Refutation to Philosophical Wrongs and Atheism [Aql-Conscious – Creator – Reason etc] Part 3

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ زیور علم و عقل سے آراستہ کیا۔ اور اس نے انسان کے جسمانی نشوونما اور اسکی مادی زندگی کی ترقی وفلاح کے لیئے کارگاہ ہست و بود کو رنگ رنگ کے نقش و نگار سے سجایا اور بنی آدم کی تربیت و ترقی کے لیئے ایک مخصوص نظام کے تحت قطعی و حتمی وسائلِ معیشت پیدا کیئے، چنانچہ وہ پانی پیتا ہے، ہوا میں سانس لیتا ہے۔ بادلوں سے بارش ہوتی ہے، جو اسکے کھیتوں اور باغوں کو سرسبزی و شادابی دیتی ہے جس سے اناج اور پھل فروٹ پیدا ہوتے ہیں۔ آگ سے وہ اپنی غذا تیار کرتا ہے، آفتاب کی دھوپ سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور شمسی توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ سب چیزیں جن کی تخلیق میں انسان کی صنعت وحرفت کو کوئی دخل نہیں ان پر ہی حیاتِ انسانی کے قیام و بقا کا دارومدار ہے۔ یہ تمام اشیاء وہ ہیں جن کو مادی زندگی کے قدرتی وسائل وذرائع کہا جاتا ہے۔ لیکن اس مادی زندگی سے بڑھ کر انسان کی ایک اور زندگی ہے جس کو روحانی اور اخلاقی زندگی کہتے ہیں۔ اور اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ یہ ہی وہ اصل حیات ہے جس پر انسان کی اجتماعی زندگی کا صالح اور درست نظام قائم رہ سکتا ہے اگر یہ نہ ہو تو انسان کی تمام تمدنی ترقیات، عمرانی ایجادات و اختراعات، اور عقلی تحقیقات و اکتشافات، انسانیت کی تعمیر میں مفید ثابت ہونے کے بجائے خود اسکے لیئے سم قاتل بن جائیں اور اسکی سوسائیٹیاں وحشیوں اور درندوں کے مہیب ریوڑ کی شکل میں تبدیل ہو کر رہ جائیں۔ جس طرح پورے نطام شمسی کے قیام و بقا کا دارومدار اجرامِ فلکی کے باہمی جذب و انجذاب پر ہے۔ ٹھیک اسی طرح انسانی سوسائیٹی کے نظم و نسق اور اسکی فلاح و نجاح کا انحصار حاسہء اخلاقی یا روحانی اعمال و ضوابط پر ہے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے یورپ کی عقلی ترقیات کا اسی بنا پر نہایت بلیغ پیرایہ میں ماتم کیا ہے کہ وہاں ان سب ترقیوں کے باوجود اخلاق و روحانیت کا فقدان ہے اور اسلیئے انسانی زندگی کا شیرازہ ء اطمینان و سکون حد درجہ پراگندہ و پریشان ہے اسی لیئے فرمایا

جس نے سورچ کی شعاعوں کو گرفتار کیا۔ زندگی کی شبِ تاریک سحر کرنہ سکا
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذرگاہوں کا۔ اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

اس بنا پر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ رب العالمین جس نے انسان کی مادی و جسمانی زندگی کے قرارو قیام کا خود تکفل کیا۔ اس کے لیئے ایسے قدرتی ذرائع و وسائل پیدا کیئے جن کی صنعت و تخلیق میں انسان کے اپنے دستِ ایجاد کو مطلقاً دخل نہیں ہے۔ وہ ہمیں اخلاقی اور روحانی زندگی کے ایسے قدرتی اصول و آئین نہ بتاتا جو صالح تمدن کے اساس و بنیاد بنیں اور جو قطعی و حتمی ہونے کی وجہ سے ہرملک اور ہرزمانہ میں ہرشخص کے لیئے لائق عمل اور درخورِ قبول و پذیرائی ہوں۔ اور ان میں کسی کے لیے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔

عقل کی کوتاہی

کہا جاسکتا ہے کہ اسطرح کے اصول و ضوابط ک لیئے یہ کیا ضروری ہے کہ وہ خدا کے بنائے ہوئے ہوں۔ اور اس نے ہی انسان کو ان کی تلقین کی ہو؟۔ جسطرح انسان اپنے رہنے کے لیئے مکانات بناتا ہے۔ گرمی سردی سے محفوظ رہنے کی غرض سے اپنے لیئے کپڑے بنتا ہے اور تیار کرتا ہے اور اسی طرح کی ہزاروں صنعتیں اس نے اپنے نفع کے لیئے اجاد کررکھی ہیں، وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ اپنے لیئے اخلاقی ضوابط و قواعد بنائے اور اپنی روحانی تشنگی کو فرو کرنے کے لیئے خود ہی کوئی نسخہ ء کیمیا تجویز کرلے، عقل جسطرح مادی ترقی کی راہ میں رہنمائی کرتی ہے، اخلاق اور روحانیت کے میدان میں بھی وہ اسی طرح شمع ہدایت بن سکتی ہے اور اسکا ناخنِ تدبیر دونوں جگہ مشکل اور پیچیدہ مسائل کی گرہ کشائی میں کارگر ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ کسی انسان کی عقل کتنی ہی کامل و مکمل ہو، نقص سے مبرا نہیں ہوسکتی۔ انسان خود اپنی فطرت و طبیعت کے اعتبار سے ناقص و غیرمکمل ہے۔ اس بنا پر اس کی کوئی قوت بھی خواہ ظاہری ہو یا باطنی ، مادی ہو یا روحانی، من کل الوجوہ کامل نہیں ہے۔ ہرمعاملہ میں صحت کے ساتھ خطا، کمال کے ساتھ نقص اور تذکر کے ساتھ سہو و نسیان کا خدشہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ امکان و حدوث کی ظلمت کے ساتھ کمالِ بے خطا کا نو جمیع کسطرح ہوسکتا ہے۔ جسطرح انسان رنگ و شکل میں ایک دوسرے سے متبائین ہیں ٹھیک اسی طرح اپنے قوائے فکریہ و باطنیہ کے لحاظ سے بھی وہ مختلف اور ایکدوسرے سے جدا ہیں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی خوش نصیب عقل حقیقت کے بحر ناپیدا کنار میں غوطہ زنی کرکے صداقت و حقانیت کے چند آبدار موتی حاصل کرلے لیکن اس کے پاس وہ قوت کہاں ہے جس سے وہ تمام دنیا کو اس صداقت کا معترف بنا سکے۔ کوئی انسانی اختراع و ایجاد خواہ کتنی ہی حقیقت کے قریب ہو، اختلاف کی گنجائش سے خالی نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ آج تک دنیا کی ممتاز عقلیں بھی کسی ایک مسئلہ پر متفق الرائے نہ ہوسکیں۔ فلسفہء یونان کے جو بنیادی نظریے تھے اور جو قرنہائے قرن تک عالم میں مقبول و رائج رہے، آخر آج موجودہ فلسفہء یورپ نے ان کو پرزہ پرزہ کرکے فضا میں منتشر کردیا ہے۔ لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ آج فلسفہء حال کی عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہے۔ مستقبل میں کوئی قوم اپنے جدید نظریات و افکار کی قوت سے اسے پاش پاش نہیں کردیگی اور اس عمارت کے کھنڈروں پر ایک نئے نظام فکر و عمل کی دنیا نہیں بسائیگی۔ قرنوں اور صدیوں کے بعد کچھ ہوگا اسے تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن اتنا تو اب بھی دیکھا جارہا ہے کہ فلسفہء جدیدہ کی شان دار عمارت کو ارتیاب و شک کا گھن ابھی سے لگنا شروع ہوگیا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اسکے بعد جدید فلسفہ کی تاریخ زیادہ تر نام بدل بدل کر کھلے یا چھپے اقرارِ جہل کی تاریخ بن کر رہ گئی۔ لاک کے یہاں اقرارِ حسیت کے نقاب میں ہے اور برکلے کے ہاں ادعائے تصوریت کے، مگر اتنی باریک اور شفات کے روپوشی سے زیادہ رونمائی کی زینت ہے۔ آخر برکلے کے بعد ہی ڈیوڈ ہیوم نے اس رونما نقاب کو بھی تار تار کردیا اور نہ صرف جہل و ارتیابیت کا کھل کر اقرار کیا بلکہ اپنے آپ کو ارتیابی ہی کہلانی پسند کیا۔

فلاسفہ کا اعترافِ عجر و نارسائی؛

عقل انسانی کی کوتاہی اور اسکے عجز و قصور کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ وہ عظیم المرتبت فلاسفہ عالم جن کے فلسفیانہ افکار و نظریات عقل و فکر کی تاریخ ارتقاء کا آخری نقطہء عروج مانے جاتے رہے ہیں۔ جب عالمِ حقیقت کی لامحدود وسعتوں میں انہیں قدم قدم پر حیرت و گمشدگی سے سابقہ پڑا تو خود انہیں بھی بجز اسکے کوئی اور چارہ کار نہ تھا کہ وہ برملا عقل کی کوتاہ بینی اور فکر کی نارسائی کا اعتراف کریں۔ سقراط کا یہ مقولہ حدِ تواتر تک مشہور ہے۔ (ہم اتنا بھی نہیں جانتے کہ نہیں جانتے)۔ انگلستان کا مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم صاف لفظوں میں اقرار کرتا ہے کہ

انسان اور عقل مخلوق ہے، اور اس لحاظ سے علم سے اسکی خاص دماغی غذا ہے لیکن ساتھ ہی انسانی ذی عقل و فہم کے حدود اتنے تنگ ہیں کہ اس باب میں اس کو وسعت و اذعان دونوں حیثیات سے بہت ہی کم اپنے فتوحات سے تشفی نصیب ہوسکتی ہے۔

فہم انسانی میں ہی ایک جگہ اور فلسفہ کا اسطرح مذاق اڑاتا ہے

مکمل سے مکلمل فلسفہ ء طبعی بھی صرف یہ کرتا ہے کہ ہمارے جہل کو ذرا اور دور کردیتا ہے جس طرح مکمل سے مکمل فلسفہ مابعد الطبیعات اور اخلاقیات کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ ہمارے اس جہل کے وسیع حصوں کی پردہ دری کردیتا ہے، مطلب یہ ہے کہ فلسفہ اسرارِ کائنات کی نہیں صرف ہمارے جہل کی پردہ دری کرتا ہے۔ اس کا حاصل اگر کچھ تھا یا ہوسکتا ہے تو انسان کی کمزوری اور کورچشمی کا تماشا دیکھنا دکھانا جس سے بھاگنے کی کوشش کے باوجود بار بار دوچار ہونا پڑتا ہے۔

ہیوم تو خیر ارتیابی تھا ہرچیز کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتا تھا، مادہ پرستوں کا ابوالاباء دیمقراطیس متولد 460 ق م تک کا قول ہے کہ کوئی بات سچ نہیں اور اگر ہے تو ہم کو معلوم نہیں

پس جب عقل خود ناقص ہے تو کسی صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لیئے جو ذرائع اختیار کیئے جائیں گے یعنی قیاس استقراء اور تمثیل ان کی نسبت کیونکر بوثوق کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی صحیح اور یقینی تنیجہ تک ہماری رہنمائی کرسکتے ہیں۔

یہ ظاہر ہے کہ کسی چیز کے یقینی علم کے لیئے مشاہدہ سے بڑھ کر کوئی اور قوی دلیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ قدیم فلاسفہ میں تولاادریہ کا ایک مستقل گروہ تھا ہی جو کہا کرتا تھا کہ ہمیں کسی شے کی کوئی حقیقت معلوم نہیں۔ یورپ کے جدید فلاسفہ کی صف میں بھی برکلے جیسے فلسفی نظر آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کسی شے کا وجود صرف وہی ہے جو ذہن میں ہے اس کے علاوہ وجودِ خارجی کے کوئی معنی نہیں۔ اس سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان فلاسفہ نے جو کچھ کہا وہ ٹھیک ہے بلکہ مدعا صرف یہ دکھانا ہے کہ اگر عقل کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور خدا کی ہدایت اسکی دستگیری نہ کرے تو خود اسکی کوششیں بسا اوقات فرطِ حیرت کی ناکامی و مایوسی پر منتہی ہوتی ہیں اور ادراکِ حقیقت کی کسی روشنی تک پہنچنے کے بجائے وہ لاعلمی و نادانی کی تاریکیوں میں خود اپنے آپ کو بھی گم کردیتی ہے۔

اس موقع پر اتنی بات اور یاد رکھنی چاہیئے کہ جب طبیعات میں عقل کی کوتاہ رسی کا یہ عالم ہے کہ وہ قطعی طور پر کسی چیز کی ذاتیات اور عرضیات میں بھی امتیاز نہیں کرسکتی اور اسی بنا پر اربابِ منطق تسلیم کراتے ہیں کہ کسی چیز کی بھی حدتام بیان کرنی ناممکن ہے، تو ظاہر ہے مابعد الطبیعات میں اسکی رسائی کا کیا حال ہوگا اور چونکہ فضائل اخلاق اور روحانی کمالات کا تعلق ایک بڑی حد تک حقائق مابعد الطبیعات کے تصور سے ہے۔ اس لیئے عقل اس راہ میں ہماری کامیاب رہنما ثابت نہیں ہوسکتی اور نہ ہم اس پر اعتمادِ کلی کرسکتے ہیں۔

عقل اور دل

اس مقام پر مزید توضیح و تشریح کی غرض سے اتنا اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کو جتنے معاملات پیش آتے ہیں ، ان کا تعلق صرف عقل سے ہوتا ہے یا فقط دل سے، اور یا دونوں سے اور یہ واقعہ ہے کہ انسانی زندگی کا قیام و بقا، اور اسکی روحانی و اخلاقی دنیا کا نظم و نسق مبنی ہے اس بات پر کہ انسان عقل اور دل دونوں سے کام لے۔ کیونکہ جسطرح عقل مصدرِ شعور و احساس ہے اسی طرح جذبات و عواطف کا سرچشمہ ہے۔ اگر ہم عقل (ریزن) کے ہی تابع فرمان ہوجائیں اور دل (فی لینگز) کو ہم پر کوئی دسترس حاصل نہ ہو تو ہم اس فلسفی کی طرح ہوکر رہ جائیں گے جس کو شادی میں غم اور غم میں شادی کی تصویر نظر آتی ہے اور جو اپنی ہستی کے قطرہ کو وجودِ ابدی کے بحر ناپیداکنار میں فنا کردینے کے بعد ہر قسم کے فعل و عمل سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم عقل سے بالکل صرف نظر کرلیں اور اپنے تمام معاملات اور افعال و اعمال دل کے میلانات و عواطف کے تابع بنا لیں تو اس کا انجام بھی بجز تباہی کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس وقت ہماری مثال انتہائی عیش پرست اور ظالم و جابر انسان کی سی ہوگی۔ یا پرلے درجے کے مغلوب الجذبات نرم خو اور مہر آگیں شخص کی سی۔ غرض یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں خیالات و احساسات کا تواز مفقود ہوکر انسانی اجتماعیات کے شیرازہ کو درہم برہم کرکے رکھ دیگا۔ اسلیئے ضرورت ہے کہ دونوں میں ارتباط و التیام ملحوظ رکھا جائے۔ لیکن محبت کے عام نفسیاتی قانون کے مطابق دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کی طرف نسبۃً زیادہ مائل ہونا چاہیئے۔ اس مرحلہ پر ہمار دعویٰ ہے کہ عقل کو ایک بڑی حد تک (ادب خوردہء دل) ہونے کی ضرورت ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوچکا ہے عقل محض کی رہنمائی ہمارے لیئے کشودِ کار کا قابل اطمینان ذریعہ نہیں البتہ وہ عقل جو علامہ اقبال مرحوم کے بقول (ادب خوردگی دل) کے زیور سے آراستہ ہے وہ ہماری روحانی تشنگی کو فرو کرنے کا بہت کچھ سامان رکھتی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں

نقشے کہ بستہ ہمہ اوہام باطل ست ۔ عقلے بہم رساں کہ ادب خوردہ دل ست

ذیل کے شعر میں بھی انہوں نے اسی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے

یا مردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار ۔ جو فلسفہ لکھا نہ گیا خون جگر سے

جن لوگوں نے تاریخ فلسفہ کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جب مسیحیت اور فلسفہ محض دونوں انسان کی روحانی تشنگی کے فرو کرنے میں ناکام ثابت ہوئے جس کی وجہ یہ تھی کہ مسیحیت عقل کو مطمئن کرنے میں ناکامیاب رہی۔ اور فلسفہ روح اور دل کے لیئے کوئی سامان تسکین فراہم نہیں کرسکا تو افلاطون کے متبعین نے فلسفہ اور مذہب دونوں کی آمیزش سے ایک معجون مرکب تیار کی جسکا نام (فلسفہ اشراق)

Neo Platonism

رکھا گیا اسکا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ طبیعیاتی مسائل و مباحث کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور الٰہیات اور روحانیت کے مسائل بھی اس میں شامل تھے۔ فلسفہ کے اس نئے سکول کا بانی فلاطینس تھا (پلوٹی نَس) جو ۲۰۴ عیسوی میں مصر میں پیدا ہوا اور ۲۷۰ میں روم میں انتقال کرگیا۔

بحوالہ ؛ Encyclopaedia of Religion & Ethics V9, Pp 307 – 319

اسباب و علل خواہ کچھ بھی ہوں لیکن اس میں شبہ نہیں کہ اس فلسفہ کو مشرق میں اور مغرب میں دونوں جگہ بہت فروغ ہوا اور غالباً یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ایشیا کے دل و دماغ پر تو اس فلسفہ کا اتنا زبردست استیلاء ہوا کہ مذہبی عقائد کی مضبوط بنیادیں تک مزلزل ہوگئیں لیکن چونکہ اس فلسفہ کا تمام تاروپود عقل کی موشگافیوں سے ہی تیار ہوا تھا اور اگرچہ اس میں ضمیر (کانشس نیس) کی پکار کو بھی دخل تھا لیکن وہ مغلوب تھی۔ اور غلبہ عقل کو ہی تھا۔ اسلیئے معرفتِ الٰہی حاصل کرنے کے میدان میں انہیں قدم قدم پر ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ اور یہ رہ نوردان حکمت و دانائی جانفروشانہ تگ و دو کے بعد بھی اس سرچشمہء ہدایت تک نہیں پہنچ سکے جو روح اور دل کے لیئے واحد سرمایہ تسکین ہے۔

فلسفہ اشراق خدا کو مانتا ہی نہیں بلکہ وہ اس کو تمام کائنات میں جاری و ساری مانتا ہے اسکے نزدیک خدا منبع خیر ہے۔ اور مادہ مخزنِ شروظلمات، اس کے اذعان و یقین میں خدا حقیقتِ واحدہ ہے اور انسانی روح اسکا پرتو۔ اس عقیدہ کے ساتھ ساتھ فلسفہ اشراق روحانیت، اخلاق ، تزکیہ باطن اور تصفیہ نفس کی طرف بھی دعوت دیتا ہے اور انسان کو لذائذِ جسمانی ترک کرکے تقویٰ و طہارت کی زندگی بسر کرنے پر ابھارتا ہے یہ سب کچھ سہی لیکن اصل یہ ہے کہ چونکہ اس فلسفہ کی بنیاد کسی خدائی قانون (وحی) پر نہیں تھی اور یہ محض عقل کی لاٹھی کے سہارے کھڑا ہوا تھا۔ اس بناء پر خود خدا کی صفات و ذات کی نسبت، اس فلسفہ نے ایسی موشگافیاں کیں کہ انہوں نے انسان کی روح کو دلاسا دینے کے بجائے اسے ایک اور ہولناک ورطہ ء حیرت و تذبذب میں پھنسا دیا مثلا اس فلسفہ نے بتایا کہ

1؛ خدا علۃ العلل ہے اور چونکہ علۃ تامہ سے معلول کا صدور بالاختیار والارادہ نہیں ہوتا بلکہ بالاضطرار ہوتا ہے اس لیئے عالم کی تخلیق بھی خدا سے اضطراراً ہوئی ہے اس میں اس کی مشیت اور ارادہ کو کوئی دخل نہیں ، اس کی مثال بالکل آگ کی سی ہے کہ جب وہ پائی جائیگی تو حرارت پیدا ہوگی ہی، خواہ آگ کے لیئے ارادہ ہو یا نہ ہو

2؛ خدا کی ذات اسقدر ارفع و اعلیٰ ہے کہ ہم اسکی طرف کسی صفت مثلاً علم ، ارادہ، اور خیر کا بھی انتساب نہٰیں کرسکتے حد یہ ہے کہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ وجود رکھتا ہے کیونکہ ہر موجود کا تصور ممکن ہے اور خدا کا تصور ہوہی نہیں سکتا

3؛ انسان کی روح اگر حسی لذتوں میں مبتلا رہے گی تو وہ قالب بدلتی رہے گی خواہ وہ کسی انسان کا ہو یا حیوان کا یا نباتات کا۔

غرض یہ ہے کہ اس فلسفہ نے کہیں درپردہ لاادریت کی تلقین کی اور کہیں ویدانت فلسفہ کی دیکھا دیکھی تناسخ کا اقرار کیا۔ یہ لوگ چلے تھے حق کی تلاش میں لیکن جب عقل محض کی قیادت، راہِ طلب کی جانگسل صعوبتوں کی حریف نہ بن سکی، تو انجام کار حضرت موسیٰ کی قوم کی طرح خود اپنے وجود کو بھی وادی حیرت میں گم کرکے بیٹھ رہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ یہ فلسفہ روحانیت اور اخلاق کے چند در چند مواعظ حسنہ کے باوجود تمام دنیا کا تو کیا ذکر ہے کسی ایک انسانی سوسائٹی میں بھی عظیم الشان روحانی و اخلاقی انقلاب پیدا نہیں کرسکا۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ اس فلسفہ نے انسان کو دماغی بلند پروازیوں میں مشغول کرکے اسے عملی جدوجہد سے محروم کردیا اور اسکی عملی قوتوں کو اس درجہ مضمحل کردیا کہ وہ تقریباً ازکار رفتہ ہوکر رہ گئیں۔ مرزا غالب نے شاید اسی قم کے لوگوں کے متعلق کہا ہے

ہاں اہل طلب کون سنے طعنہء نایافت ۔ دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے

موجبات ِ تسکین و یقین

عقل منطق اور فلسفہ ان سب دروازوں سے مایوس لوٹنے کے بعد پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچھا بتاؤ اطمینان و سکون کا وہ خزانہ کہاں ہے جو انسانیت کی روحانی طلب کو سکون عطا کرسکے۔ قبل اسکے کہ آپ اسکا جواب معلوم کریں۔ یہ جان لینا ضروری ہے کہ یقین کی ماہیت کیا ہے؟ اور یہ کس طرح پیدا ہوتا ہے؟

کم و بیش تمام علماء نفسیات نے یقین کی ماہیت اور اسکے اسباب و علل پر بحث کی ہے لیکن نفسِ یقین کی کویئ جامع و مانع تعریف نہیں ہے بلکہ اسکی مختلف قسمیں ہیں مثلا منطقی یقین
logical certainty
نفسیاتی یقین : Phychological Certainty
اور مذہبی یقین Religious Certainty

اور یقین کا تحقق انہیں اقسام میں سے کسی ایک قسم کے ضمن میں ہوتا ہے۔ ان اقسام کی تعریفیں جدا جدا ہیں لیکن ان سب میں مایہ الاشتراک یہ ہے کہ یقین ایک طرح کا نفسی میلان ہے جو خاص خاص موثراتِ خارجی و ذہنی کے زیر اثر انسان کے قلب میں پیدا ہوجاتا ہے۔ اس نفسی میلان کو پیدا کرنے کے لیئے نہ فلسفیانہ اور منطقی دلائل کی ضرورت ہے اور نہ ریاضی و اقلیدس کی بلکہ سچ یہ ہے کہ یہ میلان نہ علم پر موقوف ہے اور نہ جہل پر، اس کا انحصار نہ سچ پر ہے اور نہ جھوٹ پر، فرض کیجیئے ایک ڈاکٹر ہے جسے آپ جانتے ہیں کہ اس نے ابتک جتنے علاج بھی کئے ہیں ان میں وہ ناکام رہا ہے۔ اس بنا پر اگر آپ کا کوئی عزیز بیمار ہوجائے تو چونکہ آپ کو اس ڈاکٹر کی نالائقی کا یقین ہے اسلیئے اگر کوئی شخص آپ کو اس ڈاکٹر کے علاج کا مشورہ دیگا بھی تو آپ فوراً انکار کردیں گے۔ لیکن آپ کے برخلاف ایک اور شخص ہے جو کم از کم ڈاکٹر موصوف کے بیس کامیاب علاجوں کا مشاہدہ خود اپنی آنکھ سے کرچکا ہے اسلیئے اگر آپ اپنے مریض عزیز کے علاج سے متعلق اس شخص سے مشورہ کرینگے تو وہ بے تامل وتردد کہہ دے گا کہ اسی ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ اسے اپنے ذاتی تجربہ و مشاہدہ کے باعث ڈاکٹر کی قابلیت و مہارتِ فن کا ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ آپ کو ڈاکٹر کی عدم قابلیت کا۔ اس مثال سے واضح ہوا ہوگا کہ یہاں ڈاکٹر کی قابلیت کی نسبت شخص مذکور الصر کا نفسی میلان، (یقین) اسکے تجربہ پر مبنی ہے۔

اب اسکے بعد اس پر غور کیجئے کہ تجربہ کبھی مسلسل مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے اور کبھی عملِ ذوق و وجدان سے۔ آپ نے اردو شاعری میں رندِ بادہ خوار اور زاہدِ تقویٰ شعار کی نوک جھونک دیکھی ہوگی۔ دیکھیئے زاہد شراب کی برائی کا یقین رکھتا ہے لیکن اسکے برعکس رندِ بادہ آشام کو شراب کی جانفروزی کا اس درجہ یقین ہے کہ وہ دعویٰ سے کہتا ہے

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آگیا۔ سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگِ جاں ہوگئیں

پھر زاہد اسکے اس یقین کو توڑنے کے دلائل و براہین پیش کرتا ہے تو وہ ان کے جواب میں صرف اتنا کہتا ہے

ذوقِ ایں بادہ ندانی بخدا تانچشی

غرض یہ ہے کہ یقین جس کی حقیقت ایک نفسی میلان کے سوا کچھ اور نہیں ہے مختلف جذبات، قلبی کیفیات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اس بناء پر کوئی ایک شخص کسی دوسرے کو اسلیئے مطعون نہیں کرسکتا کہ وہ کسی چیز کی نسبت اسکی طرح یقین و اذعان کیوں نہیں رکھتا۔ ہاں لعن طعن اور ملامت اگر ہوسکتی ہے تو وہ محض اس بات پر ہوسکتی ہے کہ اس دوسرے شخص کے دل میں وہ کیفیت کیوں پیدا نہیں ہوتی جس کی وجہ سے دل میں اس چیز کی سنبت نفسی میلان پیدا ہوتا ہے چنانچہ قرآن مجید نے ان کفار کے متعلق جو کلمہء حق قبول نہیں کرتے تھے۔ یہ نہیں کہا کہ انہیں حضور کریم ﷺ کی رسالت اور قرآن کے وحی ہونے کا یقین کیوں نہیں آتا بلکہ

ختم اللہ علیٰ قلوبھم وعلیٰ سمعہم وعلیٰ ابصارھم غشاوۃ (بقرہ) ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔

فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان لوگوں میں فطرتاً اتنی صلاحیت و استعداد ہی نہیں کہ ان کے دل میں نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت و صداقت کے متعلق نفسی میلان پیدا ہو۔

یعنی اس تقریر سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ یقین بذاتِ خود کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ وہ ثمرہ ہوتا ہے ایک خاص طرح کے طبعی و قلبی جذبات و تاثرات کا اور ان سب چیزوں کو مدنظر رکھ کر آپ غور کرینگے تو بین طور پر محسوس ہوگا کہ وحی الٰہی انسان کے دل میں جس طرح اطمینان و سکون پیدا کردیتی ہے وہ بالکل ایک نفسیاتی طریقہ ہے اور اسلیئے انسان اس پیغام ربانی کو سن کر اس شک و تردد سے دوچار نہیں ہوتا جس کا سبب بالعموم منطقی طرزِ بحث و استدلال میں ہوتا ہے۔

مثلا اگر اس کو یہ بتانا ہے کہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے تو وہ اس سے بحث نہیں کرتا کہ خدا کلام کرتا ہے یا نہیں؟ اور اگر کرتا ہے تو کس طرح؟ کیا اس کے لیئے نطق پایا جاسکتا ہے؟ کیا نطق کے لیئے عضلات و اعصاب کی ضرورت نہیں ہے؟ جبریل رسول اللہ کے قلب پر کلامِ خداوندی کا القاء کرتے ہیں تو کس طرح؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ وہ جانتا تھا کہ یہ مابعد الطبیعیاتی حقائق ہیں جن کی گرہ کشائی آج تک نہ کسی عقل کے ناخن تدبیر نے کی ہے اور نہ کرسکے۔ جب مشاہدات اور محسوسات کی دنیا میں ہی قدم قدم پر ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں تو پھر عالم مجردات و معقولات کی وسعتیں کس طرح انسان کی محدود عقل میں سمٹ سمٹا کر جمع ہوسکتی ہیں؟ اسلیئے قرآن نے اس طریقہ بحث و استدلال کو چھوڑ کر ایک بالکل نفسیاتی اور بہت ہی زیادہ مؤثر طریقہ اختیار کیا اور وہ یہ ہے کہ اسُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور دعوت دی کہ تم آپ کے ایک ایک عمل اور ایک ایک حرکت وسکون کو نہایت گہری تنقید مگر انصاف اور عدل کی نگاہ سے دیکھو۔ اسے جانچو ، پرکھو اور بتاؤ کہ کیا تم نے کبھی اس ذاتِ گرامی کو جھوٹ بولتے دیکھا ہے؟

کیا تمہیں کبھی ان کی کوئی حرکت مشتبہ نظرآئی ہے؟ کیا ان کے کسی فعل و عمل پر بھی تمہیں کبھی حرف گیری کا موقعہ ملا ہے؟ اگر ان سب باتوں کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو یقین کرو کہ جس ذات نے عمر کا بہترین حصہ (40 سال) اس تقویٰ و طہارت ، معصومیت اور فضائل اخلاق کے ساتھ بسر کیئے ہیں وہ آج بھی جھوٹ نہیں بول سکتا اور آج بھی اسکی زبانِ حق ترجمان کسی ناملائم اور نادرست بات سے آشنا نہیں ہوسکتی۔ وہ کفار مشرکین جو رسول کریم ﷺ کی جان کے دشمن رہے ان تک نے ہر ہر طرح کوئی عیب تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ ناکام رہے۔ حتی کہ وہ بھی آپ کے صادق اور امین ہونے کے قائل تھے تمام تر اختلاف کے باوجود۔ تو پھر کیا وجہ تھی کہ وہ اسلام نہ لاسکے حالانکہ ان کے ہی بچے مسلمان ہوگئے؟ اسکی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے ذاتی بغض اور اپنے قلبی عواطف کو عقل محض سے پرکھنے کی کوشش کی اور جب انکے سامنے معجزات کی صورت میں انگنت نقاب کشائیاں ہوگئیں تو جن کے دلوں پر مہر نہیں تھی وہ ایمان لے آئے، اور جن کے دلوں پر پھر بھی پردہ رہا وہ باوجود تمام تر صداقت کو ماننے کے بھی صرف اپنی قلبی و ذہنی و فکری ضد اور انا کی وجہ سے ایمان لانے سے محروم رہے۔

اسی لیئے رسول کریم ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر جب پہلی مرتبہ قریش کو دعوتِ اسلام دی تو یہی طریقہ اختیار کیا کہ ان سے پوچھا: بتاؤ! تم مجھ کو کیا سمجھتے ہو؟۔ جب سب نے بیک آواز اقرار کرلیا کہ (آپ تو صادق اور امین ہیں، اور آپ نے آج تک کوئی بات جھوٹ نہیں کہی) تو پھر آپ نے ان تک اسلام کا پیغام جان التیام پہنچایا اور خود قرآن بھی سید الکونین کی زبان اقدس سے یوں گویا ہوتا ہے۔

قد لبثت فیکم عمراً من قبلہٖ افلا تعقلون: میں نے تو تمہارے درمیان مدت تک عمر گزاری ہے کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے (یونس)

دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کا قرآن پیغمبر کو ایک فاضل و کامل معلم اور ایک شفیق و عقلمند باپ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور انسان کے کانشس یا سکے ضمیر و وجدان سے اپیل کرتی ہے کہ جس طرح شاگرد وجدانی طور سے استاد پر اور بیٹا باپ پر کلی اعتماد رکھتا ہے اور اسلیئے استاد کی تعلیمات اور باپ کی نصیحتوں کو شک و شبہ کی نظر سے نہیں دیکھتا اسی طرح تمام دنیا کو پیغمبر کی ذات پر اعتماد رکھنا چاہیئے اور اسکی تعلیمات و ہدایات کو گوشِ حقیقت نیوش سے سنکر حرزِ دل و جان بنا لینا چاہیئے۔

پس ثابت ہوگیا کہ اصل صداقت و حقانیت اور کامل اطمینان وسکون کا سراغ صرف اللہ کے فرمان کے ذریعہ ہی مل سکتا ہے اور انسان کی روحانی تشنگی صرف اسی سرچشمہ ہدایت کے آب سے بجھ سکتی ہے۔ (مذہبی دیوانوں) کا کیا ذکر ہے۔ خود اُن لوگوں نے جو کرہ فلسفہ کی سب سے اونچی سطح پر نظر آتے ہیں اس حقیقت کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔

ہم کو حصول صداقت سے مایوس ہوجانا چاہیئے بجز اس صورت کے کہ ہم یہ مان لیں کہ اسکا علم براہ راست خود اسی ذات کی طرف سے عطا ہوتا ہے جو اسکا ابدی سرچشمہ ہے، یعنی خود خدا کی طرف سے، اور یہی وہ آخری حل تھا جو نوفلاطینیوں نے اختیار کیا اور جسکو ارتیابیت نے ناگزیر کردیا تھا۔ علمی تفکر کی راہ سے حصول یقین کی مایوسی ہی اس پر مجبور کرسکتی تھی کہ صداقت کو وحی کے اندر پانے کی کوشش کی جائے جو فکر سے بالاتر ہے (بحوالہ: جائنٹ کی تاریخِ مسائل فلسفہ ص 114)۔

ایک اور فلسفی کہتا ہے

انسان کے پاس کوئی یقینی علم نہیں ، ہاں خدا کے پاس ہے، اور مدعی جاہل انسان خدا سے اسی طرح سیکھتا ہے جس طرح بچہ بڑوں سے (بحوالہ لیوس کی سوانحی تاریخ ِ فلسفہ ص 82)۔

اس جملہ میں جسطرح بچہ بڑوں سے (کی تشبیہ ) نہایت بلیغ ہے۔ قائل کی مراد یہ ہے کہ جسطرح بچہ بڑوں سے کوئی بات سیکھتا ہے اور بڑوں کی عظمت و جلالت اور ان پر کامل اعتماد کی اذعانی کیفیت کے قلب پر مستولی ہونے کی وجہ سے بچے کے دل میں ایک لمحہ کے لیئے بھی یہ خطرہ نہیں گذرتا کہ بڑوں کا سکھایا ہوا سبق غلط ہوگا اسی طرح انسان جب کسی بات کو اس اذعان کے ساتھ قبول کرتا ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے تو اسے اسوقت کسی تردد و تذبذب سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔ اور وہ اپنے قلب مین اطمینان وسکون کی ایک جاں فروز کیفیت محسوس کرتا ہے۔

ڈیوڈ ہیوم کو سب جانتے ہیں کہ ارتیابی تھا اور وحی الہام کا بھی منکر تھا لیکن پھر بھی ایک موقع پر سازِ فطرت کے نغمہ کی ایک ہلکی سے آواز اس کے زبانِ قلم سے ظاہر ہو ہی گئی وہ لکھتا ہے؛

جہاں تک تجربہ اس طرح کے مسائل کی تائید کرتا ہے وہاں تک تو یہ استدلال پر مبنی ہوتے ہیں لیکن ان کی اصلی اور محکم بنیاد وحی و ایمان پر ہے (بحوالہ فہم انسانی ص 33)۔

ظواہر عالم کی نسبت ہم بہت کچھ جانتے ہیں اور جان سکتے ہیں لیکن حقائق عالم کی نسبت کچھ جاننے کا دعویٰ کریں تو نرا جہل مرکب ہوگا۔ اور بقول سقراط ہم اتنا بھی نہیں جانتے کہ نہیں جانتے۔ اس زندگی کو ہم چاہے جتنا سنوار دیں اور بنائیں لیکن اسکے آگے اور پیچھے کی اگر کچھ فکر نہ ہو تو ۔ اول و آخر ایں کہنہ کتاب افتادست۔۔۔ نہ پیچھے کا کچھ نشان نہ آگے کی کچھ خبر دے سکتے ہیں سوائے اس کے کہ بس بیچ کے اوراق الٹ پلٹ کر لال بجھکڑوں کی طرح ہرن کے پاؤں میں چکی کا پاٹ باندھتے رہے، غرض اپنے یا کائنات کے آغاز و انجام ، حقیقت و ماہیت، غرض و غایت کے بارے میں ، یہ یا اسطرح کے جتنے سوالات ہیں یا ان کی تفصیلات ہوں ، خالص عقل و استدلال ان کے بارے میں کبھی اذعان و اطمینان نہیں بخشتا بلکہ فلسفہ سے انسانیت کی یہ پیاس اپنے حلق میں صرف کانٹوں کا اضافہ کرتی رہی۔ اور جہاں انسانی عقل و فہم نے تجربہ کی راہ سے ذرا بہک کر اس خارزار مین اپنے دامن کو الجھایا تو خود فلسفہ کی ساری تاریخ گواہ ہے کہ طفلانہ ہمت نے دوہی چار قدم ڈالے تھے کہ شک اور ریب، جہل اور لاعلمی کے کانٹوں نے ہرطرف سے دامن پکڑنا شروع کیا، ایک نکلا نہیں اور دس نے پکڑا، جال کے اندر جتنا پھڑکو وہ اتنا ہی کھال کے اندر گھستا جاتا ہے۔

انسانیت کی بیشتر آبادی ہمیشہ اس وادی میں وحی و ایمان کی رہنمائی کو قبول کرکے چلتی رہی، عقل کو اگر دخل دیا بھی تو زیادہ تر قبول ہی کے لیئے۔ البتہ مغرب جہاں سے آفتاب نکلتا نہیں بلکہ جہاں ڈوبتا ہے وہاں کی نئی پرانی دنیا دونوں کو وحی اور ایمان میں کچھ قدرۃً بُعد ہی رہا ہے تو اسکے فلسفہ کی نئی پرانی دونوں تاریخوں کی جو کم وبیش ڈھائی ہزار سال کی وسعت میں پھیلی ہیں۔ ورق گردانی کرجاؤ، جتنا آگے بڑھتے جاؤ گے اتنا ہی دانش کی جگہ نادانی اور علم کی جگہ لاعلمی سے دوچار ہوتے جاؤ گے۔

اس حقیقت کو ایک اور مثال سے سمجھئے ۔ آُپ جانتے ہیں کہ ہمارے تمام مشاہدات کا تعلق بینائی سے ہے۔ لیکن کیا یہ صحیح ہے کہ مشاہدہ کا انحصار صرف قوتِ بصارت کے صحیح و سالم ہونے پرہے؟

ہرگز نہیں ! بصارت کے ساتھ ساتھ خارجی روشنی کی بھی ایسی ہی ضرورت ہے جیسی کہ بینائی کی۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی تیز نظر ہو لیکن اگر خارجی روشنی کوئی نہ ہو، آفتاب کی ہو یا کسی لیمپ یا برقی توانائی وغیرہ کی اور تمام فضا تاریک ہو تو ظاہر ہے کہ یہ تیز نگاہی کسی کام کی ثابت نہیں ہوگی۔ بس اسی طرح عقل میں قدرت کی طرف سے جو قوتِ بصیرت ودیعت رکھی گئی ہے وہ اپنی جگہ مسلم اور درست ہے لیکن جسطرح بصارت بغیر خارجی روشنی کے محض بیکار ہے۔ اسی طرح عقل کی روشنی صرف اسی وقت کارآمد ہوسکتی ہے جبکہ خارج میں بھی اسکی رہنمائی کے لیئے کوئی قوی روشنی موجود ہو۔ اور یہ روشنی وہی ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں وحی کہتے ہیں۔ جسکا اشارہ اس آیتِ قرآنی میں ہے

ھوالذی یصلی علیکم وملئکۃ لیخرجکم من الظلمٰت الی النور۔ وکان بالمومنین رحیماً (الاحزاب)۔ وہ (خدا) وہی ہے جو خود اور اسکے فرشتے تم پر رحمت بھیجتے ہیں تاکہ وہ تم کو تاریکیوں سے نکالکر نور کی طرف لے آئے جو اللہ مومنوں پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔

بصارت اور بصیرت میں صرف ظاہر و باطن کا فرق ہے، ورنہ دونوں کا حال افادہ کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے، جس طرح آفتاب سماوی کے بغیر بصارت ناکارہ ہے ٹھیک اسی طرح عقل و خرد کی بصیرت خورشید حقیقت کی جلوہ پاشیوں کے بغیر اپنی ذاتی صلاحیتوں کے باوجود قطعاً بے فائدہ ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس روشنی کے بغیر ہی محض عقل کے سہارے چلنا چاہتا ہے تو وہ اس بیوقوف سے کسی طرح کم درجہ کا احمق نہیں ہے جو نہایت شدید تاریکی مین بھی اپنی آنکھوں پر اعتماد کرکے سرپٹ دوڑنا چاہتا ہے۔

ڈاکٹر اقبال ؒ نے کیا خوب فرمایا ہے؛

انجام خرد ہے بے حضوری ۔ ہے فلسفہ زندگی سے دوری
افکار کے نغمہاے بے صوت ۔ ہیں ذوقِ عمل کے واسطے موت
دل در سخن محمدی بند ۔ اے پورعلی زبو علی چند

سیدی حجۃ الاسلام امام غزالی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی مشہور احیاء العلوم میں بیان فرماتے ہیں

ابلیس لعین کے بارے میں حکایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے زمانے میں اس نے اپنے لشکر کو ادھر ادھر پھیلایا جب وہ پریشان تھکے ماندے واپس آئے تو اس نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: ہم نے کسی کو ان (یعنی صحابہ) کی طرح نہیں دیکھا ہمیں ان سے سوائے تھکاوٹ کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ اس نے کہا: تم ان پر قابو نہیں پاسکتے انہوں نے اپنے نبی کی صحبت اختیار کی ہے اور اپنے رب کی طرف سے نزول (وحی) کا مشاہدہ کیا ہے۔ البتہ ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن سے تمہاری حاجت پوری ہوگی۔ جب تابعین کا زمانہ آیا تو اس نے اپنے لشکر کو ادھر اُدھر بھیجا وہ شکستہ حال واپس آئے اور کہا ہم نےان سے زیادہ تعجب خیز لوگ نہیں دیکھے تاہم ان کے گناہوں کے سبب ہم کچھ نہ کچھ حصہ ضرور حاصل کرلیں گے۔ جب شام کا وقت ہوا تو تابعین نے معافی طلب کرنا شروع کردی تو اللہ عزوجل نے ان کی برائیاں نیکیوں سے بدل دیں۔ شیطان نے کہا: تم ان سے بھی کچھ حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا عقیدہ توحید صحیح ہے اور یہ اپنے نبی کی سنت پر عمل پیرا ہیں۔ البتہ ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے ان سے تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوگی تم ان کے ساتھ جیسا چاہے کھیلنا، ان کی خواہشات کی لگام پکڑ کر جہاں چاہو لے جانا وہ بخشش طلب کریں گے تو ان کی بخشش نہ ہوگی اور وہ توبہ بھی نہیں کریں گے کہ اللہ عزوجل ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے۔

راوی فرماتے ہیں؛ پہلی صدی کے بعد ایک قوم آئی تو شیطان نے ان میں خواہشات پھیلا دیں اور بدعات کو ان کے لیئے مزین کردیا چنانچہ انہوں نے انہیں حلال سمجھا اور دین بنالیا، نہ تو وہ اللہ عزوجل سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور نہ ہی توبہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ان پر دشمن (یعنی شیطان) غالب ہوگئے اب وہ جہاں چاہتے ہیں انہیں لے جاتے ہیں۔

پھر مزید لکھتا ہے اگر تم کہو کہ اس قائل کو کہاں سے معلوم ہوا کہ ابلیس نے یہ بات کہی ہے حالانکہ اس نے نہ تو ابلیس کو دیکھا ہے اور نہ ہی اس سے گفتگو کی؟ تو جان لو کہ اہل دل پر ملکوت (یعنی عالم ملائکہ) کے راز منکشف ہوتے رہتے ہیں کبھی بطور الہام ان کے دل میں ڈالے جاتے ہیں اور انہیں معلوم تک نہیں ہوتا۔ کبھی سچے خواب کے ذریعے اور کبھی بیداری میں ان کے معانی مثالوں کے مشاہدے کے ذریعے واضح کئے جاتے ہیں جیسا کہ خواب میں ہوتا ہے اور یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے اور یہ نبوت کا بلند درجہ ہے جیسے سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے تو تمہیں اس علم کے انکار سے بچنا چاہیئے جو تیری ناقص عقل کی حد سے پار ہوگیا۔ اس سلسلے میں مہارت کا دعویٰ کرنے والے علما بھی ہلاک ہوگئے جن کا خیال تھا کہ انہوں نے عقلی علوم کا احاطہ کرلیا ہے۔ اس عقل سے جہالت بہتر ہے جو اولیائے کرام رحمھم اللہ السلام کے بارے میں ایسے علوم کا انکار کرے اور جو شخص اولیائے کرام کے بارے میں اسی باتوں کا انکار کرتا ہے اس پر انبیائے کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام کا انکار لازم آتا ہے اور وہ دین سے مکمل طور پر نکل جاتا ہے۔

بعض عارفین نے فرمایا: ابدال، لوگوں سے قطع تعلق کرکے زمین کے مختلف کونوں میں جا بسے ہیں اور وہ جمہور کی آنکھوں سے اوجھل ہوچکے ہیں۔ کیونکہ ان میں آج کے دور کے علما کو دیکھنے کی ہمت نہیں ہے اسلیئے کہ ان کے نزدیک یہ علما اسرارِ الٰہیہ سے واقف نہیں مگر یہ لوگ خود کو عالم سمجھتے ہیں اور جاہل بھی انہیں ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔ پس یہ (جھوٹے علما اور انہیں علما سمجھنے والے) سب لوگ جاہل ہیں۔ (بحوالہ قوت القلوب فصل الحادی والثلاثون ص 298)۔

امام غزالی عقل کے بارے میں لکھتے ہیں

یاد رکھو! عقل کی عظمت کو بیان کرنے میں تکلف کی ضرورت نہیں بالخصوص جبکہ علم کی فضیلت عقل کی وجہ سے ظاہر ہے اور عقل علم کا منبع، مطلع اور بنیاد ہے۔ علم کی نسبت عقل سے ایسی ہے جیسے پھل کی درخت سے ، روشنی کی سورج سے اور دیکھنے کی آنکھ سے تو وہ چیز عظمت والی کیوں نہ ہو جو دنیا و آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہے۔ نیز اس میں کیسے شک کیا جاسکتا ہے جبکہ جانور اپنے سوجھ بوجھ کی کمی کے سبب عقل سے شرماتا ہے یہاں تک کہ سب سے بڑے جسم والا، سب سے زیادہ نقصان دینے والا اور سب سے زیادہ خوفناک جانور بھی جب انسان کو دیکھ لیتا ہے تو گھبرا کر بھاگ جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہا نسان اس پر غلبہ پالے گا اور اسکی وجہ یہ ہے کہ انسان کی خاصیت ہے کہ وہ حیلوں کو جانتا ہے۔

بوڑھے شخص کو فضیلت کیوں حاصل ہے؟

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بوڑھا شخص اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے نبی اپنی امت میں (المقاصد الحسنہ حرف الشین ح نمبر 609 ص 264)۔

اور یہ اسوجہ سے نہیں کہ اس کے پاس مال کی کثرت ہوتی ہے ۔ وہ عمر رسیدہ ہوتا ہے یا اس کو قوت زیادہ حاصل ہوتی ہے بلکہ اسلیئے کہ اس کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے جو عقل کا نتیجہ ہے۔ اسی لیئے تم دیکھتے ہو کہ ترکی، کردی اور عرب کے بیوقوف بلکہ تمام وہ لوگ جو جانور سمجھے جاتے ہیں فطری طور پر بوڑھوں کی عزت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دشمن ِ رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے آئے لیکن جب چہرہ نور بار کا دیدار کیا تو تعظیم وتکریم بجا لائے اور مبارک پیشانی پر نورِ نبوت درخشاں دیکھا اگرچہ وہ حضور سراپا نور ﷺ کے دل میں پوشیدہ تھا جیسے عقل پوشیدہ ہوتی ہے۔ الغرض! عقل کی عظمت و فضیلت ایک بدیہی چیز ہے اور ہم محض اسکی فضیلت و عظمت میں وارد شدہ آیات و احادیث کو ذکر کرنا چاہتے ہیں۔

پھر امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے عقل کی حقیقت اور اسکی اقسام بیان فرمائی ہیں اور اس کو چار معانی پر رکھا ہے۔ شائقین اسکو احیاء العلوم کی پہلی جلد کے صفحات 285 تا 300 میں پڑھ سکتے ہیں ۔ دعوت اسلامی کی مدنی کتب آن لائن دستیاب ہیں وہاں سے احیاء العلوم کا کامل ترجمہ پڑھا جاسکتا ہے۔ امام غزالی نے اپنی ایک اور کتاب مستطاب منہاج العابدین میں بھی صفحہ 23 تا 110 تک میں علم کے بیان پر کہ فی الحقیقت علم کیا ہے اور کتنی اقسام کا ہے ، عوائق اربعہ کی حقیقت کیا ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے اور نفس و شیطان کے متعلق انتہائی جان انگیز معلومات عطا فرمائی ہیں جس سے بہت سے حقیقتیں کورچشم لوگوں پر کھل سکتی ہیں اگر انصاف کے ساتھ ان کے مطالعہ کیئے جائیں۔

آپ تہامت الفلاسفہ میں لکھتے ہیں ؛

جو مانتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ہرجسم حادث ہے کیونکہ وہ حوادث سے خالی نہیں ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو عالم کو صانع و علت کا محتاج کہنے کے سلسلے میں اسکا مذہب معقول ہے۔ کہ سمجھ میں آتا ہے۔

رہے تم تو تمہیں دھریوں کا مذہب ماننے سے روکنے والی کیا چیز ہے؟ دھریوں کا مذہب ہے کہ (عالم ہمیشہ سے یوں ہی ہے، اس کے لیئے نہ کوئی علت ہے نہ صانع، علت تو حوادت و نوپیدہ جات کی ہوتی ہے، جبکہ عالم میں کوئی جسم حادث نہیں ہوتا اور نہ معدوم ہوتا ہے، حادث صرف ہوتی ہیں صورتیں اور اعراض۔۔۔۔۔۔۔ (یہ فلسفیوں کا بیان ہے) آگے لکھتے ہیں

فان الاجسام التی ھی فی السموات ، قدیمۃ، والعناصر الاربعۃ التی ھی حشو فلک القمر، و اجسامھا وموادھا، قدیمۃ ۔۔۔۔۔۔ الیٰ قلنا: وقد بینا فساد (اختتام تک)۔

ترجمہ؛ کیونکہ اجسام جو آسمانوں میں ہیں قدیم ہیں ، اور عناصر اربعہ جو فلکِ قمر کے جوف میں بھرے ہیں، اور عناصر کے اجسام و مواد سب قدیم ہیں، صرف امتزاجات و استحالات یعنی آمیزشات و انتقالات سے ان پر صورتیں بدل بدل کر آتی اور ارواحِ انسانی و حیوانی و نباتی حادث ہوتی ہیں، اور ان حوادث کی علتوں کی انتہا حرکتِ دوری پر ہے، اور حرکت دوری قدیم ہے، اور حرکتِ دوری کا مصد و منبع فلک کا نفسِ قدیم ہے۔ تو ایسے میں نہ عالم کے لیئے علت ہے، اور نہ اجسام کے لیئے کوئی صانع، بلکہ عالم یعنی عالمِ اجسام جیسا ابھی ہے ایسا ہی بغیر کسی علت کے ہمیشہ رہا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو فلسفیوں کا یہ کہنا کیا معنیٰ کہ ۔۔۔۔۔۔۔ (اِن اجسام کا وجود ایک علت ہے اور وہ علت قدیم ہے)۔

فلسفی: جس کی علت نہ ہو وہ وجب الوجود ہوگا، اور واجب الوجود کی جو صفات ہم نے بیان کی ان سے ظاہر ہے کہ جسم واجب الوجود نہ ہوگا۔

اعتراض: اور ہم نے (امام غزالی فرماتے ہیں) مسئلہ سادسہ میں عیاں کردیا کہ واجب الوجود کی نسبت تمہاری ادعائی صفات میں کیا خلل و خرابی ہے (آسان اردو میں ان کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً یہ قول بالصفات ۔۔ بغیر کثرت مانے ممکن نہیں اور کثرت ماننے سے تمہیں یکسر فرار ہے)۔ اور یہ بھی آشکارا کردیا کہ برہانِ قطع تسلسل کے سوا کسی اور امر کی طرف رہنمائی نہیں کرتی، اور دہریے کے نزدیک آغازِ امر ہی میں قطع تسلسل ہولیا، کیونکہ وہ کہے گا کہ (اجسام کی کوئی علت نہیں) رہ گئیں صور و اعراض تو ان میں ایکدوسرے کے لیئے علت ہے، یہاں تک کہ نوبت حرکتِ دوری پر پہنچے گی، حرکتِ دوری میں بھی جیسا کہ فلسفیوں کا مذہب ہے کہ ایک گردش دوسری کی علت ہے، اور حرکتِ دوری کا قطع تسلسل حرکتِ دوری ہی سے ہے۔

جو شخص ہمارے اس بیان کو غور سے پڑھے گا، یقین کرلے گا، کہ اجسام کے قدیم ہونے کا جو بھی قائل ہو وہ اجسام کے لیئے علت ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، اور اسے دھریت و الحاد لازم ہے۔ جیسا کہ ایک گروہ نے صاف صراحۃً دہریت و الھاد بک دیا، تو جو ان سفہاء کے نظریے کا مقتضیٰ تھا، یعنی اِن کے نظریئے پر لازم آتا تھا، اُس گروہ نے پورا کردیا۔

فلسفی: اثباتِ صانع و اثباتِ علت پر دلیل یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اجسام یا واجب الوجود ہوں گے، اور یہ محال ہے، یاممکن ہوں گے، اور ہر ممکن محتاجِ علت ہے (ماڈرن زبان میں یہاں پر کاز اور ریزن کے فارمولے کا ذکر کیا جارہا ہے)۔

اعتراض؛ لفظ واجب الوجود اور ممکن الوجود کا آخر مفہوم ہے کیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ان کا تمام تر شکار پراسرار فریب آثار انہیں دو لفظوں کی آڑ میں چھپ کر ہوتا ہے، تو ہم لفظ کے بجائے معنیٰ و مفہوم کی طرف آئیں، واجب الوجود کا مفہوم ہے (نفی علت) اور (ممکن الوجود) کا اثباتِ علت۔ ۔۔۔۔۔۔۔ تو گویا فلسفی مذکورہ دلیل میں یہ بول رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (ان اجسام کے لیئے آیا علت ہے یا نہیں ہے)۔۔ دہریہ کہے گا۔۔۔۔۔ (نہیں ہے تو اسمیں حیرت کی کیا بات ہے؟) اور امکان سے جب ان کی مراد ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اثباتِ علت ۔۔۔۔۔ تو ہم الزاماً کہیں گے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجسام واجب ہیں، ممکن نہیں ہیں اور فلسفیوں کا یہ کہنا کہ (جسم کا واجب ہونا ممکن نہیں ) بے بنیاد تحکم ہے۔

فلسفی : اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ، جسم کے لیئے اجزاء ہوتے ہیں، اور ان اجزاء ہی سے مجموعہ کا قوام ہوتا ہے اور وہ اجزاء فی الجملہ ذات پر سابق و مقدم ہوتے ہیں ( تو اجزاء علت ہوئے اور جسم معلوم و محتاجِ علت، تو جسم واجب نہیں ہوسکتا)۔

اعتراض؛ یونہی سہی، تو مجموعہ کا قوام اجزاء اور اجتماعِ اجزاء سے ہو۔ اور نہ ان اجزا کی کوئی علت نہ ان کے اجتماع کی، بلکہ اجزاء یوں ہی ہمیشہ سے بلا علتِ فاعلی چلے آرہے ہوں

اسکے رد میں فلسفی بے دست و پا ہیں ، صرف وہی گزشتہ دلیل دہرا سکتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موجودِ اول سے کثرت کی نفی لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی یہ دلیل ہم باطل کرچکے ، اور اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔

لہٰذا آشکارا ہوگیا کہ جو جسم کو نوپید نہیں مانتا اس کے پاس ہرگز کوئی دلیل نہیں جس کی بنیاد پر وہ صانع کا اعتقاد کرے۔

مسئلہ حادی عشر ؛ اول کو غیر کا علم اور تمام انواع و اجناس کا بروجہ کلی علم ماننے والے فلسفیوں کی بے بسی کا اظہار

حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی ؒ لکھتے ہیں

وجود جب مسلمانوں کے نزدیک حادث و قدیم میں منحصر ہے، اور مسلمانوں کے اعتقاد میں قدیم صرف ذات و صفاتِ الٰہی ہے۔ جل و علا، اور اسکے سوا جو کچھ ہے سب اسی کی طرف سے اسی کے ارادے سے حادث ہے ، تو مسلمان کو علم الٰہی جل و علا سے متعلق ایک بدیہی مقدمہ حاصل ہے، کہ ۔۔۔۔۔۔۔ جس شی کو چاہا، ظاہر ہے کہ ، ، وہ چاہنے والے کو ضرور معلوم ہوگی۔۔۔۔۔ اسی مقدمہ پر مسلمانوں نے اس اعتقاد کی بنا رکھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (سب کچھ اللہ کو معلوم ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلیئے کہ جملہ عالم اسکا چاہا ہوا ہے۔ اور اس کے چاہنے سے عدم سے نکل کر وجود میں آیا ہے، تو کوئی موجود ایسا نہیں جو اس کے ارادے سے حادث نہ ہو، سوا اسکی ذات و صفات کے۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ثابت ہولیا کہ ، وہ شان ِ ارادی رکھتا ہے، اور جس جس کا ارادہ فرمایا ان سب کو جاننے والا ہے، تو وہ ۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ ۔۔۔۔۔ حیُ ہے۔ یعنی زندہ، اور جو حی اوروں کو جانتا ہو، وہ اپنی ذات کو بدرجہ اولیٰ جانے گا۔ لہٰذا مسلمانوں کا اعتقاد یہ ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (سب کچھ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس راہ سے مسلمانوں نے اللہ عزوجل کے علم محیط تام تفصیلی کو جانا، جب کہ ان پر روشن ہوگیا، کہ وہ عالَم کو نوپیدا کرنے کا ارادہ فرمانے والا ہے۔

رہے تم تو جب تمہارے زعم میں عالم قدیم ہے ، بہ ارادہء الٰہیہ حادث و نوپید نہیں ہوا ہے ، تو تم نے کہاں سے جانا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (وہ اپنے غیر کو جانتا ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس پر دلیل لاؤ

اسے ثابت کرنے کے سلسلے میں ابن سینا نے اندرونِ بحث جو کچھ لکھا اسکا حاصل خلاصہ دو روشِ دلیل ہیں

سینائی روشِ اول؛ اول وہ موجود ہے کہ مادے میں نہیں، اور ہرموجود جو مادے میں نہ ہو وہ عقل محض ہوگا۔ (نوٹ: یہاں اندرونِ کتاب سے مراد ابن سینا کی افانین الکلام ہے)۔ اور جو بھی عقلِ محض ہو اس پر تمام معقولات منکشف ہوں گے، کیونکہ ادراک جمیع اشیاء میں جو شئی مانع ہوتی ہے وہ ہے مادے سے تعلق اور مادے کے ساتھ مشغولی۔۔۔۔۔۔۔۔ آدمی کی روھ مادے یعنی بدن کی تدبیر میں مشغول ہے، جب موت سے اس مشغولی کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، اور شہواتِ جسمانیہ وصفاتِ ردیہ جو امور، طبعیہ کے سبب روح تک پہنچتے ہیں ان سے روح میلی کچیلی نہ ہوگئی ہوتی ہے تو اُسے تمام حقائق ِ معقولات منکشف ہوجاتے ہیں، اسی لیئے فلاسفہ کا ماننا ہے کہ تمام ملائکہ جمیع معقولات کو جانتے ہیں ان میں کچھ بھی چھوٹا نہیں ہے (1) کیونکہ وہ عقول ِ مجردہ ہیں جو کسی مادے میں نہیں

1؛ غیر کے لیئے علمِ تام محیط باحاطہ تامہ ماننا، یہاں تک کہ کوئی ذرہ ذراتِ عالم سے مخفی رہنا ناممکن جاننا، کفر قطعی ہے، قرآن کریم غیر پر مخفی ہونے کا وقوع بیان فرمارہا ہے اور وقوع اقویٰ دلیلِ امکان ہے تو عدمِ امکان تکذیبِ قرآن ہوئی ۔

اعتراض؛ امام غزالی فرماتے ہیں؛ اول وہ موجود ہے جو کسی مادے میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اسکا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نہ جسم ہے نہ جسم میں منطبع، بلکہ وہ قائم بالنفسہٖ ہے ، نہ کسی حیز میں ہے نہ کسی خاص جہت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ ہمیں تسلیم ہے

رہ جاتا ہے تمہارا یہ قول کہ ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ جس کی یہ شان ہو وہ عقلِ محض ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو عقل سے کیا مراد؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ مراد ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو تمام اشیاء کو جانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہی تو تمہارا مطلوب تھا، اور اسی میں تو ہمارے تمہارے بیچ نزاع ہے۔، تو اس مطلوب و موضع نزاع کو اس قیاس کے مقدمات میں کیسے لے لیا جو اثباتِ مطلوب کی خاطر تم نے ترتیب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر عقل سے کچھ اور تمہاری مراد ہے یعنی یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنے آپ کو جانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بسا اوقات تمہارے فلسفی برادران تمہاری خاطر یہ معنیٰ تسلیم کرلیں گے لیکن اس کا حاصل یہ نکالیں گے ککہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو اپنے آپ کو جانے وہ غیر کو بھی جانے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان سے پوچھا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دعویٰ تم نے کہاں سے کیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حاصلِ معنیٰ بدیہی تو ہے نہیں، یہ تو ابن سینا کا تمام فلسفیوں سے جدا انفرادی عندیہ ہے، تو اس کے بدیہی ہونے کا دعویٰ تم کیسے کرسکتے ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نظری ہے تو پھر اس پر دلیل کیا ہے؟

فلسفی ؛ ادراکِ اشیاء سے مانع صرف مادہ ہے، اور وہاں مادہ نہیں ہے

اعتراض: یہ تو تسلیم ہے کہ مادہ مانع ہے، مگر یہ تسلیم نہیں کہ صرف مادہ ہی مانع ہے،،،،،،،،،،،،،،،،، ان کا یہ قیاس قیاسِ شرطی کی شکل پر مرتب ہے ، یعنی

یہ اگر کسی مادے میں ہو تو اشیاء کو نہیں جانے گا، لیکن یہ مادے میں نہیں ہے لہٰذا اشیاء کو جانے گا۔

یہ تنقیضِ مقدم کا استثناء ہے، اور تنقیضِ مقدم کا استثناء بالاتفاق منتج نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ا ن کے قیاس کی مثال یہ ہے جیسے کوئی کہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اگر انسان ہو تو حیوان ہوگا لیکن یہ انسان نہیں ہے لہٰذا حیوان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ یہ نتیجہ لازم نہیں ہے کیونکہ بسا اوقات انسان نہیں ہوگا، اور فرس ہوگا، تو حیوان ہوگا۔ ہاں تنقیض مقدم کا استثناء، نقیضِ تالی کا نتیجہ ایک شرط پر دیتا ہے۔ جیسا کہ منطق میں مذکور ہے، وہ شرط یہ ہے کہ (عکس ثابت ہو) یعنی تالی کو مقدم اور مقدم کو تالی کرنا صحیح ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ حصر سے ہوتا ہے، جیسے ان کا قول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر سورج طلوع ہو تو دن موجود ہوگا، مگر سورج طلوع نہیں تو دن موجود نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ دن ہونے کا سبب، سوائے طلوع آفتاب کے اور کچھ نہیں ہے، تو ان مقدم و تالی کا عکس لا کر ایک کو دوسرے کی جگہ رکھنا صحیح ہے۔ امام صاحب اس دقیق مباحثے پر کہتے ہیں ان اصطلاحات و الفاظ کا بیان کتاب معیار العلم سے سمجھنا چاہیئے۔

الغرض امام صاحب نے فلسفیانہ و ملحدانہ تمام تر دلائل کا اور اسکے ساتھ ساتھ سینائی روشن دوم کے باب میں مستقل عنوان باندھ کر بھرپور رد کیا ہے

جاری ہے۔

 

to be continued…………