Tafsir Surah Kahf Verse 21 – Mazarat -Masajid [Urdu]


تفسیر سورۃ الکہف ۱۸، آیت ۲۱ ، بہ ربطِ سلف الصالحین اور آخر میں وہابی ڈنڈی انِ تفسیر، و جوابِ اعتراض بر ترجمہ کنزالایمان شریف للمحدث احمد رضا القادری الحنفی الماتریدی

[Forum Link for Full Size Inpage Format] [Scans Drive]

قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا ۔ سورۃ الکھف ۱۸، آیت ۲۱
ترجمہ؛۔ وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے (ف ٣٨) قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے (ف ٣٩) (ترجمہ کنزالایمان شریف)۔
ترجمہ تبیان القرآن  
اور اس طرح ہم نے (لوگوں کو) ان کے حال سے واقف کردیا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے، جب لوگ ان کے معاملہ میں بحث کرنے لگے تو انہوں نے کہا ان کے غار کے قریب عمارت بنا دو، ان کا رب ہی ان کے حالات کو زیادہ جاننے والا ہے، جو لوگ ان کے معاملات پر زیادہ حاوی تھے۔ انہوں نے کہا ہم ضرور بہ ضرور ان کے قریب مسجد بنائیں گے
تفسیر تبیان القران للسعیدی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس طرح ہم نے (لوگوں کو) ان کے حال سے واقف کردیا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے، جب لوگ ان کے معاملات میں بحث کرنے لگے تو انہوں نے کہا ان کے غار کے قریب عمارت بنا دو، ان کے معاملات میں بحث کرنے لگے تو انہوں نے کہا ان کے غار کے قریب عمارت بنا دو، ان کا رب ہی ان کے حالات کو زیادہ جاننے والا ہے، جو لوگ ان کے معاملات پر زیادہ حاوی تھے انہوں نے کہا ہم ضرور بہ ضرور ان کے قریب مسجد بنائیں گے (الکھف : ٢١ )
اصحاب کہف اور ان کے شہر والوں کے درمیان ماجرا اور ان کی بحث
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح ہم نے ان کی ہدایت کو زیادہ کیا اور ان کے دلوں کو مضبوط کیا اور ان کو سلایا اور ان کی کروٹیں بدلائیں اور ان کو بیدار کر کے اٹھایا تاکہ ہماری حکمتیں ظاہر ہوں اسی طرح ہم نے ان کے احوال پر دوسروں کو مطلع کیا۔
اعشار کا معنی ہے کسی کو خبر دینا اور مطلع کرنا۔ اس لفظ کی اصل یہ ہے کہ جو شخص کسی چیز سے غافل ہو پھر وہ اس کو اچانک دیکھ کر پہچان لے تو کہتے ہیں فلان عشربہ شہر کے لوگ جو اصحاب کہف کے احوال سے واقف ہوئے تھے، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) اصحاب کہف جو عرصہ دراز تک غار میں رہے تھے، اس کی وجہ سے ان کے بال بہت لمبے اور ناخن بہت بڑے بڑے ہوگئے تھے اور ان کے چہرے کی کھال بھی خلاف معمول بہت عجیب و غریب ہوگئی تھی اس وجہ سے شہر کے لوگوں نے جان لیا یہ بہت پہلے کے لوگ ہیں۔ لیکن یہ وجہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جب وہ غار میں بیدار ہوئے تھے تو انہوں نے ایک دوسرے سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر غار میں رہے ؟ تو انہوں نے کہا ایک دن یا اس سے بھی کم حصہ۔ اگر ان کی ہئیت اس طرح غیر معمولی ہوچکی تھی تو وہ اس طرح نہ کہتے۔
(٢) جب اصحاب کہف کا ایک ساتھی شہر میں کچھ چیزیں خریدنے گیا اور اس نے کھانے کی قیمت ادا کرنے کے لئے چاندی کا پرانا سکہ نکالا تو دکان دار نے کہا یہ سکہ اب نہیں چلتا یہ تو بہت پہلے زمانے کا سکہ ہے۔ لگتا ہے تم کو کوئی خزانہ مل گیا ہے۔ یہ بات پھیل گئی اور لوگ اس شخص کو پکڑ کر حکمران کے پاس لے گئے۔ اس نے پوچھا تم کو یہ سکہ کہاں سے ملا ؟ اس شخص نے کہا کل میں نے کچھ کھجوریں فروخت کر کے یہ سکہ لیا ہے۔ پھر ہم دقیانوس بادشاہ کے خوف سے بھاگ کر ایک غار میں چلے گئے تھے، تب اس حکمران نے جان لیا کہ ان کو کوئی خزانہ نہیں ملا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کردیا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں ہے۔ یعنی ہم نے ان لوگوں کو اصحاب کہف کے احوال پر اس لئے مطلع کیا ہے تاکہ لوگوں کو یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کی روح قبض کرنے کے بعد ان کو پھر زندہ کرے گا اس کا یہ وعدہ برحق ہے، کیونکہ روایت ہے کہ اس وقت کا بادشاہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا اعتقاد نہیں رکھتا تھا لیکن وہ اپنے کفر کے باوجود منصف مزاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ کو اس بادشاہ اور اس کے ہم مشرب لوگوں کے لئے دلیل بنا دیا اور ایک قول یہ ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کا اس معاملہ میں اختلاف تھا بعض کہتے تھے کہ جسم اور روح دونوں کو اٹھایا جائے گا اور دوسرے یہ کہتے تھے کہ صرف روح کو اٹھایا جائے گا، رہا جسم تو اس کو زمین کھا جائے گی، وہ بادشاہ اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی نشانی ظاہر فرمائے جس سے اس مسئلہ میں جو حق ہے اس پر استدلال کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے اصحاب کہف کا معاملہ ظاہر کیا۔ اس واقعہ سے اس بادشاہ نے یہ استدلال کیا کہ اجسام پر موت طاری ہونے کے بعد ان کے پھر زندہ کیا جائے گا، کیونکہ اتنی طویل نیند کے بعد ان کا پھر بیدار ہونا، موت کے بعد پھر زندہ ہونے کے مشابہ ہے۔ لوگوں نے کہا جب اللہ اس پر قادر ہے کہ تین سو نو سال تک ان کے اجسام کو محفوظ اور سلامت رکھے تو وہ اجسام پر موت آنے کے بعد ان کو زندہ کرنے اور میدان حشر میں ان کو جمع کرنے پر بھی قادر ہے۔
ابھی وہ لوگ اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف پر ان کے غار میں ان پر موت طاری کردی، لوگوں میں سے بعض نے کہا اب وہ حقیقت میں مرگئے اور بعض نے کہا ان پر پہلے کی طرح نیند طاری کردی گئی ہے۔
(٣) ان میں سے بعض نے کہا کہ اب بہتر یہ ہے کہ غار کا منہ بند کردیا جائے تاکہ اس میں کوئی شخص داخل ہو سکے اور نہ ان کے احوال سے کوئی شخص واقف ہو سکے اور بعض دوسروں نے کہا : زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس غار کے دروازہ پر مسجد بنا دی جائے اور یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے تھے اور عبادت کرنے والے اور نماز پڑھنے والے تھے۔
(٤) اس زمانہ کے کافروں نے کہا یہ لوگ ہمارے دین پر تھے لہٰذا ہم ان کی یادگار میں اس غار کے دروازہ پر ایک عمارت بنائیں گے اور مسلمان یہ کہتے تھے وہ ہمارے دین پر تھے اس لئے ہم غار کے دروازہ پر ایک مسجد بنائیں گے۔
(٥) ان لوگوں کا اس میں اختلاف تھا کہ اصحاب کہف غار میں کتنی دیر ٹھہرے تھے۔
(٦) لوگوں نے اصحاب کہف کی تعداد میں اور ان کے اسماء میں اختلاف کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کا رب ہی ان کو خوب جاننے والا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ ان لوگوں کا قول ہو جو اصحاب کہف کے اسماء اور ان کی تعداد میں اختلاف کر رہے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو اور اس میں ان لوگوں کا رد ہو جو بلا دلیل ان کے اسماء اور ان کی تعداد میں بحث کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو لوگ ان کے معاملات پر حاوی تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مسلمان بادشاہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اصحاب کہف کے قریبی رشتہ دار ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اس شہر کے رہنے والے تھے۔
پھر فرمایا : انہوں نے کہا ہم ضرور بہ ضرور اس کے قریب مسجد بنائیں گے، یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور مسجد کی وجہ سے اصحاب کہف کے آثار کی حفاظت کریں گے۔
(تفسیر کبیرج ٧ ص ۴۴۷، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ۱۴۱۵ ھ)
مزارات پر گنبد بنانے کا ثبوت
اکثر علماء مفسرین اور محدثین کے نزدیک اس آیت کی روشنی میں اولیاء اللہ کے مزار پر ان کی یادگار قائم کرنا اور ان کے قرب اور جوار میں مسجد تعمیر کرنا اور وہاں نماز پڑھنا اور ان سے برکت اور فیض حاصل کرنا جائز ہے اور چند علماء نے اس سے اختلاف کیا ہے اور اس کو ناجائز اور حرام لکھا ہے۔
علامہ سید محمود آلوسی متوفی ۱۲۷۰ھ لکھتے ہیں :
اس آیت سے صالحین کی قبروں پر عمارت (مثلاً گنبد) بنانے اور اس کے نزدیک مسجد بنانے اور اس میں نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے اور جن لوگوں نے اس کا ذکر کیا ہے ان میں شہاب الدین خفاجی ہیں جنہوں نے حواشی بیضاوی میں اس کو لکھا ہے لیکن ان کا یہ قول باطل عاطل فاسد اور کا سد ہے کیونکہ احادیث صحیحہ میں انبیاء علیہم السلام اور صالحین کی قبروں پر عمارت بنانے اور اس کے نزدیک مسجد بنانے کی ممانعت ہے۔
(روح المعانی جز ١٥ ص ۲۳۷، مطبوعہ دارالفکر بیروت،
۱۴۱۷ ھ)
علامہ آلوسی نے یہاں پر بہت لمبی بحث کی ہے اور قبر پر گنبد بنانے کو ناجائز لکھا ہے اور یہ کہا ہے کہ جن قبروں پر گنبد بنے ہوئے ہیں، ان کو منہدم کرنا واجب ہے حتی کہ امام شافعی کی قبر پر جو بادشاہوں نے گنبد بنایا ہے اس کو توڑنا بھی واجب ہے اور ہر شخص کے لئے واجب ہے کہ وہ گنبدوں کو منہدم کر دے بہ شرطیکہ اس سے کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔
(روح المعانی جز ١٥ ص ۲۳۸، مطبوعہ ۱۴۱۷ ھ)
لیکن اس بحث کے آخر میں علامہ آلوسی نے اپنے مطلوب کے اثبات میں ایک ایسی دلیل لکھی ہے جس سے ان کا مطلوب باطل ہوگیا اور اس کے ثبوت میں دیئے ہوئے تمام دلائل ضائع ہوگئے۔ وہ لکھتے ہیں :
تمہارے لئے حق کی معرفت میں اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل کی اتباع کرنا کافی ہے جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے ساتھ کیا، کیونکہ وہ روئے زمین کی سب سے افضل قبر ہے بلکہ وہ عرش سے بھی افضل ہے، آپ کے اصحاب آپ کی قبر کی زیارت کرتے تھے اور اس پر سلام پڑھتے تھے سو تم اصحاب رسول کے افعال کی اتباع کرو۔
(روح المعانی جز ۱۵ص ۲۳۹، مطبوعہ دارالفکر ۱۴۱۷ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک حضرت ام المومنین کے حجرہ میں بنائی گئی تھی اور وہ حجرہ بہرحال ایک مسقف عمارت ہے اور اس قبر مبارک کے جوار میں مسجد نبوی ہے جہاں ہر دور میں مسلمان نماز پڑھتے رہے ہیں۔ سو علامہ آلوسی کی اپنی عبارت سے قبر پر گنبد بنانا اور قبر کے جوار میں مسجد بنانا دونوں امر ثابت ہوگئے۔
ابتداء اسلام سے لے کر اب تک امت کے صالحین اور علماء، بزرگان دین کے مزارت پر گنبد بناتے چلے آئے ہیں۔ اس لئے امت کے اجماعی عمل سے گنبد بنانے کا جواز ثابت ہے اور احادیث میں جو قبر کے اوپر عمارت بنانے کی ممانعت ہے، وہ بلا ضرورت تعمیر پر محمول ہے، جس طرح شیخ عثمانی نے قبر پر لکھنے کی ممانعت کو بلا ضرورت لکھنے پر محمول کیا ہے اور جو از کو امت کے اجماعی عمل کی بناء پر ثابت کیا ہے۔ علاوہ ازیں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے بعینہ اسی دلیل سے مزارات پر گنبد بنانے کو جائز قرار دیا ہے۔
ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ۱۰۱۴ ھ لکھتے ہیں :
جب قبر پر کسی فائدہ کی وجہ سے خیمہ لگایا جائے مثلاً تاکہ خیمہ کے نیچے قاری بیٹھ کر قرآن پڑھیں تو پھر اس کی (حدیث میں) ممانعت نہیں ہے اور سلف صالحین نے مشہور علماء اور مشائخ کی قبروں پر عمارت بنانے کو جائز قرار دیا ہے تاکہ لوگ ان کی زیارت کریں اور آرام سے بیٹھیں۔
(المرقات ج ٤ ص ۶۹، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان، ۱۳۹۲ ھ)
علامہ عبدالوہاب شعرانی متوفی 973 ھ لکھتے ہیں :
میرے شیخ علی اور بھائی افضل الدین عام لوگوں کی قبروں پر گنبد بنانے، تابوت رکھنے اور چادریں چڑھانے کو مکروہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ قبروں پر گنبد اور چادریں صرف انبیاء علیہم السلام اور اکابر اولیاء کی شان کے لائق ہیں، رہے ہم تو ہمیں لوگوں کے قدموں کے نیچے راستے میں دفن کردینا چاہئے۔
(لواقح الانوار القدسیۃ ص ۴۲۶مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1418 ھ)
اب ذرا ایک نظر مودودی کی تفسیر پر، جس نے اس آیت کو کیا معنی پہنائے
سورة الْكَهْف حاشیہ نمبر :21
مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے قرآن مجید کی اس آیت کا بالکل الٹا مفہوم لیا ہے۔ وہ اسے دلیل ٹھہرا کر مقبر صلحاء پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہاں قرآن ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو نشانی ان ظالموں کو بعث بعد الموت اور امکان آخرت کا یقین دلانے لیے دکھائی گئی تھی اسے انہوں نے ارتکاب شرک کے لیے ایک خداداد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ چلو، کچھ اور ولی پوجا پاٹ کے لیے ہاتھ آ گئے۔ پھر آخر اس آیت سے قبور صالحین پر مسجدیں بنانے کے لیے کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے جبکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ ارشادات اس کی نہی میں موجود ہیں :
لعن اللہ تعالیٰ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد والسرج۔ (احمد، ترمذی، ابو داؤد نسائی۔ ابن ماجہ)۔ ” اللہ نے لعنت فرمائی ہے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر، اور قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں پر۔
الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیاءھم مساجد فانی انھٰکم عن ذٰلک (مسلم) خبردار رہو، تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا دیتے تھے، میں تمہیں اس حرکت سے منع کرتا ہوں۔ لعن اللہ تعالیٰ الیھود و النصاریٰ اتخذوا قبور انبیآءھم مساجد (احمد، بخاری، مسلم، نَسائی) ” اللہ نے لعنت فرمائی یہود اور نصاریٰ پر، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔
اِنَّ اولٰٓئک اذا کان فیھم الرجل الصالح فمات بنوا علیٰ قبرہ مسٰجد او صوروا فیہ تلک الصور اولٰٓئک شرار الخلق یوم القیٰمۃ (احمد، بخاری، مسلم، نسائی) ” ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ اگر ان میں کوئی مرد صالح ہوتا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر مسجدیں بناتے اور اس کی تصویریں تیار کرتے تھے۔ یہ قیامت کے روز بد ترین مخلوقات ہوں گے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان تصریحات کی موجودگی میں کون خدا ترس آدمی یہ جرأت کرسکتا ہے کہ قرآن مجید میں عیسائی پادریوں اور رومی حکمرانوں کے جس گمراہانہ نعل کا حکایۃً ذکر کیا گیا ہے اس کو ٹھیک وہی فعل کرنے کے لیے دلیل و حجت ٹھیرائے ؟
اس موقع پر یہ ذکر کردینا بھی خالی از فائدہ نہیں کہ ١٨٣٤ ء میں ریورنڈٹی ارنڈیل (Arundeil) نے ایشیائے کوچک کے انکشافات ” (Discoveries in Asia Minor) کے نام سے اپنے جو مشاہدات شائع کیے تھے ان میں وہ بتاتا ہے کہ قدیم شہر افسس کے کھنڈرات سے متصل ایک پہاڑی پر اس نے حضرت مریم اور ” سات لڑکوں ” (یعنی اصحاب کہف) کے مقبروں کے آثار پائے ہیں۔
(تفہیم القرآن ج و ص ۱۸ ،۱۹،، مطبوعہ لاہور، ۱۹۸۲ ء)
ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ عیسائی پادری اور رومی حکمرانوں نے مسجد بنائی تھی اور یہ ان کا گمراہانہ فعل تھا۔ یہ انہوں نے غلط لکھا ہے، عیسائی پادری تو غار کے اوپر اصحاب کہف کی یادگار قائم کرنے کے لئے ایک عمارت بنانا چاہتے تھے جبکہ مسلمان وہاں مسجد بنانا چاہتے تھے اور بالآخر انہیں کی رائے غالب رہی۔ امام ابن جریر متوفی 310 ھ لکھتے ہیں :
عبداللہ بن عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ جو لوگ اصحاب کہف کے غار پر مطلع ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اندرون غار کی جگہ سے اندھا کردیا تھا۔ مشرکین نے کہا، ہم اس جگہ ایک عمارت نبائیں گے، وہ ہمارے آبائو اجداد کے بیٹے ہیں، ہم اس عمارت میں اللہ کی عبادت کریں گے۔ مسلمانوں نے کہا بلکہ ہم ان کے زیادہ حق دار ہیں، وہ ہم میں سے ہیں، ہم اس جگہ پر ایک مسجد بنائیں گے۔، اس میں نماز پڑھیں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔
(تفسیر جامع البیان رقم الحدیث :۱۷۳۱۷، مطبوعہ دارلفکر بیروت، 1415 ھ و مرکز البحوث والدراسات، کے ایس اے، ص ۲۱۷ ج ۱۵)
علامہ ابن جوزی متوفی ۶۹۷ ھ لکھتے ہیں :
ابن قتیبہ نے کہا مفسرین نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے مسجد بنائی تھی، وہ بادشاہ اور ان کے مومن اصحاب تھے۔
(زاد المسیر ج ٥ ص ۱۲۴، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت)
علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی ۷۵۴ھ لکھتے ہیں :
جس نے اس غار پر عمارت بنانے کی دعوت دی تھی وہ ایک کافر عورت تھی اس کا ارادہ تھا کہ وہاں ایک گرجا بنانے یا کفریہ کاموں کے لئے عمارت بنائے تو مسلمانوں نے اس کو منع کیا اور وہاں ایک مسجد بنا دی۔
(البحر الحیط جلد ۶ صفحہ ۱۰۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

 

اس لئے سید مودودی کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ یہ مسجد عیسائی پادریوں نے بنائی تھی اور یہ ایک گمراہانہ فعل تھا۔ اب ہم ان احادیث پر گفتگو کرتے ہیں جن کی بنا پر مودودی نے یہ کہا ہے کہ صالحین کی قبر کے پاس مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔
صالحین کی قبروں کے پاس مساجد بنانے کی ممانعت میں احادیث
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہے کہ حضرت ام حبیبیہ اور حضرت ام سلمہ (رض) نے حبشہ میں ایک گرجا دیکھا جس میں تصاویر تھیں، انہوں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : جب ان میں کسی نیک شخص کی وفات ہوجاتی تو وہ اس کی قبر کے پاس ایک مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں رکھ دیتے، وہ لوگ قیامت کے دن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بدترین مخلوق ہوں گے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث ۴۲۷ صحیح مسلم رقم الحدیث ۵۲۸، سنن النسائی رقم الحدیث :۷۰۳)۔
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ جس نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو میں آپ کی قبر کو ظاہر کردیتی۔ البتہ مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کی قبر کو مسجد بنا لیا جائے گا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث :۱۳۹۰، صحیح مسلم رقم الحدیث ۵۲۹)۔
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ یہود کو قتل کرے انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا ڈالا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث ۴۳۷، صحیح مسلم رقم الحدیث :۵۳۰، سنن ابودائود رقم الحدیث :۳۲۲۷)۔
ممانعت کی احادیث کا منسوخ ہونا
حافظ یوسف بن عبداللہ ابن عبدالبرالقرطبی المتوفی ۴۶۳ ھ لکھتے ہیں :
ان احادیث کی بناء پر بعض علماء، صالحین کے قرب میں مساجد بنانے کو ناجائز کہتے ہیں لیکن ان کے معارض یہ حدیث ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نیک دی گئیں، ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب طاری کردیا گیا ہے اور تمام روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور آلہ طہارت بنا دیا گیا ہے، پس میری امت میں سے جس شخص نے جہاں بھی نماز کا وقت پایا وہ نماز پڑھ لے، اور میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا تھا اور مجھے شفاعت دی گئی ہے اور پہلے نبی ایک خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث :۳۲۵: صحیح مسلم رقم الحدیث :۵۷۱، سنن النسائی رقم الحدیث :۴۳۲ تا ۴۳۶)۔
یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت ہے کہ تمام روئے زمین کو آپ کے لئے مسجد بنا دیا گیا ہے اور تمام روئے زمین میں وہ جگہ بھی داخل ہے جو صالحین کے قرب و جوار میں ہے۔ لہٰذا اس جگہ مسجد بنانا بھی جائز ہے اور وہاں نماز پڑھنا بھی جائز ہے، اگر یہ کہا جائے کہ جن احادیث میں صالحین کے قرب میں مسجد بنانے کی ممانعت ہے ان سے یہ حدیث منسوخ ہوجائے گی۔ تو یہ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل میں ہے اور فضائل منسوخ نہیں ہوتے اور نہ فضائل میں تخصیص ہوتی ہے اور نہ فضائل میں استثناء ہوتا ہے، نسخ صرف امرا ورنہی میں جاری ہوتا ہے اور جب ان احادیث میں تعارض ہے تو واضح ہوگیا کہ جس حدیث میں آپ نے فرمایا : تمام روئے زمین کو میرے لئے مسجد بنا دیا گیا ہے، وہ حدیث ان احادیث کے لئے ناسخ ہے جن میں صالحین کے پاس مسجد بنانے کی ممانعت ہے۔
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟
آپ نے فرمایا مسجد حرام – میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا : مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے آپ نے فرمایا : چالیس سال اور تم جس جگہ بھی نماز کا وقت پائو تم وہیں نماز پڑھ لو، وہی جگہ تمہارے لئے مسجد ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث :۳۳۶۶ صحیح مسلم رقم الحدیث ۵۲۰ سنن النسائی رقم الحدیث ۶۹۰۶ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :۷۵۳)
۔اس حدیث سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ صالحین کے جوار میں مسجد بنانا جائز ہے۔(التمہید ج ١ صفحات ۱۳۶ و ۱۳۷طبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
صالحین کی قبور کے پاس مسجد بنانے کی ممانعت کے محامل
قاضی عیاض بن موسیٰ اندلسی متوفی۵۴۴ ھ لکھتے ہیں :
ائمہ مسلمین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی جگہ کو قبلہ بنانے سے منع کیا ہے، کیونکہ جب نماز میں نمازیوں کا منہ آپ کی طرف ہوگا تو وہ نماز صورۃ آپ کی عبادت ہوجائے گی۔ اس وجہ سے صحابہ نے قبر مبارک کی بائیں جانب ایک دیوار بنا دی حتیٰ کہ اب جو شخص وہاں نماز پڑھے گا، اس کے لئے نماز میں آپ کی طرف منہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم، ج ٢ ص ۴۵۱، مطبوعہ دارالوفاء بیروت)

 

 

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ صالحین کی قبر کے پاس نماز پڑھنا، اس وقت منع ہے جب نمازی اور قبر کے درمیان کوئی حائل نہ ہو، اور جب نمازی اور قبر کے درمیان دیوار ہو یا اور کوئی حائل ہو تو پھر قبر کے پاس نماز پڑھنا ممنوع نہیں ہے۔ لہٰذا صالحین کی قبروں کے جوار میں مساجد کا بنانا بھی جائز ہے کیونکہ جب قبر کے پاس مسجد بنائی جائے گی تو مسجد کی دیوار قبر اور نمازی کے درمیان حائل ہوجائے گی۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کے ساتھ مسجد نبوی بنی ہوئی ہے اور اس کی دیواریں قبلہ اور نمازی کے درمیان حائل ہیں۔
علامہ شرف الدین حسین بن محمد الطیبی المتوفی ۷۴۳ ھ لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خطرہ تھا کہ مسلمان آپ کی قبر کی اس طرح تعظیم کریں گے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنے نبیوں کی قبروں کی تعظیم کی تھی۔ اس لئے آپ نے یہود و نصاریٰ اور ان کے کاموں پر لعنت کی تاکہ مسلمان آپ کی قبر انوار کے ساتھ ان کی طرح معاملہ نہ کریں کیونکہ یہود و نصاریٰ اپنے نبیوں کی تعظیم کے لئے ان کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور ان کی قبروں کو قبلہ بناتے تھے اور نماز میں ان کی قبروں کی طرف منہ کرتے تھے اور انہوں نے ان کی قبروں کو بت بنا لیا تھا اس لئے آپ نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو اس کام سے منع کیا۔
لیکن جس شخص نے کسی مرد صالح کے قریب اور جوار میں مسجد بنائی یا اس کے مقبرہ میں نماز پڑھی اور اس کی روح سے فیض حاصل کرنے کا قصد کیا یا یہ ارادہ کیا کہ اس مرد صالح کی عبادات کا اثر اس تک پہنچنے اور نماز میں اس مرد صالح کی تعظیم اور اس کی طرف توجہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے، اس کے باوجود یہ مسجد نماز پڑھنے کی روئے زمین میں سب سے افضل جگہ ہے اور قبروں کے پاس نماز پڑھنے کی ممانعت کھدی ہوئی قبروں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ وہ جگہ نجاست کے ساتھ ملوث ہوتی ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زیادہ تاکید کے لئے مکرر فرمایا : انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو مساجد نہ بنائو، میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔ (مسلم) مقبرہ میں نماز پڑھنے کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے اس کو مکروہ کہا ہے خواہ وہاں کی مٹی بھی پاک ہو اور جگہ بھی پاک ہو۔ ان کا استدلال اس حدیث سے ہے اور بعض علماء نے کہا مقبرہ میں نماز پڑھنا جائز ہے اور اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ غالب حال یہ ہے کہ قبرستان کی زمین مردوں کے جسموں اور ان کی آلائش اور پیپ وغیرہ سے مخلوط اور ملوث ہوتی ہے اور یہ ممانعت اس جگہ کی نجاست کی وجہ سے ہے اگر جگہ پاک ہو تو پھر وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(الکاشف عن حقائق السنن (شرح الطیبی) ج ٢ ص ۲۳۵، مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی)
حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی۸۵۲ھ اور علامہ احمد قسطلانی متوفی ۹۱۱ ھ نے لکھا ہے :
جو شخص کسی مرد صالح کے جوار میں مسجد بنائے اور اس کے قریب سے برکت حاصل کرنے کا ارادہ کرے نہ کہ اس کی تعظیم اور نماز میں اس کی طرف توجہ کا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص ۵۲۵، مطبوعہ لاہور ۔ و۔ جلد ۱، ص ۶۳۱ طباعت مکتبۃعبدالعزیز آل سعود، کتاب الصلاۃ)۔

 

ملا علی قاری متوفی نے علامہ طیبی کی عبارت نقل کی ہے اور مزید لکھا ہے :
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قرب کی صورت حطیم میں میزاب کے نیچے ہے اور حطیم میں اور حجر اسود اور میزاب کے درمیان ستر نبیوں کی قبریں ہیں۔ (مرقات ج ٢ ص 202، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان)
مولانا انور شاہ کشمیری نے اس حدیث کی شرح میں علاہم الطیبی کی عبارت نقل کی ہے۔
(فیض الباری ج ٢ ص 43، مطبوعہ مطبع حجازی قاہرہ، 1457 ھ)
مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس حدیث کی شرح میں حافظ عسقلانی کی عبارت نقل کی ہے۔
(فتح الملھم ۱۲۱، مطبوعہ مکتبۃ المجاز، کراچی)
علامہ وشتانی ابی مالکی متوفی ۸۲۸ ھ لکھتے ہیں :
بعض شافعیہ نے کہا ہے کہ یہود و نصاریٰ انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور ان قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے انہوں نے ان قبروں کو بت بنا لیا تھا، اس لئے مسلمانوں کو قبروں کے پاس اس طرح کے کاموں سے منع فرمایا، لیکن جس نے کسی مرد صالح کے قریب مسجد بنائی یا کسی مقبرہ میں نماز پڑھی تاکہ اس مرد صالح کے آثار سے تبرک حاصل کرے اور اس جگہ اس کی دعا قبول ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ مسجد حرام میں حطیم کے پاس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قبر ہے، اس کے باوجود نماز پڑھنے کے لئے وہ جگہ روئے زمین میں سب سے افضل ہے۔(اکمال اکمال المعلم ج ٢ ص ۴۲۷مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)۔

 

علامہ محمد بن محمد السنوسی مالکی متوفی ۸۹۵ ھ نے بھی اسی عبارت کو نقل کیا ہے۔(معلم اکمال الاکمال ۴۲۷طبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)۔
صالحین کے جوار میں مسجد بنانے پر مفسرین کی تصریحات
علامہ محمود بن عمر زمخشری خوارزمی متوفی۵۳۸ھ الکھف :آیت ۲۱ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
مسلمانوں میں سے جو اصحاب کہف کے معاملات میں غالب دخل رکھتے تھے، انہوں نے کہا ہم غار کے دروازہ پر مسجد بنائیں گے تاکہ مسلمان اس مسجد میں نماز پڑھیں اور اس جگہ سے برکت حاصل کریں۔
(الکشاف ج ٢ ص ۳۸۴، مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

 

قاضی احمد بن محمد خفا جی حنفی لکھتے ہیں :
غار کے دروازہ پر مسلمانوں کا مسجد بنانا اس پر دلالت کرتا ہے کہ صالحین کی قبروں کے پاس مسجد بنانا جائز ہے، جیسا کہ کشاف میں اس طرف اشارہ ہے اور اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ (عنایتۃ القاضی ج ٦ ص ۸۷ مطبوعہ دارصادر بیروت)

 

علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن محمود النسفی الحنفی لکھتے ہیں :
مسلمان اور ان کا بادشاہ جو اصحاب کہف کے معاملہ پر غالب تھے، انہوں نے کہا کہ ہم غار کے منہ پر مسجد بنائیں گے اور اس جگہ سے برکت حاصل کریں گے۔
(مدارک التنزیل علی ھامش الخازن ۲۰۶مطبوعہ دارالکتب العربیہ پشاور)
قاضی محمد ثناء اللہ نقشبندی  لکھتے ہیں :
یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اولیاء اللہ کے مقابر کے پاس مسجد بنانا جائز ہے تاکہ ان سے برکت حاصل کی جائے (الی قولہ) جن احادیث میں قبروں کے پاس نماز پڑھنے کی ممانتع آئی ہے ان کا محمل یہ ہے کہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھو، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(التفسیر المظہری ج ٦ ص ۲۳،۲۴ مطبوعہ بلوچستان بک ڈپو کوئٹہ)
قاضی ثناء اللہ نے صحیح مسلم کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے :
حضرت ابومرثد غنوی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبر پر نہ بیٹھو اور نہ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث :۹۷۲، سنن ابو دائو درقم الحدیث :۳۲۲۹سنن الترمذی رقم الحدیث :۱۰۵۰سنن النسائی رقم الحدیث :۷۶۰)۔
صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں :
اس (آیت) سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے مزارات کے قریب مسجدیں بنانا اہل ایمان کا قدیم طریقہ ہے اور قرآن کریم میں اس کا ذکر فرمانا اور اس کو منع نہ کرنا، اس فعل کے درست ہونے کی قوی ترین دلیل ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے جوار سے برکت حاصل ہوتی ہے۔ اسی لئے اہل اللہ کے مزارات پر لوگ حصول برکت کے لئے جایا کرتے ہیں اور اسی لئے قبروں کی زیارت سنت اور موجب ثواب ہے۔
(خزائن العرفان برحاشیہ کنزالایمان ص ۴۷۳طبوعہ تاج کمپنی، کراچی، لاہور)
مفتی محمد شفیع دیوبندی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس واقعہ سے اتنا معلوم ہوا کہ اولیاء صلحاء کی قبور کے پاس نماز کے لئے مسجد بنا دینا کوئی گناہ نہیں اور جس حدیث میں قبور انبیاء کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے مراد خود قبور کو سجدہ گاہ بنا دینا ہے جو باتفاق شرک و حرام ہے۔ )(مظہری) (معارف القرآن ج ٥ ص ۵۷۷طبوعہ ادارۃ المعارف کراچی)۔
محمد ادریس کا ندھلوی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
بالآخر جو لوگ اپنی بات میں غالب رہے یعنی بید روس اور اس کے اصحاب تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے یعنی ایک عبادت خانہ بنائیں گے
تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ خدائے وحدہ لاشریک کے عبادت گزار بندے تھے معبود نہ تھے، موحد تھے مشرک نہ تھے اور ان کی عبادت کے مناسب بھی یہی ہے کہ ان کی یادگار میں مسجد یعنی عبادت خانہ بنا دیا جائے۔ قبروں کو سجدہ گاہ بنانا ناجائز اور حرام ہے اور قبروں کے قریب مسجد بنانا جائز ہے۔ معاذ اللہ مسجد بنانے سے یہ غرض نہ تھی کہ لوگ ان کی قبروں کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھا کریں بلکہ غرض یہ تھی کہ صالحین کے قریب و جوار میں ایک عبادت خانہ بنا دیا جائے تاکہ لوگ ان کی طرح عبادت کیا کریں اور وہاں نمازیں پڑھا کریں اور ان کے قریب سے برکت حاصل کریں اور جس طرح اہل کہف بعث و نشور اور قیامت کے قائل تھے اسی طرح لوگوں کو چاہئے کہ مسجد میں حاضر ہو کر اللہ کی عبادت کریں اور آخرت کی تیاری کریں۔ اہل کہف کے ظاہر ہونے پر مومنین غالب ہوئے جو حشر و نشر اور قیامت کے قائل تھے اس لئے ان کی رائے یہ ہوئی کہ ان کی یاد میں مسجد بنا دی جائے جو آخرت کا بازار ہے، عبادت گزار بندوں کی یادگار میں ان کے قریب مسجد بنا دینا مناسب ہے جس میں دن رات اللہ کی عبادت ہوتی رہے۔(معارف القرآن ج ٤ ص ۴۰۵طبوعہ مکتبہ عثمانیہ جامعہ اشرفیہ لاہور۱۹۸۳ء
ان کثیر حوالہ جات سے واضح ہوگیا کہ مزار کے قریب مسجد بنانے کے فعل کو مودودی کا اپنی خودساختہ تفسیر میں گمراہانہ فعل لکھنا صحیح نہیں ہے۔ جیسا کہ مدارک کا حوالہ محشی علام نے اس حاشیہ سے دیا کہ مدارک میں لکھا ہے، جس میں مسلمان نماز پڑھیں اور ران کے قریب سے برکت حاصل کریں۔
یعنی اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے مزارات کے قریب مساجد بنانا اہل ایمان کا قدیم طریقہ ہے اور قرآن پاک میں اس کا ذکر فرمانا اور اسکو منع نہ کرنا اس فعل کے درست ہونے کی قوی ترین دلیل ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے جوار میں برکت حاصل ہوتی ہے اسلیئے اہلِ اللہ کے مزارات پرلوگ حصول برکت کے لیے جایا کرتے ہیں اور اسلیئے قبروں کی زیارت سنت اور موجب ثواب بھی ہے۔ جبکہ امام آلوسی کی پوری بات بیان کی جاچکی ہے کہ انہوں نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تحقیقِ حق کا حق ادا کردیا ہے۔ انہوں نے اس مقام پروہ احادیث ذکر کی ہیں جن میں قبروں پر مسجدیں بنانے سے منع فرمایا گیا ہے اور لکھا ہے کہ احادیث کا معنی یہ ہے کہ نفسِ قبر پر مسجد تعمیر کی جائے یا قبر کو مسجود الیہ بنایا جائے اور اسکے جواز کا کسی نے قول نہیں کیا اور یہاں ان لوگوں کا ان پر مسجد یں بنانا اس انداز سے نہیں جو ممنوع ہے اور جس کا قائل ملعون ہے۔ اس کے بعد عبارت پیش خدمت ہے کہ:۔
وانما ھو اتخاذُ مسجد عندھم قریباً من کھفھم۔۔۔۔۔۔ومثل ھٰذا الاتخاذِ لیس محظوراً اِذ غایۃ ما یلزم علیٰ ذٰلک ان یکون نسبۃ المسجد الیٰ الکھف الذی ھم فیہ کنسبۃ المسجد الیٰ المرقد المعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام ۔ (روح المعانی)۔

 

یعنی انہوں نے مسجد ان کے غار کے قریب بنائی تھی اور اسطرح کی مسجد بنانا شریعت میں ممنوع نہیں اس سے زیادہ سے زیادہ لازم آتا ہے کہ اس مسجد کی نسبت ان کے غارکی طرف کردی جائے جسطرح مسجدِ نبوی کی نسبت حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقدِ معظم کی طرف کی جاتی ہے۔
علامہ آلوسی کی اس روشن عبارت سے حق واضح ہوگیا ۔ شک دور ہوگیا اور بعینہ یہی چیز ہے جس کو فاضل محشی امام احمدرضا خان نے بیان فرمایا اور ان کی عبار ت علمائے کرام کی تصریحات سے بالکل ہم آہنگ ہے اسلیئے کسی شخص کے لیئے بہتر ہے پہلے تحقیق کرے اور پھر الزامات کی بوچھاڑ کی جائے ۔نیز ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جن احادیث میں قبور کو برابر کرنے کا ذکر آیاہے اس کی تفصیل تو مکاشفہ پر پڑھی جاسکتی ہے لیکن مختصراً یہاں تصویر سے واضح کیا جارہاہے کہ کفار کا اپنی قبروں کو بنانے کا کیا طریقہ تھا اور جسکی وجہ سے اسلام میں اسکی ممانعت آئی ہے وہ آخر کونسی اور کس قسم کی قبور ہیں۔ جن کو توڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ تصاویر میں ملاحظہ کرلیں ۔ مسلمان نہ ایسی قبور بناتے ہیں نہ ہی اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرتے ہیں ۔ لہٰذا منکرین ِ مزارات کو اپنے علم کی طرف توجہ دینی چاہیئے بجائے کٹر پٹر کرنے کے۔ شکریہ۔

Yahud wa Nasaara ki Ye hain wo wali Qabren jinke mutaliq barabar karne ka hukam aya hai lekin jisko Khawarij bilawaja Musalmano par Thopte hain ya Mazarat ko hadaf e tanqeed banate hain.

These are those graves according to Traditions, which are forbidden in Islam, neither of this type of graves can be found in Muslim graveyard. So all narrations are showing this way of mentality with graves. Not about Graves of Pious Muslims. For reading in English on this subject, kindly click here to access an old article in detail

forbidden-grave-structure_zpsyzh95fbm

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s