Answer to Desi Dehriyat by Muslim Scientific Point of View [Radde-ilHaad]

دیسی دھریت کو سائنسی طور پر جوابات اور رد کی صورت میں یہ چھوٹی چھوٹی پوسٹس ہم اپنے فیس بک پیج پر کرتے رہے ہیں اب اس کو باقاعدہ ایک جگہ پر منظم کیا جارہا ہے تاکہ تمام لوگ ان جوابات کو پڑھ کر خود اپنے نوٹس بنا سکیں اور یہ سلسلہ مکاشفہ کے مرکز تحقیقات اہلسنت پاکستان کے مرکزی فورم پر بھی اپلوڈ کیا جارہا ہے  جہاں اس کے (جاری ہے) کے سلسلے کو مزید دوام دیا جائے گا۔ اس سلسلے کی پہلی دو قسطیں پیش خدمت ہیں 

دیسی جاہل الحاد کا رد ، ہمارے ہاں آجکل کے جہلاء دھریت اور سوشلسٹ بیہودگی کے نظریات کے حامل مسلمانوں کو یہ بتاتے نظر آتے ہیں کہ بھئی ہر مذہب جس میں اسلام میں شامل ہے وہ ترقی کا دشمن ہے۔ اور کچے ذہن ان کی دیسی خرافات یا دو نمبر دھریت سے متاثر ہوکر ویسے ہی مقلد ہوجاتے ہیں جیسے دو نمبر پیر کی ظاہری مقطع چقطع صورت یا لال رومال والے مولوی کی ظاہری شکل دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں کیونکہ ہر شخص تحقیق نہیں کرتا۔ اس پوسٹ اور آئندہ کی پوسٹس میں مختلف سائینسی سبجیکٹس کے تناظر میں عظیم دین اسلام اور عظیم سائنسی دماغوں کا ذکر کرکے دیسی دھریت کا یہ شوشہ ڈھونگ اور جہالت کا رد پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ عوام الناس میں گمراہی پھیلاتے ہیں۔ سائنس نامی چڑیا تو دی ہی مسلمانوں نے ہے دنیا کو۔ کیسے ؟ ملاحظہ فرمائیں
مسلمان اور سائنس آف جیوگرافی
Muslims and the Science of Geography
اسلام میں علم جغرافیہ کے فروغ میں عبادات اور معاملات دونوں نےا ہم کردار ادا کیا ہے۔ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیئے راستوں سے واقفیت، نماز کے قیام اور مسجد کی تعمیر کے وقت قبلے کا تعین، امورِ سلطنت کی انجام دہی اور تجارتی مقاصد کے لیئے مختلف بلاد و امصار کے جغرافیائی محل وقوع سے آگاہی وہ محرکات تھے، جنہوں نے مسلمانوں کو جغرافیہ کا علم حاصل کرنے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ عباسی دور میں جب ایرانی، ہندی، اور یونانی کتابوں کے ترجمےہونے لگے تو ثابت بن قرہ (221 تا 228ھ/ بمطابق 836 تا 901ء) نے یونانی جغرافیہ داں بلطیموس (90/168ء) کی کتاب جیوگرافیکل ٹریٹائیز کو عربی کا جامعہ پہنایا۔ اس کے علاوہ بلطیموس کی دوسری کتابوں، مارنیوس الصوری (حدود 70، تا 130ء) کے جغرافیہ، افلاطون ( 427 ، 347 ق م) کی تصنیفات طیماؤس، الآثار العلویہ، السماء والعالم اور ارسطو (427 تا 347 ق م) کی تصنیفات مابعد الطبیعیات کے بھی عربی ترجمے کیئے گئے۔ یار رہے یہ وہ دور تھا جب نام نہاد مغرب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا اور دھریت کا کہیں نام و نشان نہ تھا نہ ہی سائنس نام کی کوئی چڑیا ایجاد ہوئی تھی۔ یونانیوں کے علاوہ مسلمانوں نے ہندی اور ایرانی جغرافیائی تصورات کا بھی علم حاصل کرلیا تھا جس سے وہ اس قابل ہوگئے کہ اس موضوع پر تحقیق و تصنیف کا آغاز کرسکیں۔ یہ بات موجودہ دیسی دھریت اور الحاد کے منہ پر ایک شاندار تھپڑ ہے کہ جن کے فاسد دماغوں میں گوبر ماتا نے یہ بٹھا دیا ہے کہ اسلام نے کہیں سائینس یا ترقی سے روکا ہے بطور مذہب، حالانکہ اسلام مذہب ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو دین ہے جسکا مطلب ہے زندگی گزارنے کا راستہ۔
خلیفہ مامون الرشید ۱۹۷۔ ۲۱۸ھْ، بمطابق ۸۱۳، ۸۳۳ ع) کے عہد خلافت میں مشہور مسلم ریاضی داں محمد بن موسی الخوارزمی (المتوفی ۲۳۲ھ، بمطابق ۸۴۶ع) نے جغرافیہ کے موضوع پر صورۃ الارض کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کے ساتھ ایک نقشہ بھی تھا۔ یہ نقشہ خوارزمی سمیت ستر ماہرین نے تیار کیا تھا۔ ان کے بعد عہد مامونی میں ڈاک اور پرچہ نویسی کے منتظم نے تیری صدی ہجریْ نویں صدی عیسوی میں جغرافیہ کے موضوع پر المسالک والممالک کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ، ڈاک کا یہ ناظم مشہور جغرافیہ داں ابن خردازبہ (المتوفی ۳۰۰ھ ، ۹۱۲ تا ۹۱۳ عیسوی) تھا جسے مسلم جغرافیہ کا باوا آدم مانا جاتا ہے۔ ابن خردازبہ نے یہ کتاب خلیفہ مامون الرشید کے حکم پر لکھی۔ تیسری صدی ہجری کے نصف آخر میں احمد بن اسحق ابی یعقوب بن واضح الکاتب الیعقوبی متوفیٰ ۲۸۴ھ بمطابق ۸۹۷ عیسوی نے کتاب البلدان تصنیف کی۔ یعقوبی کے بعد ابن رستہ متوفیٰ حدود ۳۱۰ھ بمطابق ۹۲۲عیسوی نے الاعلاق النفیسۃ اور ابن الفقیہ الحمدانی تیسری صدی ہجری ، نویں صدی نے کتاب البلدان ہی کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔ چوتھی صدی ہجری کے ربع اول میں قدامہ بن جعفر الکاتب المتوفی ۳۱۰ ھ، بمطابق ۹۲۲عیسوی) نے کتاب الخراج والصنعۃ الکتاب لکھی جس میں انہوں نے گیارہویں باب کے ذیل میں راستوںِ ڈاک کی منزلوں اور سرحدوں کی تفصیل دی ہے۔ تقریباً اسی زمانے میں مشہور مورخ ابوالحسن علی بن حسین المسعودی نے اپنا سفرنامہ کتاب القضایا والتجارب کے نام سے تیار کیا۔ جس میں مصنف نے چشم دید واقعات و مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر وسیع اور اہم جغرافیائی مواد پیش کیا۔ ان کی دوسری کتابوں مروج الذہب و معادن الجواھر اور التنبیہ والاشراف میں بھی انکی سیاحت کے حالات ملتے ہیں۔ ان سب کا تعلق جغرافیہ کے عراقی مکتب فکر سے تھا۔
مسلم جغرافیہ نگاری میں بلخ کے مکتب فکر کو اس لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل ہے کہ اس میں اسلامی رنگ نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے۔ یہ مکتب فکر ابوزید احمد بن سھل بلخی المتوفی ۳۲۲ ھ بمطابق ۹۳۴ عیسوی کے نام پر دبستانِ بلخ کہلاتا ہے۔ ابوزید بلخی مشہور فلسفی ابویوسف یعقوب الکندی المتوفی ۲۵۴ ھ ، بمطابق ۸۷۳ع کے شاگرد تھے۔ عراق میں ۸ سال گزارنے کے علاوہ بلخی نے دوردراز سفر کرنے کےبعد واپس وطن آکر اپنے وطن میں صور الاقالیم کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی۔ اسے بنیاد بنا کر نامور جغرافیہ داں ابو اسحٰق ابراھیم بن محمد الفارسی الاصطخری نے المسالک والممالک کے عنوان سے ایک کتاب لکھی، جس میں ہر ملک کو رنگین نقشے میں دکھایا گیا تھا۔ اصطخری کی درخواست پر ابوالقاسم محمد بن حوقل البغدادی المتوفی ۳۶۷ھ بمطابق ۹۷۷ ع نے ان نقشوں پر نظر ثانی کی اور صورۃ الارض کے عنوان سے ایک کتاب ۳۶۶ ھجری میں قلمبند کی۔ ابن حوقل نے اپنی کتاب میں جغرافیائی معلومات کے علاوہ نقشے بھی دیئے۔ تقریباً اسی زمانے میں یمنی نژاد عالم ابو الحسن ابن احمد الحمدانی متوفی ۳۳۴ ہجری بمطابق ۹۴۵ عیسوی نے جغرافیہ کے موجوع پر الاکلیل اور صفۃ جزیرۃ العرب کے ناموں سے دو کتابیں رقم کیں۔ ان کے بعد مسلم جغرافیہ نگاری میں ابوعبداللہ محمد بن ابی بکر المقدسی المتوفی ۳۹۰ھ، بمطابق ۱۰۰۰ عیسوی نے احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم لکھ کر اہم کارنامہ سرانجام دیا۔ انہوں نے سپین کے سوا دور دراز مسلم ملکوں کا سفر کرنے کے بعد اپنے تیس سالہ تجربات اور مشاہدات کو مذکورہ بالا کتاب کی شکل میں پیش کیا ہے۔ دل دوران جسکے متعلق لکھتا ہے
Muhammad al-Muqqadasi visited all the lands of Islam except Spain, suffered countless vicissitudes, and in 985 wrote his Description of the Mosslem Empire, the greatest work of Arabic geography before al-Biruni’s India.
مقدسی کی تصنیف کے 45 سال بعد ابوریحان محمد ابن احمد البیرونی ۳۶۳ ، ۴۴۰ ھ، بمطابق ۹۷۳ ، ۱۰۴۸ عیسوی نے اپنی شاہکار کتا تاریک الہند تصنیف کی، انہوں نے اس کتاب میں وہ اہم جغرافیائی مواد پیش کیا جو اس سے پہلے کسی دوسری کتاب میں نظر نہیں آتا اس کے ساتھ ہی مسلم جغرافیہ نگاری کم از کم مشرق مین روبہ تنزل ہونے لگی۔
اسپین میں مشہور لغوی اور جغرافیہ داں ابوعبید عبداللہ بن عبدالعزیز البکری المتوفی ۴۸۷ھ ، ۱۰۹۴عیسوی نے معجم ما استعجم من اسماٗ البلاد والمواضع کے نام سے ایک جغرافیائی لغت تیار کی، جس میں مختلف شہروں اور جگہوں کے ناموں کی املا پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسپین کے اس عظیم جغرافیہ داں نے ایک اور کتاب بھی جغرافیہ کے موضوع پر تصنیف کی جو کتاب المسالک والممالک کے نام سے معروف ہے۔ مسلم جغرافیہ نگاری کے لیئے اگرچہ یہ زمانہ تنزل پذیر تھا مگر اس میں دو چوٹی کے جغرافیہ داں پیدا ہوئے ۔ وِل دوران نے یہ بھی لکھا ہے
The Age produced two geographers of universal medieval renown
عالم اسلام کے ان دو مایہ ناز جغرافیہ دانوں میں ایک مغربی اور دوسرے مشرقی مسلمان تھے۔ مغربی سائنسدان ابو عبداللہ محمد بن محمد ادریسی (493، تا 560ھ، 1100 تا 1165ع) اسپین کے شہر ستیہ میں پیدا ہوئے اور قرطبہ مین تعلیم پائی۔ اس کے بعد وہ صقلیہ چلے گئے۔ جہاں نارمن عیسائیوں نے مسلمانوں کی 198 سالہ حکومت ختم کرکے 1091ء میں اپنی بادشاہت قائم کی تھی۔ ان کا دارالسلطنت بلرم پلیرمو تھا۔ صقلیہ کے نارمن حکمرانوں نے عربی علوم و فنون کی سرپرستی کی ۔ دربار پر عربی رنگ چھایا ہوا تھا۔ اہم منصبوں پر مسلمان فائز تھے۔ نارمن بادشاہوں میں راجر دوم بڑا علم دوست تھا۔ اسی نے ادریسی کو اپنے دربار میں بلایا۔ اور انہیں جغرافیائی تحقیق کا کام تفویض کیا۔ جے ایچ کریمرس جس نے اپنی ساری صلاحیت مسلمانوں کے کارناموں کو شرطیہ اور استثنائی جملوں کےا نبار کے نیچے دبانے میں صرف کی ہے وہ لکھتا ہے
But the fact that Roger entrusted the composition of description of the known world to a Muhammadan scholar indicates clearly how far the superiority of Muhammadan learning was acknowledged at that time.
راجر دوم کا دربار اگرچہ علماء و فضلاء کا کہکشاں تھا لیکن مسلم جغرافیہ داں ادریسی اس میں سب سے روشن اور درخشندہ ستارہ تھے۔ فلپ کے ہٹی کا کہنا ہے۔
The chief ornament of Roger II’s court was al-Idrisi, the most distinguished geographer and cartographer of the Middle Ages.
ادریسی جغرافیہ کے علاوہ دوسرے علوم میں بھی دستگاہ رکھتے تھے مگر جغرافیہ اور نقشہ کشی کے فن میں وہ قرونِ وسطیٰ کے سب سے بڑے ماہر تھے جن کی مثال پیش کرنے سے دنیا قرونِ وسطیٰ کے طویل زمانے تک قاصر رہی ۔ فلپ کے ہٹی نے یہ بھی لکھا ہے
The best known geographer of the eleventh century was al-Bakri, a Hispano-Arab, and the most brilliant geographer and cartographer of the twelfth century, indeed of all medieval time, was al-Idrisi, a descendant of a royal Spanish Arab family who got his education in Spain.
راجر دوم نے جغرافیائی مواد جمع کرنے کے لیئے مختلف علاقوں میں اپنے آدمی روانہ کیا جنہوں نے مختلف ممالک میں گھوم کر مواد جمع کیا۔ اسی مواد کی بنیاد پر ادریسی نے 1154ء میں نزھۃ المشتاق فی اختراق الآفاق تصنیف کی جسے یورپ کے تعلیمی اداروں میں تین سو سال تک حرف آخر کی حیثیت حاصل رہی۔ کتاب کے طریق تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے فلپ کے ہٹی لکھتے ہیں
In his critical collation of the material al-Idrisi shows a remarkable breadh of view and grasp of such essential facts as the sphericity of the earth.
یعنی ۔ مواد کے تنقیدی تقابل میں ادریسی نے امتیازی وسیع النظری اور زمین کی گولائی جیسے بنیادی حقائق کی قبولیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
زمین کی گولائی سے مسلمان آٹھویں صدی عیسوی میں واقف ہوگئے تھے۔ ادریسی نے اسے مان کر اپنے پیش رو ہم مذہبوں کی تصدیق کی۔ جغرافیہ کے بارے میں صحیح مواد فراہم کرنے کے علاوہ ادریسی نے نقشہ نویسی کے فن کو معراج کمال تک پہنچایا۔ انہوں نے 1154ء میں پوری دنیا کا ایک نقشہ بنایا جس کی خواہش راجر دوم نے کی تھی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے
Al Idrisi constructed a world map in AD 1154 for the Christian king Roger of Sicily, showing better information on Asian areas than had been available theretofore.
ادریسی نے یہ نقشہ چاندی کا بنایا تھا، اور اس میں کمال مہارت کے ساتھ دنیا کے ممالک دکھائے گئے تھے، نقشے میں پہاڑ ، دریا، جنگل اور وادیاں بھی دکھائی گئی تھیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے چاندی کا ایک آسمانی کرہ بھی بنایا تھا۔ جس کا ذکر فلپ کے ہٹی نے انکی تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے رقم کیا
Besides this monumental work al-Idrisi constructed for this Norman patron a celestial sphere and a disk shaped map of the word both in silver.
المختصر میں یہاں پر حوالوں پر حوالے دے دے کر دھریت کا ناطقہ بند کرسکتا ہوں لیکن دیسی دہریت کسی چیز کے قابل اسلیئے نہں کہ یہ دھریت صرف مغرب کی اندھی تقلید اور اپنی ذاتی بغض کی وجہ سے کرتے ہیں اسی لیئے یہ دنیا اور مافیہا مین ذلیل و خوار ہی رہیں گے جبکہ مغربی دھریت جب چرچ اور کلیسا کے خول سے نکلتی ہے تو اسکو واحد سچا رستہ اسلام کا ہی دِکھتا ہے اور وہ اسی لیئے چونکہ سچائی کی تلاش میں ہوتے ہیں تو ان کو سچائی ملتی بھی ہے اور وہ مان بھی جاتے ہیں۔ جبکہ دیسی لبرل یا دیسی دھریت ان جاہل طبقات پر مشتمل لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے جو ایک بوتل شراب، ایک لڑکی اور پیسے کیو جہ سے اچھے بھلے اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں یا شاید بچپن میں کی گئی انسانوں کی زیادتیوں کو وہ خالق پر تھوپ کر کسی طرح اپنے دل کو تسلی دینا چاہتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ چنگیز خان کے حملے کے وقت مسلم لٹریچر یا تو عیسائیوں نے چوری کرلیا تھا، کیونکہ وہ تمام علوم جس پر موجودہ سائنس کی بنیاد پڑی ہوئی ہے وہ سب کے سب مسلمانوں کی ہی محنت شاقہ کا نتیجہ تھے، اور یا پھر دریائے فرات میں پھینک دیئے گئے تھے جاہل مغلوں کی وجہ سے جن کے متعلق مشہور ہے کہ بغداد کے دریا سیاہی سے بھر گئے تھے۔ تو کیسا کیسا نادر و نایاب مواد تباہ کردیا گیا۔ اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ابھی بھی قدیم نوادرات میں یقیناً مغربیوں کے پاس وہ تمام اہم کتب موجود ہیں جسکو وہ دکھانے سے گریزاں ہیں کہ ان کا ڈھول کا پول کھل جائے گا۔ مسلمانوں کے ترتیب دیئے ہوئے خطوط پر انہوں نے جدید سائینس کی بنیاد رکھی۔ اور یہ جدید سائینس ان کو خالقِ واحد سے ہٹا کر ایٹھیسٹ بنا بیٹھی، حالانکہ جن خطوط پر مسلمانوں نے ترقیان کی تھیں وہ تو کبھی دھریت کی طرف مائل نہ ہوئے ماسوائے ایک آدھ کے۔ لہٰذا یہ چند معمولی سے حوالے ہیں اور انشاء اللہ آئیندہ بھی اسی طرح دیسی جاہل دھریت کا ملحدیت کا رد کیا جاتا رہے گا۔ مذہب سے چڑ ان کو سائنس کیو جہ سے نہیں بلکہ اپنی ذاتی اغراض اور خود کی اندرونی خباثت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسلیئے مغرب کے دھریوں سے علم کا مکالمہ کیا جاسکتا ہے لیکن دیسی دھریت کو صرف ایسے ہی سیدھے نیزے دینے کی ضرورت ہے۔
باقی آئیندہ
دوسری قسط؛ اسلام اور علم معادنیات 
Islam and the Establishment of Science of Mineralogy
رد جہالتِ دیسی الحاد

اسلام اور علم المعدنیات

زمانہ قدیم اور عہد وسطیٰ میں فن معدنیات کوئی منظم علم نہیں تھا۔ لوگ معدنیات میں اسلیئے دلچسپی لیتے تھے کہ ان کے نزدیک پتھروں کے خواص سے انسانی زندگی کے واقعات متاثر ہوتے تھے۔ یہ تصور دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے میں آج بھی موجود ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ علم کی اشاعت کے بعد بھی معدنیات کے متعلق یہ خیال جوں کا توں قائم ہے۔ تاریخ میں جواہرات سے بادشاہوں اور امیروں کی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی رہی ہے کہ چونکہ معدنیات زمین میں پائی جاتی ہیں اسلیئے جغرافیہ سے اسکا خاص تعلق ہے۔

علم معدنیات سے مسلمانوں کی دلچسپی کا آغاز اس وقت ہوا جب ارسطو کی تصنیف (معدنیات) کو عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے دوران یہ دلچسپی روز بروز بڑھتی گئی۔ مسلمانوں نے قیمی جواہرات پر توجہ دے کر کتابیں لکھنے کا آغاز کیا۔ یہ کتابیں حجریات کہلاتی تھیں۔ حجریات یا معدنیات کے موضوع پر مسلمانوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ سب سے پہلے مشہور کیمیا داں جابر بن حیان (المتوفی 198ھ بمطابق 813عیسوی) نے کیمان المعادن، کتاب جواھر الکبیر اور رسائل فی الحجر کے ناموں سے معدنیات کے موضوع پرتین کتابیں تصنیف کی جن میں انہوں نے مختلف دھاتوں اور پتھروں کے متعلق بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ یاد رہے یہ وہ وقت تھا جب سوکالڈ جدید مغربی دنیا اس تصور سے بھی کوسوں دور تھی۔ ان کے بعد عطارد بن محمد الکاتب (المتوفی 215ھ بمطابق 832عیسوی) نے اپنے گھر میں پتھروں کی مختلف اقسام جمع کرکے ان کی ماہیت اور خصوصیات پر تحقیق کی۔ انہوں نے اپنے تجربات ایک تصنیف (الجواھر والاحجار) میں قلمبند کیئے۔ عطارد بن محمد معدنیات کے ماہر تھے۔ مشہور مستشرق (سٹائین شنائیڈر) نے 1871ء میں ایک مقالہ تحریر کیا، جس میں انہوں نے کتاب کی بے حد تعریف کی ۔ معدنیات کے موضوع پر یہ عربی کی اولین تحریر ہے جو تاحال موجود ہے۔

مامون الرشید کے عہد خلافت میں بیت الحکمۃ کے ایک رکن ابوطیب سند بن علی (المتوفی 224ھ بمطابق 864ع) نے اصلی اور نقلی دھاتوں میں تمیز کے لیئے (سپیسیفیک گریویٹی) معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ جو مسلم معدنیات میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ اسی زمانے میں مشہور عرب مفکر ابویوسف یعقوب کندی (المتوفی 254ھ بمطابق 874ء) نے معدنیات اور فولاد و اسلحہ سازی کے موضوع پر کئی رسالے تصنیف کیئے۔ ان میں دورسالوں کے نام (رسالہ فی انواع الجواھر الثمینہ ) اور (رسالہ فی انواع الحجارۃ والجواھر) ہیں۔ ان رسالوں میں انہوں نے جواہرات اور پتھروں کی اقسام پر روشنی ڈالی ہے۔ اسی دور میں عربی زبان کے ادیب ابوعثمان عمرو بن بحر الجاحظ بصری (المتوفی 163، 255ھ بمطابق 780۔ 869ء) نے بھی معدنیات میں اپنی معلومات پر مشتمل ایک تصنیف کتاب المعادن کے نام سے تحریر کی۔ ان کے علاوہ بعض ایسی کتابوں کے نام بھی ابن الندیم (المتوفی 448ھ، بمطابق 1047ء) نے دیئے ہیں جن کے مصنفین کا حال معلوم نہیں ہے۔

مشہور مصنفین میں ابوبکر رازی (251، 311ھ، بمطابق، 865 تا 923ء) کی تصنیف (کتاب الاسرار) کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ رازی نے معدنیات کی مختلف قسموں پر روشنی ڈالی ہے ۔ رسائل اخوان الصفا میں بھی معدنیات کے موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ان میں معدنیات کے وجود میں آنے، گرمی اور سردی اور دوسرے جغرافیائی اور ارضیاتی عوامل کے ان پر اثرات اور ان کی اقسام پر سائنسی انداز میں بحث کی گئی ہے۔ رسائل اخوان الصفا کےمطابق اگرچہ معدنیات کی تعداد معلوم کرنا انسان کے لیئے دشوار ہے، مگر ماہرین معدنیات کی 900 اقسام مانتے ہیں، جو ماہیت، رنگ و بو اور وزن کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

معدنیات کو شیخ الرئیس بو علی سینا (370، تا 428ھ بمطابق 980 تا 1037ء) نے بھی کتاب الاحجار میں زیر بحث لایا ہے۔ انہوں نے معدنیات اور ارضیات کے موضوع پر اس کتاب میں بڑی اہم بحث کی ہے،ولِ ڈیورن نے اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ تیرھویں صدی تک یورپی ارضیات کا مآخذ تھی۔

علم معدنیات میں سبے سے اہم کارنامہ البیرونی نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر الجماھر فی معرفۃ الجواھر کے عنوان سے ایک ضحیم کتاب تصنیف کی، جس میں انہوں نے بے شمار پتھروں اور دھاتوں کے طبعی اور تجارتی پہلوؤں پر سیرحاصل بحث کی ہے۔ ان کے بعد ماہر معدنیات کی حیثیت سے سب سے زیادہ شہرت شرف الدین ابوبکر احمدب ن یوسف التیافشی (المتوفی 651ھ، بمطابق 1253ء) کو ملی، جنہوں نے معدنیات سے متعلق (الاذھار الافکار فی جواھر الاحجار، خواص الاحجار اور الاحجار التی توجد فی خزائن الملوک) کے ناموں سے تین کتابیں تحریر کیں۔ ان میں اول الذکر کتاب الازھار الافکار فی جواھر الاحجار خاص طور پر مشہور ہیں۔ کتاب کے 25 ابواب میں 24 جواہرات کے مآخذ، ان کی آزمائش اور ان کی قیمت وغیرہ کے بارے میں بڑی وسیع معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ کتاب میں ان جواہرات کی طبی افادیت اور سحر و افسوں میں ان کی اہمیت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ التیفاشی کی کتاب کے مآخذ زیادہ تر عربی ہیں، قدیم تحریروں میں انہوں نے صرف (پلائینی) کی کتاب اور ارسطو سے منسوب تصنیف سے استفادہ کیا ہے۔

مشہور سائنسدانوں میں جن لوگوں نے معدنیات کو اپنی توجہ کا موضوع بنایا ہے، ان میں سب سے اہم نصیرالدین طوسی (المتوفی 597، تا 672ھ، بمطابق 1201 تا 1274ء) ہیں۔ انہوں نے ترک منگولیائی لفظ (تنکسوخ) بمعنی قیمتی چیز کو جزوعنوان بنا کر معدنیات کے متعلق ایک کتاب (تنکسوخ نامہ) تصنیف کی، جو مسلم علمِ معدنیات میں البیرونی کی کتاب کے بعد سب سے اہم تصنیف ہے۔ طوسی نے اس کتاب میں جابر بن حیان، کندی، رازی اور عطارد بن محمد الکاتب کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے۔ البیرونی کی تصنیف طوسی کا اہم ماخذ رہی ہے۔ طوسی کی ایک اور تصنیف (کتاب الجواھر) کے عنوان سے ہے۔ اس میں مصنف نے جواہرات کی صفات اور ان کے خواص سے بحث کی ہے۔

علم معدنیات سے متعلق دوسری اہم تحریروں میں محمد ابن شاذان کی تصنیف (کتاب الجواھر واصنافہ) کا تذکرہ بھی کتابوں میں آیا ہے۔ ان کے علاوہ علم معدنیات کے موضوع پر کام کرنے والوں میں محمد بن احمد التمیمی مصنف المرشد، ابن مسکویہ، محمد ابن منصور الشیرازی، ابوالقاسم کاشانی، شیخ علی حزین، امام احمد اور یحییٰ بن محمد الغفاری کے نام لیئے جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے معدنیات کے موضوع پر کتابیں اور رسائل تحریر کیئے ہیں۔ میری تحقیق کےمطابق امام سیوطی شافعی رح نے بھی ایک کتاب علم الطب کی بابت لکھی ہے لیکن اس کا تفصیلی ذکر موضوع کے مطابق طب کے سیکشن میں کیا جائے گا۔ انشاء اللہ۔ ان لوگوں نے معدنیات کے موضوع پر کتابیں اور رسالے تحریر کیئے۔ مسلمہ المجربطی ، ابن جوزی، ابن البر، داؤد انطاکی اور متعدد دوسرے علماء نے اپنی کتابوں میں معدنیات یا جمادات کے متعلق قابل قدر معلومات قلمبند کی ہیں، یہ معلومات ان کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں۔

معدنیات کے میدان میں اسلام اور مسلمان سائنسدانوں نے صرف پتھروں کی تاثیر اور ان کے خواص بیان کرنے تک اپنی تحقیقات کا دائرہ محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے تجربات اور مشاہدوں کی روشنی میں پتھروں کی صنعتی اور تجارتی افادیت کے علاوہ دواؤں میں ان کی اہمیت کو بھی بیان کیا۔ انہوں نے سالہا سال تک معدنیات پر تحقیق کرکے معلومات کا ذخیرہ جمع کردیا۔ غور فرمائیں کہ اگر دیسی جاہل لبرلز اور دھریت جو یہ کہتی ہے کہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ہے اور حقیقت سے دور ہے ان کے منہ پر یہ لازوال تھپڑ ہے کیونکہ اگر اسلام دیگر کی طرح ہوتا تو اس کا بھی اب تک خاتمہ ہوجانا چاہیئے تھا، نا تو مسلمانوں کو علمی تحقیق سے کبھی اسلام نے روکا ہے نا ہی کبھی ان کو چرچ جیسی چیزوں میں محدود کیا گیا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جسکا ادراک اگرچہ مغربی دھریہ کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے مگر مسلمانوں میں پیدا ہونے والا جاہل طبقہ یعنی (دیسی دھریت) اپنی فقط جہالت اور اندرونی خباثت کی وجہ سے انکار کربیٹھتی ہے۔ اس میں اسلام کی کوئی خطا نہیں بلکہ اس مین انہیں لوگوں کی اپنی خطا ہے اور اوپر سے ڈھٹائی ہے کہ انکار کرتے ہیں حقائق کا۔

عطار بن محمد الکاتب نے مختلف رنگوں اور ساخت کے سیکڑوں معدنیاتی نمونے جمع کرکے ان پر سالہا سال تک تجربات کیئے۔ رابرٹ بریفالٹ کے بیان کے مطابق البیرونی نے معدنیاتی نمونے جمع کرنے میں چالیس سال سفر میں گزارے تھے۔ یہاں دوبارہ سے دیسی دھریت ملحدیت غور کرے کہ اگر اسلام میں چرچ جیسا کوئی نظام ہوتا تو کیا یہ لوگ ان اشیاء پر تحقیق کرتے؟ اور اگر اسلامی معاشرے میں فروغ نہ ہوتا تو کیا مسلمان ان کو گیلیلیو کی طرح توبہ کرنے پر مجبور نہ کرتے؟

مسلم سائنسدانوں نے دواؤں میں معدنیات کی اہمیت واضح کی۔ ابو منصور موفق بن علی ھروی (المتوفی 340ھ بمطابق 961ء) نے الابنیہ عن حقائق الادویہ میں 75 ایسی دواؤں کے نام دیئے، جو معدنیات سے تیار ہوتی ہیں۔ معدنیات کے اوزان مخصوصہ یعنی (سپیسیفیک گریویٹی) کی دریافت بھی مسلم سائنسدانوں کا کارنامہ ہے۔ اس کی اولیت کا سہرا ابوالطیب سند بن علی کے سر ہے۔ اس کے بعد البیرونی نے اٹھارہ قیمتی پتھروں اور دھاتوں کے اوزان مخصوصہ متعین کیئے جو آج بھی درست اور صحیح ہیں۔ فلپ کے ہٹی کا بیان ہے؛

The famous al-Biruni with almost complete accuracy, determined the specific gravity of eighteen precious metals.

ول دوران نے البیرونی کے اس اہم کارنامے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے؛

He composed an extensive lapidary, describing a great number of stones and metals, from the natural, commercial, and medical point of view. He determined, the specific gravity of eighteen precious stones and laid down the principle that the specific gravity of an object corresponds to the volume of water it displaces.

عہد وسطیٰ میں معدنیات کا علم محدود تھا لیکن مسلم سائنسدانوں نے محنت اور صلاحیت سے اسے اس مقام تک پہنچایا جس کا تصور محال ہے۔

علم طبقات الارض جیالوجی کا تعلق معدنیات سے بہت گہرا رہا ہے۔ قرون وسطیٰ میں یہ علم منظم نہ تھا بلکہ جغرافیہ یا معدنیات کے ذیل میں بھی اس کا بھی تذکرہ ہوتا تھا۔ مسلم سائنٹسٹس نے بھی ارضیات کو معدنیات ہی کے ذیل میں ذیر بحث لایا ہے۔ ابویوسف یعقوب کندی ، مسعودی اور اخوان الصفا نے اپنے رسالوں اور تصنیفات میں زلزلوں، بادوباراں اور زمین کے مختلف طبقات اور انکی ساخت پر بڑی کارآمد معلومات فراہم کی ہیں۔ کندی نے پہاڑوں کی چوٹیوں کا فاصلہ معلوم کرنے کے موضوع پر ایک کتاب (معرفۃ العاد قلل الجبال) تصنیف کی، ابوبکر رازی نے زمین کی ساخت پر قلم اٹھایا۔ مسعودی نے بحیرہ مردار کے پانی، زلزلوں، سمندری لہروں اور موتیوں کا ذکر کیا ہے۔ اخوان الصفا نے رسائل میں دریاؤں پہاڑوں کی ساخت پر روشنی ڈالی ہے۔ نیز انہوں نے (فوسلز یعنی متحجرات) دریافت کیئے حالانکہ اس زمانے میں اس کا تصور کرنا بھی محال تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ متحجرات یا رکازات بحری حیوانوں کی شکلیں ہیں جو پتھر میں تبدیل ہوئی ہیں۔ جن علاقوں میں یہ متحجرات یا رکازات ملتے ہیں وہ پرانے زمانے میں سمندر کا حصہ تھے اور بعد میں خشکی میں تبدیل ہوگئے۔ انہوں نے آتش فشاں پہاڑوں میں لاوے کی موجودگی اور اسکے نتیجے میں زلزلوں کے وقوع پر بھی بحث کی ہے جسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

اخوان الصفا کے بعد البیرونی نے ارضیات کے بارے میں بعض دلچسپ اور اچھوتے نظریات پیش کیئے۔ انہوں نے پہلی دفعہ یہ خیال کیا کہ وادیء سندھ کسی زمانے میں سمندر کا طاس رہی ہے جو مٹی سے بھر گئی ہے۔ ول دوران لکھتے ہیں؛

He speculated on the possibility that the Indus Valley had been once the bottom of a sea

البیرونی نے سمندر کے پانی کے نمکین ہونے کی توجیہ پیش کی اور فواروں ، قدرتی چشموں اور زیر زمین کنووں (آرٹیسیئن ویلز) سے پانی کے خودبخود ابھر آنے کے اسباب بیان کیئے جنہیں موجودہ ماسکونیات (ہائیڈروس، ٹے ٹِکس) کی ابتداء قرار دیا جاسکتا ہے ۔ فلپ کے ہٹی لکھتے ہیں

Among his scientific contributions are an explanation of the working of natural springs by the hydrostatics principle, the suggestion that the Indus Valley must have been an ancient sea basin filled up with alluvim, and a description of several monstrosities, including what we call Siamese twins.

وِل نے بھی البیرونی کی ان سائنسی توجیہات کا تذکرہ کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے

He explained the working of natural springs and artesian wells by the hydrostatic principle of communicating vessels.

البیرونی نے سائنسی انداز سے اسکی توجیہ کی کہ قدرتی چشمے سورج کے سبب سے نمودار ہوتے ہیں۔ پانی میں موجود برقی کیمیائی عمل اس کا اہم محرک ہے۔ البیرونی کا کہنا ہے کہ پچھلی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیئے چٹانوں کا مطالعہ ہمارے لیئے ضروری ہے۔ کیونکہ یہ موسم کی تبدیلیوں کی بنا پر مختلف زمانوں میں وجود میں آتی ہیں۔ ان کے خیال کی اہمیت جدید دور میں بھی مکمل طور پر تسلیم کی جاچکی ہے۔

البیرونی کے نامور ہم عصر شیخ ابن سینا نے بھی کتاب الاحجار میں پہاڑوں کی ساخت اور دوسرے ارضیاتی مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔ وِل نے پہاڑوں کی ساخت پر ان کے مندرجہ ذیل بیان کو (اے ماڈل آف کلیریٹی) قرار دیا ہے

Mountains may be due to two different causes. Either they result from upheavels of earths’ crust, such as might occur in violent earthquake; or they are the effect of water, which cutting for itself a new route, has denuded the valleys. The strata are of different kinds, some soft, some hard; the winds and waters disintegrate the first kind, but leave the other intact. It would require a long period of time for all such changes to be accomplished…. but that water has been the main cause of these effects is proved by the existence of fossil remains of aquatic animals on many mountains.

ابن سینا نے کتاب الاحجار میں علم ارضیات کے دوسرے مسائل پر بھی بحث کی ہے۔ ان کے درج بالا بیان اور زلزلوں، ہواؤں کے اثرات اور دوسرے جغرافیائی عملوں کی اہمیت ارضیات کے میدان میں آج بھی مسلم ہے۔ جدید زمانے میں ماہرین ارضیات کے اخذ کردہ نتائج ابن سینا کے افکار کی ہوبہو تائید کرتے ہیں ۔ ارضیات کی تاریخ میں اس کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔ میکس میرہاف لکھتے ہیں؛

On the other hand we owe to Avicenna a treatise on the formation of mountains, stones and minerals. It is important for the history of geology as discussing the influence of earth quakes, wind, water, temperature. sedimentation, desiccation and other cause of solidification.

اس اہمیت کے پیش نظر یورپ میں یہ کتاب علم ارضیات کے موضوع پر صدیوں تک مستند ترین ماخذ شمار کی جاتی تھی۔ ول لکھتے ہیں؛

His treatise on minerals was a main source of European geology untill the thirteenth century.

مسلم سائنسدانوں نے معدنیات اور ارضیات کی طرح موسمیات پر بھی کارآمد بحث کی ہے ۔ ابویوسف یعقوب کندی نے 51 کتابوں میں موسمیات، گرمیوں میں فضا کی خنکی، باد وباراں، گرچ بجلی بارش، اولوں، زلزلوں مدوجزر اور دوسرے موضوعات پر سائنسی انداز میں بحث کی ابتداء کی۔ ان کے بعد اخوان الصفا نے رسائل اخوان الصفا میں طبعیات کے سترہ 17 رسالوں کے پہلے رسالے میں موسمیات کو زیر بحث لایا۔ انہوں نے قوس و قزح اور اسکے رنگوں کی ترتیب پر بحث کا آغاز کیا۔ مشہور سائنسدان ابن الہیثم (الھالہ وقوس قزح) کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کرچکے ہیں۔ آخری عہد عروج کے سائنسدانوں میں قزوینی نے موسمیات اور اس کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اسلام میں زکریا قزوینی مسلمانوں کے عظیم ترین ماہر علم کائنات گزرے ہیں۔ موسیو سیدیو کا بیان ہے کہ یورپ کے فاضل مولف نسلی نے اپنی تازہ تالیف کردہ کتاب میں عربوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا اور یہ لکھا ہے کہ عرب علماء نے جیالوجی کو حاصل کیا اور اسکو ترقی دینے میں مشغول ہوئے اور دساسی نے قزوینی کی کتاب سے کئی فصلیں اپنی تالیف میں شامل کی ہیں۔ یہ قزوینی یورپ میں مشرقی علماء کا پلینی کے نام سے مشہور ہے۔

گستاولی بان کہتے ہیں کہ سمندری تغیرات کے سبب سے سطح زمین کا بدلتے رہنا اور زمین کی شکل میں تغیرات کا ہونا، اس حد تک عربوں پر ثابت ہوچکا تھا کہ عوام الناس بھی ان خیالات سے ناواقف نہ تھے۔ جس کا اندازہ اس تمثیل سے ہوتا ہے جو زکریا قزوینی نے عجائب المخلوقات میں بیان کی ہے؛

رجز: ایک جن کہتا ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک پرانے شہر سے گزرا۔ میں نے وہاں کے باشندوں سے پوچھا تجھے معلوم ہے کہ یہ شہر کب سے بستا ہے۔ اس نے جواب دیا نہیں مجھے نہیں معلوم اور نہ میرے آباؤ اجداد کو یہ بات معلوم تھی کہ یہ شہر کب سے بنا

ہزار برس بعد پھر میں وہاں سے گزرا اور بہت ڈھونڈا لیکن اس شہر کا جسے پہلے دیکھا تھا پتا تک نہ مل سکا، جس جگہ وہ شہر تھا وہاں میدان تھا اور کھیتی ہورہی تھی۔ وہاں میں نے ایک کسان کو دیکھا کہ اپنے کھیت کو کاٹ رہا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تجھے معلوم ہے کہ وہ شہر جو یہاں پہلے تھا کس طرح غارت ہوا۔ اس نے کہا کہ تم کیا سوال کرتے ہو یہ کھیت ہمیشہ سے ایسا ہی ہے جیسا ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔

ہزار برس بعد میں پھر اسی مقام سے گزرا اور وہاں ایک بڑا سمندر دیکھا جس کے کنارے پر بہت سے ماہی گیر مچھلی پکڑ رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا یہ سمندر یہاں کتنے دنوں سے ہے۔ انہوں نے جواب دیا،تم سا شخص اور ایسا سوال یہ سمندر تو یہاں ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔
———

کان کنی کے بارے میں قرون وسطیٰ کے جغرافیہ دانوں اور سیاحوں نے جو معلومات اپنی کتابوں میں فراہم کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیائے اسلام کے تقریباً تمام خطے معدنی ذخائر سے مالامال تھے۔ نیل اور بحیرہ روم کے درمیانی علاقے میں سونے کی کانیں موجود تھیں۔ مغرب میں دریائے نائجر کے بالائی ساحل کے علاقے سے سونا نکالا جاتا تھا۔

چاندی کی کانوں کے لیئے اسلامی قلمرو کا مشرقی حصہ مشہور تھا۔ بلخ کے نزدیک پنج شیر اور جارویانا میں چاندی کی بڑی کانیں تھیں۔ اس کے علاوہ ایران، وسط ایشیاء، اور المغرب میں مختلف مقامات سے چاندی حاصل کی جاتی تھی۔ کچا تانبا سجستان، کرمان، فرغانہ، بخارا، طوس ، ہرات اور قبرص کی کانوں سے برآمد کیا جاتا تھا۔ توتیا کی بڑی کانیں کرمان میں پائی جاتی تھیں۔ ٹن حاصل کرنے کا منبع ملیشیاء تھا۔ جہاں لوگ اسے کالا کہتے تھے۔ یہی لفظ عربی میں آکر قلعی بن گیا۔ خام لوہا مصر میں توبیا، بحرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور دوسری جگہوں میں پایا جاتا تھا۔ مراکش ، الجیریا، اور تیونس میں اسکی دس کانیں تھیں۔ شام میں دمشق اور بیروت کے بیچ کے پہاڑی سلسلوں میں موجود کانوں میں بھی خام لوہا حاصل کیا جاتا تھا۔ فارس میں لوہے کی چار بڑی کانیں تھیں۔ مشرقی قلمرو کے دوسرے علاقوں خراسان، ماؤراء النہر ، آذربائیجان اورآرمینیا میں بھی اس کی کانیں پائی جاتی تھیں۔ سیسے کی کانیں ایران، عراق، مصر اور ایشیائے کوچک میں موجود تھیں۔

کیا دیسی دھریت اتنی بھولی ہے کہ ان تمام حقائق کے بعد بھی یہ گمان کرتی ہے کہ دین اسلام دیگر مذاہب کی طرح سائنسی طرقی کی راہ میں حائل ہے؟ یا بجا طور پر یہ کہنا بنتا ہے کہ آپ لوگ خود اپنی جہالت میں مبتلا ہو۔ ان معدنیات کی ہی وجہ سے تو کروسیڈرز کی بھوک چمکی تھی، اسکی ہی وجہ سے تو مسلم ممالک سے لڑائیاں تخلیق کی گئیں، کیا آج کے دور میں تیل اور دیگر ذرائع کے لیئے مغربی دھریت ان ممالک کو ایکسپلائٹ نہیں کررہی؟

جاری ہے۔