Prophet Idris (alehi salam) – Enoch- Detail Urdu P 1


حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر قرآن میں
قرآن مجید میں حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے ، سورہ مریم میں اور سورہ انبیا میں
مریم ۵۶ ،و ۵۷ اور الانبیا ۸۵
حضرت ادریس علیہ السلام کے نام، نسب اور زمانہ کے متعلق مورخین کو سخت اختلاف ہے اور تمام اختلافی وجوہ کو سامنے رکھنے کے بعد بھی کوئی فیصلہ کن یا کم ازکم راجح رائے نہیں قائم کی جاسکتی، وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے تو اپنے مقصدِ رشد وہدایت کے پیش نظر تاریخی بحث سے جدا ہوکر صرف انکی نبوت، رفعت مرتبت اور انکی صفات عالیہ کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح حدیثی روایات بھی اس سے آگے نہیں جاتیں، اس لیئے اس سلسلہ میں جو کچھ بھی ہے وہ اسرائیلی روایات ہیں اور وہ بھی تضاد و اختلاف سے معمور، ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ نوح علیہ السلام کے جدِ امجد ہیں، اور انکا نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب ہے یا عربی زبان میں ادریس اور عبرانی یا سیریانی زبان میں ان کا نام اخنوخ ہے اور ان کا نسب نامہ یہ ہے
خنوخ یا اخنوخ (ادریس) بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم علیہ السلام ، ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ، کا رجحان اسی جانب ہے اوردوسری جماعت کا خیال ہے کہ وہ انبیاٗ بنی اسرائیل میں سے ہیں اور الیاس و ادریس ایک ہی ہستی کے نام اور لقب ہیں ۔ ان دونوں روایتوں کے پیش نظر بعض علما نے یہ تطبیق دینے کی سعی کی ہے کہ جدِ نوح علیہ السلام کا نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب اور بنی اسرائیل کے پیغمبر کا نام ادریس ہے اور الیاس لقب، مگر یہ رائے بے سند اور بے دلیل ہے، بلکہ قرآن کا الیاس اور ادریس کو جدا جدا بیان کرنا شاید اس کو متحمل نہ ہوسکے۔
اس سلسلے میں نوٹس آپ کو اس مبحث کے بارے میں فتح الباری ج ۶ ص ۲۸۸ اور البدایۃ والنہایۃ ابن کثیر کی تاریخ میں ۳۷، ۳۶ پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
حافظ عماد الدین ابن کثیر ان روایات کے ساتھ یہ بھی نقل فرماتے ہیں کہ بہت سے علمائے تفسیر و احکام کا یہ خیال ہے کہ حضرت ادریس ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے رمل کے کلمات ادا کیئے۔ (بحوالہ ابن کثیر ج۱ ص ۹۹) اور وہ ان کو (ہرمس) (الہراسہ) کا لقب دیتے ہیں اور انکی جانب بہت سی غلط باتیں منسوب کرتے ہیں جسطرح ان کے علاوہ بہت سے انبیا علما حکما اور اولیا اللہ کے متعلق منسوب کی گئی ہیں۔
ہرمن علم نجوم کے ماہر عالم کو کہتے ہیں اسلیئے ہرمس الہرامسہ کے معنی یہ ہیں کہ ماہرین علم نجوم کا استاذ اول، ہرمیس یونان کا ایک مشہور منجم بھی گزرا ہے
معراج کی صحیحین والی حدیث (بخاری باب الاسرا ، مسلم جلد ۱ باب الاسرا) میں صرف اسی قدر ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ادریس علیہ السلام سے چوتھے آسمان پر ملاقات کی۔ مگر مشہور مفسر ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں ہلال بن یساف کی سند سے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے دریافت کیا کہ حضرت ادریس علیہ السلام سے متعلق اس آیت ۔ (ورفعنٰہ مکاناً علیاً) کا کیا مطلب ہے؟ تو کعب نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام پر ایک مرتبہ یہ وحی نازل فرمائی۔ اے ادریس علیہ السلام تمام اہل دنیا جس قدر روزانہ نیک عمل کریں گے ان سب کے برابر میں تجھ کو ہردن اجر عطا کروں گا۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے یہ سنا تو ان کی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرے اعمال میں روز افزوں اضافہ ہو اسلیے عمر کا حصہ طویل ہوجائے تو اچھا ہے، انہوں نے وحی الٰہی اور اپنے اس خیال کو ایک رفیق فرشتہ پر ظاہر کرکے کہا کہ اس معاملہ میں فرشتہ موت سے گفتگو کرو تاکہ مجھ کو نیک اعمال کے اضافہ کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے، اس فرشتہ نے جب یہ سنا تو حضرت ادریس علیہ السلام کو اپنے بازوں میں بٹھا کر لے اڑا، جب یہ چوتھے آسمان سے گزر رہے تھے تو فرشتہ موت زمین کے لیئے اتر رہا تھا وہیں دونوں کی ملاقات ہوئی، دوست فرشتہ نے فرشتہ ٗ موت سے حضرت ادریس علیہ السلام کے معاملہ کے متعلق گفتگو کی، فرشتہ موت نے دریافت کیا۔ ادریس ہیں کہاں؟ اس نے کہا میری پشت پر سوار ہیں، فرشتہ موت کہنے لگا درگاہ الٰہی سے یہ حکم ہوا ہے کہ ادریس علیہ السلام کی روح چوتھے آسمان پر قبض کروں، اسلیئے میں سخت حیرت و تعجب میں تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ ادریس علیہ السلام زمین میں ہیں، اسی وقت فرشتہ موت نے ان کی روح قبض کرلی۔
یہ واقعہ نقل کرکے کعب احبار نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد (ورفعنٰہ مکاناً علیاً) کی یہی تفسیر ہے ، ابن جریر کی طرح ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔
ان ہردو نقول کو روایت کرنے کے بعد حافظ عماد الدین ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ سب اسرائیلی خرافات ہیں اور ان میں روایتی اعتبار سے بھی (نکارت) یعنی ناقابل اعتباریت ہے، اسلیئے صحیح تفسیر وہی ہے جو آیت کے ترجمہ میں بیان کی گئی۔
امام بخاری علیہ الرحمتہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ الیاس علیہ السلام کا نام ہی ادریس علیہ السلام ہے اور ان کے اس قول کی وجہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جو زہری رحمتہ اللہ علیہ نے معراج کے سلسلے میں بیان کی ہے اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیا علیہم السلام کی آسمان پر ملاقات کا جو ذکر ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جب آپ کی ملاقات حضرت ادریس علیہ السلام سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: مرحبا بالاخ الصالح (برادر نیک تمہارا آنا مبارک) پس اگر حضرت ادریس اخنوخ ہوتے تو حضرت آدم علیہ السلام و حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح (بالابن الصالح) کہتے یعنی نیک بھائی کی جگہ ۔ نیک بیٹے۔ کے ساتھ خطاب کرتے۔
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ دلیل کمزور ہے اسلیئے کہ اول تو یہ امکان ہے کہ اس طویل حدیث میں راوی الفاظ کی پوری حفاظت نہ کرسکاہو، دوم ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت قدر اور رفعت مرتبت کے پیش نظر انہوں نے پدری انتساب کو نمایاں نہ کیا ہو اور ازراہ تواضع برادرانہ حیثیت کو ہی طاہر کرنا مناسب سمجھا ہو۔
رہا حضرت آدم علیہ السلام و ابراہیم علیہ السلام کا معاملہ سو ایک ابوالبشر ہیں اور دوسرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ جلیل القدر اور رفیع الشان پیغمبر جن کے متعلق قرآن نے کہا ہے: ۰فاتبعوا ملۃ ابرٰھیم حنیفاً۔۔ آل عمران ۹۵؛ لہٰذا ان کا (ابن) کے ساتھ خطاب کرنا ہرطرح موزوں اور برمحل ہے۔
ابن کثیر نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام سے قبل کے نبی نہیں ہیں بلکہ انبیا بنی اسرائیل میں سے ایک نبی ہیں اور الیاس ہی ادریس علیہ السلام ہیں۔
تورات میں ان مقدس نبی کے متعلق صرف اسی قدر لکھا ہے؛۔
اورحنوک (اخنوخ) پینسٹھ برس کا ہوا کہ اس سے متوشلح پیدا ہوا اور متوشلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس ۳۰۰ خدا کے ساتھ چلتا تھا، اور اس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں اور حنوک کی ساری عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا، اور غائب ہوگیا ، اسلیئے کہ خدا نے اسے لے لیا۔
باب پیدائش ؛ آیت ۲۱، ۲۲ بائیبل
علامہ جمال الدین قطفی نے تاریخ الحکما میں حضرت ادریس علیہ السلام کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے ، حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق علما تفسیر اور اربابِ تاریخ و قصص نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بہت مشہور ہے ، اسلیئے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں، البتہ حکما اور فلاسفہ نے خصوصیت کے ساتھ ان کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ پیش ِ خدمت ہے۔
حضرت ادریس علیہ السلام کا مولد و منشا (جائے ولادت وپرورش) کہا ہے، اور انہوں نے نبوت سے پہلے کس سے علم حاصل کیا؟ حکما اور فلاسفہ کے اقوال ان مسائل میں مختلف ہیں۔
ایک فرقہ کی رائے ہے کہ ان کا نام ہرمس الہرامسہ ہے اور مصر کے قریہ منف میں پیدا ہوئے، یونانی ہرمس کو ارمیس کہتے ہیں، ارمیس کے معنی عطارد ہیں۔
اور دوسری جماعت کا خیال ہے کہ ان کا نام یونانی میں طرمیس، عبرانی میں اخنوخ ہے، اور قرآن مجید میں ان کو اللہ تعالیٰ نے ادریس کہا ہے یہی جماعت کہتی ہے کہ ان کے استاد کا نام غوثاذیمون یا اؑغوثا ذیمون (مصری) ہے ، وہ غوثا ذیمون کے متعلق اس سے زیادہ اور کچھ نہیں بتاتے کہ وہ یونان یا مصر کے انبیا میں سے ایک نبی ہیں، اور یہ جماعت ان کو ادرین دوم اور حضرت ادریس کو ادرین سوم کا لقب دیتی ہے، اور غوثا ذیمون کے معنی (سعد اور بہت نیک بخت) ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہرمس نے مصر سے نکل کر اقطاع عالم کی سیر کی اور تمام دنیا کو چھان ڈالا اور جب مصر واپس ہوئے تواللہ تعالیٰ نے ان کو بیاسی سال کی عمر میں اپنی جانب اٹھا لیا۔
ایک تیسری جماعت یہ کہتی ہے کہ ادریس علیہ السلام بابل میں پیدا ہوئے اور وہیں نشونما پائی اور اوائل عمر میں انہوں نے حضرت شیث بن آدم علیہ السلام سے علم حاصل کیا، علم کلام کے مشہور عالم علامہ شہرستانی کہتے ہیں کہ اغثاذیمون حضرت شیث علیہ السلام ہی کا نام ہے۔
بہرحال حضرت ادریس علیہ السلام سن شعور کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نےا ن کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ تب انہوں نے شریر اور مفسدوں کو راہ ہدایت کی تبلیغ شروع کی مگر مفسدوں نے ان کی ایک نہ سنی اور حضرت آدم وشیث علیہم السلام کے مخالف ہی رہے، البتہ ایک چھوٹی سی جماعت مشرف بہ اسلام ہوگئی۔
حضرت ادریس علیہ السلام نے جب یہ رنگ دیکھا تو وہاں سے ہجرت کا ارادہ کیا اور اپنے پیرووں کو بھی ہجرت کی تلقین کی، پیروانِ ادریس نے جب یہ سنا تو ان کو ترک وطن بہت شاق گزرا اور کہنے لگے کہ بابل جیسا وطن ہم کو کہاں نصیب ہوسکتا ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم یہ تکلیف اللہ کی راہ میں اٹھاتے ہو تو اسکی رحمت وسیع ہے وہ اسکا نعم البدل ضرور عطا کرے گی، پس ہمت نہ ہارو اور خدا کے احکام کے سامنے سرنیازِجھکا دو۔
مسلمانوں کی رضامندی کے بعد حضرت ادریس علیہ السلام اور ان کی جماعت مصر کی جانب ہجرت کرگئی، جماعت نے جب نیل کی روانی اور اسکی سرزمین کی شادابی دیکھی تو بہت خوش ہوئی ، اور حضرت ادریس علیہ السلام نے یہ دیکھ کر اپنی جماعت سے فرمایا، بابلیون (تمہارے بابل کی طرح شاداب مقام) اور ایک بہترین جگہ منتخب کرکے نیل کے کنارے بس گئے حضرت ادریس علیہ السلام کے اس جملہ (بابلیون) نے ایسی شہرت پائی کہ عرب کے علاوہ قدیم اقوام بھی اس سرزمین کو بابیلون ہی کہنے لگیں، البتہ عرب نے اس کا نام مصر بتایا اور اسکی وجہ تسمیہ یہ سنائی کہ طوفان نوح علیہ السلام کے بعد یہ مصر بن حام کی نسل کا مسکن و موطن بنا ہے۔
معلومات؛ ارمیس یا ہرمیس یونان کا ایک مشہور منجم اور ماہر فلکیات حکیم تھا اسی لیئے اسکو ارمیس (عطارد کہتے تھے، یونانی غلطی سے ادریس اور ارمیس کو ایک ہی شخص تسلیم کرتے ہیں حالانکہ ایسی فاش غلطی ہے جس کے لیئے کوئی دلیل نہیں)۔ بابل کے معنی نہر کے ہیں اور چونکہ بابل دجلہ وفرات کی نہروں سے سرسبز وشاداب تھا اسلیئے اس نام سے موسوم ہوگیا، یہ عراق کا مشہور شہر تھا جو فنا ہوگیا۔ عراق کہ جسکو قدیم میں میسوپوٹیمیا کہتے تھے۔ جبکہ بابی لون کے معنی میں مختلف اقوال ہیں، مثلاً تمہاری طرح کی نہر، مبارک نہر، مگر سب سے بہتر قول یہ ہے کہ (یون) سریانی میں تفضیل کی علامت ہے اور معنی ہیں (بڑی نہر)۔
حضرت ادریس علیہ السلام اور ان کے پیرو جماعت نے جب مصر میں سکونت اختیار کرلی تو یہاں بھی انہوں نے پیغام الٰہی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض انجام دینا شروع کردیا کہا جاتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بہتر (۷۲) زبانین بولی جاتی تھیں، اور اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش سے یہ وقت کی تمام زبانوں کے زبان دان تھے، اور ہرایک جماعت کو اسی کی زبان میں تبلیغ فرمایا کرتے تھے۔
حضرت ادریس علیہ السلام نے دین الٰہی کے پیغام کے علاوہ سیاست، مدن شہری زندگی اور بود وماند کے متمدن طریقوں کی بھی تعلیم وتلقین کی اور اسکے لیئے انہوں نے ہرایک فرقہ جماعت سے طلبہ جمع کئے اور انکی مدنی سیاست اور اسکے اصول وقواعد سکھائے، جب یہ طلبہ کامل وماہرین بن کر اپنے قبائل کی طرف لوٹے تو انہوں نے شہر اور بستیاں آباد کیں جن کو مدنی اصول پر بسایا، ان شہروں کی تعداد کم وبیش ۲۰۰ کے قریب تھی جن میں سے سب سے چھوٹا شہر (ربا، یا رہا) تھا، حضرت ادریس علیہ السلام نے ان طلبہ کو دوسرے علوم کی بھی تعلیم دی جس میں علم حکمت اور علم نجوم جیسے علوم بھی شامل ہیں۔
حضرت ادریس علیہ السلام وہ پہلی ہستی ہیں جنہوں نے علم وحکمت اور نجوم کی ابتدا کی، اسلیئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو افلاک اور انکی ترکیب، کواکب اور ان کے اجتماع وافتراق کے نقاط اور ان کے باہم کشش کے رموز و اسرار کی تعلیم دی ، اور ان کو علم عدد و حساب کا عالم بنایا، اور اگر اس پیغمبر خدا کے ذریعہ ان علوم کا اکتشاف نہ ہوتا تو انسانی طبائع کی وہاں تک رسائی مشکل تھی، انہوں نے مختلف گروہوں اور امتوں کے لیئے ان کے مناسب حال قوانین وقواعد مقرر فرمائے اور اقطاع عالم کو چار حصوں میں منقسم کرکے ہر ربع کے لیئے ایک حاکم مقرر کیا جو اس حصہ زمین کی سیاست و ملوکیت کا ذمہ دار قرار پایا، اور ان چاروں کے لیئے ضروری قرار دیا کہ تمام قوانین سے مقدم شریعت کا وہ قانون رہے گا جس کی تعلیم وحی الٰہی کے ذریعے میں نے تم کو دی ہے، اس سلسلہ کے سب سے پہلے چار بادشاہوں کے نام حسبِ ذیل ہیں
۱۔ ایلاوس (بمعنی رحیم)۔
۲۔ زوس
۳۔اسقلیبوس
۴۔زوسامون یا ایلاوس امون یا بسیلوس
حضرت ادریس کی تعلیمات کا خلاصہ ۔ اگلی قسط میں
Advertisements

3 thoughts on “Prophet Idris (alehi salam) – Enoch- Detail Urdu P 1”

      1. Jazzak Allah, if you have any question about some of the other stuff I’ve written let me know, some of it can get pretty scientific and it’s based on an advanced understanding of physics.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s