Hazur Alehisalam par Jadu Waali Hadith Ki Sharuhaat [Ur]


[Note: for Inpage format of fonts and larger images please visit our Forum by clicking here]

باب السحر ۴۷۔ بخاری شریف ۔ جادو کا بیان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو والی حدیث کے صحیح معنی اور عقیدہ

وقول اللہ تعالیٰ : ولٰکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الیٰ من خلاق (البقرہ ۱۰۲)۔

ترجمہ

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے، وہ لوگوں کو جادو(کےکلمات) سکھاتے تھے، اور انہوں نے اس (جادو) کی پیروی کی جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پ ر اتارا گیا تھا اور وہ (فرشتے) اس وقت تک کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہتے کہ ہم تو صرف آزمائش ہیں تو تم کفر نہ کرو، وہ ان سے اس چیز کو سیکھتے جس کے ذریعہ وہ مرد اور اسکی بیوی کے درمیان علیحدگی کردیتے، اور اللہ کی اجازت کے بغیر وہ اس (جادو) سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور وہ اس چیز کو سیکھتے جو ان کو نقصان پہنچائے اور ان کو نفع نہ دے، اور بے شک وہ خوب جانتے تھے کہ جس نے اس (جادو) کو خرید لیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

وقولہ تعالیٰ: ولا یفلح الساحر حیث اتیٰ (طٰہٰ ، ۶۹)۔

ترجمہ
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: کیا تم جانتے بوجھتے جادو کے پاس جارہے ہو

وقولہ: فاذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الیٰ انھاتسعیٰ (طہ : ۶۹۔ ترجمہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: پس اچانک موسیٰ کو خیال ہوا کہ ان کے جادو سے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں)

وقولہ: ومن شر النفٰثٰت فی العقد (الفلق ۴۔ ترجمہ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور گرہ میں بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شر سے)

والنفاثات : السواحرُ۔ تسحرون: تتعمون۔
اور نفاثات کا معنی ہے: جادو کرنے والیاں ، اور تسحرون کا معنی ہے: تم پر جادو کیا گیا ہے۔

باب مذکور کی شرح از علامہ عینی رحمتہ اللہ علیہ؛۔

یہ باب جادو کے بیان میں ہے اور اس بات کے بیان میں ہے کہ جادو ثابت ہے اور محقق ہے، اسی وجہ سے امام بخاری نے ان آیات کو استدلال میں ذکر کیا ہے جو جادو پر دلالت کرتی ہیں، اور حدیث صحیح اور عرب ، روم ہند اور عجم کی اکثر امتیں اس کی قائل ہیں کہ جادو ثابت ہے اور اسکی حقیقت موجود ہے اور اسکی تاثیر اور عقل کے نزدیک یہ محال نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جھوٹے اور مزین کلام کے صدور کے وقت کوئی خلاف عادت فعل پیدا کردے، یا کئی اجسام کو اس طرح مرکب کرے کہ جس کو ہرشخص نہ پہچانتا ہو، اور جادو کی تعریف یہ ہے کہ یہ وہ امر ہے جو خلاف عادت ہے اور کسی نفس شریر سے صادر ہوتا ہے اور اس سے معارضہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ اور ایک قوم نے جادو کی حقیقت کا انکار کیا اور انہوں نے کہا کہ جو چیز جادو سے صادر ہوتی ہے ، وہ خیالاتِ باطلہ ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور علامہ ابوجعفر الاستراباذی شافعی اور امام ابوبکر رازی الحنفی اور ابن حزم الظاہری کا یہی مختار ہے۔ اور صحیح قول وہ ہے جس کو تمام علماء نے اختیار کیا ہے، جس پر کتاب وسنت کی دلالت ہے۔

پس اگر تم یہ اعتراض کرو کہ سحر کو کتاب الطب میں وارد کرنے کی کیا توجیہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سحر بھی مرض کی ایک قسم ہے اور سحر مسحور کو بیمار کردیتا ہے۔ اسی لیئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا تھا: سنو! بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے شفاء دے دی ہے جیسا کہ عنقریب یہ حدیث “ھل یستخرج السحر” کے باب میں آئے گی۔ اور شفاء اس مرض سے ہوتی ہے جو موجود ہو، پھر امام بخاری نے باب السحر اور باب الکھانۃ کو جمع کیا ، کیونکہ ان میں سے ہرایک کا مرجع شیاطین ہیں اور گویا کہ یہ دونوں ایک وادی سے ہیں۔

امام بخاری کی ذکر کردہ آیات کی تفسیر از علامہ عینی

ترجمہ آیت؛ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے، وہ لوگوں کو جادو (کے کفریہ کلمات) سکھاتے تھے۔

اس آیت میں جس جادو کے ساتھ یہود عمل کرتے تھے اس کی اصل کا بیان ہے۔ پھر یہ جادو وہ ہے جس کو شیاطین نے حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس رکھا تھا۔ اور اس کی اصل اس سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہاروت و ماروت پر شہرِ بابل میں نازل کیا تھا۔

ہاروت و ماروت کا قصہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے پہلے کا ہے، اور جادو بھی فرعون کے زمانہ میں پھیلا ہوا تھا، جس کا خلاصہ اس آیت کریمہ میں ہے:

البقرہ ۱۰۲۔ ترجمہ۔ اور انہوں نے اس (جادو کے کفریہ کلمات) کی پیروی کی جس کو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے۔

السدی نے کہا ہے کہ شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور وہاں کسی جگہ گھات لگا کر بیٹھ جاتے اور فرشتوں کی باتیں سنتے تھے کہ زمین میں کیا ہوگا، کون مرے گا یا کب بارش ہوگی، یا کوئی نئی چیز ہوگی؟ پھر وہ شیاطین کاہنوں کے پاس آتے اور ان کو ان باتوں کی خبر دیتے، پھر کاہن لوگوں سے یہ باتیں کرتے ، پس ایسا ہی ہوتا جس طرح کاہنوں نے کہا ہوتا اور وہ ہربات کے ساتھ ستر باتیں اپنی طرف سے ملا لیتے تھے۔ پھر لوگوں نے ان باتوں کو کتابوں میں لکھ دیا اور بنی اسرائیل کے زمانہ میں یہ مشہور ہوگیا کہ جن غیب کو جانتے ہیں ۔ پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی کو بھیجا تاکہ ان کتابوں کو جمع کرے، پھر ان کتابوں کو ایک صندوق میں رکھا، پھر اس کو اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیا، اور لوگوں میں سے جو بھی اس کرسی کے قریب جانے کی کوشش کرتا وہ جل جاتا۔ پھر جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات ہوگئی اور وہ علماء بھی فوت ہوگئے جن کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس حکم کا علم تھا تو شیطان ایک انسان کی شکل میں بنی اسرائیل کی جماعت کے پاس آیا اور ان سے کہا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے خزانہ پر کروں جو کبھی ختم نہیں ہوگا، لوگوں نے کہا: ہاں! تو اسنے کہا: اس کرسی کے نیچے کھودو، انہوں نے کھودا تو وہ کتابیں مل گئیں، جب ان کتابوں کو نکالا تو شیطان نے کہا کہ سیلمان جو انسانوں جنات اور پرندوں پر حکومت کرتے تھے تو اس جادو کی وجہ سے کرتے تھے، پھر شیطان اڑ کرچلا گیا اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جادوگر تھے، پھر بنی اسرائیل نے وہ کتابیں لے لیں، پس جب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ سے مباحثہ کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا معنی ہے:

البقرہ ۱۰۲۔ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے، وہ لوگوں کو جادو (کے کفریہ کلمات) سکھاتے تھے۔

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت وماروت۔ ترجمہ۔ اور انہوں نے اس (جادو) کی پیروی کی جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اتارا گیا تھا۔

اس آیت میں بابل کا ذکر ہے ، یہ وہ شہر ہے جس کو نمرود بن کنعان نے بنایا تھا اور اسی شہر کی طرف جادو اور خمر منسوب ہیں اور آجکل وہ شہر کھنڈر بنا ہوا ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ ضحاک وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے بابل کو بنایا تھا اور مؤید الدولہ نے کہا: بابل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تھا۔

اس آیت مبارکہ میں ہاروت و ماروت کا ذکر ہے، ان میں کافی اختلاف ہے، زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ دو فرشتے تھے جن کو آسمان سے زمین کی طرف اتارا گیا، پھر ان کے معاملہ سے وہ ہوا جو ہوا اور ان کا قصہ مشہور ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

وما یعلمٰن من احد حتیٰ یقولا انما نحن فتنۃ فلا تکفر ۔ البقرہ ۱۰۲
اور وہ (فرشتے) اسوقت تک کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہتے کہ ہم تو صرف آزمائش ہیں تو تم کفر نہ کرو۔

از حجاج از ابن جریج اس آیت کی تفسیر میں مذکور ہے کہ جادو کرنے کی جرات وہی کرے گا جو کافر ہوگا۔

علامہ نووی نے کہا ہے: جادو کا عمل حرام ہے اور اس پر اجماع ہے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلاک کرنے والے امور کو بیان کیا ، ان میں سے بعض کفر ہیں اور بعض کفر نہیں ہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہیں۔ اگر جادو میں ایسا قول یا فعل ہو جس کا تقاضا کفر ہو تو جادو کفر ہے ورنہ کفر نہیں ہے لیکن جادو کا سیکھنا اور سکھانا ، سو وہ حرام ہے۔ پس اگر جادو کے کلمات میں ایسے کلمات ہوں جو کفر کا تقاضا کریں تو وہ کفر ہے اور جادو کرنے والا کافر ہوجائے گا، اس سے توبہ طلب کی جائے گی اور اسکو قتل نہیں کیا جائے گا، اگر اس نے توبہ کرلی تو اسکی توبہ قبول کرلی جائے گی اور اگر جادو کے کلمات میں کوئی ایسا کلمہ نہ ہو جو کفر ہو، تو اس کو تعزیر لگائی جائے گی۔

امام مالک سے منقول ہے کہ جادوگر کافر ہے، اس کو جادو کرنے کے سبب سے قتل کردیا جائے گا اور اسکی توبہ نہیں طلب کی جائے گی، بلکہ اس کو زندیق کی طرح لازماً قتل کردیا جائے گا، اور قاضی عیاض نے بھی امام مالک کے قول کو اختیار کیا۔ اور امام احمد اور صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے۔

الفتاویٰ الصغریٰ میں مذکور ہے: امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک جادوگر سے توبہ نہیں طلب کی جائے گی اور اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے اور ان کے نزدیک زندیق سے توبہ طلب کی جائے گی، اورامام ابوحنیفہ سے دو روایتیں ہیںِ ایک روایت یہ ہے کہ اگر میرے پاس زندیق کو لایا گیا تو میں اس سے توبہ طلب کروں گا، پس اگر اس نے توبہ کرلی تو اسکی توبہ قبول کرلی جائے گی۔

علامہ ابن بطال نے کہا ہے: سلف صالحین کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا جاددوگر سے یہ سوال کی جائے گا کہ وہ اپنے جادو کا توڑ کردے؟ سعید بن المسیب نے اسکی اجازت دی ہے اور حسن بصری نے اسکو مکروہ کہا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ جادو کے توڑ کو صرف جادوگر ہی جانتا ہے ۔ اور جادوگر کے پاس جانا جائز نہیں ہے، کیونکہ سفیان نے روایت کی ہے از ابی اسحاق از ہبیرہ از حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ : جو جادوگر کے پاس گیا یا کاہن کی طرف گیا ، پس اس کے قول کی تصدیق کی تو اس نے اس کا کفر کیا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل کیا ہے۔ اور امام طبری نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جادوگر کے پاس جانے سے اسلیئے منع فرمایا ہے کہ جادوگر کی تصدیق کی جائے، پس اگر وہ کسی اور مقصد سے جادوگر کے پاس گیا اور اسکو جادوگر کا علم تھا اور اسکے حال کا بھی علم تھا تو یہ ممنوع نہیں ہے اور نہ اس کے پاس جانا ممنوع ہے، اور بعض علماء نے دو وجہوں میں سے ایک وجہ کے ساتھ جادو سیکھنے کی اجازت دی ہے، ایک وجہ یہ ہے کہ اسکو کفر اور غیر کفر میں تمیز حاصل ہوجائے اور دوسری وجہ ہے کہ جس پر جادو کیا گیا ہے اسکا ازالہ کیا جاسکے۔

قرآن مجید میں ہے:

ولا یفلح الساحرحیث اتٰی (طٰہٰ ۶۹)۔
اور جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا۔

اس آیت میں جادوگر سے فوز اور فلاح کی نفی کی گئی ہے، اور اس میں وہ لفظ نہیں ہے جو کفر پر دلالت کرے اور قرآن مجید میں ارشاد ہے

طٰہٰ ، ۶۶۔ ترجمہ ۔ پس اچانک موسیٰ کو خیال ہوا کہ ان کے جادو سے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں

یعنی موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ خیال لایا جاتا تھا کہ یہ سانپ دوڑ رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی رسیوں میں پارہ کو چپکا دیا تھا، پس جب وہ دھوپ سے گرم ہوگیا تو ہلنے لگا اور حرکت کرنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ گمان کیا کہ وہ سانپ ان کا قصد کررہےہیں۔ اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جن کا یہ زعم ہے کہ سحر صرف تخیل ہے اور ان کی اس آیت میں کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ یہ آیت فرعون کے جادوگروں کے قصہ میں وارد ہے اور ان کا جادو اسی طرح ہوتا تھا اور اس سے لازم نہیں آتا کہ جادو کی تمام اقسام محض تخییل ہوں نیز قرآن مجید میں ہے:

اور گرہ میں بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شرسے۔ الفلق 4

نفاثات کی تفسیر جادوگرنیوں کے ساتھ کی گئی ہے اور یہ حسن بصری کی تفسیر ہے اور جادوگرنیاں جادو کرتے وقت دھاگہ میں گرہ باندھتی ہیں۔

سیقولون للہ قل فاتٰی تسحرون ۔ المومنون ۸۹

عنقریب وہ کہیں گے کہ سب کا اللہ ہی مالک ہے ، پھر کہاں سے تم پر جادو کیا گیاہے؟

یعنی تم کیوں اس سے اندھے ہوجاتے ہو اور کیوں اس سے روگردانی کرتے ہو؟ ابن عطیہ نے کہا ہے کہ سحر کا لفظ یہاں پر تخلیط کے معنی میں مجاز ہے یعنی تم نے کس سے دھوکہ کھایا ہے؟

اگر تم یہ سوال کرو کہ یہ آیات جو ذکر کی گئی ہیں، ان سے امام بخاری کا یہ استدلال مکمل نہیں ہوتا کہ جادو حرام ہے؟

اسکا جواب یہ ہے کہ جادو کی کئی اقسام ہیں:

۱۔ ان میں جادو کا ایک معنی ہے: جو چیز لطیف اور دقیق ہو، جب کسی بچہ کو محبوب رکھا جائے تو کہا جاتا ہے: وہ بچہ مسحور ہے۔ (۲)۔ جو چیزیں محض تخیلات ہوں اور ان کی کوئی حقیقت نہ ہو جیسے شعبدہ باز کرتے ہیں یا جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگروں نے رسیوں میں پارہ چپکا کر انہیں سانپ بنا کر دکھایا تھا۔ (۳)۔ جو کام شیطان کی مدد سے یا اسکا تقرب حاصل کرنے سے کیا جائے اور اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں (ولٰکن الشیٰطین کفروا یعلمون الناس السحر۔۔۔۔۔الآیۃ بقرہ ۱۰۲)۔ جادو کی جو قسم حرام ہے وہ یہی ہے۔ (۴)۔ جو ستاروں کے ذریعہ حاصل ہو اور ستاروں کی روحانیت کو نازل کرنے سے حاصل ہو۔ (۵)۔ جو طلسمات ہیں۔

حوالہ۔ عمدۃ القاری ج ۲۱ ص ۴۱۳ تا ۴۱۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت

Umdatul-Qari-Vol-21-(a)

Umdatul-Qari-Vol-21-(b)

For Watching in Full Size please click the Scan or Visit Our Forum

حدیث رقم ۵۷۶۳ بخاری شریف

ترجمہ

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی از ہشام از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، وہ بیان کرتی ہیں کہ بنو زُریق کے ایک شخص نے رسول اللہ علیہا الصلوٰۃ والسلام پر جادو کیا جس کو لبید بن الاعصم کہا جاتا تھا، حتیٰ کہ رسول اللہ علیہ السلام کو یہ خیال ہوتا تھا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا حتیٰ کہ ایک دن یا ایک رات کو آپ میرے پاس تھے لیکن آپ نے دعا کی اور دعا کی، پھر آپ نے کہا: اے عائشہ ! کیا تم کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کا جواب دیا جس چیز کے متعلق میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا؟۔ میرے پاس دو مرد آئے ، پس ان میں سے ایک میرے سر کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پیروں کی طرف بیٹھ گیا، پ س ان مین سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اس مرد کو کیسا درد ہے؟ اس نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے،اس نے کہا کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن الاعصم نے، اس نے کہا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور سر کے بال میں جو نرکھجور کے خوشہ میں رکھے ہوئے ہیں، اس نے سوال کیا: اور یہ جادو ہے کہاں؟ اس نے جواب دیا کہ زروان کے کنوئیں میں ، پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا : اے عائشہ ! اس کنویں کا پانی ایسا سرخ تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطان کے سروں کی طرح تھے، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں نکالا؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ میں اب لوگوں کے درمیان اس برائی کو پھیلاوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جادو کا سامان دفن کرادیا۔

ابو اسامہ ، ابو ضمرہ اور ابن ابی زناد نے عیسیٰ بن یونس کی متعابعت کی ہے از ہشام اور اللیث اور ابن عیینہ نے کہا از ہشام: کنگھی اور سر کے بالوں میں ۔ مشاطۃ اس کو کہتےہیں: کنگھی کرتے وقت کنگھی سے جو بال نکلتے ہیں۔ اور مشاقۃ روئی کے تار یعنی سوت کو کہتےہیں۔

حوالہ جات دیگر

صحیح البخاری : ۳۱۷۵ و۳۲۶۸ و ۵۷۶۳ و ۵۷۶۵ و۶۰۶۳ اور ۶۳۹۱ ۔ صحیح مسلم شریف ۔ ۲۱۸۹ ، سنن ابن ماجہ : ۳۵۴۵، اور مسند احمد ۲۳۷۹

صحیح البخاری حدیث رقم ۵۷۶۳ کی شرح از علامہ بدرالدین عینی رحمتہ اللہ علیہ

حدیث مذکور کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت
اس بات کا عنوان ہے (السحر) یعنی جادو، اور اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ علیہ السلام پر ایک مرد نے جادو کیا۔ اس طرح یہ حدیث اس باب کے عنوان کے
مطابق ہے۔

حدیث مذکور کی سند کے بعض رجال کا تذکرہ

اس حدیث کی سند میں عیسیٰ بن یونس کا ذکر ہے ، یہ ابن ابی اسحاق سبیعی ہیں۔ اور ہشام کا ذکر ہے، وہ ابن عروہ ہیں، وہ اپنے والد عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں از ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

یہ حدیث اسی سند کے ساتھ کتب (صفۃ ابلیس) میں گذر چکی ہے اور وہاں اسکا نمبر ہے ۳۱۷۵

حدیث مذکور کے معانی

اس حدیث میں ذکر ہے کہ (من بنی زریق) یہ قبیلہ خزرج کی ایک شاخ ہے ، اور اسلام کے ظہور سے پہلے بہت سے انصار اور بہت سے یہودیوں میں محبت اور دوستی تھی اور انہوں نے ایک دوسرے کی مدد کا حلف بھی اٹھایا ہوا تھا ، پس جب اسلام کا ظہور ہوا تو انصار اسلام میں داخل ہوگئےاور یہودیوں سے بے زار ہوگئے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر کی مدت کے متعلق روایات

اور جس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا واقعہ ہوا ، یہ سال ۷ ہجری تھا۔ اس کو علامہ واقدی نے بیان کیا ہے، اور اسماعیلی نے کہا ہے کہ آپ پر چالیس راتوں تک جادو کا اثر رہا اور مسند احمد میں ہے کہ چھ ماہ تک آپ پر جادو کا اثر رہا۔ اور سہیلی سے منقول ہے کہ ایک سال یہ اثر رہا، اس کو سہیلی نے جامع معمر از زہری میں ذکر کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے چالیس دن اور چھ ماہ کی دو روایتوں میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ جن روایات میں چھ ماہ کا ذکر ہے ان سے جادو کے ابتدائی اثر سے لے کر آخر پوری مدتِ سحر مراد ہے اور جن روایات میں ۴۰ دن کا ذکر ہے ، اس سے تاثیرِ جادو سے استحکام والی مدت مراد ہے۔ بحوالہ۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری ج ۱۰ ص ۲۷۸ دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور

شیخ الحدیث علامہ سعیدی (رحمتہ اللہ علیہ) نے فرمایا ہے کہ میںکہتا ہوں کہ جس روایت میں یہ مذکور ہے کہ ایک سال تک آپ پر جادو کا اثر رہا ، اس کی تطبیق کسی نے بیان نہیں کی اور وہ روایت بہرحال متعارض ہے۔

اور اس حدیث میں ذکر ہے (حتیٰ کہ رسول اللہ علیہ السلام کو یہ خیال ہوتا تھا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے)۔

بعض فقہا اسلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کے اثر کی روایت کا انکار کرنا

علامہ عینی فرماتے ہیں : بعض مبتدعین نے اس حدیث کا انکار کیا ہے اور انہوں نے یہ زعم کیا ہے کہ یہ حدیث منصب نبوت کو کم کرتی ہے اور اس میں شک ڈالتی ہے اور ہروہ چیز جو منصب نبوت کو کم کرے اور اس میں شک ڈالے وہ باطل ہے اور رسول اللہ علیہ السلام پر جادو کے اثر کو جائز قرار دینا شریعت کی ثقاہت کو ختم کرتا ہے اور ان
پر رد کیا گیا ہے کہ اس پر دلیل قائم ہے کہ نبی کریم علیہ السلام ، اللہ عزوجل کی طرف سے جو امور بیان کرتے ہیں، اس میں آپ صادق ہیں اور آپ تبلیغ میں معصوم ہیں۔ رہی وہ چیزیں جن کا تعلق بعض دنیاوی امور کے ساتھ ہے جن کی وجہ سے آپ کو مبعوث نہیں کیا گیا، سو وہ آپ پر اس طرح عارض ہوتی ہیں جیسے دوسرے بشر پر عارض ہوتی ہیں جیسے کہ بیماریاں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ یہ گمان کرتے تھے کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کو اس کام کا وثوق ہو اور قاضی عیاض نے کہا ہے: جادو کا اثر جسم کے اوپر اور ظاہری اعضاٗ پر تسلط ہے اور اس کا اثر عقل اور معتقدات پر نہیں ہوتا۔ اور اسکی دلیل یہ ہے کہ سعید بن المسیب کی مرسل روایت میں ذکر ہے کہ حتیٰ کہ قریب تھا کہ آپ کی بینائی ضعیف ہوجاتی۔

آپ پر جادو کے اثر کی شرح

اس حدیث میں ذکر ہے کہ (حتیٰ کہ ایک دن یا ایک رات کو (یہ روای کو شک ہے) آپ میرے پاس تھے لیکن آپ نے دعا کی اور دعا کی)۔

علامہ کرمانی نے کہا ہے: لٰکنہ کا لفظ استدراک کے لیئے ہوتا ہے ، یہاں کس چیز سے استدراک کیا گیا ہے؟ پھر علامہ کرمانی نے یہ جواب دیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ میرے پاس تھے لیکن میرے ساتھ مشغول نہیں ہوئے بلکہ دعا میں مشغول ہوئے اور آپ کو یہ خیال ڈالا جاتا تھا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے، لیکن وہ خیال فعل کے متعلق ہوتا تھا قول کے متعلق نہیں ہوتا تھا اور یہ معلوم ہے کہ آپ کی دعا صحیح تھی اور قانونِ مستقیم کے مطابق تھی اور امام مسلم نے ابن نمیر سے روایت کی ہے: آپ نے دعا کی ، پھر دعا کی، پھر دعا کی۔ اور یہی معلوم ہے کہ آپ دعا کا ۳ مرتبہ تکرار کرتے تھے۔

نیز اس حدیث میں ذکر ہے (اشعرت) یعنی اے عائشہ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے جو سوال کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا جواب دے دیا ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بیماری کی خبر بتادی ہے۔

اس حدیث میں ذکر ہے (میرے پاس دو مرد آئے) اور مسند احمد اور طبرانی نے ہشام سے روایت کی ہے کہ میرے پاس دوفرشتے آئے اور امام ابن سعد نے ان کا نام ذکر کیا ہے کہ ایک جبریل اور دوسرے میکائیل علیہم السلام تھے۔

پھر اس حدیث میں ہے (ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا) ظاہر یہ ہے کہ جو سر کے پاس بیٹھے وہ حضرت جبریل علیہا السلام تھے، کیونکہ ان کی رسول اللہ علیہ السلام کے ساتھ خصوصیت تھی۔

اس حدیث میں مذکور ہے (پس ان میں اے ایک نے اپنے صاحب سے کہا: اس مرد کو کیسا درد ہے؟)۔ امام نسائی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہود کے ایک مرد نے جادو کیا تو آپ کئی دن تک اسکی وجہ سے بیمار رہے، پس آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، سو کہا کہ یہود کے ایک مرد نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس نے آپ کے لیئے گرہ لگا کرفلاں کنوئیں میں ڈال دی ہے۔

اس سے معلوم ہواکہ جن سے سوال کیا گیا وہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے اور سوال کرنے والے حضرت میکائیل علیہ السلام تھے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ سوال و جواب جس وقت ہوا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسوقت سوئے ہوئے تھے یا بیدار تھے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سوال اور جواب نیند میں ہوا، کیونکہ اگر حضرت جبریل ومیکائیل آپ کے پاس آتے اور آپ بیدار ہوتے تو وہ دونوں آپ کو مخاطب کرتے اور آپ ان کی بات کو سنتے ، اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسوقت سوئے ہوئے تھے، اور امام محمد بن سعد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک سندِ ضعیف کے ساتھ روایت کی ہے کہ آپ کے پاس دو فرشتے اترے اور آپ نیند اور بیداری کی کیفیت میں تھے اور ہرتقدیر کے اوپر انبیا علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے۔

نیز اس حدیث میں مذکور ہے (پس ایک مرد نے اپنے صاحب سے کہا:اس مرد کو کیسا درد ہے؟ تو دوسرے نے کہا کہ یہ مطبوب ہیں) یعنی ان پر جادو کیا گیا ہے۔ اور جادو کو انہوں نے نیک فال کے لیئے طب سے تعبیر کیا یاطب سے کنایہ کیا، جیسے جس کو سانپ یا بچھو نے ڈسا ہو اس کو نیک فال کے طور پر سلیم کہتے ہیں۔

اور ابن الانباری نے کہا ہے کہ طب کا لفظ لغت اضداد سے ہے، اسکا معنی بیماری بھی ہے اور اسکا معنی بیماری کا علاج بھی ہے۔

اس حدیث میں ذکر ہے (فی مشط ومشاطۃ) ۔ مُشط کامعنی وہ معروف آلہ ہے جس سے سر کے اور داڑھی کے بالوں کو سنوارا جاتا ہے (یعنی کنگھی)۔ اور (مشاطۃ) کا معنی ہے کہ بالوں میں کنگھی کرنے سے جو بال کنگھی میں رہ جاتے ہیں ان کو (مشاطۃ) کہتے ہیں۔

اس حدیث میں ذکر ہوا کہ (وجف طلع نخلۃ ذکر) (جُف) کا اطلاق کھجور کے نر اور مادہ کھوکھلے خوشوں پر ہوتا ہے، اور وہ بال نر کھجور کے خوشہ میں رکھے گئے تھے، اسی لیئے بعد میں ذکر یعنی مذکر کا لفظ ذکر کیا۔ اور خوشہ سے مراد وہ غلاف ہے جس میں پہلے کھجوربند ہوتی ہے پھر باہر نکلتی ہے، اور وہ شگوفہ سفید رنگ کا ہوتا ہے اور اسکی بومٹی کی طرح ہوتی ہے اور وہ شگوفہ زروان نام کے ایک کنوئیں میں ہے، یہ مدینہ میں بنو زریق کا کنواں تھا۔

اس حدیث میں ذکر ہے (فاتاھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے اور پھر آپ نے حضرت عائشہ کو بتایا کہ اس کنوئیں کا پانی مہندی کے تل چھٹ کی طرح ہے یعنی سرخ رنگ کی طرح ہے۔ اور آپ نے فرمایا: اس کھجور کے درختوں کے سر (یعنی ان کا اوپر کا حصہ) شیطان کے سروں کی طرح تھے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ نے کھجور کے درختوں کے سر کو شیطان کے سروں سے تشبیہہ دی ، حالانکہ ہم نے شیطان کے سروں کو نہیں دیکھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بہت قبیح تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسم سے پوچھا: یارسول اللہ۔ کاش! آپ لبید ابن اعصم کو قتل کردیتے! آپ نے فرمایا: آخرت میں جو اس کو اللہ عزوجل کا عذاب ہوگا، وہ بہت شدید ہوگا، اور عمرہ کی روایت میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو پکڑ لیا اور اس نے جادو کرنے کا اعتراف کرلیا تو آپ نے اس کو معاف کردیا۔ اور جن چیزوں میں جادو کیا گیا تھا ان کو آپ نے دفن کردیا۔

حوالہ۔ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج ۲۱ صفحات ۴۱۵ تا ۴۱۸ ملخصاً و متلتقطاً دارالکتب العلمیہ بیروت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیئے جانے کے متعلق نظریہ

ہمارے نزدیک حسب ذیل وجوہات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر کیئے جانے کی روایات صحیح نہیں ہیں:

۱۔ بعض روایات میں ہے کہ کنگھی اور جن بالوں پر جادو کیا گیا تھا، ان کو کنوئیں سے نکال لیا گیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۵۷۶۵)۔

۲۔ اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اسکو کنویں سے نہیں نکالا۔ (بحوالہ بخاری ۵۷۶۶)۔

۳۔ بعض روایات میں ہے کہ جادو کے اثر سے آپ کو یہ خیال ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کرلیا ہے ، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا تھا۔ (صحیح بخاری ۵۷۶۵)۔

۴۔ بعض احادیث میں ہے کہ آپ کی نظر متاثر ہوگئی تھی اور آپ دیکھتے کچھ تھے اور آپ کو نظر کچھ آتا تھا۔ (بحوالہ طبقات الکبریٰ ج ۲ ص ۱۵۲)۔

۵۔ بعض احادیث میں ہے کہ جادو کے اثر سے آپ کی مردانہ قوت متاثر ہوگئی تھی ، یحییٰ بن یعمر کی روایت میں ہے کہ آپ ایک سال تک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رکے رہے یعنی مقاربت نہیں کرسکے (العیاذباللہ) (مصنف عبدالرزاق ۱۹۷۶۵)۔

۶۔بعض احادیث میں ہے کہ کنویں سے جب شگوفہ نکالا گیا تو اسمیں ۱۱ گرہیں تھیں، اس وقت آپ پر سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں، آپ ان میں سے ایک ایک آیت پڑھتے جاتے تھے اور گرہیں کھلتی جاتیں تھیں۔ (طبقات الکبریٰ ج ۲ ص ۱۵۷)۔

۷۔ جس حدیث کا متن اتنی وجوہ سے مضطرب ہو اس سے احکام میں بھی استدلال کرنا جائز نہیں ہے، چہ جائیکہ اس سے عقائد میں استدلال کیا جائے۔

۸۔ جو خبرِ واحد صحیح ہو، وہ بھی قرآن مجید کے مزاحم نہیں ہوسکتی ، جب کہ یہ حدیث سنداً صحیح نہیں ہے، حدیث صحیح وہ ہوتی ہے جو غیرمعلل ہو اور یہ حدیث معلل ہے کیونکہ اس میں علل خفیہ قادحہ ہیں، یہ حدیث منصب نبوت کے منافی ہے۔

۹۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ جادو کے اثر سے جماع پر قادر نہ ہوئے اور ایک سال تک حضرت عائشہ سے رکے رہے اور نامرد ہونا ایسی بیماری ہے جو لوگوں میں معیوب سمجھی جاتی ہے، نیز اس میں ذکر ہے کہ آپ کی نظر میں فرق آگیا تھا اور بھینگا ہونا لوگوں میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور نامردی اور بھینگے پن سے لوگ عار محسوس کرتے ہیں،ا ور نبی کی شرائط میں سے یہ ہے کہ اس کو کوئی ایسی بیماری نہ ہو جو لوگوں میں معیوب اور باعث عار سمجھی جاتی ہو اور لوگوں کواس سے گھن آتی ہو۔

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ۷۹۳ ہجری لکھتے ہیں

نبوت کی شرائط یہ ہیں: وہ مرد ہو، اس کی عقل کامل ہو، اسکی رائے قوی ہو، وہ ان چیزوں سے سلامت ہو جن کو لوگ برا جانتے ہیں،مثلاً اس کے آباو اجداد زنا نہ کرتے ہوں اور اسکے سلسلہ نسب میں مائیں بدکار نہ ہوں اور وہ ایسی بیماریوں سے محفوظ ہو جن کو لوگ برا جانتے ہیں مثلاً برص، اور جذام وغیرہ اور کم تر پیشوں سے اور ہراس چیز سے جو مروت اور حکمت بعثت میں مخل ہو۔

بحوالہ شرح المقاصد ج ۵ ص ۶۱ منثورات الرضی ایران

علامہ محمد بن احمد السفارینی متوفی ۱۱۸۸ ھ فرماتے ہیں

نبوت کی شرائط میں سے یہ ہے کہ نبی ہر اس چیز سے سلامت ہو جس سے لوگ متنفر ہوں، جیسے ماں باپ کی بدکاری اور ایسے عیوب جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں جیسے برص اور جذام وغیرہ۔

(لوامع الانور ج ۲ ص ۲۷ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت)

اس پر دلیل قرآن مجید کی یہ آیتیں ہیں

سورہ ص : ۴۷۔ بے شک وہ سب (نبی) ہمارے نزدیک پسندیدہ اور بہترین لوگ ہیں

سورہ آل عمران : ۳۳۔ بے شک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور آلِ ابراہیم کو اور آل عمران کو تمام لوگوں سے پسندیدہ بنادیا۔

اور جس شخص کو ایسی بیماری ہوجائے جس سے ایک سال تک وہ اپنی ازواج سے مقاربت نہ کرسکے اور جس کو صحیح نظر نہ آئے، وہ تمام لوگوں سے پسندیدہ نہیں ہوسکتا ، سو اس قسم کی وضعی روایات سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی بنیاد ہی منہدم کردیتی ہیں۔

۱۰۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ آپ پر جادو کیا گیا تھا تو جادوگر آپ کو نقصان پہنچانے میں اور آپ کے حواس اور قویٰ معطل کرنے میں کامیاب ہوگیا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔

سورہ طٰہٰ آیت ۶۹۔ اور جادوگر کہیں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوتا

اور اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا:

سورہ الحجر ۴۲۔ بے شک میرے (مقبول) بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا، سوا ان کے جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں گے۔

۱۱۔ یہ درست ہے کہ یہ روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں ، اور صحیح بخاری ومسلم کی عظمت اور حرمت ہمارے دلوں میں پیوست ہے لیکن رسول اللہ علیہ السلام کی عظمت اور حرمت ہمارے دلوں میں ان سے کہیں زیادہ ہے بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ ہے، یہ احادیث اضطراب اور تعارض سے قطع نظر معلل ہیں، ان میں متعدد علل خفیہ قادحہ ہیں جن کا مخالف قرآن اور منافی ٗ عظمتِ رسول ہونا سب سے نمایاں ہے، ہمارے لیئے یہ زیادہ آسان ہے کہ ہم ایک سال یا چھ ماہ تک رسول اللہ علیہ السلام پر جادو کا اثر ہونے کے بجائے یہ مان لیں کہ اس حدیث کی صحت میں امام بخاری سے چوُک ہوگئی ، اور اس حدیث میں امام بخاری اور امام مسلم صحتِ حدیث میں اپنے مقررکردہ معیار کو برقرار نہیں رکھ سکے، ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث روایتاً صحیح ہو لیکن یہ حدیث درایتاً صحیح نہیں ہے، اس سے پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے یہ روایت کیا ہے جب قریش نے کعبہ کی تعمیر کی تو عباس اور حضور بھی کندھے پر پتھر لاکر رکھ رہے تھے، عباس نے آپ کا تہبند اتار کر آپ کے کندھے پر رکھ دیا، تاکہ پتھر کندھے میں نہ چبھے، آپ بے لباس ہوگئے اور بے ہوش ہوکر گرگئے، اور ہوش میں آکر فرمایا: میرا تہبند میرا تہبند۔ یہ اعلان نبوت سے ۵ سال پہلے کا واقعہ ہے ، اس وقت آپ کی عمر شریف ۳۵ سال تھی، ہم نے اس جگہ بھ لکھا تھا: یہ حدیث معلل ہے اور درایتاً صحیح نہیں ہے، کسی کم عمر کےبچے کے متعلق تو یہ بات متصور ہوسکتی ہے کہ وہ اپنا تہبند کندھے پر رکھ لے ، لیکن ۳۵ سال کے مرد کے لیئے یہ قرین قیاس نہیں ہے، اور اس عمر میں رسول اللہ علیہ السلام کا بے لباس ہوجانا ہمارے نزدیک لائق قبول نہیں ہے، اور یہ ناموسِ رسالت کے منافی ہے، اور ہر ایسی حدیث لائق قبول نہیں ہے۔

۱۲۔ اس حدیث کی زیادہ سے زیادہ تاویل یہ ہوسکتی ہے کہ جو علامہ ابوبکر جصاص نے کی ہے کہ یہودیوں نے اپنے منصوبہ کے مطابق رسول اللہ علیہ السلام پر جادو کرایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا اور آپ پر جادو کا کوئی اثر نہیں ہوا اور جن احادیث میں یہ جملے مذکور ہیں کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ میں نے یہ بات کہہ دی ہے، حالانکہ آپ نے نہیں کہی تھی یا آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ نے یہ کام کرلیا ہے اور آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، اسی طرح اور دوسری خرافات بیان کی ہیں، یہ سب کسی بے دین راوی کا اضافہ ہے اور حضرت ام المومنین پر بہتان ہے، یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے، اور اس سال رسول اللہ علیہ السلام نے تبلیغی، تعلیمی اور فتوحات کے اعتبار سے بہت مصروف سال گزارا ہے، اگر جادو کے اثر سے آپ کے حواس اور قویٰ ایک سال تک معطل رہے ہوتے تو اس سال یہ تمام کام کس طرح انجام دیئے جاسکتے تھے؟ کہیں کسی تاریخ کی کتاب میں کچھ تو ذکر ہوتا۔ حدیث کی صحت کی تحقیق کرنے میں امام بخاری اور امام مسلم کی شخصیت مسلم ہے ، لیکن وہ بہرحال انسان ہیں نبی یا فرشتے تو نہیں ہیں، یہ ہوسکتا ہے کہ راویوں کو چھان پھٹک میں بعض اوقات ان سے کوئی سہو ہوگیا ہو اور کسی ایک آدھ جگہ سہو ہوجانے سے ان کی عظمت اور مہارت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

اب تک ہم نے دلائل سے یہی سمجھا کہ یہود رسول اللہ علیہ السلام پر جادو کا اثر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور یہ غلط ہے کہ ۴۰ راتوں تک آپ پر جادو کا اثر رہا یا ۶ ماہ تک یا ایک سال تک وغیرہ۔ لیکن چونکہ علمائے امت کی عظیم اکثریت کا مذہب یہ ہے کہ آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا تو ہم جب یہ سوچتے ہیں کہ علما امت کی عظیم اکثریت کا مقابلہ میں ہماری منفرد رائے کیا حیثیت رکھتی ہے، ہوسکتا ہے یہاں پر ایسے دلائل ہوں جو ہم پر منکشف نہ ہوئے ہوں اور ان دلائل کے اعتبار سے آپ پر جادو کا اثر ہوا ہو، سو اگر واقع میں ایسا ہے تو ہم اپنی تحقیق سے رجوع کرتے۔

مزید تشریحات دوسری قسط میں پیش کی جائیں گی۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s