Exposing Lies in Deobandi Fatwas


Ashampoo_Snap_2016.04.13_22h37m08s_005_

Ashampoo_Snap_2016.04.13_22h35m48s_004_Reader

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ الصلوٰۃ والسلام علیٰ افضل الانبیاء والمرسلین
دوستو! یہ جو سکین آپ دیوبند کے فتوے کا دیکھ رہے ہیں یہ بزرگوں کے ہاتھ اور پیر چومنے سے متعلق ہے۔ جس کے جواب میں انہوں نے جو فتویٰ دیا ہے وہ کسقدر مکاری ، خیانت اور قصداً جہالت سے بھرا ہوا ہے اس کا اندازہ ابھی آپ کو دو منٹ میں ہماری تحریر پڑھ کر ہوجائے گا۔ مختصراً یوں سمجھ لیں کہ جیسے سوال کچھ اور پوچھا گیا ہے اور مولوی ء دیوبند حضرات نے اسکے جواب میں وہ بے مثال ڈنڈی ماری ہے کہ جس سے انکی علمی قابلیت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا ہے۔
اس کے مختصر جواب میں انہوں نے وکیلوں کی طرح الفاظ سے کھیل کر ثقیل الفاظ کے ذریعے پڑھنے والے احمقوں کو نایاب دھوکا دینے کی کوشش کی ہے۔ جیسے کہ انہوں نے لکھا ہے۔
احوط وارجح عدم تقبیل رجلین ہے۔ بعض صورتوں میں مشابہ سجدہ کے ہوجاتی ہے اور تقبیل ارض بین یدی العلماء والمشائخ باتفاق حرام و کبیرہ گناہ ہے۔
اب ایک منٹ رک جائیں اور اس جملے کی خباثت مکاری اور عیاری سمجھیں۔
سوال کیا گیا ہے کہ آیا بزرگوں کے پیروں کو ہاتھوں وغیرہ کو بوسہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں تو جواب میں موصوف دیوگندی علماء نے رد یہ کہہ کر دینے کی کوشش کررہے ہیں اور ثقیل الفاظ کے آسان معنیٰ یہ ہیں کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ علماء اور مشائخ کے مابین زمین چومنا باتفاق حرام ہے۔
غور کریں سوال ہاتھ پیر کے چومنے کا ہورہا ہے جس کا جواب مکاری کے ساتھ ثقیل الفاظ کے چناؤ کےساتھ وہ دیا جارہا ہے جو کہ بنتا ہی نہیں ۔ پھر درمحتار کی ایک ایسی روایت دی ہے کہ جو بتا رہی ہے کہ زمین کا چومنا علما اور بزرگوں کے سامنے حرام ہے۔ اب نہ کوئی صوفی زمین کو چومتا ہے اور نہ ہی سجدہ کرتا ہے لہٰذا اس پر تو کوئی بحث ہی نہیں اور جتنی تفصیل دی ہے وہ زمین چومنے کے متعلق دی ہے اس میں ہاتھ اور پیر کے چومنے کا سرے سے کوئی جواب ہی نہیں دیا گیا سوائے شروع میں مکاری دکھانے کے۔ اسکو کہتے ہیں سوال چنا جواب گندم
اب جو پڑھنے والا ہے اگر تو اسکا علم اتنا نہیں ہے تو وہ تو یہی پہلی نظر میں سمجھے گا کہ بھائی ہاتھ پیر چومنا ، زمین چومنا ہے اور دونوں ایک چیز ہوئے اور یوں دیوبندیوں نے بڑی کامیابی اور شاطرانہ چال کے ذریعے وہابی عقیدے کو (حنفیت) کے لباس پہنا کر عام عوام کو بیچ دیا مذہبی دکانداری کی خاطر۔
اب ذران مکار خائن بدکردار فیبریکیٹڈ کرپٹ مولویوں کو اصلی اہل سنت وجماعت یعنی ہم عاجز صوفیاء کا جواب پیش خدمت ہے اور عام عوام بھی اس کو اچھی طرح سمجھ لے
پہلی بات تو یہ جان لیں کہ تبرکات ہوں یا بزرگانِ دین کے ہاتھ پاؤں ، یا والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا وہ بالکل شرعی طور پر جائز روا اور باعث برکت ہیں اس کا بنیادی ثبوت یہ رہا کہ
قرآن کریم فرماتا ہے ؛ وادخلوا الباب سجداً وقولوا حطۃ (پارہ 1 سورہ 2 آیت نمبر 58) یعنی اے بنی اسرائیل تم بیت المقدس میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں۔ اس آیت سے یہ پتہ لگا کہ بیت المقدس جو انبیاء کرام کی آرام گاہ ہے اس کی تعظیم اسطرح کرائی گئی کہ وہاں بنی اسرائیل کو سجدہ کرتے ہوئے جانے کا حکم دیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مقدس مقامات پر توبہ جلد قبول ہوتی ہے۔ مشکوٰۃ باب المصافحۃ والمعانقہ فصل ثانی میں ہے۔
وعن ذراع وکان فی وفد عبدالقیس قال لما قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبادر من رواحلنا فتقبل ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلہ
ترجمہ؛۔ حضرت ذراع سے مروی ہے اور یہ وفد عبدالقیس میں تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو اپنی سواریوں سے اترنے میں جلدی کرنے لگے پس ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے۔
حوالہ جات؛۔
الادب المفرد امام بخاری ص ۲۶۵ رقم الحدیث ۱۰۰۴
سنن ابوداود ص ۷۸۶ ح ۵۶۶۵
شعب الایمان ج ۶ ص ۴۷۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت
دلائل النبوۃ امام بیہقی ج ۵ ص ۳۲۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت
طبرانی کبیر ج ۵ رقم الحدیث ۵۳۱۳
طبرانی الاوسط ج ۱ ص ۱۳۳
التاریخ الکبیر ج ۳ ص ۴۴۷
مشکوٰۃ باب الکبائر وعلامات النفاق میں حضرت صفوان بن عسال سے روایت ہے
ترجمہ؛۔ پس انہوں نے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پاوں چومے
حوالہ جات؛۔
سنن الترمذی ص ۷۷۰ رقم الحدیث ۲۷۳۸
شرح معانی الآثار ج ۳ ص ۲۱۵
سنن النسائی ص ۵۹۴ رقم الحدیث ۴۰۸۰
سنن الکبریٰ للنسائی ج ۲ ص ۳۰۶ رقم الحدیث ۳۵۴۱
سنن ابن ماجہ ص ۵۵۹ رقم الحدیث ۳۷۰۵
طبرانی کبیر ج ۸ ص ۶۹ حدیث ۷۳۹۶ مطبوعہ مکتبۃ العلوم والحکم الموصل عراق
مصنف ابن ابی شیبہ ج ۵ ص ۲۹۲ رقم الحدیث ۲۶۲۰ مکتبۃ الرشد ریاض
مشکوٰۃ شریف ہی کی باب مایقال عند من حضرۃ الموت بروایت ابوداود میں ہے
عن عائشۃ قالت قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عثمان ابن مظعون وھو میت
ترجمہ:۔ حضور علیہ السلام نے عثمان ابن مظعون کو بوسہ دیا حالانکہ ان کا انتقال ہوچکا تھا۔
حوالہ جات
متدرک الحاکم ج ۳ ص ۲۰۹ ح ۴۸۴۸
سنن ابن ماجہ باب ماجا فی تقبیل المیت رقم الحدیث ۱۴۵۶
مسند احمد ج ۶ ص ۴۳
سنن ابوداود ج ۳ ص ۲۰۱ رقم الحدیث ۳۱۶۳ دارالفکر بیروت
شفا شریف میں ہے۔
ترجمہ ؛ جس منبر پر حضور علیہا لسلام خطبہ فرماتے تھے اس پر حضرت عبداللہ ابن عمر اپنا ہاتھ لگاکر منہ پر رکھتے تھے (چومتے تھے) شرح بخاری لابن حجر پارہ ششم ۶ صفحہ ۱۵ میں ہے۔ ارکانِ کعبہ کے چومنے سے بعض علما نے بزرگانِ دین وغیرہم کے تبرکات کا چومنا ثابت کیا ہے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ حضور علیہ السلام کام منبر یا قبر انور چومنا کیسا ہے؟ فرمایا کوئی حرج نہیں اور ابن ابی الصنف یمانی سے جو کہ مکہ کے علماٗ شافعیہ میں سے ہیں منقول ہے ۔ قرآن کریم اور حدیث کے اوراق بزرگان دین کی قبریں چومنا جائز ہیں
حوالہ؛ شفا شریف ج ۲ ص ۷۰ مطبوعہ مصطفیٰ البابی الحلبی مصر
توشیخ میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں؛۔
استنبط بعض العارفین من تقبیل الحجر الاسود تقبیل قبور الصٰلحین
ترجمہ؛۔ حجرالاسود کے چومنے سے بعض عارفین نے بزرگانِ دین کی قبروں کا چومنا ثابت کیا ہے۔
صحابہ کے عمل پر ایک مشہور حدیث (یوں کئی اور ہم نے اپنے انگلش آرٹیکل میں دیے ہیں وہاں دیکھیئے)۔
امام احمد بن حنبل سے روایت ہے
ترجمہ؛۔ حضرت داود بن ابی صالح رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مروان آیا تو اس نے ایک آدمی (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی) قبر انور پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے پایا تو اسے ، اس کی گردن سے پکڑ کر کہا کیا تو جانتا ہے تو کیا کررہا ہے؟۔ اس نے جواب دیا ! ہاں تو جب اس نے توجہ کی تو وہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے تو انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ علیہ السلام کے پاس آیا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں۔ میں نے رسول اللہ علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ دین پر مت رویاکرو جب اس کا ولی اہل دین ہو لیکن اسوقت رویا کرو جب اسکا ولی نا اہل ہو۔
حوالہ جات؛۔
مسند احمد ج ۵ ص ۴۲۲ رقم الحدیث ۲۳۶۳۳ موسسۃ قرطبۃ مصر
تاریخ مدینۃ الدمشق ج ۵۷ ص ۲۵۹
امام محمد بن عبداللہ ابوعبداللہ حاکم النیشاپوری نے بھی اسی حدیث کو اپنی مستدرک میں کتاب الفتن والملاحم کے باب میں ج ۴ ص ۵۶۰ ح ۸۵۷۱ پر بیان کیا ہے اور
طبرانی کبیر ج ۴ ص ۱۵۸ رقم الحدیث ۳۹۹۹ ، طبرانی الاوسط ج ۱۰ ص ۱۴۴ رقم الحدیث ۹۳۶۶ مطبوعہ دارالحرمین القاھرۃ مصر میں بھی بیان کیا ہے۔
امام علی بن ابی بکر ہیثمی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یاپنی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد باب ولایۃ اھلھا ج ۵ ص ۲۴۵ دارالکتب العربی بیروت میں بیان کیا اور امام سید نورالدین سمہودی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے وفاٗ الوفا ج ۴ ص ۱۳۵۶ مطبوعہ بیروت پر لکھا ہے (رواہ احمد بسند حسن)۔ یعنی احمد والی روایت کی سندحسن ہے۔
ایسے ہی امام ذہبی نے ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں موئے مبارک سے برکت توسل اور شفا کا ذکر خود سیدنا امام احمد بن حنبل فرما رہے ہیں اور اسکا حوالہ ہےسیراعلام النبلا ج ۱۱ ص ۲۱۲ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت
امام ذہبی نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی وہ مشہور حدیث بھی ذکر کی ہے جس میں آپ قبر انور پر اپنا چہرہ ملنے لگتے ہیںاور بوسہ دیتے ہیں۔
حوالہ سیر اعلام النبلا ج ۱ ص ۳۵۸ ۔ شفا السقام فی زیارت خیرالانام ص ۳۹ مطبوعہ حیدرآباد دکن ۔ نیل الاوطار شوکانی ج ۵ ص ۱۸۰ مطبوعہ دارالجیل بیروت میں بھی ذکر ہے۔
الجوھر المنظم محدث ابن حجر مکی کی عظیم تصنیف ہے اسکے اردو ترجمہ ص ۱۰۴ پر بھی جید سند سے بلال رضی اللہ عنہ کی یہی حدیث مروی ہے مطبوعہ مرکز تحقیقات اسلامیہ لاہور۔
اب ذرا دیوبندیوں کے اپنے گھر سے گواہی بھی پڑھ لیں۔
مولانا عبدالحکیم لکھنوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں؛۔
وفی مطالب المومنین ولاباس بتقبیل قبر والدیہ کما فی کفایۃ الشعبی ان رجلا جاٗ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی حلفت ان اقبل عتبۃ باب الجنۃ فامر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یقبل رجل ووجہ الاب ویدوی انہ قال یارسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم ان لم یکن ابوان فقال قبل قبر ھما قال فان لم اعرف قبر ھما قال حط خطین وانوبان احدھما قبرالام والآخر قبر الاب فقلبھا فلا تحنث فی یمینک کذا فی مغفرۃ الغفور فی زیارۃ القبور
ترجمہ؛
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ رسول اللہ علیہ السلام میں نے آستانِ جنت چومنے کی قسم کھائی تھی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ماں کے پاوں اور باپ کی پیشانی چومے مروی ہے کہ اس نے عرض کیاکہ اگر میرے ماں باپ نہ ہوں تو فرمایا ان دونوں کی قبروں کو بوسہ دے عرض کیا کہ اگر قبریں معلوم نہ وہں تو فرمایا دو خط کھینچ اور نیت کر کہ ایک ان میں سے ماں کی قبر ہے اور دوسری باپ کی ، ان دونوں کو بوسہ دے تیری قسم اتر جائے گی۔۔
حوالہ؛ نورالایمان مطبوعہ لکھنو ہندوستان ۔ حاشیہ شرح الیاس ج ۲ ص ۳۰۳ مطبوعہ قصہ خوانی پشاور
ہم حنفیوں کے امام بدر الدین عینی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛۔
محب طبری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا حجر اسود اور دیگر ارکان کو بوسہ دینے سے ہر اس چیز کو بوسہ دینے کا جواز ثابت ہوتا ہے جس کو بوسہ دینے میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہو، کیونکہ اس سلسلے میں اگر کسی حدیث میں تعظیم کا حکم نہیں آیا ہے تو کسی حدیث میں اس کی ممانعت یا کراہت بھی نہیں آئی ہے اور میرے جد محمد بن ابی بکر، محمد بن ابی صیف رحمتہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ بعض حضرات جب مصاحف کو دیکھتے ہیں تو ان کو بوسہ دیتے ہیں اور جب احادیث کے اوراق کو دیکھتے ہیں تو انہیں بوسہ دیتے ہیں اور جب صالحین کی قبروں کو دیکھتے تو انہیں بوسہ دیتے اور یہ بات بعید نہیں ہے۔
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج ۹ ص ۲۴۱ مصر
انورشاہ کشمیری دیوبندی لکھتے ہیں؛۔
حجر اسود کو بوسہ دینا شرعاً ثابت ہے اسلیئے یہ صالحین کے تبرکات کو بوسہ دینے کی اصل ہے ۔حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے مصحف کو بوسہ دیا اور امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے روضہ مطہرہ کے بوسہ دینے کو جائز کہا ۔ حافظ ابن تیمیہ اس سے حیران ہوئے کیونکہ یہ ان کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
فیض الباری ج ۳ ص ۹۶ مطبوعہ حجازی مصر
یعنی ثابت ہوا کہ دیوبندی فتوے نے جو لکھا ہے انتہائی جہالت اور مکاری کے ساتھ ابن تیمیہ کے دھرم کو فروغ دیا ہے ان کا حنفیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے دور دور تک بھی۔
اگر اس جواب سے بھی تسلی نہ ہوئی ہو تو دیگر ہزار حوالہ جات بھی پیش کیئے جاسکتے ہیں
اور (احوط ) والے ثقیل الفاظ کا علمی جواب یہ رہا کہ
وہ جو احوط کے خلاف ہو وہ نہ حرام ہے اور نہ مکروہ تحریمی جیسا کہ اصح و راجح کا مقابل حرام نہیں بلکہ وہ صحٰح وراجح اور اس پر عمل جائز ہے۔ اور یہ اہل علم پر مخفی نہیں جو اس کی تحقیق مزید چاہتا ہے اسے شامی کی طرف رجوع کرنا چاہیئے اور یہ قول کہ یہ نصاریٰ کی عادات سے ہے تو اس کے کیا ہووہ نصاریٰ کا شعار کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ صحابہ کرام نصاریٰ کے شعار کو ہم سے زیادہ جانتے تھے وہ کیسے نصاریٰ کا شعار ہوجائے گا تو یہ فعل قطعاً حرام نہ ہوا۔ (بلکہ مباح ہوا)۔
حوالہ؛ از فتوٰی محدث مجدد ملت حضرت امام احمد رضا خان قادری حنفی ماتریدی بریلوی
تو یہ ہے اصل میں ان کے غلط کاریوں کے جوابات ، جب یہ جہلاٗ ایسے فتوے چھاپتے ہیں تو ظاہر ہے اسی لیئے تو گمراہی اور فرقہ پرستی پھیلتی ہے ۔ اس کے اصل ذمہ دار یہی وہابی دیوبندی ڈھونگی ہیں یہ تبلیغی مکار جنہوں نے اسلام کے لبادے میں فری میسنیت یعنی وہابیت دیوبندیت کا ننگا ناچ رچا رکھا ہےاور مذہب کو کاروبار بنا کر پیسے ریال شیکل اور ڈالر چھاپ رہے ہیں۔
اللہ ان گمراہوں کو ھدایت دے اور یاپھر ہمیں ان کے فتنوں سے نجات۔
آمین بجاہ النبی علیہ السلام ۔ یا رب العالمین

 

 

Advertisements

2 thoughts on “Exposing Lies in Deobandi Fatwas”

  1. Deobandi’s are a group created by the salafi’s this is their history.

    The Salafi group where originally a separatist group created by the british 100 years ago in Egypt to topple the Egyptian government, the British created a number of groups back then throughout Ottoman lands aimed at weakening it, eventually they succeeded after WW1. But after WW2 when the British Empire was succeeded by the US they inherited all the British allies including the Salafi sect who switched allegiance. This is why today in every western country Salafi groups dominate islamic communities and not the orthodox madhhabs who represent 99% of muslims, it is because the west supports them and uses them for separatist activities in their lands and the muslim world they dominate the media, (deobandi’s are part of that effort today). In the following book Chapters 13 and 14 of the research notes covers the origins of the Salafi’s and the history of the leaders who created them 100 years ago….just like the west is run by occult societies this group as well as the deobandi’s is also occult: http://ghayb.com/syria-and-signs-of-the-hour/

    13) Divide and Conquer: Heretical Separatists In Islamic lands
    14) Nationalism Is Created In Egypt

    I live in an area dominated by salafi’s and deobandi’s, if you’ve been attacked with sihr in your life and can recognise it, you know not to walk into their masjids, I’ve seen it first hand.

    1. I should make a minor correction, the deobandi’s where created by the same effort that created the salafi’s, in our time salaf’i’ practices dominate that group.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s