Tafsir-e-Kabeer-Imam-razi-Vol-15-P-216-(a)

Why Bismillah is Not There in Start of Surah Tawba [Ar/Ur]


سورۃ التوبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہ لکھنے کی توجیہات

[For Inpage Format Reading [Click Here]] . Scans Folder [Click here]

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سورۃ الانفال مثانی (جس سورت میں سے ایک سو سے کم آیتیں ہوں) سے ہے اور سورۃ البراء اس سے ( جس سورت میں ایک سو یا اس سے زیادہ آیتیں ہوں) سے ہے۔۔ اور آپ نے اس سورت کو السبع الطوال (سورۃ الفاتحہ کے بعد کی سات سورتیں جن میں ایک سو یا اس سے زیادہ آیتیں ہیں) میں درج کیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک زمانہ تک لمبی لمبی سورتیں نازل ہوتی رہیں، جب بھی آپ پر کوئی چیز نازل ہوتی تو آپ کسی لکھنے والے کو بلاتے اور فرماتے فلاں فلاں نام کی سورتوں میں لکھ دو، اور جب آپ پر کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ فرماتے اس آیت کو فلاں نام کی سورت میں لکھ دو، اور سورۃ الانفال مدینہ کے اوائل میں نازل ہوئی تھی ، اور سورۃ البراء قرآن کے آخر میں نازل ہوئی ہے، اور التوبہ کا قصہ الانفال کے قصہ سے مشابہ تھا، پس میں نے یہ گمان کیا کہ سورۃ البراءۃ الانفال کا جز ہے، پس اس وجہ سے میں نے ان دونوں سورتوں کو ملا کر رکھا، اور میں نے ان کے درمیان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی سطر نہیں لکھی اور میں نے اس سورت کو السبع الطوال میں درج کردیا۔
امام ابوعیسیٰ الترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہمارے علم کے مطابق حضرت ابن عباس سے اس حدیث کو صرف یزید فارسی نے روایت کیا ہے، نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ یزید فارسی یزید بن ہرمز ہے۔
حوالہ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث ۳۰۹۷، سنن ابوداود رقم الحدیث ۷۸۶ ، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث ۸۰۰۷ ، المستدرک الحاکم ج ۲ ص ۲۲۱،۔ حافظ ذھبی نے لکھا ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ تلخیص المستدرک ج ۲ ص ۲۲۱۔

حافظ جمال الدین ابوالحجاج یوسف المزی المتوفی ۷۴۲ ھ لکھتےہیں:۔
امام عبدالرحمٰن بن ابی حاتم نے کہا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ یزید بن ہرمز ، یزید فارسی ہے یا نہیں، عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا یزید فارسی ہی ابن ہرمز ہے، امام احمد بن حنبل نے بھی اسی طرح کہا ہے، یحییٰ بن سعید القطان نے اس کا انکار کیا ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں، انہوں نے کہا یہ شخص امراءکے ساتھ ہوتا تھا ، ابوہلال نے کہا یہ شخص عبیداللہ بن زیاد کا منشی تھا، امام ابن ابی حاتم نے کہا کہ یزید بن ہرمز ، یزید فارسی نہیں ہے۔
بحوالہ؛۔ تہذیب الکمال ج ۲۰ ص ۳۹۴ و ۳۹۳، رقم : ۷۶۵۶ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت
حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ کی بھی یہی تحقیق ہے کہ یزید فارسی ، یزید بن ہرمز نہیں ہے۔
بحوالہ تہذیب الکمال ج ۱۱ ص ۳۲۱۔ و تقریب التہذیب ص ۲۷۲ط قدیمہ مطبع فاروقی دھلی۔ و جلد ۲ ص ۳۳۳

اس بحث سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ معین نہیں ہوسکا کہ اس حدیث کا راوی یزید فارسی ہے یا یزید بن ہرمز۔
سند پر بحث کے علاوہ اس حدیث کا متن بھی مخدوش ہے، امام رازی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر اس بات کو جائز قرار دیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں بتایا تھا کہ سورۃ التوبہ کو سورۃ الانفال کے بعد رکھا جائے، اور بعض سورتوں کو ترتیب وحی کے موافق نہیں کی گئی بلکہ صحابہ نے اپنے اجتہاد سے ان میں ترتیب قائم کی تھی تو باقی سورتوں میں بھی یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ ان کی ترتیب بھی وحی سے نہ کی گئی ہو، بلکہ ایک سورت کی آیات میں بھی یہ احتمال ہوگا کہ ان آیتوں کی ترتیب بھی صحابہ نے اپنی رائے سے قائم کی ہو اور اس سے رافضیوں کے اس عقیدہ کو تقویت ہوگی کہ قرآن مجید میں زیادتی اور کمی کا ہونا جائز ہے۔ اور پھر قرآن مجید حجت نہیں رہے گا، اسلیئے صحیح یہی ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وحی سے مطلع ہوکر خود یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اس سورت کوسورۃ الانفال کے بعد رکھا جائے اور خود نبی علیہ السلام نے وحی سے مطلع ہوکر اس سورت کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو نہ لکھنے کا حکم فرمایا تھا۔
تفسیر کبیر ج ۵ ص ۵۲۱ مطبوعہ دارالاحیا التراث العربی بیروت۔ و طبع اول جلد ۱۵ ص ۲۱۶ مطابع البہیۃ المصریۃ

سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہ لکھنے کی صحیح وجہ تو یہی ہے جو امام رازی نے ذکر فرمائی ہے اس کے علاوہ علمائے کرام نے اور بھی توجیہات کی ہیں جو حسبِ ذیل ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے پوچھا کہ سورۃ البراٗۃ کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کیوں نہیں لکھی گئی؟ انہوں نے فرمایا۔ اسلیئے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم امان ہے اور البراۃ میں تلوار سے مارنے کی آیتیں ہیں اس میں امان نہیں ہے۔
المستدرک ج ۲ ص ۳۳۱ مطبوعہ دارالباز مکہ۔و۔ جز ۲،ص،۲۲۱ دارالمعرفۃ بیروت لبنان۔
مبرد سے بھی ایسی ہی توجیہہ مروی ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رحمت ہے اور البراءۃ اظہارِ غضب سے شروع ہوتی ہے، اسی کی مثال سفیان بن عیینہ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم رحمت ہے اور رحمت امان ہے اور پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو اسلیئے نہیں لکھا گیا کہ اس سورت سے پہلے جبریل علیہ السلام بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لے کر نازل نہیں ہوئے ۔
(بحوالہ۔ الجامع للحکام القرآن للقرطبی جز ۸ ص ۴۰ دارالفکر بیروت۔)۔
اور بعض علما نے یہ کہا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس میں اختلاف تھا کہ الانفال اور التوبہ الگ سورتیں ہیں یا
دونوں مل کر ایک سورت ہیں، کیونکہ مجموعی طور پر ان کی آیات دوسوچھ (۲۰۶) ہیں اور یہ طوال میں سے ایک ہیں، اور ان دونوں سورتوں میں قتال اور مغازی کا مضمون ہے، اس اختلاف کی بنا پر انہوں نے ان دونوں سورتوں کے درمیان خالی جگہ رکھی تاکہ اس سے ان لوگوں کے قول پر تنبیہہ ہو جوکہتے ہیں کہ یہ دو سورتیں ہیں تو انہوں نے ایسا عمل کیا جو صحابہ کرام کے اس اختلاف اور اشتباہ پر دلالت کرتا ہے، اور ان کا یہ عمل اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ دین کو منضبط کرنے میں اور قرآن مجید کو تغیر اور تحریف سے محفوظ رکھنے میں بہت متشدد تھے۔ اس سے رافضیوں کا قول باطل ہوجاتا ہے ۔ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سورۃ التوبہ اور سورۃ الانفال دونوں مل کر ایک سورت ہیں، ان کے قول کی اس سے تائید ہوتی ہے کہ سورۃ الانفال کے آخر میں ہے مومن ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہیں اور وہ کفار سے بالکل منقطع ہیں ۔ سورۃ التوبہ ، براۃ من اللہ ورسولہ سے شروع ہوتی ہے اور التوبہ کی ابتدا الانفال کے آخر کی تاکید ہے کیونکہ برات کا معنی ہے عصمت اور حفاظت کا منقطع ہونا تو الانفال کا آخر اور التوبہ کا اول دونوں کا حاصل مسلمانوں کا مشرکین کی ولایت اور ان کی حفاظت کو منقطع کرنا ہے۔
غرائب القرآن ورغائب القرآن ج ۳ ص ۴۲۸ مطبوعہ ۱۴۱۶ھ
سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنے میں ائمہ کے اقوال۔
سید محمود آلوسی الحنفی (رحمتہ اللہ علیہ) لکھتے ہیں؛۔
علامہ سخاوی سے جمال القراء میں یہ منقول ہے کہ سورۃ التوبہ کے اول میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو ترک کرنا مشہور ہے اور عاصم کی قراءٹ مین سورۃ البراءۃ کے اول میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مذکور ہے، اور قیاس کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ
بسم اللہ کو یا تو اسلیئے ترک کیا جائے گا کہ صحابہ کرام کو یہ یقین نہیں تھا کہ سورۃ التوبہ مستقل سورت ہے یا سورۃ الانفال کا جز ہے، اگر پہلی وجہ ہو تو پھر بسم اللہ کو ترک کرنا ان لوگوں کے ساتھ مختص ہوگا جن کو کفار اور منافقین کے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور ہم تو سورۃ التوبہ کو تبرکاً پڑھتے ہیں، اور اگر بسم اللہ کو اسوجہ سے ترک کیا گیا ہے کہ یہ سورۃ الانفال کا جز ہے تو سورتوں کے اجزا اور بعض آیات کو پڑھنے سے پہلے تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا جائز ہے اور روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مذکور ہے۔
ابن منادر کا موقف یہ ہے کہ سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو نہ پڑھنا مستحب ہے کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصحف میں سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مذکور نہیں ہے، اور اسکے سوا اور کسی مصحف کی اقتدا نہیں کی جاتی، بعض مشائخ شافعیہ نے یہ کہا ہے کہ سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ کو پڑھنا حرام ہے اور اس کا ترک واجب ہے، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص سورت کے درمیان سے قرات شروع کرے پھر بھی قرات سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
بحوالہ۔ روح المعانی ج ۱۰ ص ۴۲ داراحیا التراث

مفسر قرآن علامہ سعیدی رحمتہ اللہ علیہ کی رائے کے مطابق علامہ آلوسی کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے اور سورۃ التوبہ کے اول کو سورت کے درمیان سے قرات پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ سورۃ التوبہ کے اول میں بسم اللہ کو نہ پڑھنا مصحف عثمانی کے مطابق ہے، اور ظاہر ہے کہ ان کا یہ عمل رسول اللہ علیہ السلام کی اتباع پر محمول ہے لہٰذا سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ شریف کو نہ پڑھنے کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ بسم اللہ کو پڑھنے کی دلیل موجود ہے کیونکہ قرآن مجید خواہ کہیں سے بھی پڑھا جائے ایک مہتمم بالشان کام ہے اور ہر مہتمم بالشان کام سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو پڑھنا
مستحب ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہر وہ مہتم بالشان کام جس کو بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ ناتمام رہتا ہے۔
حافظ سیوطی نے اس حدیث کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن فضائل اعمال میں احادیثِ ضعیفہ معتبر ہیں۔
بحوالہ ؛۔ الجامع الصغیر ج ۲ ص ۲۷۷، رقم ۶۲۸۴، الجامع الکبیر ج ۶ ص ۴۳۰، رقم ۱۵۷۶۱، تاریخ بغداد ج ۵ ص ۷۷، کنز العمال ج ۱ رقم الحدیث ۲۴۹۱۔
حافظ سیوطی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو عبدالقادر رہادی نے اپنی اربعین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
نوٹ؛۔ جس طرح بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ابتدا کے متعلق حدیث ہے اسی طرح الحمدللہ سے ابتداٗ کے متعلق بھی حدیث ہے؛ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہر وہ مہتم بالشان کام جس کو الحمد للہ سے شروع نہ کیا جائے وہ ناتمام رہتا ہے۔
سنن ابوداود ۔ ح ۴۸۴۰۔ سنن ابن ماجہ ۔ح۔ ۱۸۱۵، مسند احمد ج ۳ ح ۸۷۲۰ ، سنن الکبریٰ للبیہقی ج ۳ ص ۲۰۹۔
ان دونوں حدیثوں میں اس طرح موافقت کی گئی ہے کہ بسم اللہ سے ابتدا، ابتداء حقیقی پر محمول ہے اور الحمدللہ سے ابتدا، ابتداء اضافی یا ابتداء عرفی پر محمول ہے اور یہی اسلوب قرآن مجید کے مطابق ہے۔ اسلیئے ہر اس کام کو جو شرعاً محمود ہو بسم اللہ سے شروع کرنا چاہیئے البتہ جو کام شرعاً مذموم ہو، اس کی ابتداء بسم اللہ سے کرنا جائز نہیں ہے۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s