اور جنت کی بشارت دی گئی ہے ان میں ایمان سے مراد نفسِ ایمان ہے، اس کی مثال یہ ہے:۔
جس وقت زانی زنا کرتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث میں ایمانِ کامل کی نفی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے فرمایا:
جس شخص نے بھی (لا الہ الااللہ) کہا پھر اسی پر مرگیا، وہ جنت میں داخل ہوجائےگا، میں نے کہا: خواہ اس نے زنا کیا ہو اورچوری کی ہو! آپ نے فرمایا: خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ (صحیح مسلم)۔
اس حدیث میں نفسِ ایمان مراد ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف لفظی ہے کیونکہ اس کا رجوع ایمان کی تفسیر کی طرف ہے، اور ایمان کا کون سامعنی منقول شرعی ہے اورکون سا معنی مجاز ہےاس میں اختلاف ہے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس ایمان کی وجہ سے دوزخ میں دخول سے نجات ملتی ہے وہ ایمان ِ کامل ہے ، اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ، اور جس ایمان کی وجہ سے دوزخ کے خلود سے نجات ملتی ہے وہ نفس ایمان ہے ، اس میں اہلسنت کا اتفاق ہے اور خوارج اور معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے۔
حاصل بحث یہ کہ سلف اور امام شافعی نے جو اعمال کو ایمان کا جز کہا ہے اس ایمان سے ان کی مراد ایمانِ کامل ہے نہ کہ نفسِ ایمان یا اصل ایمان مراد ہے، اور جب وہ کسی بے عمل یا بدعمل شخص پر مومن کا اطلاق کرتے ہیں تواس سے ان کی مراد نفسِ ایمان ہوتی ہے نہ کہ ایمان ِ کامل، وہ کہتے ہیں کہ اس شخص میں ہرچند کہ ایمان ِ کامل نہیں ہے لیکن وہ نفس ِ ایمان کی وجہ سے نجات پاجائے گا۔ (عمدۃ القاری)۔

 

مومن ہونے کے لئے فقط جاننا اور سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ ماننا ضروری ہے
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں؛۔
“ایمان کی تعریف میں جو تصدیق بالقلب معتبر ہے اس سے مراد علم، معرفت اور جاننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کی تصدیق کرنا اور آپ کو مخبر صادق ماننا ہے، کیونکہ بعض کفار بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو جانتے تھے لیکن وہ مومن نہیں تھے ، قرآن مجید میں لکھا ہے:۔
اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ (البقرۃ : ۱۴۶)۔ ترجمہ ۔ “جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں”۔
نیز اللہ تعالیٰ نےحضرت موسیٰ علیہ السلام سے حکایت کی ہے ، انہوں نے فرعون سے فرمایا:
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا (بنی اسرائیل :۱۰۲)۔ ترجمہ۔”موسیٰ نے فرمایا: یقیناً تو جانتا ہے کہ ان (چمکتی ہوئی نشانیوں) کو آسمانوں اور زمینوں کے رب نے ہی اتارا ہے جو آنکھیں کھولنے والی ہیں، اور اے فرعون! میں گمان کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہونے والا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کا کفار اور فرعون کو علم تھا، اس کے باوجود وہ کافر تھے اور وہ مومن نہیں تھے، نیز اس سے واضح ہوا کہ ایمان کی تحقیق کے لیئے صرف جاننا کافی نہیں ہے ماننا ضروری ہے یعنی اپنے قصد اور اختیار سے مخبر کی طرف صدق کو منسوب کرے اور اسے اس کی دی ہوئی خبروں میں صادق قراردے”۔ (عمدۃ القاری)۔
ایک اہم نقطہ : دیوبندیوں کے پیر اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے؛۔
ایمان سچا سمجھنے کو کہتے ہیں ، عمل کرنا دوسری بات ہے، پس جتنی کتابیں اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء علیہم السلام پر نازل کی ہیں سب کو سچا سمجھنا فرض اور شرطِ ایمان ہے۔ (بیان القرآن ص۳،مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)۔
جیسا کہ باحوالہ تفصیل اور تحقیق سے واضح ہوگیا کہ ایمان سچا سمجھنے یا سچا جاننے کو نہیں کہتے بلکہ ایمان سچا ماننے کو کہتےہیں، اسلیئے ایمان کی یہ تعریف صحیح نہیں ہے، دیوبند کے ایک اور شیخ محمود الحسن نے بھی (یومنون بالغیب) کی تفسیر میں اسی طرح لکھا ہے : یعنی جو چیزیں ان کے عقل و حواس سے مخفی ہیں (جیسے دوزخ، جنت، ملائکہ وغیرہ) ان سب کو اللہ اور رسول کے ارشاد کی وجہ سے حق اور یقینی سمجھتے ہیں۔ (محمودالحسن حاشیۃ القرآن ص۳مطبوعہ العربیۃ السعودیہ)۔ لیکن مولوی محمود الحسن کی یہ عبارت بھی صحیح نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی وجہ سے کسی خبر کو حق اور یقینی ماننا ایمان ہے، اس کو حق اور یقینی سمجھنا ایمان نہیں ہے، کیونکہ بعض کفار ان خبروں کو حق اور یقینی سمجھتے تھے لیکن عناداً مانتے نہیں تھے، البتہ انہوں نے اس کے بعد یہ جملہ لکھا ہے: ان امور ء غائبانہ کا منکر ہدایت سے محروم ہے۔یہ جملہ صحیح ہے لیکن ان دونوں دیوبندی شیوخ نے ایمان کی تعریف صحیح نہیں لکھی۔
ایمان کی حقیقت میں فقط تصدیق کے معتبر ہونے پر قرآن مجید سے استشہاد
ہم نے ذکر کیا کہ محققین کا مذہب یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت فقط تصدیق بالقلب ہے، اس پر محققین نے حسبِ ذیل دلائل پیش کیئے ، ہم یہاں مختصراً حوالہ جات دے رہے ہیں۔
سورہ المجادلہ آیت ۲۲۔ ترجمہ۔ “یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثب فرمادیا۔”
سورہ المائدہ آیت ۴۱۔ ترجمہ۔”انہوں نے اپنے منہ سے کہا: ہم ایمان لائے ہیں، حالانکہ ان کے دل مومن نہیں۔”
سورہ الحجرات آیت ۱۴۔ ترجمہ ۔”دیہات کے لوگوں نے کہا: ہم ایمان لائے ، آپ فرمائیں، تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو: ہم نے اطاعت کی ہے، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
ان آیات میں ایمان کا محل قلب کو قرار دیا ہے اور قلب میں تصدیق ہوتی ہے، اقرار کا محل زبان اور اعمال کا تعلق باقی اعضاء سے ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان صرف تصدیق بالقلب کا نام ہے۔
ایمان کی حقیقت میں فقط اقرار کے غیرمعتبر ہونے پر قرآن مجید سے استشہاد
سورہ البقرۃ آیت ۸۔ ترجمہ۔ “اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں”۔
زبان سے اقرار کے باوجود ان لوگوں کو اسلیئے مومن نہیں قراردیا گیا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کی تصدیق نہیں کی تھی ، نیز قرآن مجید میں ہے؛۔
سورہ المنافقون آیت 1۔ ترجمہ ۔”جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً ضرور آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافق ضرور جھوٹے ہیں”۔
ایمان کی حقیقت میں اعمال کے غیرمعتبر ہونے پرقرآن سے استشہاد
اعمال ایمان میں داخل نہیں ہیں، اس پر قرآن مجید کی یہ آیات دلیل ہیں؛۔
سورہ الکہف آیت ۱۰۷۔ ترجمہ۔”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیئے ان کے لیئے جنت الفردوس کی مہمانی ہے”۔
اس آیت میں اعمال کا ایمان پر عطف کیا گیا ہے اور عطف میں اصل تغایر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اعمال ایمان کا غیرہیں اور ایمان میں داخل نہیں ہیں، اور قرآن مجید میں ایسی بہت آیات ہیں:۔
سورہ النحل آیت ۹۷۔ ترجمہ ۔ ” جس نے نیک عمل کیئے خواہ مردہو یا عورت بہ شرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے”۔
اس آیت میں اعمال کو مشروط اور ایمان کو شرط قرار دیا ہے اور مشروط شرط سے خارج ہوتا ہے، اس سے واضح ہوگیا کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں، اور اسی نہج پر یہ آیات ہیں؛۔
سورۃ النساء آیت ۱۲۴۔ ترجمہ ۔ “اور جس نے نیک کام کیئے خواہ مردوعورت ، بہ شرطیکہ وہ مومن ہو تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔”
سورہ طٰہٰ آیت ۔۱۱۲۔ترجمہ۔ “اور جس نے نیک کام کئے بہ شرطیہ کہ وہ مومن ہو تو اس کو ظلم کا خوف ہوگا نہ کسی نقصان کا۔”
سورہ الانفال آیت اول۔ ترجمہ۔”اور اپنے باہمی معاملات درست رکھو، اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو، بہ شرطیکہ تم مومن ہو۔
قرآن مجید میں مرتکب کبیرہ پر بھی مومن کا اطلاق کیا گیا ہے، اگر نیک اعمال ایمان کا جز ہوتے تو معصیت کبیرہ کرنے والے پر مومن کا اطلاق نہ کیا جاتا۔
سورہ البقرۃ آیت ۱۷۸۔ترجمہ۔”اے ایمان والو! تم پر ان کا بدلہ فرض کیا گیا ہے جن کو ناحق قتل کیا گیا ہے۔”
قصاص قاتل پر فرض کیا جاتا ہے اور اس آیت میں قاتل پر مومن کا اطلاق کیا گیا ہے اور قتل کرنا گناہ ء کبیرہ ہے۔
سورہ الحجرات آیت 9۔ ترجمہ۔”اور اگر ایمان والوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کریں تو ان میں صلح کرادو”۔
جب دوجماعتیں قتل کریں گی تو ان میں سے ایک حق پر اور دوسری باطل پر ہوگی اور اس آیت میں دونوں جماعتوں پر مومنوں کا اطلاق کیا گیا ہے:۔
سورہ النور آیت ۔۳۱۔ ترجمہ ۔ “ا ے مومنو! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو”۔
توبہ معصیت پر واجب ہوتی ہے ۔ اس آیت میں مومنین کو توبہ کا حکم دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ معصیت ایمان کےمنافی نہیں ہے، اور اسی نہج پر یہ آیت ہے:
سورہ التحریم:8۔ ترجمہ ۔ “اے ایمان والو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو۔”
ایمان میں کمی اور زیادتی کے ثبوت پر قرآن مجید سے استشہاد۔
ائمہ ثلاثہ اور محدثین اور دیگر اسلاف جو یہ کہتے ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے وہ قرآن مجید کی ان آیات سے استدلال کرتے ہیں۔
سورہ الانفال آیت 2۔ ترجمہ۔” اور جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو اور زیادہ کریں۔” سورہ التوبہ ۔ آیت ۔ ۱۲۴۔ترجمہ۔”اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ کہتےہیں کہ اس سورت میں تم نے کس کے ایمان کو زیادہ کردیا ؟ سو جو ایمان والے ہیں تو اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کردیا اور وہ خوش ہوتےہیں۔” سورہ آل عمران آیت ۱۷۳۔ترجمہ۔”لوگوں نے ان سے کہا: بےشک لوگوں نے (تم سے مقابلہ کے لیئے بڑے لشکر) جمع کرلیئے ہیں سو تم ان سے ڈرو، تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا”۔ سورہ الاحزاب آیت ۲۲۔ ترجمہ ۔”اور جب مسلمانوں نے (کافروں کے) لشکر دیکھے (تو) کہنے لگے: یہ وہ ہے جس کا اللہ اور اسکے رسول نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا اور اللہ اور اسکے رسول نے سچ فرمایا تھا،اور اس سے ان کا ایمان اور اسلام زیادہ ہی ہوا “۔ مزید حوالہ جات (الکہف ۱۳، المدثر ۳۱۔الفتح 4۔
ایمان میں کمی اور زیادتی کے ثبوت پر احادیث سے استشہاد
ائمہ ثلاثہ ، محدثین اور دیگر اسلاف جن کے نزدیک اعمال ایمان میں داخل ہیں اور ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے انہوں نے بہ کثرت احادیث سے استدلال کیا ہے جس میں سے بعض احادیث یہ ہیں؛۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں؛۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے ساٹھ اور کچھ حصے ہیں، اور حیاء بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان ا ور ہاتھ (کے ضرر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کے منع کیئے ہوئے کاموں کو ترک کردے۔ (بحوالہ صحیح بخاری جلد ۱ ص۶ مطبوعه نورمحمد کراچي)۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوںسے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ کو ادا کریں، اور جب وہ یہ کریں گے تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے ماسوا اس کے جو اسلام کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (صحیح بخاری جلد 1 ص 8 ط۔ نور محمد اصح المطابع کراچی)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ وحدہ پر ایمان لانے کا معنی جانتےہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اسکا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا: یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔ (صحیح بخاری جلد 1 ص۔ تیرہ ایضاً)۔
ا ن احادیث میں ایمان کے متعدد اجزاء بیان کیئے گئے ہیں اور جو شخص ان اجزاء میں سے کسی جز پر عمل کو ترک کرے گا اس کا ایمان اس شخص سے کم ہوگا جو ان تمام اجزاء پر عمل کرے گا۔
ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل کا جواب؛۔
مذکور الصدر آیات اور احادیث سے آئمہ ثلاثہ اور محدثین نے اس پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان کا جز ہیں اور ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے، اگر اعمال کم ہوں گے تو ایمان زیادہ ہوگا۔
ان تمام آیات اور احادیث کا جواب یہ ہے کہ تمام احادیث ایمان ء کامل پر محمول ہیں اور ایمانِ کامل میں اعمال داخل ہیں ، اور نفس ء ایمان میں اعمال داخل نہیں ہیں اور ان آیات اور احادیث میں نفسِ ایمان بالاتفاق مراد نہیں ہے۔
امام رازی نے کہا: یہ بحث لفظی ہے کیونکہ اگر ایمان سے مراد تصدیق ہو تو وہ کمی زیادتی کو قبول نہیں کرتا اور اگر اس سے مراد عبادات ہوں تو وہ کمی اور زیادتی کو قبول کرتا ہے، پھر امام نے کہا: عبادات تصدیق کی تکمیل کرتی ہیں ، اور جن دلائل کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان کمی اور زیادتی کو قبول نہیں کرتا، ان سے مراد اصل ایمان اور نفس ایمان ہے اور جن دلائل کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان کمی اور زیادتی کو قبول کرتا ہے ان سے مراد ایمان کامل ہے جس میں اعمال داخل ہیں۔
بعض متاخرین نے یہ کہا ہے: حق یہ ہے کہ ایمان کمی اور زیادتی کو قبول کرتا ہے، خواہ ایمان تصدیق اور اعمال کا مجموعہ ہو یا فقط تصدیق کا نام ہو کیونکہ تصدیق بالقلب وہ اعتقاد جازم ہے جو قوت اور ضعف کو قبول کرتا ہے، کیونکہ جس شخص کو ہم قریب سے دیکھتے ہیں اس کی ہمیں اس سے زیادہ تصدیق ہوتی ہے جس کو ہم دور سے دیکھتےہیں۔
بعض محققین نے یہ کہا کہ حق یہ ہے کہ تصدیق دو وجہوں سے کمی اور زیادتی کو قبول کرتی ہے، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ تصدیق کیفیت ِ نفسانیہ ہے ، جیسے خوشی ، غم ، اور غصہ وغیرہ کیفیاتِ نفسانیہ ہیں اور ان میں قوت ، ضعف اور کمی و زیادتی ہوتی ہے، اسی طرح تصدیق میں بھی کمی اور زیادتی ہوتی ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تولازم آئے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عام امت کا ایمان برابر ہو۔ اور یہ اجماعاً باطل ہے اور دوسری وجہ ہے تصدیق تفصیلی (نوٹ؛ یہ یاد رہے کہ برابر ایمان کا غلط عقیدہ اسماعیل دہلوی کی تعلیمات میں بھی موجود ہے)۔کیونکہ انسان کو جس جس چیز کے متعلق علم ہوتا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لے کر آئے ہیں، اس کا ایمان اس کے ساتھ متعلق ہوتا جائے گا، اور ایمان زیادہ ہوتا جائےگا۔
بعض علماء نے اس تفصیل میں کہا ہے کہ پہلے انسان اجمالی طور پر تمام شریعت پر ایمان لاتا ہے ، پھر جیسے جیسے اس کو احکام شرعیہ کی تفصیل کا علم ہوتا جاتا ہے وہ ان سب پر ایمان لاتا جاتا ہے اور یوں اس کا ایمان زیادہ ہوتا ہے اور بعض محققین نے یہ کہا ہے کہ زیادہ غوروفکر کرنے اور کثرت دلائل سے ایمان زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدیقین اور علماء راسخین کا ایمان دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تشکیک اور مغالطہ آفرینی سے ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا ۔ (عمدۃ القاری )
آیا اسلام اور ایمان متغایر ہیں یا متحد:۔
علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں؛۔
ایک بحث یہ ہے کہ آیا اسلام اور ایمان متغایر ہیں یا متحد، پس ہم کہتے ہیں کہ لغت میں اسلام کا معنی ہے: انقیاد (اطاعت) اور اذعان (ماننا اور تسلیم کرنا) اور اسلام کا شرعی معنی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر اللہ کی اطاعت کرنا، کلمہ شہادت پڑھنا، واجبات پر عمل کرنا، اور ممنوعات کو ترک کرنا، کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ مفروضہ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور اسلام کا اطلاق دین محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر بھی کیا جاتا ہے، جیسے کہتےہیں : دین یہودیت، دین نصرانیت، اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران آیت انیس میں فرمایا ہے؛۔
ترجمہ:”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہے”۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ذاق طعم الاسلام من رضی باللہ ربا وبالاسلام دینا۔ یعنی ۔ جس شخص نے اللہ کو رب مان لیا، اور اسلام کو مان لیا، اس نے اسلام کا ذائقہ چکھ لیا۔
پھر اس میں علماء کا اختلاف ہے ؛ محققین کا مذہب یہ ہے کہ ایمان اور اسلام متغائر ہیں اور یہی صحیح ہے، اور بعض محدثین متکلمین اور جمہور معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ ایمان اور اسلام شرعاً مترادف ہیں ، علامہ خطابی نے کہا: ایمان اور اسلام مطلقاً متحد یا متغائر نہیں ہیں، کیونکہ مسلم بعض اوقات مسلم ہوتا ہے، اور بعض اوقات مسلم نہیں ہوتا، (یعنی بعض اوقات اسلام کے احکام کی پیروی کرتا ہے اور بعض اوقات نہیں کرتا) اور مومن ہروقت مومن ہوتا ہے (یعنی ہروقت انقیاد باطن کرتا ہے) لہٰذا ہر مسلم مومن ہوتا ہے، اور ہرمومن مسلم نہیں ہوتا۔
ایمان کی اصل تصدیق ہے اور اسلام کی اصل استسلام اور انقیاد (اطاعت) ہے، بسا اوقات انسان ظاہر میں اطاعت گزار ہوتا ہے اور باطن میں اطاعت گزار نہیں ہوتا، اور کبھی باطن میں صادق ہوتا ہے اور ظاہر میں اطاعت گزار نہیں ہوتا، میں کہتا ہوں کہ اس کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور ایمان میںعموم، خصوص مطلق کی نسبت ہے ، جیسا کہ بعض فضلاء نے اس کی تصریح کی ہے، اور تحقیق یہ ہے کہ ان میں عموم، خصوص من وجہ کی نسبت ہے، کیونکہ ایمان بغیر اسلام کے ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص کسی پہاڑ کی چوٹی پر اپنی عقل سے اللہ کی معرفت حاصل کرے اور کسی نبی کی دعوت پہنچنے سے پہلے اللہ کے وجود، اس کی وحدت اور اس کی تمام صفات کی تصدیق کرے، اسی طرح کوئی شخص تمام ضروریاتِ دین پر ایمان لے آئے اور اقرار اور عمل کرنے سے پہلے اچانک مرجائے تو یہ مومن ہے اور مسلم نہیں ہے، کیونکہ اس نے باطنی اور ظاہری اطاعت نہیں کی، اور منافقین ظاہری اطاعت کرتے تھے اور باطنی اطاعت نہیں کرتے تھے تو وہ مسلم تھے مومن نہیں تھے اور صحابہ کرام ، تابعین اور بعد کے مسلمان مومن بھی ہیں اور مسلم بھی ہیں، لہٰذا ایمان اور اسلام مفہوماً متغائر اور مصداقاً متحد ہیں۔
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں:۔
ایمان اور اسلام واحد ہیں، کیونکہ اسلام خضوع اور انقیاد ہے ، یعنی احکام کو قبول کرنا، اور ماننا۔ اور یہ ایمان کی حقیقت ہے اور اسکی تائید قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے۔
سورہ الذاریات؛ آیات۔ ۳۵/۳۶ ۔ ترجمہ ۔ “اس بستی میں جو مومنین تھے ہم نے ان سب کو نکال لیا۔ تو ہم نے اس میں مسلمین کے ایک گھر کے سوا (اور کوئی گھر) نہ پایا۔
اگر اسلام ایمان کا غیر ہو تو اس آیت میں مومنین سے مسلمین کا استثناء صحیح نہیں ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ شریعت میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فلاں شخص مومن نہیں ہےاور مسلم نہیں ہے یا مسلم ہے اور مومن نہیں ہے، ایمان اور اسلام کے اتحاد سے ہماری یہی مراد ہے (یعنی ان دونوں کا مصداق واحد ہے، خواہ مفہوم متغائر ہو) اور مشائخ کے کلام سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایمان اور اسلام کو مصداق کے لحاظ سے واحد اور مفہوم کے لحاظ سے متغائر مانتے ہیں، جیسا کہ کفایہ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبروں، اس کے اوامر ونواہی کی تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے، اور انقیاد اور خضوع (طاعت) کا نام اسلام ہے اور جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کی تصدیق نہیں کرے گا نقیاد متحقق نہیں ہوگا۔ اسلیئے ایمان اسلام سے مصداق کے لحاظ سے الگ نہیں ہوتا۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید کی سورہ الحجرات کی آیت چودہ جو کہتی ہے کہ : ترجمہ ۔ “دیہاتیوں نے کہا: ہم ایمان لائے ، آپ فرمائیں : تم ایمان نہیں لائے ہاں! یہ کہو کہ ہم اسلام لائے (مطیع ہوئے ہیں)۔
اس آیت میں ایمان کے بغیر اسلام کے تحقق کی تصریح ہے ، ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ شریعت میں جو اسلام معتبر ہے وہ ایمان کے بغیر متحقق نہیں ہوتا، اور اس آیت میں اسلام کا شرعی معنی مراد نہیں ہے بلکہ لغوی معنی مراد ہے یعنی تم ظاہری اطاعت کررہے ہو باطنی اطاعت نہیں کررہے، جیسے کوئی شخص بغیر تصدیق کے کلمہ شہادت پڑھ لے۔
اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کے جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اسلام سے متعلق سوال کیا تھا (جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا)۔ تو اس حدیث میں دلیل ہے کہ اسلام اعمال کا نام ہے نہ کہ تصدیق قلبی کا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں اسلام سے مراد اسلام کے ثمرات اور اسکی علامات ہیں ، جیسا کہ رسول اللہ علیہ السلام نے قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے فرمایاتھا۔
اختتام شد

Update: Dec 6 2015

 

For reading in full size inpage fonts. Kindly visit our Forum by clicking {here}

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s