putlighar

Kahani Putliyon Ki [Ur] [Short Story]


 دو دوستوں کی ایک مختصر کتھا، استعاراتی کہانی کی صورت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ رستے پر چلتے ہوئے سوچتا جا رہا تھا، اور اسکے دماغ میں خیالات کی ایک برقی رو گزرتی جارہی تھی، اسکے ذہن میں وہ بحث گھوم رہی تھی جو اسکے ایک دوست نے کافی عرصے سے اس سے چھیڑ رکھی تھی، اور وہ بحث خدا کے تصور سے متعلق تھی۔ خدا، خالق یا گاڈ کے تصور سے متعلق اس نظریے کے خلاف اسکے دوست نے اسکو کچھ ایسے دلائل دیئے تھے جو موجودہ دور کے ملحد اکثر پیش کرتے ہیں اور روایتی باتوں کی طرح یہ باتیں ہوتی ہوتی اس نہج پر آن پہنچی تھیں جہاں پر یہ سوال ذاتی زندگیوں تجربوں کے تناظر میں پرکھا جانا ایک فطری امر سا ہوجاتا ہے۔ اور اسی کے تعاقب میں اسکے دوست نے اسکو اپنی طرف سے چند ایسی باتیں کی تھیں کہ جس کا جواب اسکے پاس نہ تھا۔ اور ان سب کا نچوڑ یہ تھا کہ خدا کا تصور انسان کا اپنا تراشیدہ تصور ہے۔ اور یہ کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، جو کچھ ہے یہی ہے جو مادی طور پر موجود ہے۔ جنت جہنم،انصاف،سزا،آخرت یہ سب انسانوں کی اپنی تراش ہیں جسکا زمان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ سب کچھ اگر ہستی کے طور پر مانا جائے تو صرف یہ لامحدود زمانہ ہی ہے۔ ایسے ہی نظریات پر دلائل اور اسکے رد کی جو بحث چلی تو چلتی ہی چلی گئی اور اب شام کے سائے پھیلتے جارہے تھے ۔ اس نے اپنے دوست سے کہا کہ اب چلنا چاہیئے باقی کی بحث کل پر ادھار رکھی جائے۔ دراصل وہ کچھ وقت چاہتا تھا تاکہ اپنے دوست کے نظریات کو کسی ایسی ٹھوس چیز اور عقلی دلیل سے رد کرسکے اور کچھ اس پر تھکن بھی سوار تھی۔ اسکا دوست بھی تیار ہوگیا کہ چلنا چاہیئے اور چونکے دونوں ایک ہی جگہ کے رہنے والے بھی تھے اسلیئے قہوہ خانے سے نکل کر دونوں نے چلنا شروع کردیا۔ ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر باتیں بھی کرتے جاتے۔ اپنے علاقے کی حدود میں داخل ہوتے وقت انکی نظریں وہاں پر خانہ بدوشوں کے جھونپڑوں پر پڑی جہاں پر اسوقت شام ڈھلتے ہی بڑی گہماگہمی نظر آرہی تھی۔ پاس سے گزرتے ہوئے ایک مانوس بچے کو روک کر اس نے اس سے سوال کیا۔ چھوٹے کیا بات ہے بڑے خوش پھر رہے ہو یہ گہماگہمی کس چیز کی ہے۔ بچے نے بڑی مسرت کے ساتھ آنکھیں پھیلا کر اسکو کہا انکل کچھ دیر میں پتلی تماشہ شروع ہوجائے گا۔ ھووووں! تو یہ بات ہے۔ کہہ کر اس نے بچے کی طرف سے نظریں ہٹا کر اپنے دوست کے چہرے پر جما دیں ، بچہ اتنی دیر میں اچھلتا کودتا ہوا آگے جاچکا تھا۔ گاؤں کے لوگوں کے لیئے بنجارے تفریح کا ہی سامان لاتے تھے اور جواب میں گاؤں والے غلے سے ان کی مہمان نوازی کرکے اپنا فریضہ ادا کرتے اور یوں یہ سلسلہ کئی سال سے چلا آرہا تھا۔ اسکا دوست اسکی اس لمبی ھوووں کو دیکھ کر اور اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو سمجھ کر مخاطب ہوا۔ مجھے لگتا ہے اب ہم گھر تو جانہیں سکیں گے کیوں نہ ہم بھی پتلی تماشے سے لطف اندوز ہوں؟ ویسے بھی شہروں کی زندگی سے دور یہاں آکر کچھ وقت تفریح ہی تو کرنی ہے ہمیں کیا خیال ہے تمہارا؟۔ وہ بھی مسکرا دیا اور فوراً بولا میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ چلو آج ہم بھی دیکھیں کہ کیا تبدیلی آگئی پتلی تماشوں میں جب ہم بچپن میں آیا کرتے تھے کیا زمانے کے ساتھ ساتھ یہ فن بھی ختم ہوگیا۔

دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کی رضا دیکھ کر بنجاروں کے خیموں کی طرف قدم بڑھانے شروع کردیئے۔ ہر طرف ایک سماں طاری تھا اور گاؤں کے خاموش پرسکون جھیل جیسے پانیوں کے آس پاس تنی خیمہ بستیوں میں روشنیاں ہورہی تھیں۔ کہیں پر کھابے لگے ہوئے تھے تو کہیں پر دیہاتی رقص سے لطف اندوز ہورہے تھے، کہیں پر مداری اپنے کرتب سے سامعین کو محظوظ کررہے تھے۔ دونوں کے چہرے پر رونق اور دلچسپی چھا گئی اور وہ بھی دیہاتیوں کی مسرت میں خود کو مگن محسوس کرنے لگے۔ خیموں کے درمیاں سب سے بڑے خیمے پر بڑا ہلہ گلہ تھا۔ اور گاؤں کے بچے اور بڑے جوق درجوق وہاں گھس رہے تھے۔ شاید یہی پتلی تماشے کا خیمہ تھا۔ دونوں دوستوں نے دلچسپی سے اس طرف چلنا شروع کردیا۔ اور قریب پہنچ کر دیگر لوگوں کی طرح اندر داخل ہوگئے۔ سامنے ہی ایک چھوٹا سا اسٹیج لگا ہوا تھا جس پر ایک میز پڑی تھی۔ تماشہ ابھی شروع نہ ہوا تھا۔ ایک طرف لوگوں کے بیٹھنے کے لیئے ایک قطار میں بینچ پڑے تھا جس پر بچے بڑے بیٹھتے جارہے تھے اور وہ خیمہ جو کہ خاصا بڑا تھا پوری طرح سے ابھی نہ بھرا تھا۔ دونوں دوستوں نے بھی آگے کے ایک بینچ پر اپنی نشست جما لی۔ وہ بھی خود کو دیگر لوگوں کیطرح پرجوش محسوس کررہے تھے۔ ساتھ والے بینچ پر بیٹھا ایک دیہاتی اپنے بچے کو سمجھا رہا تھا کہ یہ پتلی تماشہ کیوں اہم ہے۔ وہ دونوں بھی غور سے اسکی بات سننے لگے۔ دیہاتی اپنے بچے کو بتا رہا تھا کہ یہ شخص بہت سے ملکوں میں پتلی کا تماشہ دکھا چکا ہے اور یہ کہ اسکی پتلیاں ایسے بولتی ہیں کہ کوئی پتلی والے کے ہونٹوں کو حرکت کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا لیکن پتلی اور اسکی فنکاری مل کر تماشے کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔ اور یہ کہ پتلی والا اپنے فن کو بہت سے مقامات پر دکھا کر عوام کو محظوظ کرچکا ہے۔ اور کافی عرصے بعد دوبارہ اپنے بنجاروں میں واپس آیا ہے اسلیئے آج بڑا تماشہ ہوگا۔ بچے اور دیگر لوگوں کے ساتھ دیہاتی کی یہ تعریفیں سن کر ان دونوں دوستوں کا بھی اشتیاق بڑھ گیا اور وہ اپنی دقیق سوچوں کے محور کو بھول کر موضوعات کو پس پشت ڈال کر مزید شوق کے ساتھ ڈرامہ شروع ہونے کا انتظار کرنے لگے۔

کچھ دیر کے بعد اچانک خیمے کی روشنیاں مدہم ہوگئیں تو سب لوگ چونک کر سٹیج کی طرف متوجہ ہوئے۔ جہاں کچھ ہل چل سی مچ رہی تھی۔ میز کے اوپر ایک قمقمہ روشن کردیا گیا تھا جبکہ خیمے کی روشنیاں گل کردی گئی تھیں۔ اب سب لوگ پوری طرح سے متوجہ تھے۔ میز کے اوپر پڑے ہوئے ایک کپڑے کے ڈھیر میں ہلچل سی ہونے لگی اور اچانک چاروں طرف کی خاموشی میں ایسی آواز آنے لگی جیسے کوئی چلتا ہوا آرہا ہو۔ ساؤنڈ سسٹم کی کاریگری باکمال تھی اور لوگوں کو یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی چلتا ہوا ان کے درمیاں سے گزر کر سٹیج تک پہنچا اور اچانک کپڑوں کے ڈھیر سے ایک بوڑھے آدمی کی پتلی کھڑی نظر آنے لگی۔ کاٹھی کی بنی ہوئی اس پتلی کے کا سر گنجے فلاسفر کی طرح تھا جبکہ آنکھیں بڑی بڑی اور ہونٹ قنوطیوں کی طرح تھے۔ اسکی لمبی ناک اسکے ہونٹوں پر جھکی ہوئی تھی۔ بچے اور بڑے سب اس بوڑھے ڈاکٹر کی طرح کی پتلی کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے ۔ لیکن اس پتلی کے اردگرد کوئی تاریں نظر نہ آتی تھی بلکہ وہ انسانوں کی ہی طرح آنکھوں کو مٹکا مٹکا کر چاروں طرف دیکھنے لگی۔ پتلی کے حلق سے ایک آواز بلند ہوئی ،

میں اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرا نام پارگو ہے ، اور آج میں آپ کو اپنی فیملی سے ملواؤں گا۔ ابھی وہ اتنا ہی کہہ پاتا ہے کہ اچانک اسکے ساتھ ہی کپڑوں کے ڈھیر سے ایک اور کپڑا اٹھتا ہے اور ایک عورت کی آواز سنائی دیتی ہے ،،،، پارگو تم نے پھر سے خود تماشہ شروع کردیا جبکہ باس نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ پہلے ہم تعارف کرائیں۔

پارگو کے گول مٹول لکڑی کے بنے چہرے پر پھیلی بڑی آنکھوں کی پتلیاں سکڑ جاتی ہے اور چغلخور کی طرح وہ سر جھکا کر گاؤں والوں کی طرف منہ کرکے بولتا ہے:۔ مصیبت کی آواز سنو یہ میری مرحوم بیوی ہے۔ کاش بیویاں ہمیشہ مرحوم ہی ہوجائیں۔ گاؤں کے بڑوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ لیکن شاید پارگو کی بیوی نے اسکی بات سن لی۔ اسلیئے اچانک کپڑوں کے ڈھیر سے ایک اور پتلی دکھائی دیتی ہے جسکے بالوں پر ربن بندھی ہوئی ہوتی ہے اور بوڑھی ہونے کے باوجود کافی میک اپ دکھائی دیتا ہے۔ وہ عورت نکل کر پارگو کی طرف دیکھتی ہے اور چلا کر کہتی ہے کیا کہا تم نے بوڑھے خرانٹ؟ مرحوم تم ہوگے تمہارا باپ ہوگا خبردار جو تم نے مجھے مرحوم کہا، پتلی نے آتے ہی آتش پا ہوکر کھری کھری سنانی شروع کردی اور بوڑھا ڈاکٹر نما پارگو اچانک چہرے کو ڈرا ہوا دکھا کر نیچے کرلیتا ہے اور بولتا ہے۔ ڈارلنگ میں تو تمہاری نظر اتارنے کے لیئے ایسا بول رہا تھا۔ بھلا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں اپنی فلورا کو مرحوم کہوں؟۔ مگر فلورا کے پھولے ہوئے چہرے پر پتلیاں گردش کرنے لگیں اور وہ تڑاک سے بولی ابھی باس کو تمہاری شکایت کرتی ہوں ۔ خیمے میں بیٹھے لوگ پوری طرح سے اب تماشے کے سرور میں اور دونوں پتلیوں کی نوک جھونک میں محو ہوچکے تھے۔ یہ تماشہ مختلف آئیٹمز دکھاتا رہا۔ اور لوگوں کو کبھی ہنساتا تو کبھی سوچنے پر مجبور کردیتا۔ کیا بچے اور کیا بڑے سب کے سب فلورا اور پارگو نامی دوپتلیوں کو بالکل انسان سمجھ کرمحظوظ ہورہے تھے اور ان کو یوں لگ رہا تھا جیسے شہر کے کسی سینما میں کوئی مزاحیہ فلم چل رہی ہے جس میں حقیقی انسان چل پھر رہے ہیں۔ یوں یہ تماشہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ اور پھر اچانک آخری ایکٹ کے اختتام پر فلورا اور پارگو دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے اور یوں بات چیت شروع کی جیسے دوسروں کو بھول گئے ہوں۔ فلورا کہنے لگی۔ کیا خیال ہے، اب اس کو سامنے لے آئیں؟۔ بوڑھا پارگو بولتا ہے۔ کہیں لوگ بھاگ نہ جائیں؟۔ ابھی کچھ دیر اور رہنے دو۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اسکو سامنے لاؤ ہی مت۔ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں۔ خیمے کے سامعین دونوں کی یہ معنی خیز باتیں سن کر اور زیادہ متوجہ ہوجاتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہے جسکو یہ لوگ چھپانا چاہتے ہیں۔ چونکہ ڈرامہ کے بیچ بیچ مین پتلیاں لوگوں سے مذاق بھی کرتی رہی تھیں اور سوال و جواب بھی، اسلیئے پیچھے سے ایک دیہاتی کی آواز آتی ہے۔ اب بتا بھی دو کس کو چھپانا ہے؟۔ ایسی بھی کیا بات ہو سکتی ہے؟۔ کچھ اور صدائیں بھی بلند ہوئیں۔ تو دونوں پتلیوں نے اچانک چونک کر دیکھنے کی ایکٹنگ کی جیسے وہ لوگوں کے وجود کو فراموش کرچکے ہوں اپنی بات چیت میں۔

فلورا نے آنکھیں سکیڑ کر گنجے پارگو کی طرف دیکھا اور پھر خیمے میں بیٹھے لوگوں کی طرف جو متجسس نگاہوں سے پوری طرح محو ہوکر اس ڈرامہ کو دیکھ رہے تھے۔ بوڑھی فلورا نے اچانک پارگو کو سائیڈ پر کیا اور خیمے میں بیٹھے لوگوں پر اپنی کاٹھی آنکھیں گھمائیں اور کہا۔ آج میں تمہیں اپنے خالق سے ملواتی ہوں۔ وہ ہمارا خدا ہے۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے وہ جب چاہتا ہے اپنا پرتو دکھاتا ہے مختلف روپ میں وہ ہمارے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے، ہم اسکے اشارے پر چلتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے فلورا فوراً بیٹھنے کی پوزیشن میں آجاتی ہے اور پارگو بھی اپنا سر جھکا لیتا ہے۔ اور اچانک فلورا کہتی ہے ہم دعوت دیتے ہیں اپنے خدا کو کہ وہ اپنا تعارف کرائے۔ اور اچانک دنوں پتلیوں پر تاریکی پھیل جاتی ہے اور سپاٹ لائٹ کا رخ پتلیوں کے پیچھے پردے پر پڑنا شروع ہوجاتا ہے جہاں سے پردہ آہستہ آہستہ نیچے ہورہا ہوتا ہے اور اسکے نیچے ہوتے ہی ایک انسان کھڑا دکھائی دیتا ہے جس کے دونوں ہاتھ دو پتلیوں کی کمر سے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ تب اچانک جیسے خیمے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہوش آجاتا ہے کہ یہ پتلی تماشہ جو ان کی طرح طرح سے محظوظ کررہا تھا دراصل زندہ پتلیاں دکھائی دینے والی مردہ چیز کو چلانے والی کوئی اور ذات ہے۔ یہ ان دو ہاتھوں کا کمال ہے جنہوں نے بظاہر نہ دکھتے ہوئے ان پتلیوں کو ایسے گھمایا پھرایا کہ لوگ پتلی تماشے میں محو ہوکر اسکو فراموش کربیٹھے کہ یہ تماشہ دکھانے والا بھی کوئی ہے۔

تب اچانک پتلیوں کے خدا کی آواز آتی ہے۔

میں اپنے معزز مہمانوں کا انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے پوری طرح اس سے تماشے سے لطف اٹھایا۔ میں تماشہ ختم کرنے سے پہلے آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ خیمے میں بیٹھے لوگ اسکی طرف دھیان سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ شخص کہتا ہے۔

آپ نے دیکھا کہ یہ بے جان پتلیاں تھیں، جب آپ خیمے میں آئے تو ان میں کوئی جان نہ تھی۔ آپ سوچیں کہ یہ کاٹھ کی بیجان پتلیاں کہ جن کو جب میں نے اپنے ہاتھ لگائے تو ان ہاتھوں کی فنکاری سے یہ بے جان چیز ایسے حرکت کرنے لگ گئی جیسے یہ جاندار ہوں۔ ہم انسان بھی ان بے جان پتلیوں کیطرح ہیں۔ ہمارا بھی کوئی نہ کوئی خالق ہے، وہ لوگ جو خالق کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل اپنے وجود کا انکار کرتے ہیں۔ انکی مثال ایسی پتلیوں کی ہے کہ جو جسم تو رکھتی ہیں لیکن جان نہیں رکھتیں اگر یہ پتلیاں میرے بنا خود اٹھ کر کہہ سکیں کہ ہم اپنے آپ سے یہ سب کچھ کرسکتیں ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں اور ایسا کرتے وقت وہ میرے وجود کا انکار بھی کریں کہ میں جو کہ (خود خدا) نہیں ہوں لیکن ان کا خالق ہوں۔ میرا کوئی وجود نہیں تو دراصل میری ذات پر کیا فرق پڑے گا؟۔ میں تو ایک حقیقت ہوں جس کو آنکھوں اور دلوں اور ذہنوں والے مانتے ہیں۔ آپ بڑے بزرگ سمجھدار جوان سب جانتے ہیں کہ اس پتلی تماشے کا کوئی نہ کوئی تخلیق کار تو ضرور ہے لیکن بچے نہیں جانتے۔ وہ صرف بتلیوں کی بناوٹ ، رنگارنگی، تماشے سے متاثر ہوتے ہیں اور جب تک ان کو بتایا نہیں جاتا وہ نہیں جان سکتے کہ ان پتلیوں کے پس پردہ کونسی قوت کارفرما ہے۔ ایسے ہی میرا اور آپ سب کا بنانے والا بھی کوئی ہے۔ انسان اسی وقت اشرف المخلوقات کہلانے کا حقدار ہے جب اس حقیقت کو مان لیں کہ ہماری اچھی بری زندگی ایکطرف لیکن ہمیں تخلیق کرنے والا بھی کوئی نہ کوئی صانع موجود ہے۔ جو دکھتا نہیں لیکن جسکی قدرت کی گواہیاں ہرجگہ ہرلمحہ موجود ہیں۔ سمجھنے والی بینا آنکھ نہ ہونے کی وجہ سے ہم اسکا انکار کردیتے ہیں جو کہ میری یہ پتلیاں بھی نہیں کرتیں لیکن ہم جو کہ (خدا نہیں ہیں) وہ اس رب کا انکار کرنے کی جسارت کردیتے ہیں۔ ہم اس پتلی تماشے سے ہی سیکھ سکتے ہیں کہ جب پتلی نے میرا انکار کیا تو اسکا وجود بے جان ہوگیا۔ وہ خوبصورت یا بدصورت، جسم ہونے یا نہ ہونے کے باوجود بیکار ہے جب تک وہ مجھ سے خود کو اٹیچ نہ کرے اس میں جان نہیں دکِھ سکتی۔ ایسے ہی میرا اور تمہارا اے دوستو، اس خالق سے خود کو اٹیچ کرنا ضروری ہے تاکہ ہمارے بےجان جسموں اور قلب میں جان پیدا ہوسکے۔ آپ سب کا ایک بار پھر شکریہ امید کرتا ہوں کہ آپ کو یہ پتلی تماشہ ہمیشہ یاد رہے گا۔

یہ کہے ساتھ ہی خیمے کے سٹیج پر پردا گرتا ہے اور خیمہ تیز روشنی سے منور ہوجاتا ہے۔ جس میں سب لوگوں کے چہرے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس عجیب و غریب بات اور علمی دلیل کو سن کر کیا تاثر لیا۔ جہاں ان کے چہرے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں وہیں وہ دو دوست بھی حیران و ششدر بیٹھے ہیں۔ اچانک خدا کو حقیقت ماننے والے نے اپنے ملحد دوست کو دیکھا جس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوچکے تھے اور آنکھیں اور بھنویں گہری سوچ میں مستغرق تھیں۔ اچانک اس نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے خداپرست دوست کی طرف دیکھا اور پھر صرف اتنا کہا

میرا خیال ہے میرے دوست! جو بات میری بے جان سوچ کو تم نہ سمجھا سکے، آج اس پتلی تماشے نے اس میں جان ڈال دی۔ ۔۔۔۔۔

اور دونوں دوست گرمجوشی سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے خیمے سے باہر نکلتے چلے گئے۔

تلاش اسکو، نہ کر بُتوں میں، وہی تو ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں

جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s