Radd-e-ilhadiyat wa Tarikh-e-Fasade Dajjali Nizam [Urdu]

سود اور کافرانہ دجالی نظام

کافر مالیاتی ادارے ایسے جادوئی طریقے سے چلائے جاتے ہیں ۔ وہ بغیر وجہ کے کرنسی چھاپتے ہیں اور سود کے ذریعے دولت بڑھاتے رہتے ہیں۔ وہی سود جسے اللہ نے واضح طور پر منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو سودی معاملات میں شریک ہوتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ لوگوں کو پروگرام کردیا جاتا ہے (یعنی ان کے ذہنوں میں بٹھا دیا جاتا ہے) اور چیزوں کی خواہش پیدا کردی جاتی ہے (جسکی واضح مثالیں دن رات میڈیا کے اشتہارات بنکوں کےا شتہارات سے معلوم ہوجاتی ہیں۔ وہ چیزیں جو صارف و آجر نظام پیدا کررہا ہے اور اس خواہش کے نتیجہ میں وہ چیزوں کو فوراً حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسکے بدلے میں اوپر کے پیسے دینے کےلیئے تیار ہوتے ہیں۔ اور اوپر کا فالتو پیسہ اصل میں سود ہوتا ہے۔ چونکہ یہ مالیاتی ادارے لوگوں سے دولت بٹورنے کیلیئے بنتے ہیں جب کوئی انہیں رقم دیتا نہیں ہے تو یہ بے رحمی سے عدالتوں میں گھسیٹتے ہیں خاص طور پر آج کل یہ بات انسانوں سے نکل کر کمپیوٹرز کے ہاتھ آگئی ہے کہ کون رقم دے رہا ہے اور کون نہیں دے رہا۔

قرض دیتے ہوئے اب یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کوئی قابل اعتماد ہے یا نہیں بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اچھی انوسٹمنٹ ہے یا نہیں۔ یعنی اس قرض میں کتنا پیسہ بنایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک مارگیج معاہدہ میں طے ہوا ہے کہ اصل رقم کا تین گنا ادا کیا جائے گا،یعنی جو گھر کی اصل قیمت ہے اس کا تین گنا آخر میں ادا ہوگا اور پھر معاہدہ کرنے والا اس رقم کی ادائیگی میں محض تھوڑا سا بھی پیچھے رہ جائے تو خواہ اس نے مکان کی اصلی قیمت کا دوگنا ادا کردیا ہو، گھر پر قبضہ کرلیا جاتا ہے اور اسے بیچ دیا جاتا ہے اور اگر فروخت کرنے سے باقی ماندہ رقم وصول نہ ہو تو نادہندہ سے باقی رقم پھر بھی وصول کی جاتی ہے۔ اس میں یہ بالکل لحاظ نہیں رکھا جائے گا کہ نادہندہ نے کتنی ایمانداری سے پہلے کی رقم ادا کی تھی اور باوجود یہ ساری رقم ادا کرنے کے وہ پھر بھی گھر سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور پیسے سے بھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سود خواہ کسی شکل میں ہو ایک ایسا ڈاکہ ہے جو قانون کے ذریعے انسانوں پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس جب مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو ادھار دیتا ہے تو وہ ذہنی طور پر اس کی واپس ادائیگی مین تاخیر کے لیئے تیار ہوتا ہے۔ بلکہ قرض معاف کرنے کی حد تک راضی ہوتا ہے۔ اسلیئے کہ اللہ کی طرف سے اسے دس گنا زیادہ مل جاتا ہے۔ اس وجہ سے بعض مسلمان تو قرض کی بجائے رقم قرضِ حسنہ دینا پسند کرتے ہیں کہ قرض کی واپسی کی صورت میں تو محض اصل رقم واپس آئے گی لیکن نہ ملنے کی صورت میں دس گنا زیادہ مل جائے گا۔

یہ علم کافر دجالی مالیاتی اداروں کو بالکل نہیں ہے اور یہ ادارے بے رحمی سے، ان لوگوں نے جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے، پیش آتے ہیں۔ کیونکہ مستحق شخص کسی بھی مالیاتی طور پر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ان اداروں کا نمائندہ ان ضرورت مندوں سے کہتا ہے کہ وہ ان کی مدد تو کرنا چاہتا ہے لیکن قوانین کے ہاتھوں اور اپنی نوکری کے ہاتھوں مجبور ہے۔ زیادہ تر کاروبار کمپیوٹر کے ذریعے سے ہوتا ہے جس میں ہمدردی کی گنجائش نہیں ہوتی اور یوں بے رحمی سے قانونی کاروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔

عزرا پاؤنڈ کی ایک تحریر کا یہ حصہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ کیسے قانونی اداروں کے ذریعے سے بدترین سودی نظام بیسویں صدی کی زندگی پر اثر انداز ہورہا ہے۔ یہ تحریر اس نے ایک خط سے لی ہے جو 25 جون 1863ء میں لندن کے ایک بینک کی برانچ سے لکھا گیا۔ “چند لوگ جو اس نظام کو سمجھنے والے ہیں وہ یا اس سے ہونے والے منافع میں دلچسپی کی وجہ سے یا اس سے ہونے والے فائدوں پر انحصار کرنے والے ہوں گے اسلیئے ان کی طرف سے مخالفت نہیں ہوگی جبکہ اکثر لوگ جو سرمایہ کے اس منافع کو نہیں سمجھ پائیں گے وہ اسکے بوجھ کو بغیر شکایت کے برداشت کریں گے اور شاید ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا یہ نظام اصل میں ان کے مفادات کے خلاف ہے”۔

پیغمبرانہ طریقہ زندگی دجالی نظام کے برعکس ہوتی ہے۔ کافر پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ اسلام سادگی کا نام ہے۔ اسلامی معاشرے میں ایسے ادارے اور ماہرین نہیں ہوتے جن کے وجود اور روزگار کا ذریعہ لوگوں کی پریشانیوں کے بل بونے پر کام سے وابستہ ہو۔ اسلامی معاشرے میں آپس کا معاہدہ اور کام باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ان کا تعلق کاغذی کاروائی اور اسکے نتیجہ میں کسی کام کے جائز یا ناجائز ہونے پر نہیں ہوتا۔ جہاں کہیں بھی مسئلہ کھڑا ہوتا ہے، قرآن و حدیث سے اس کا حل تلاش کرلیا جاتا ہے۔

یہ بھی درست ہے کہ کچھ لوگوں نے چند اسلامی تعلیمات کو لے کر کافر قانونی ڈھانچہ کے مطابق ایک نظام بنانے کی کوشش کی ہے لیکن ان کو اسلامی نہیں کہاجاسکتا۔ ان کو نظرانداز کردینا چاہیئے۔ یہ محض نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کو پورا کررہے ہیں کہ کچھ مسلمان یہود و نصاریٰ کی تقلید کریں گے۔

مسلمانوں کو قانونی نظام بنانے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن و حدیث کی تعلیمات مکمل ہیں اور ان کی تشریح کیلیئے قانونی ماہرین کی ضرورت نہیں ۔ کافرانہ دجالی نظام استعمال کرنے ک لیئے قانونی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلامی نظام کو استعمال کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ پہلے اسے مان لیا جائے نہ کہ یہ کہ اسے زبردستی دوسروں پر ٹھونسا جائے۔ سود پر مبنی مالیاتی نظام کی ضرورت نہیں کہ اسلامی معاشرہ دینے اور دوسروں کی مدد کرنے پر مبنی ہے نہ کہ مال کو رکھنے اور دوسروں سے چھپانے پر۔

ایک حقیقی اسلامی معاشرے میں بغیر چہرے والے اداروں کی گنجائش نہیں ۔ جس بینک کو ہم جانتے ہیں اسطرح کے بینک نہیں ، بہت سی جیلیں نہیں، بہت سی عدالتیں نہیں، بہت زیادہ پولیس کی ضرورت نہیں بلکہ باقاعدہ فوج کی بھی ضرورت نہیں۔ حاکم وہ ہے جسے ہرشخص نے حاکم تسلیم کیا ہے اور جو قرآن و حدیث کی پیروی کرتا ہے۔ کوئی حکمران طبقہ نہیں ہے اسلیئے کہ نبی کریم ﷺ کا طریقہ خاندانوں کی حکمرانی کو منع کرتا ہے۔ جو بھی خاندانی موروثی حکومت کررہا ہے وہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام کی مخالفت کررہا ہے۔ جب لوگ دوسروں کا استحصال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں استحصال کرنے کے ذرائع اور طریقے بھی ڈھونڈنے پڑتے ہیں اور اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے طریقے بھی تلاش کرنے پڑتے ہیں۔

جب مسلم کمیونٹی میں کوئی شخص قرآن و حدیث کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو قرآن وحدیث کے مطابق مسلم کمیونٹی اپنے رہنماؤں کے ذریعے اسکا فیصلہ کرتی ہےا ور یہ فیصلہ بغیر تاخیر کے ہوتا ہے۔ ایک حقیقی مسلم معاشرے میں کسی کی آزادی کو تین دن سے زیادہ سلب نہیں کیا جاسکتا خواہ اس نے کچھ بھی کیا ہو۔ ہرکوئی زندگی میں کسی غلط کام کا مرتکب ہوسکتا ہے۔

حکمرانی کا طریقہ سنت نبوی ﷺ سے ظاہر ہے ۔ آپ نے حکمران کو کسی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے دونوں فریق کو سننے کا حکم فرمایا ہے۔ اگر وہ غصہ کی حالت میں ہوں تو حکمرانوں کو خود فیصلہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ آپ ﷺ نے کبھی جیل نہیں بنوائی۔

چونکہ فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی، مسلم کمیونٹی میں کاغذی کاروائی اور بیوروکریسی کی گنجائش نہیں۔ مسلم کمیونٹی میں انصاف کا تعلق اس بات سے نہیں کہ مقدمے کے اخراجات کون ادا کررہا ہے، اسلیئے کہ انصاف کے حصول میں اخراجات ہی نہیں ہوتے ایک مسلم نہ دوسروں کیلیئے خطرہ ہوتا ہے نہ وہ خود اپنی زندگی ختم کرسکتا ہے

اہم بات یہ ہے کہ اسلام ان لوگوں پر کامیابی سے عائد نہیں کیا جاسکتا جو اس کو دل سے قبول نہ کرتے ہوں۔ کوئی احمق ہی لوگوں کو کوئی خاص طریقہ زندگی اختیار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جیسے کہ موجودہ دور کے خوارج وہابیہ دیابنہ وغیرہ جو اسلام کا خودساختہ تشریحات کرکر کے نوجوان ذہنوں کو تباہ کررہے ہیں کیونکہ بنیاد درست نہیں ہے ان لوگوں کی اور اسی لیئے نورین لغاری جیسے کیسز سامنے آتے ہیں، اور یہ تو وہ کیس تھے جن کو اداروں تک اپروچ حاصل تھی۔ وہ بیچارے جن کو نہ تعلیم ملی ہو نہ ذہن ان کا میچور ہو، وہ لوگ ان کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ان لوگوں کے جلسوں میں اکثریت ان پڑھ لوگوں کی ہوتی ہے جن کو کچھ اسی کافرانہ دجالی نظام کے پڑھے لکھے بیوقوف بنائے رکھتے ہیں اور اسی سے تقسیم اور امت میں شر پھیلتا رہا ہے۔ اگر آپ مومن ہیں تو کافر بننے کی کوشش مت کریں اور اگر کافر ہیں تو زبردستی مومن بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ وہی بن سکتے ہیں جو آپ ہیں اور دوسروں کو بھی وہی بننے دیں جو وہ ہیں، اللہ کے سوا نہ کسی کے پاس قدرت ہے نہ طاقت۔

ابھی تک ہم نے دجالی نظام کے حکمران طبقات کا ذکر کیا ہے جو اس نظام کے چھوٹے حصوں کو کنٹرول کرتے ہیں ان حصوں سے مل کر کل نظام بنتا ہے۔ اس حکمران طبقے کو واضح طور پر پہچانا نہیں گیا۔ اب ضروری ہے کہ ہم گہری نگاہ سے دیکھیں کہ یہ کون لوگ ہیں

یہ فری میسن کی تحریک کے لوگ ہیں جو ایک خفیہ تنظیم ہے ۔ بظاہر اس تحریک نے دوستوں کے ایک کلب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ جو بزنس کی دنیا میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور مخیرانہ کام کرتے ہیں۔ یہ بات درست بھی ہے لیکن ایکدوسرے کی مدد اور دوسروں پر کنٹرول کا درجہ اور نوعیت کیا ہے، یہ اصل عوام سے پوشیدہ ہے۔

ان میں اختیار اور اقتدار کا نظام درجہ بدرجہ ہے اور اہرامی ہے۔ ان کی ایک شناختی علامت ایسا اہرام ہے جس کے اوپر ایک آنکھ کا نشان بنا ہے۔ فرمیسن اکیسویں صدی کے جادوگر ہیں اور سارا جادو زندگی کے سراب کے متعلق ہے اور یہ جادو اسطرح دکھایا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کو حقیقت نظر نہ آئے۔ کنزیومر پروڈیوسر سسٹم یعنی سی پی ایس میں یہ جادو واضح طور پر نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ اس نظام کو چلانے کیلیئے جنگوں کو تخلیق کیا جاتا ہے اور حکومتوں کو گرایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعے قرضوں کی صورت پیدا کی جائے۔ پھر ماہرین اور اسلحہ مہیا کیا جائے اور ان سب پر سود وصول کیا جائے۔ فریمیسن کی کہانی فرعون کے جادوگروں سے ملتی ہے۔ وہ فرعون جس نے موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی تھی۔ قرآن میں موسیٰؑ اور فرعون کا قصہ بار بار آتا ہے۔ یہ قصہ بتاتا ہے کہ جب کوئی اللہ کا بندہ اللہ کی مرضی اور منشاء کے مطابق چلتا ہے اور کسی کافر سے ٹکراتا ہے جس کی زندگی کا انحصار جادو پر ہے تو آخر میں فتح اللہ کے بندے کی ہوتی ہے اور اللہ کے سوا بے شک کوئی طاقتور نہیں ۔

باطل قوتوں کے ساتھ جنگ ہردور میں حق والوں نے کی ہے۔ یہی قصہ جو موسیٰ ؑ اور فرعون کے درمیان ہوا، وہی نوحؑ اور اسوقت کے حکمران کے درمیان ہوا تھا۔ اور وہی کہانی ابراہیم ؑ اور نمرود کے درمیان تھی۔ یہی بات عیسیٰ ؑ اور رومن سلطنت کے درمیان ہوئی۔ یہی نبی کریم ﷺ اور ابوجہل کے درمیان بات دہرائی گئی اور یہی دجال اور مہدی کے درمیان قصہ ہوگا۔ یعنی ازل سے دو قوتیں برسر پیکار ہیں ایک وہ جو حق کی طرف سے ہے اور دوسری وہ جو دنیاوی مال و دولت کے لالچ میں اپنی روحوں کو شیطان کے ہاتھ گروی کردیتے ہیں۔ یہی فریمیسن تھے جنہوں نےا یک طرف پہلی جنگ عظیم میں نپولین کو پیسہ فراہم کیا اور دوسری طرف یہی روتھس چائلڈ صیہونیوں نے اسکے مخالفین کو مدد فراہم کی۔ یہی وہ تھے جو ایک طرف دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کو فنڈز دیتے رہے سپورٹ دیتے رہے اور اسکے ساتھ ساتھ امریکہ برطانیہ وغیرہ کو بھی قرضے مہیا کرتے رہے۔ یہی تمام دنیا میں سب سے پہلے کروسیڈرز کی بدذاتی کو لائے اور مسلمانوں کا قتال کروایا اور دوسری طرف یہی ایسے سنز بن کر مسلمانوں میں موجود شرپسند عناصر کو ترغیب و تربیت کرتے رہے اور یہی آج کے دور میں اسرائیل بنا کر ایک طرف اسلام کو بدنام کرنے کےلیئے آئی سیس تخلیق کرتے ہیں مغرب کو یہ بتاتے ہیں کہ دیکھو مسلمان دہشتگرد ہیں اور دوسری طرف انہیں دہشتگردوں کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہی ایک طرف اسلام کے اندر تفریق کے لیئے وہابیت کاشت کرتے ہیں اور دوسری طرف اسی وہابیت کو دہشتگردی کی راہ پر لگا کر اسلام کے نام پر دھبہ لگاتے ہیں۔ یہی ہیں جو ایک طرف آر ایس ایس کو بھرپور سپورٹ دیتے ہیں اور یہی ہیں جو پھر کشمیر پر ظلم کرنے کے باوجود ان کی حریت کو (علیحدگی پسند) کا نام دیتے ہیں۔

یہی فریمیسنز ہیں جو ایک طرف سوشلسٹ نظام لاتے ہیں اور دوسری طرف اسکے الٹے نظام یعنی کیپیٹل ازم کو نافذ کرنے پر زور دیتے ہیں ۔ یہی فریمیسن جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ خالقِ کائنات صرف ایک اور واحد اللہ ہے اور یہی فریمیسن پھر اسی اللہ سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر دھریت پھیلاتے ہیں تاکہ دونوں ہاتھوں سے پلس اور مائنس پوائنٹس پر عوام کو بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ فرمیسن دجال کی ان دیکھی قوتیں ہیں۔ جنہوں نے دنیا پر قبضہ کرلیا ہے۔ انکی سرگرمیوں کے نتیجے میں پوری دنیا میں ایک سوشل اور کلچرل عمل معرض وجود میں آچکا ہے یہی قوتیں دجال (یعنی فرد) کی حمایت کریں گی۔ اور اس تحریر کے لکھنے کے وقت یہی لوگ کافر نظام اور دستور یعنی انسٹیٹیوشن پر حاوی ہیں۔ یہ ایک طرف لادینیت پھیلاتے ہیں تاکہ جب انسان خدا سے دور ہوجائے تو پھر اسکو دجال (حقیقی) کے آنے پر جادوئی چیزیں دکھا کر دھریت کو بہ آسانی اپنے نئے ڈھونگی دھرم میں لاسکیں گے۔ یہ جو سیکولر ازم کہا جاتا ہے یہ ان کا وہ ہتھیار ہے جو یہ اپنی ون ورلڈ گورنمنٹ آف دجال کی اسٹیبلیشمنٹ کے نفاذ کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس سے پہلے اتنے بااختیار کبھی نہیں تھے انہوں نے سی پی ایس کے ذریعے اس دنیا پر اپنا تسلط جمایا ہے۔ کاغذی نوٹوں کے ڈھونگ کے ذریعے ، یہ سی پی ایس ان کے بینکنگ نظام اور (تقسیم کرو اور حکومت کرو) کے زور پر چل رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یہ لوگ آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کی نس بندی کررہے ہیں تاکہ دنیا کی مارکیٹ میں طلب و رسد کی قوتوں کو اپنی مرضی سے متوازن کرسکیں۔

یہ لوگ جنگوں کو تخلیق کرکے کنٹرول حاصل کرتے ہیں ۔ دونوں فریقین کو من چاہی قیمت پر اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ طاقتور اقوال کو آپس میں لڑوا کر کمزور کردیتے ہیں اور پھر ان پر قبضہ اور کنڑول کرلیتے ہیں ۔ بوسنیا اسکی ایک مثال ہے۔

استحصال اور کنٹرول کی یہ تکنیک بیک وقت دو محاذوں کے ذریعے سے استعمال کی جاتی ہے۔ ایک محاذ جو پردے کے پیچھے ہوتا ہے، دوسرا جو عوام کے فائدے کے نام پر سرکاری محاذ ہوتا ہے۔ اس کافرانہ دجالی نظام کے سب سے بہترین کاریگر وہ ہوتے ہیں جو ان ممالک کی اشرافیہ کہلاتے ہیں اور جن کو کرپشن کے بھوت کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے یعنی ہمارے کرپٹ حکمرانوں کا تمام پیسہ اسی لیئے ان صیہونیوں کے بینکوں میں ہوتا ہے تاکہ ان کو کنٹرول میں رکھا جاسکے۔ خفیہ سرگرمیاں البتہ بہت ظالمانہ ہوتی ہیں۔ جیسے آئی ایم ایف، سرکاری واقعات کی کامیابی کے پیچھے کفر کے مختلف ذیلی نظاموں کا بہم تعاون ہوتا ہے اسی لیئے یہ نظام انہیں فرمینسنز کے ہاتھ میں ہیں جنہوں نے فرانسیسی انقلاب کا ڈرامہ رچایا اور تب سے وہ ایسے ڈرامے سٹیج کرتے چلے جارہے ہیں۔

دجالی کافرانہ نظام قانونی اور میڈیکل نظام فریمیسن کے تعاون کی ایک واضح مثال ہے۔ اس سے کوئی ڈرامہ سٹیج کرنے میں اور بالآخر کنٹرول حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ محض حادثاتی اور واقعاتی بات نہیں کہ لندن کا ہائی کورٹ آف جسٹس اور رائل کالج آف سرجن ایکدوسرے کے بالکل قریب ہیں۔ گو ان کے فرنٹ مختلف سمتوں میں ہیں۔ وہ ضرورت پڑنے پر ایکدوسرے سے ملکر کام کرتے ہیں۔

معمر قذافی کے رہتے مصر میں ہر شخص خوشحال تھا مگر اس نے بھی جب اس نظام کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اسلامی پیسہ کے رائج کرنے کا عندیہ دیا تو اس کو شہید کروادیا گیا تاکہ اس کے مقابل کھڑا ہونے والا ایک نظام یعنی اسلام پھل پھول نہ سکے کیونکہ اسطرح ان کا سحر ٹوٹتا تھا۔ کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں کہ جہاں کافرانہ میڈیکل اور لیگل سسٹم نے آپس میں تعاون کیا اور میڈیا نے بھی اس تعاون میں اپنا کردار ادا کیا۔

لارڈ نارتھ کلف

پہلی مثال لارڈ نارتھ کلف کی ہے جو کہ ٹائمز اخبار کا چیف ایڈیٹر تھا۔ ایک واقعہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے اور باقی دونوں مثالیں جنگ عظیم دوئم کے بعد کی ہیں۔ ان میں مشہور شاعر عذرا پاؤنڈ اور بدنام زمانہ نیورمبرگ مقدمہ ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا اس جگہ کو صیہونی یہودیوں کا پرانا گھر قرار دیا گیا حالانکہ یہ یہودی اصل میں یہودی نہیں بلکہ خضار یہودی نسل تھے جنہوں نے اپنے مفادات کے لیئے یہودیت کو اختیار کیا تھا اور یورپ کے باسی تھے۔ بلفور اعلان 2 نومبر 1917ء میں سرکاری طور پر لارڈ روتھس چائلڈ کے حوالے کیا گیا۔ اسی ہفتے میں روسی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

سرکار اور حکومت برطانیہ یہودیوں کے لیئے ایک قومی وطن کے طور پر فلسطین میں آباد کاری کو بنظر تحسین دیکھتی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے پوری توانائی صرف کرے گی البتہ غیر یہودی فلسطینیوں کے حقوق کو پامال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہودیوں کے حقوق کو کسی اور ملک میں سلب کیا جائے گا۔ (یہ ان کا بظاہر مینی فیسٹو رہا)۔

یہ بات قابل ذکر اور دلچسپ ہے کہ کمیونزم بھی صٰہونیت کی طرح ایک یہودی معاملہ تھا۔ جیسا کہ ڈگلس ریڈ نے اپنی کتاب (صیہونیت کا اختلافی کردار) میں تحریر کیا ہے:

برطانوی وائٹ پیپر جو 1919ء میں تحریر کیا گیا اس میں بالشوزم کے بارے میں یہ رپورٹ ہے۔ مسٹر اوڈنڈائک نے لکھا ہے: بالشوزم اصل میں یہودیوں کی منظم تحریک ہے۔ یہ یہودی کسی وطن سے تعلق نہیں رکھتے لیکن اپنے مقاصد کے لیئے بھی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کے سفارت کار ڈیوڈ آر فرانسس نے اسی طرح کی بات لکھی ہے۔ بالشویک لیڈرز زیادہ تریہودی ہیں ان میں سے 90 فیصد لوگ جلاوطن رہے لیکن انہیں روس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ دنیا میں ایک انقلاب لانا چاہتے ہیں۔

مسٹر اوڈنڈائک کی تحریر کو برطانوی سرکاری مطبوعات سے بعد میں منہا کردیا گیا اور اسوقت کی ساری تحریروں کو جو قابل اعتماد ہیں حاصل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ خوش قمستی سے ایک طالب علم کے لیئے کسی گواہ نے سرکاری ریکارڈ کو محفوظ کرلیا تھا۔ یہ گواہ مسٹر رابرٹ ولٹن تھے وہ لندن ٹائمز کے صحافی تھے اور انہوں نے بالشویک انقلاب کو دیکھا تھا۔ ان کی کتاب کے فرانسیسی اشاعت میں حکومت انقلابی ممبرز کی فہرست تھی۔ یہ فہرست انگریزی اشاعت میں سے نکال دی گئی تھی۔

یہ ریکارڈ بتاتا ہے کہ بالشویک پارٹی کی سنٹرل کمیٹی جو کہ ساری طاقت رکھتی تھی، اس میں تین روسی تھے جن میں لینن بھی شامل تھا اور 9 یہودی تھے۔ دوسرے نمبر کی طاقتور کمیٹی (سینٹرل کمیٹی آف ایگزیکٹو کمیشن) یا سیکرٹ پولیس میں 24 یہودی اور 19 روسی، لٹس اور جیورجیئن وغیرہ تھے۔ کونسل آف پرسلر کمیشن میں 17 یہودی اور 8 دوسرے لوگ تھے۔ ماسکو چی کا (سیکرٹ پولیس) میں 17 یہودی اور 13 دوسرے تھے۔ بالشویک کے 566 آفیسروں میں 458 یہودی اور 108 دوسرے لوگ تھے۔ دوسری سوشلسٹ پارٹیوں میں 55 یہودی اور 6 دوسرے لوگ تھے، یہ سب نام مسٹر ولٹن کی اصلی دستاویز میں بتائے گئے ہیں۔

یہاں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ کچھ عرصہ قبل میں نے ازراہ مذاق ایک سوشلزم کے حامی پاکستانی صاحب کی ویب سائٹ اور شخصیت سے براہ راست مکالمہ کیا اور خود کو انتہائی بودا انسان بنا کر بچوں کی طرح ان سے سیکولرازم اور سوشل ازم پر بات چیت شروع کی۔ ایک دو بار میں نے یہ بھی کہا اپنی گفتگو کے درمیان کے میرے خیال میں سوشلزم بھی انسانیت کا پرچار کرتی ہے اور دینِ اسلام بھی انسانیت کا پرچار تو کیا ان دونوں کی اچھی چیزوں کو کمبائین کرکے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا؟ میرا یہ سوال دراصل ٹرکی سوال تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ میں یہ جان لوں کے ان کے پس پردہ محرکات کیا ہیں اور سوچ کیا ہے ہمارے ہاں کے دیسی لبرلوں کی۔ تو موصوف نے جواب میں کہا کہ ہاں بالکل ان مین قدرے اشتراک ہے۔اور یہ ہوسکتا ہے۔ اس کے جواب میں پھر سے میں نے ایک سوال داغ دیا کہ آپ زائینزم یعنی صیہونیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں تو جناب یکدم محتاط ہوگئے اور کہا کہ ہم مارکسسٹ تھیورسٹس کا صیہونیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جب میں نے ان کو عرض کیا کہ جناب آپ کا کارل مارکس تو صیہونی تھا پھر سوشلزم کہاں سے آگیا؟ تو بوکھلا گئے کہنے لگے کہ جی نہیں وہ صیہونی ہرگز نہ تھا۔ میں نے پھر اپنی بات کے ثبوت میں اس کا کچا چٹھا کھولا تو آج تک ان صاحب کی طرف سے جواب کے انتظار میں ہوں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ جتنے بھی نظام ہیں جو دھریت اور سوشلزم کے پرفریب نعرے دیتے ہیں دراصل ایک شیطان کی سٹیم روٹس ہیں ایک طرف اسلام ہے اور دوسری طرف یہ تمام باطل قوتیں جنکی نکیل ایک شیطان کے ہاتھ ہے جو انسانوں میں موجود کمزور ذہنوں کو بدگماں کرکے اپنے جال میں پھانستے ہیں۔ پر فریب نعرے تو خوارج بھی دیتے رہے ہیں۔ جہاں جہاں گلے کاٹے گئے وہیں وہیں پشت پر یوایس ایڈ کے خیمے اور ان پر لاالٰہ الاللہ لکھا ہوا ہوتا ہے تاکہ کام شیطانی کیئے جاسکیں اور نام اسلام کا بدنام ہو۔

بہرحال دوبارہ آتا ہوں ٹاپک کی طرف۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز قائم کی گئی ۔ جس ذریعے سے برطانوی حکومت کو بین الاقوامی اجازت دلوائی گئی کہ وہ اسوقت تک فلسطین کا انتظام سنبھال لیں جب تک اچھی خاصی تعداد میں وہاں یہودیوں کی آبادی نہ ہوجائے اور بعد میں یہ کنٹرول انکے حوالے کیا جاسکے۔ لارڈ نارتھ کلف جو ٹائمز اخبار کا ایڈیٹر تھا اس نے ایک ہم عصر صحافی جے ایم این جفریز کے ساتھ فلسطین کا دورہ کیا اور جو کچھ ہورہا تھا وہاں پر اسکا مشاہدہ کیا۔ ڈگلس ریڈ نے اسکو یوں رپورٹ کیا ہے۔ (اسوقت تک انگلیڈ میں جو کچھ لکھا جارہاتھا اور لوگوں کو بتایا جارہا تھا جو صیہونیت کے سربراہ ڈاکٹر وائزمین کے مشورے سے تھا)۔ لارڈ نارتھ کلف نے البتہ سب کچھ ذاتی مشاہدہ کی بناء پر تحریر کیا اور اسی نتیجہ پر پہنچا جس پر اسوقت کے تمام نیوٹرل صحافی پہنچ رہے تھے۔ اس نے لکھا ہے کہ : میرے خیال میں ہم نے بغیر سوچے سمجھے یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی ضمانت دے دی ہے۔ حالانکہ وہاں 70 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ انگلینڈ صیہونیت کے مشن سے بہت مخلص ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ایسا نہیں ہے اور انہیں 70 لاکھ عربوں سے لڑنے کے لیئے خفیہ اسلحہ نہیں دینا چاہیئے۔ فلسطین میں اس سے خرابی ہوگی۔ لوگ یہودیوں کو یہ بات بتانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ خیر میں نے انہیں کچھ سچ بات بتادی ہے۔

یعنی جیسے مغرب کو ٹارچر کرنے کے لیئے یہودیوں نے (اینٹائے سیمیٹزم) کا نام استعمال کیا دوسری جنگ عظیم کے بعد ویسے ہی آج ہندوؤں کی آر ایس ایس اپنے ہندوتوازم کے ذریعے کشمیر پر قبضہ جما کر مغرب کو کبھی برطانوی راج کی بکواس تو کبھی مغلوں پر بکواس سے اپنا الو سیدھا کرتی نظر آتی ہے۔ ہمارےہاں کے کچھ دجالی نظام کے سوکالڈ پڑھے لکھے مغرب کے غلامانہ نظام تعلیم سے بہرمند سوکالڈ دانشور بھی کبھی مغلوں تو کبھی تاتاریوں اور تیمور پر باتیں کرتے آپ کو ایک خطرناک پروگرام میں بھی نظر آجائیں گے۔ بہرحال۔ ٹائمز کے ایڈیٹر مسٹر۔ وکم سٹیڈ جس نے پہلے بھی روسی انقلاب میں یہودیوں کے صحیح کردار کو رپورٹ کرنے سے انکار کیا تھا ( یہ رپورٹ روس میں ان کے اہم صحافی مسٹر رابرٹ ولٹن نے تیار کی تھی)۔ اب لارڈ نارتھ کلف کے لکھے ہوئے مضامین کو شائع کرنے سے انکار کردیا (جیسے آجکل انکی اے ڈی ایل کرتی نظر آتی ہے)۔ جب لارڈ نارتھ نے اسے خود فلسطین آکر حالات کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی تو اسنے انکار کیا اور باوجود اصرار کے لارڈ نارتھ کلف کے مضامین شائع نہیں کیئے۔

اس میں وہ مضمون بھی شامل تھا جس میں مسٹر بالفور کے صیہونیت کے متعلق رویے پر اعتراض کیا گیا تھا۔ انگلینڈ واپسی پر لارڈ نارتھ کلف نے مسٹر وکمین سٹیڈ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ (مارچ 1922ء) اس پر مسٹر وک مین سٹیڈ نے لارڈ نارتھ کلف پر (پاگل) ہونے کا الزام لگا دیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آجکل ہمارے ہاں کے لبرل اپنی جہالتوں اور کمینگیوں پر پردہ ڈالنے کے لیئے اسلام اور صوفیاء پر خوارجی جہنمی کتوں کی طرح بھونکتے ہیں۔

ڈگلس ریڈ لکھتا ہے: جون 1922ء کو لارڈ نارتھ کلف نے مسٹر وک مین سٹیڈ کو پیرس میں ملاقات کے لیئے کہا۔ ان کی ملاقات 11 جون 1922ء کو ہوئی۔ لارڈ نے مسٹر وکم کو بتایا کہ وہ (ٹائمز) کی ایڈیٹر شپ خود سنبھالیں گے۔ جون 12 کو یہ سب لوگ ٹرین سے ایویان لزبنز کیلیئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ڈاکٹر کو خفیہ طور پر ٹرین میں سوار کرایا گیا۔ سوئٹرزلینڈ میں ایک ماہر فرنچ نیورالوجسٹ کو شامل کیا گیا جس کا نام ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا۔ اور جس نے لارڈ کلف کو (پاگل) قرار دے دیا۔ اس سرٹیفیکیٹ کے بعد مسٹر وکم نے ٹائمز کو ہدایات جاری کیں کہ لارڈ نارتھ کلف کی کوئی تحریر شائع نہ کی جائے۔ جون 13 کو وہ نارتھ کلف سے علیحدہ ہوا اور پھر کبھی اس سے نہیں ملا۔ جب لارڈ لندن آیا تو اسکو ہرقسم کے کنٹرول سے ہٹادیا گیا۔ اس کا ٹیلیفون تک کاٹ دیا گیا۔ اس کو ٹائمز کے آفس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ سب کچھ اس نامعلوم غیرملکی ڈاکٹر کے سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔

یہ بات آفیشل ہسٹری آف ٹائمز نے رپورٹ کی ہے۔ 14 اگست 1922ء کو لارڈ نارتھ کلف نامعلوم وجوہات کی بنا پر فوت ہوگیا۔ جس پر آج تک شکوک وشبہات ہیں کہ وہ طبعی موت نہیں مرا۔ اسوقت اسکی عمر57 سال تھی اور موت کی وجہ (السی ریٹیو اینڈو کارڈیٹس) بتائی گئی۔ اور ایک تعزیتی اجلاس کے بعد روتے ہوئے صحافیون کے درمیان ان کو دفن کردیا گیا۔ یہ کہانی بعد میں آفیشل پبلیکیشن سے لی گئی ہے جو تیس سال بعد شائع ہوئی۔ اگر یہ اسوقت معلوم ہوتی تو بہت سے سوال اٹھتے۔ اس طرح ایک طاقتور شخص کو پراسرار انداز سے خاموش کردیا گیا، اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی

ڈگلس ریڈ مزید لکھتا ہے؛

لارڈ نارتھ کلف کو شائع ہونے سے اور اس کے اپنے اخبار کے کنٹرول سے ہٹادیا گیا اور یہ اس اہم وقت میں کیا گیا جب لیگ آف نیشنز فلسطین میں یہودیوں کو ایک نئے وطن کی نوید سنانے والی تھی اور یوں ہماری نئی نسل کو یہ مسئلہ ورثہ میں دے دیا گیا۔ ایک مشہور اخبار کی تحریریں لوگوں کو اس فیصلہ کے خلاف کرسکتی تھیں اور یوں حالات کا پانسا پلٹ سکتا تھا۔ نارتھ کلف کی وفات کے بعد بلفور کے صیہونیت سے تعلق پر روشنی ڈالنے والے لوگ کم ہوتے چلے گئے اور پیرس میں صحافیت نے غیرجانبدارانہ رپورٹنگ پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ جیسے آج کے دور میں جیو نیوز نیٹورک، ان کے اداریئے اور دیگر بکاؤ صحافی مملکت پاکستان کی بقا کے خلاف بولنے والوں کو تو پذیرائی اور امپورٹنس دیتے ہیں لیکن ملکی مفادات اور اسلامی مفادات کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ یا جیسے موجودہ دور کا ڈان نیوز لیکنس کا معاملہ ہو۔ یہ سب پرانی کاوشوں کے جدید بلیو پرنٹ نہیں تو اور کیا ہے؟۔

لارڈ نارتھ کلف کو مکمل طور پر جون 18 میں ہٹا دیا گیا اور جولائی 24 سن 1922 کو لیگ آف نیشنز نے لندن میں برطانیہ کو فلسطین میں یہودی آباد کاری کی اجازت دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈگلس ریڈ جس نے ٹائمز کے سٹاف کو پہلی جنگ عظیم کے آخر میں جوائن کیا، اس کو لارڈ کے سیکریٹری کے طور پر بلقان بھیجا گیا۔ وہ ان آخری لوگوں میں ہے جس نے لارڈ نارتھ کلف کو پاگل قرار دیئے جانے سے قبل دیکھا تھا۔

ڈگلس ریڈ ، جو بعد میں ٹائمز کا چیف غیرملکی نامہ نگار بھی بنا، کے مطابق نارتھ کلف تندرست شخص تھا۔ اس نے لکھا:

میں جج نہیں کرسکتا لیکن ایک نوجوان کی حیثیت سے میں نے جو مشاہدہ کیا وہ ریکارڈ کرسکتا ہوں۔ میں جب لندن واپس آیا تو نارتھ کلف کے بھائی نے مجھ سے سوالات کیئے۔ بھائی لارڈ اتھرمیئر اور اسکے ہمراہ جارج سٹن مجھ سے پوچھتے رہے۔ یقیناً ان کے ذہن پر نارتھ کلف کے پاگل پن کی بات تھی۔ لیکن میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں آئی۔ اگرچہ میں ان آخری لوگوں میں سے تھا جو اس پاگل پن کے سرٹیفیکیٹ سے پہلے ان سے ملا تھا۔ یہ سب کچھ اس خفیہ انداز سے ہوا کہ میں جو ٹائمز میں کام کرتا رہا لیکن تیس سالوں بعد مجھ پر انکشاف ہوا کہ مسٹر نارتھ کلف کو پاگل قرار دیا گیا تھا۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری 27 سال کی عمر میں جو واقعات میرے اردگرد ہوئے ان کے نتائج کتنے گہرے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے پردے میں فلسطین کے اندر بڑھتی ہوئی یہودی آبادی کو اسلحہ دیا گیا۔ اور اس کے بعد لیگ آف نیشنز کو ختم کرکے یونائیٹڈ نیشنز بنائی گئی، جس نے اسرائیل کے ناپاک وجود کو قانونی بنادیا اور اسکے اراکین نے اس کو فوراً تسلیم کرلیا۔

دوسری مثال؛

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عذرا پاؤنڈ ، یا ، ایزرا پاؤنڈ: جو اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ مغربی تعلیم ایک ذہن سازی کا عمل ہے (جسکو بدقمستی سے ہمارے ہاں کے لبرل پورے پاکستان پر بھی آج نافذ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں)۔ جو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ انسان اپنی فطرت اور وجود کی وحدت سے لاعلم رہے لیکن اس کے پاس زندگی کے کچھ حصوں کے بارے میں بہت زیادہ معلومات ہوں۔ اس جاہلیت کی معراج اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے ہربات کا علم ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

ایزرا پاؤنڈ اس حقیقت سے بھی واقف تھا کہ جنگ اول و دوئم فریمیسنوں کی وجہ سے شروع ہوئیں اور انہوں نے پردے کے پیچھے سارے کردار ادا کیئے۔ بنک آف روتھس چائلڈ اسکے آلہء کار تھے۔ انہوں نے ان جنگوں سے پیسہ کمایا اور ان جنگوں کے نتیجے میں حکومتوں پر اپنا کنٹرول بڑھایا اور کافر سی پی ایس کے ہر شعبے (میڈیکل، تعلیم، بینکنگ، انشورنس) کو ان ممالک میں رائج کروایا جو اس جنگ سے متاثر ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہی عذرا پاؤنڈ نے ریڈیو نشریات کے ذریعے سے اٹلی سے یہ سب کچھ جو وہ دیکھ رہا تھا بڑی بہادری سے کہنا شروع کردیا۔ البتہ وہ اس کنٹرول سے پوری طرح واقف نہیں تھا جو اس موجودہ لائف سٹائل اور سسٹم کے مالکوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ اس نے کنفیوشس کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو متبادل طریقے کے مطابق زندگی گزارنا تجویز کیا۔ وہ کنفیوشس کی تحریروں کا ترجمہ کررہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس دجالی نظام کے مقابلے میں اسلام کے متبادل نظام سے وہ آگاہ نہ تھا۔

جب امریکن افواج اٹلی کے اس حصے میں پہنچیں ۔ انہوں نے عذرا پاؤنڈ کو فوراً گرفتار کرلیا۔ اسوقت اس کی سادہ لوحی یہ تھی کہ وہ اس گمان میں رہا کہ اسے امریکن حکومت کی راہنمائی کے لیئے لے جایا جارہا ہے تاکہ وہ کنفیوشس کی تعلیمات کی روشنی میں حکومت کو بہتر بنانے میں مددگار ہو۔ اسلیئے کہ امریکہ کے بانی حکمران جو خود بھی فرمیسنز تھے اس بات کا دعویٰ کرتے رہے تھے کہ سود کی ہرقسم ناجائز ہوتی ہے۔ یہ معاملہ کینڈی کی موت کے بعد جدید دور میں مکمل ختم ہوگیا وہ آخری اصلی امریکی صدر تھا جسکو صیہونیت نے کونسل فار فارن افیئرز اور امریکی مانیٹری سسٹم آف بینکس نہ بنانے کی پاداش میں قتل کروا دیا تھا۔ نیشنل ریزروز اسی قتل کا نتیجہ ہیں۔

عذرا کے ساتھ بعد میں جو سلوک ہوا اس سے اسکی غلط فہمی جاتی رہی۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ امریکہ کے فریمیسن طبقے اس بات سے بہت چڑتے تھے کہ کوئی سود سے پاک تجارت اور لین دین کی بات بھی کرے۔ کیونکہ یہ وہ طریقہ ہے (سود کا) کہ جس کے ذریعے وہ انسانوں پر کنٹرول حاصل کرتےہیں اور انسانوں کو سی پی ایس میں بیل کی طرح جوت دیتے ہیں۔ یہ کنٹرول امریکہ میں مکمل ہوچکا تھا اور ان فری میسنوں کے نزدیک عذرا پاؤنڈ عوام کا نمبر ون دشمن تھا۔ جیسے کہ غازی ممتاز قادری شہید دجالیہ اور اشرافیہ اور بیوروکریسی لبرلز کے نزدیک “انسانیت” کا دشمن قرار دیا گیا۔

گرفتاری کے فوراً بعد اسے (پیسا) لے جایا گیا جہاں ملٹری کمپاؤنڈ میں ایک آہنی پنجرہ میں اسے رکھا گیا۔ کسی کو اس سے گفتگو کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اسے سورج، موسم اور ہوا سے کوئی پناہ نہ تھی۔ وہ اسقدر بیمار ہوگیا کہ اسے سانس کیلیئے خیمہ مین رکھنا پڑا کچھ ہفتوں کے بعد اسے امریکہ لے جایا گیا۔ جہاں وہ بیماری اور کمزور صحت کا شکار رہا۔ امریکہ میں فوراً اسے جج کے سامنے لایا گیا اور اس پر غداری کا الزام لگایا گیا۔ وہی الزام جو وہ فریمیسنوں پر لگاتا رہا تھا کہ وہ جنگ عظیم کے ذریعے سے اپنا کنٹرول بڑھا رہے ہیں۔

ایزرا پاؤنڈ کو اپنی مرضی کا وکیل نہیں دیا گیا اس کے برعکس اسکا دفاعی وکیل خود ایک فریمیسن تھا۔ جج بھی فری میسن تھا اور جو میڈیکل ایکسپرٹ لائے گئے وہ ھی فری میسن تھے۔ فری میسن نہیں چاہتے تھے کہ یہ مقدمہ پوری طرح دنیا کے سامنے چلے کیونکہ اس میں وہ ظاہر ہے ایکسپوز ہوجاتے۔ اگرچہ مغربی میڈیا پوری طرح فری میسنوں کے قبضے میں تھا اور اب بھی ہے جس کسی نے بھی آزاد میڈیا کیلیئے کوشش کی وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کنٹرول کسقدر مکمل ہے۔ ایزرا کے وکیلوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ دماغی حالت کا بہانہ کرکے مقدمہ کا سامنا کرنے سے انکار کردے۔ اسکے لیئے ضروری تھا کہ ایزرا عدالت میں ایک لفظ نہ بولے۔

ایزرا جو بیماری اور بڑھاپے کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ اپنے وکیلوں اور بیوی کے دباؤ سے اس صورت کو قبول کرنے کے لیئے تیار ہوگیا۔ ایزرا کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اسکے وکیلوں نے یہ بات سامنے رکھی کہ ایزار مقدمہ نہیں لڑسکتا۔ جج نے میڈیکل انکوائری کیلیئے حکم دیا۔ میڈیکل ایکسپرٹ کا انتخاب دونوں فریقین نے مل کر کرنا تھا۔ عام طور پر اس طرح کے مقدمات میں میڈیکل ایکسپرٹ ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں اور جس طرف سے ان کا انتکاب ہوتا ہے، اس کی طرفداری میں دلائل دیتے ہیں۔ استغاثہ کی طرف سے یہ امید تھی کہ وہ بات کے حق میں دلائل دے گا کہ ایزرا پاؤنڈ بالکل ذہنی طور پر فٹ ہے اور مقدمہ کا سامنا کرسکتا ہے۔ لیکن چونکہ پردے کے پیچھے خفیہ طور پر طے ہوچکا تھا کہ مقدمہ میں شامل تمام فریقین فری میسن تھے۔ اس بات میں کوئی حیرت نہ ہوئی کہ تمام فریقین مکمل طور پر متفق ہوگئے۔ کہ ایزرا ذہنی طور پر درست نہیں اور مقدمہ کا سامنا نہیں کرسکتا۔ اس بات کو فری میسن میڈیا نے خوب اچھالا کہ ایزرا سے کتنا انسانی سلوک ہوا کہ چونکہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے اسلیئے اسے ان الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔ اصل میں فری میسن اس بات کو یقینی بنا رہے تھے کہ ایزرا کی تعلیمات عوام میں عام نہ ہوں۔ ایزرا کو ذہنی مریض قرار دینے کے بعد اسے پاگلوں کی جیل میں بھیجنا آسان ہوگیا۔

جیسے آج کے دور میں محب وطن اور محب اسلام لوگوں کو مذہبی جنونی کی اصطلاح دی جاتی ہے ہمارے ہاں کے لبرل فری میسنوں میں۔ فریمیسن اپنے لیگل اور میڈیکل سسٹم کیوجہ سے اپنے ایک بڑے مخالف کو خاموش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اوریہ سب کچھ قانون اور انسانیت کے نام پر کیا گیا عوام کو بالکل پتہ نہیں چلا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ ایزرا نے اگلے 18 سال جیل میں گزارے اور وہ اپنے ملاقاتیوں سے ملتا رہا لیکن اس نے چپ سادھ لی۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ دشمن کتنا چالاک ہے اور آسانی سے اسے سزا دلوا سکتا ہے۔ اس نے زندگی کو زیادہ اہمیت دی اور ایک مشہور شاعر کے طور پر باقی زندگی گزار دی۔ فری میسن میڈیا نےا سکے تمام خیالات رد کردیئے کہ وہ ایک اچھا شاعر لیکن خبطی آدمی ہے۔ اسکی شاعری کی تعریف کی گئی لیکن اس کے سیاسی خیالات کو احمقانہ اور پاگل پن قرار دیا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی کوشش کی گئی کہ اسکے خیالات زیادہ شائع نہ ہونے پائیں اسلیئے کہ اشاعت کے معاملہ کو بھی فری میسن ہی کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کی تحریروں کو جو دجالی نظام کو واضح کرتی ہیں مارکیٹ سے اٹھا لیا گیا۔

اسکی جمالیاتی شاعری کو خوب اجاگر کیا گیا لیکن باقی تحریروں کو مارکیٹ سے اٹھا لیا گیا۔ جب عمر کے آخری حسے میں اسکی ہمت مکمل طور پر جواب دے گئی تو اسے جیل سے رہائی مل گئی۔ وہ اٹلی واپس آگیا اور وہیں اس کا انتقال ہوا۔ اگر آج اسکے متعلق پوچھا جائے کہ عزرا پاؤنڈ کون تھا تو جواب ملے گا: ایک مشہور شاعر۔۔۔۔۔۔۔۔ ! بہت کم لوگ اس کی حقیقی داستان سے واقف ہیں اسکی داستان اس کافر نظام نے بڑی خوبصورتی سے چھپادی ہے، یہ سب کچھ اسلیئے ممکن ہوا کہ کافرانہ دجالی نظام اور اسکی شاخیں یعنی میڈیکل، لیگل ، اور میڈیا ایکدوسرے سے مربوط ہیں اور ان سب کا کنٹرول فری میسن کے ہاتھ میں ہے۔

کافرانہ دجالی نظام کے ڈرامے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ تمام پبلک میں اپنی لیگل (قانونی) اور نارمل تعریف کو رائج کردے۔ یعنی جس بات کو فری میسن قانونی اور نارمل بنانا چاہتے ہیں لوگ بھی اسکو قانونی اور نارمل کے طور پر قبول کرلیں ۔ آپ میں سے شاید بہت سے جانتے ہوں کہ پاکستان میں فریمیسنز پر پابندی کس نے لگائی تھی؟ ذوالفقار علی بھٹو نے جو کہ کود بھی اگرچہ کوئی پکا مسلمان نہ تھا لیکن یہ کام اس نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر کیا تھا۔ اور پھر تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو بلایا ۔ اور اسی پاداش میں دجالی نظام قانون نے اسکو پھانسی کی سزا دلوا کر اپنا انتقام لیا۔ ۔ اس طرح ان کا استحصالی گھناؤنا کردار جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو کنٹرول کرتے ہیں پردے کے پیچھے چلا جاتا ہے۔

کافرانہ میڈیکل ماہرین بتاتے ہیں کہ نارمل یعنی صحیح الدماغ کون ہے اور ایبنارمل کون ہے۔ کافر قانونی ماہرین بناتے ہیں کہ قانونی عمل کونسا ہے اور غیرقانونی کونسا۔ جمہوریت اور جمہوریت پسندی کے نام پر فحش دجالی نظام کی حمایت میں وطن عزیز کے سرکاری مولوی بھی پیچھے نہیں ہرکسی کو معلوم ہے کہ کون ہمیشہ جمہوریت کے ڈھونگ کا ساتھ دیتا ہے جو فریمسنوں کے ہتھیار سے زیادہ کچھ نہیں۔ یعنی کس بات کی اجازت ہے اور کس بات کی نہیں یہ انسانوں کا بنایا کافرانہ دجالی نظام بتاتا ہے۔ چونکہ کافر ماہر لوگوں میں شہرت بھی چاہتا ہے اسلیئے نارمل اور لیگل کی ایک سے زیادہ تعریفیں وجود میں آتی ہیں۔ جب میں لاء پڑھ رہا تھا تو پہلی کتاب جو قانون کی تعریف پر تھی وہ تھی سالمنڈ یا ساءمنڈ کی لکھی جو جو لاء کا سٹوڈنٹ ہے اسکو پتہ ہوگا کہ میں جو تحریر کررہا ہوں اس میں کتنی سچائی ہے۔ جو کافر ماہر انوکھی تعبیریں پیش کرے اسکو اچھا مقام مل جاتا ہے لیکن اسکے لیئے ضروری ہے کہ اس کی خوب تشہیر کی جائے۔ اگرچہ کافر لیگل اور نارمل کی تعبیروں میں خاصا فرق ہے لیکن ان سب میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے کہ یہ سب وجود کے کافر نظریے کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کا بظاہر اختلاف سطحی نوعیت کا ہے۔اصل میں یہ سب انبیاء کے پیش کردہ طریقہ ء زندگی کو ٹھکرا کر کافرانہ طریقہ ہائے زندگی کو قبول کرتے ہیں۔ کافر کے نظام میں وحدت ہے۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے سے دست و گریبان بھی ہوں۔ کافر تعلیمی نظام ان تعریفوں اور تعبیروں کو عام عوام میں رائج کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ میڈیا اس عمل کو تقویت دیتا ہے اور اس میں تسلسل قائم کرتا ہے۔ اسلیئے متبادل تعلیمی نظام جو کافر کے نظریہ حیات کے مطابق نہیں کو غیرقانونی قرار دے کر غیرمقبول بنادیا جاتا ہے۔

اگر مقامی حکمران کو پتہ چل جائے کہ کچھ بچے اس تعلمیی کنڈیشنگ سے بجائے جارہے ہیں تو وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ان بچوں کو اپنی نگرانی میں لے سکتا ہے۔ چونکہ ایسے والدین کے پاس متبادل نظام تعلیم نہیں ہوتا تو مقامی حکمران کے لیئے آسان ہوجاتا ہے کہ عدالت میں والدین کو نااہل ثابت کرسکیں ۔ مغرب ایسی مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس طرح میڈیا پر کافر کی اجارہ داری ہے۔ اکثر ملکوں میں لائسنس کے بغیر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات نہیں ہوسکتیں۔ صرف انہی اداروں کو لائسنس مل سکتا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ اسی نظام کی اعانت کرتے ہیں (مثال ہمارے ہاں کا بلیک آؤٹ میڈیا)۔ اس طرح اس دجالی نظام پر مؤثر تنقید کے راستے بند کردیئے جاتے ہیں۔ البتہ شدت پسندوں کو کچھ کوریج مل جاتی ہے تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ کافر نظام کی بظاہر مضبوطی کتنی ضروری ہے کہ اسکے متبادل سوچ کس قدر مضحکہ خیز اور ناکارہ ہے۔ ان شدت پسندوں کے خیالات کو مزید توڑ موڑ کر برے طریقے سے عوام کے سامنے لایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کافر نظام کی ساری خرابیاں دیکھنے والوں کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں۔ اسلیئے میڈیا ایسے پروگرامز بھی دکھا دیتا ہے جن کے ذریعے سے ثابت کیا جائے کہ ان خرابیوں اور خامیوں کو نوٹ کرلیا گیا ہے اور تنقید و بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

پھر ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیئے کچھ کیا بھی جارہا ہے؟

جتنا کوئی کافر نظام سے مضبوطی سے قائم ہوتا ہے اتنی اس پر تنقید کی اجازت زیادہ دی جاتی ہے کہ محض الفاظ سے کچھ بھی تبدیلی نہیں آتی۔ موجودہ حالات پر تبصرے کے پروگرام کے ساتھ ساتھ خیالی اور افسانوی پروگرام دکھائے جاتے ہیں تاکہ ترقی اور آرٹ کے نام پر فحاشی اور بے راہ روی کو فروغ دیا جائے۔ خبروں کا دھچکا یعنی شاک دینے کے بعد کھیلوں کی خبریں اور رنگین اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔ میوزک اور ڈرامہ سے آپ کا دل بہلایا جاتا ہے اور مقابلہ کے پروگراموں کے ذریعے سے آپکے دماغ کو کنٹرول میں مصروف رکھا جاتا ہے اور اچانک پتہ چلتا ہے کہ ایک اور قیمتی دن گزر گیا۔

میڈیا کے نظام کا اصل مقصد اور اثر یہ ہے کہ زندگی کو ایک دماغی کام بنادیا جائے۔ زیادہ تر ایکشن انسان کے دماغ کی طرف جاتے ہیں۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور کمپیوٹرز کے ذریعے سے حقیقت ایک تصویر بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ہپناٹزم ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ مسلسل اس طرح میڈیا دیکھنے اور سننے سے انسان اس کی پیش کردہ ہربات کو ویسے ہی قبول کرلیتا ہے اور اسکے متعلق خود کچھ نہیں کرپاتا بشرطیکہ پیٹ بھرا رہے س کا پہلو گرم رہے اور گھر آرام دہ رہے۔

میڈیا کے اشتہارات پر ہی غور کریں ہر پراڈکٹ جو آپ کو دکھائی جاتی ہے وہ اصل میں آپ کو پراڈکٹ بنانے کے لیئے ہوتی ہے لوگ ممالک میں بھوک سے مررہے ہوں گے لیکن ہر چیز کے اشتہار میں ایک مخصوص قسم کی خوش خوشحال زندگی والی فیملی دکھائی جاتی ہے جس میں نہ ماں اصل، نہ باپ بچے اصل بلکہ سب کے سب نپولین کے ڈراموں کے کردارہوتے ہیں یعنی دوسرے الفاظ میں جھوٹ کا پلندہ۔ اور انہیں کے ذریعے خواہشات کو ابھار کر آپ کو پراڈکٹ بنا کر اپنی پراڈکٹس کو کیش کروایا جاتا ہے ۔ کافر سوسائٹی میں رہنے والے شخص کو میڈیا کے ذریعے معلومات کی بھرمارکی جاتی ہے اور اگر یہ شخص نظام کی خرابیوں سے واقف بھی ہوجائیں تو اسکو تبدیل کرنا اسے ناممکن نظر آتتا ہے ۔ جیسے ہمارے ہاں میڈیا پر بیٹھے ہوئے دانشوران جمہوریت کا بے سرا راگ الاپتے ہیں ساتھ ساتھ پوچھتے بھی جاتےہیں کہ (نہیں ، وہ تو آپ کی بات ٹھیک ہے جرنل صاحب لیکن جمہوریت کے بنا بھی تو کوئی اور سسٹم نہیں رائج ہوسکتا) یہ وہ مخصوص سٹائل ہوتا ہے دانشوروں کا جو خود کو عقل کل سمجھتے ہیں یہی دانشور لوگ پھر دین کے بھی بابے بن بیٹھتے ہیں اور من پسند تشریحات کرکے خوب خوب ایوارڈز بھی وصول کرتے ہیں اور یہی حرام کی کمائیوں کا اور مشہوری کا ان کا وہ ذریعہ ہوتا ہے جس میں تمام اینکرز حضرات تندہی سے مصروفِ عمل نظر آتے ہیں اگرچہ خود کو مسلمان ہی کہتے ہوں۔

چونکہ تعلیم اور میڈیا پر اس حکمران طبقہ کا زور ہوتا ہے وہ اپنی نارمل اور قانون کی تعبیروں کو معاشرے میں قبول کروا لیتے ہیں۔ کافر ملکوں میں انسانوں کو ان تعریفوں اور تعبیروں سے واسطہ پیدائش سے موت تک رہتا ہے۔ بہت سے لوگ تو واقعات و حالات میں ویسا کچھ ہی دیکھتے ہیں جو انہیں دیکھنے کو کہا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ اس بات کا احساس کرتے ہیں کہ ان کے دماغوں میں یہ جعلی تعبیریں بٹھا دی گئی ہیں۔ اسلیئے وہ اپنے وجود کے مقصد کی تلاش نہیں کرتے۔ اس کافر تعلیم کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا مقصد اور اسکی حقیقت آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ اسی کو دجالی ذہنیت کہتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر کوئی اسکی مخالفت میں بات کرے تو اس پر ذہن سازی یعنی برین واشنگ کا الزام لگایا جاتا ہے۔

کافر تعبیریں اور تعریفیں زندگی کی حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیئے بنائی گئی ہیں۔ یہ انبیاء کی تعلیمات سے اخذ نہیں کی گئیں۔ صرف انبیاء کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھائی گئی زندگی کی حقیقت اور اسکا مقصد کافرانہ برین واشنگ کے تانے ہوئے جال کو توڑ سکتا ہے اور آج کے دور میں واحد تعلیم جو زمانے کی دست برد سے محفوظ رہ سکی ہے وہ قرآن حکیم کی تعلیم ہے۔ اس سے حقیقی علم یعنی اللہ کا تعارف نصیب ہوتا ہے۔ زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے قلب کے تزکیہ کی ضرورت ہے۔

آج کے نام نہاد خیالی نظریوں میں ایک نظریہ جو سائنس ہی کے اصول پر بھی خود ہی دم توڑ چکا ہے وہ ہے نظریہ ارتقاء

 

 

اس نظریئے کی بنیادوں میں کافر مفکرین کا بہت ہاتھ ہے۔ یہ نظریہ کافر کی ترقی اور آگے بڑھنے کے بنیادی خیال کو تمام شعبوں میں لانے میں مددگار ہے۔ ہرکام چاہے وہ ایٹم بم بنانے کا عمل ہو، اسے یہ کہہ کر اپنا لیا جاتا ہے کہ یہ ارتقائی منازل میں سے ایک ہے اور اسلیئے بہتر ہوگا۔ ڈاروِن کے اس نظریہ ارتقاء کا ایک حصہ تو یہ ہے کہ انسان آدم سے نہیں بلکہ بندروں سے ترقی کرکے آگے بڑھا ہے۔ قرآن اس کا انکار کرتا ہے اور حقیقت بتاتا ہے کہ ہرانسان آدمؑ اور بی بی حوا ؑ سے تخلیق کیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے انبیاء کی تعلیمات کو ٹھکرا کر جانوروں کی طرح رہنے کو پسند کیا۔ قرآن کی روشنی میں اگر ان تعریفوں کا مطالعہ کیا جائے تو یہ اکثر جہالت اور جھوٹ پر مبنی محدود خیالات کے نظریات لگتے ہیں جن میں بے یقینی کی کیفیت ہے۔ قرآن کی تعلیمات ان نظریات کی اصلیت کو واضح کرسکتی ہیں۔ نارتھ ہائی ٹیک کے کچھ ذہین اور سمجھدار سائنسدان اب اس حقیقت کا اعتراف کررہے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے صحیح طور پر دریافت کیا ہے وہ قرآنی تعلیمات کے مطابق ہے جو کہ چودہ سو سال پہلے نازل ہوا اور ابھی تک قرآنی تعلیمات کی بہت سی چیزیں سائنس دریافت نہیں کرسکی اور وہ شاید کبھی بھی نہ کرسکیں کیونکہ ان کا طریقہ دریافت بہت گھٹیا ہے۔

ہر مخلوق میں ایک نشانی ہے لیکن کافر تعریفیں ان نشانیوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں چونکہ کافرون کے پاس یقین کی دولت نہیں ہے اور بے یقینی کی حالت ہے، اسلیئے ان کی تعریفیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اپنی جاہلیت اور کم علمی کو چھپانے کے لیئے وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ وہ ترقی کررہے ہیں اسلیئے ان کی تعریفیں تبدیل ہورہی ہیں۔

بگ بینگ کے گمراہ نظریئے کے ایک بڑے حامی سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ بگ بینگ سے پہلے کیاکچھ تھا؟ اس نے اعتراف کیا کہ سب سائنس دانوں نے مل کر ایک معاہدہ کیا ہے کہ وہ اس سوال کو نہیں اٹھائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس کا جواب دینا تو بعد کی بات ہے اس غیرتحریری معاہدے کی حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں انہیں اپنی جاہلیت کا اعتراف کرنا پڑے گا اس طرح انہیں ایسے پروفیشنل ٹائیٹلز، اپنی تنخواہوں اور اپنی شہرت سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور ان میں سے جو بہت بہتر لوگ ہیں انہیں خوب علم ہے کہ اگر انہیں زندگی کی صحیح حقیقت کا علم حاصل کرنا ہے تو لیبارٹریز کو چھوڑ کر کسی اللہ کے ولی کی تلاش کرنی ہوگی۔ جب اللہ کرنا چاہتا ہے تو وہ محض یہ کہا ہے کہ (ہوجا) اور وہ جیز ہوجاتی ہے۔

اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو انبیاء کی تعلیمات کو رد کردیتے ہیں، انہیں تباہ کردیا جاتا ہے۔ گہری نگاہ سے دیکھنے سے پتہ چلے گا کہ آج کی کافر سوسائیٹی پر یہ بات پوری طرح لاگو ہوتی ہے۔ یہ معاشرے آگے ترقی کی طرف نہیں پڑھ رہے اور بہتر نہیں ہورہے بلکہ یہ بدتر سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ حیات کی ہرقسم پیدا ہوتی ہے اور مرتی ہے بڑھتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے۔ موجودہ زمانے کا کافر دجالی نظام جب گرے گا تو باقی رہنے والے لوگوں کے پاس اسلام کو اپنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

نبی کریم ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ اس دنیا کے بچے نہ بنو بلکہ آخرت کے بچے بنو۔ اسلیئے کہ یہ دنیا تمہیں چھوڑ رہی ہے اور آخرت تمہارے قریب آرہی ہے۔

ان تعریفوں اور تعبیروں کا مقصد انسان کے وجود کی حقیقت کو جاننا نہیں ہے بلکہ سی پی ایس میں آبادی کو کنٹرول کرنا اور اسکا استحصال کرنا ہے۔ یہ تعریفیں اور تعبیریں اصل میں انسانوں کو کنڈیشن اور پروگرام کرنے کے لیئے بنائی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی زندگیوں کا مقصد سی پی ایس کو بنالیں۔ اللہ نے قرآن میں واضح کردیا ہے کہ انسانوں اور جنوں کی زندگیوں کا مقصد صرف اللہ کی عبادت کرنا ہے۔

لارڈ نارتھ کلف اور عزرا پاؤنڈ کی مثالوں سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تعریفیں دجالی قوتوں کو مواقع فراہم کرتی ہیں کہ جو کوئی اس دجالی نظام کی حقیقت کو جان لے اور اسکو ختم کرنے پر تلا ہو، اس کو میڈیکل اور لیگل تعریفوں کے ذریعے روکا جاسکے۔

وہ کافر ایکسپرٹ جو ان تعریفوں کو بناتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں قرآن ان کو مفسدون یعنی فساد پھیلانے والے کہتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں دجال کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ کفر اور اسکے طریقے قرآن میں وضاحت کے ساتھ بیان کیئے گئے ہیں کافر نظام ایک وحدت لگتا ہے جس میں آپس میں مربوط چھوٹے چھوٹے سسٹم ہیں اور جیسا کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ کفر ایک جسم ہے۔ جس طرح کنزیومر پروڈیوسر سسٹم نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور جسطرح یہ انسانوں کو غلام بنانے میں لگا ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ عنقریب مسیح دجال نمودار ہونے والا ہے۔

تیسری مثال ؛ نیورمبرک کا مقدمہ؛

 

 

دجالی سسٹم کے طریقہ واردات میں کس طرح اپنے مخالفین کو قانونی اور آہنی ہتھ کنڈوں سے اپنے راستے سے ہٹایا جاتا ہے۔ اسکی ایک مثال مشہور نیورمبرگ کا مقدمہ ہے۔ یہ ڈرامہ نہایت شاطرانہ طریقہ سے رچایا گیا۔ یہ دجالی نظام کے دنیا پر چھا جانے کی تاریخ کا ایک بڑا باب ہے۔ اور اس پر کروڑوں پاؤنڈ خرچ کیئے گئے۔ عزرا پاؤنڈ کی طرح ہٹلر بھی فریمیسنوں کی حرکات اور ان کے افراد کو پہچانتا تھا۔ اس نے ان حرکات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیئے ایک وسیع پروپیگینڈہ کا بندوبست کیا۔ اس نے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا لیکن اس نے بھی عزرا پاؤنڈ کی طرح فری میسنوں کی اصل طاقت اور کنٹرول کا صحیح اندازہ نہیں کیا۔ ایک وقت تو ایسا تھا کہ اس نے گمان کرلیا تھا کہ امریکی حکومت بھی اسکی حمایت کریگی۔ اس کو علم نہ تھا کہ امریکی حکومتوں میں پچاس سال قبل ہی سے فری میسنوں کا عمل دخل شروع ہوچکا تھا۔ جس کو ہٹلر جیسا کافر پہچاننے میں ناکام رہا۔

ایک حقیقت وہ یہ تھی کہ فری میسنوں کو اسی جیسے شخص کی تلاش تھی ۔ اس کے اندر عوام کو اپنے پیچھے لگانے کی صلاحیت تھی کہ وہ اس کیلیئے مرنے مارنے پر تیار ہوگئے۔ وہ طاقت کے حصول کے لیئے لالچی تھا (بالکل عبدالوہاب نجدی کی طرح) اور اپنے مخالفین پر تشدد اور ظلم کو روا سمجھتا تھا (بالکل شاہ اسماعیل دہلوی کی طرح)۔ جب جنگ ختم ہوئی تو ان خامیوں کو اچھالا گیا اور اسکے نام کو استعمال کرکے دنیا کو بیوقوف بنایا گیا۔ (جیسے مسلمانوں میں نجدی کو تخلیق کرکے اور سید احمد رائے بریلوی وغیرہ جیسے ٹھگوں کو ٹشو پیپر کی طرح فریمیسنز نے استعمال کیا اور انکے پیغامات کو پوری دنیا کے مسلمانوں میں رائج کرنے اور انہیں راہ سے بھٹکانے کے لیئے استعمال کے بعد ان کو ہی ٹیریرازم کا نام دے کر اصل وار اسلام پر آج تک کیا جاتا ہے)۔ حقیقت میں فریمیسنوں نے ان واقعات کو ہٹلر کی تباہی کیلیئے استعمال کیا، ساتھ ساتھ جنگ سے خوب دولت بٹوری اور پھر جنگ کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات کے ذریعے بین الاقوامی کنڑول میں اضافہ کیا۔

دوسری جنگ عظیم نے تقریباً ہر ملک کو وہ وجوہات مہیا کردیں جن کی وجہ سے ہرملک اسلحہ اکٹھا کرنے کی دوڑ میں لگ گیا۔ اسی طرح فریمیسنوں نے کشمیر کے معاملہ میں اس فتنہ کو کھڑا کرکے ایکطرف مسلمانوں کو شہید کروایا دوسری طرف بت پرست گاؤ موتر پینے والوں کو اسلحہ بھی بیچا۔ اسی طرح ان کے پاس انگنت جھگڑوں سے فائدہ اٹھا کر اسلحہ بیچنے کے ذریعے سے مال بٹورنے کے مواقع مہیا ہوگئے۔

افریقہ میں کیوں بھوک اور غریبی ہے ؟ اسکی اصل وجہ صٰہونیوں کا وہی فریمیسن لالچ ہے کیونکہ وہاں کی زمین سے ہیرے جواہرات کھود کھود کر نکالے گئے اور اب بھی جس حد تک ممکن ہوسکتا ہے ان ہیروں اور جواہرات کی تجارت پر قبضہ جمایا گیا۔ یہی کام تیل کی دولت کی وجہ سے عربوں کے ممالک کے ساتھ کیا گیا اور یہی کام ہمارے وطن عزیز میں کرپٹ اشرافیہ بلکہ ضلالیہ کے ذریعے اور دیگر ملکوں میں چمچوں کے ذریعے ان کے قدرتی دولت اور ریسورسز پر قبضہ جمانے کے لیئے کیا جارہا ہے۔ اسلیئے جب اسلحہ ہوتا ہے تو لوگ استعمال بھی کرنا چاہتے ہیں (مثال ائی سیس کی یہودی تنظیم اور خلافت کا یہودیانہ ڈھونگ)۔ جو کوئی اسلحہ استعمال کرنا چاہتا ہے اسکو فریمیسنوں کی طرف سے تھپکی اور شاباش ملتی ہے۔ اور یہ کہ مخالفین کو بھی اسلحہ یہی لوگ مہیا کرتے ہیں۔ جیتنے والے کو البتہ اس اسلحہ کے بدلے میں مزید اسلحہ دیا جاتا ہے سود پر قرض دے دیا جاتا ہے اور اس ملک کے قدرتی وسائل کو اپنے فائدے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ ان جھگڑوں میں دونوں فریقین کو مدد فری میسن ہی کررہے ہوتے ہیں گو ان فریقین کو اس کا احساس نہیں ہوتا ۔ کسی کے جیتنے یا ہارنے سے فریمیسنوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پس نتیجہ جو بھی ہو فری میسنوں کی دسوں انگلیاں گھی میں اور سرکڑھائی میں ہی رہتا ہے۔

دوسری (کافر) جنگ عظیم کے خاتمے پر ہٹلر کے خیالات کو عوام کی نظروں میں گرانے کے لیئے کسی ترکیب اور تدبیر کی ضرورت تھی جیسا کہ عزرا پاؤنڈ کے خیالات کے لیئے سازش کی گئی تھی۔ اسکی ترکیب یہ نکالی گئی کہ ہٹلر کو ایک جنونی شخص قرار دیا گیا جسکی کسی بات سے حق نکالنا ممکن نہ رہا۔ ہٹلر کو اپنے لیئے منافع سے بھرپور فساد کا ذریعہ بنانے کے بعد، فری میسنوں نے خود کو اس سے علیحدہ کرلیا۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ وہ عوام کی نظروں سے یہ حقیقت پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے کہ اسکے عروج و زوال اور جنگ کی صورت پیدا کرنے میں ان کا ہاتھ ہے بلکہ وہ ان حقائق کو بھی چھپانا چاہتے تھے جو ہٹلر کے خیالات میں ان سرگرمیوں کو اجاگر کررہے تھے۔ چونکہ ہٹلر خود بھی ایک کافر تھا۔ یہ کام نسبتاً ان کے لیئے آسان رہا۔

اگرچہ ہٹلر دنیا پر فریمیسنز کے کنڑول اور انکی سرگرمیوں سے کسی حد تک واقف تھا۔ اس کو اسلام کی سچائی اور وقت کے نظام کے متبادل کوئی اور نظام مہیا نہ تھا۔ دجالی نظام کے مقابلے میں واحد متبادل نظام انبیاء کی تعلیمات پر مبنی زندگی ہے۔ بلکہ ہٹلر کے پاس تو عزرا پاؤنڈ کی طرح کے خیالات بھی نہ تھے۔ فریمیسنز کی طرح وہ بھی طاقت اور کنٹرول کا شیدائی تھا۔

 

 

حقیقت میں ہٹلر فرمیسنز کے فرعونی (تکونی) طاقت کے سیٹ اپ کو اپنے فرعونی سیٹ اپ سے بدلنا چاہتا تھا۔ مختصراً دوسری کافر جنگ اصل میں کافر قوتوں کے درمیاں طاقت اور اقتدار کی جنگ تھی اور حق اور باطل کی جنگ نہ تھی۔ یہ درست ہے کہ اس کی لپیٹ میں وہ اہل حق بھی آگئے تھے جو نہ چاہتے ہوئے بھی اس میں شامل ہوگئے۔ یا کسی ایک فریق کو دوسرے فریق سے کم برا سمجھتے ہوئے اس کی حمایت میں لگ گئے۔ اللہ نے قرآن میں فرمادیا ہے کہ اگرچہ کافر ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن وہ جسم واحد کی طرح ہیں۔

چونکہ ہٹلر فریمیسنز کے کنٹرول کی حدود سے پوری طرح واقف نہیں تھا، اس نے ان سے ٹکر لینے کی حماقت کی۔ دوسری طرف فریمیسنوں کو اپنی جیت کا یقنی تھا۔ بلکہ انہیں ہٹلر کو اس جنگ میں ڈالنے سے پہلے سے بھی پتہ تھا کہ جیت انہی کی ہوگی۔ اس جنگ کا ایک مقصد ان علاقوں پر اپنا قبضہ بڑھانا تھا جو روس کے زیر اثر ہوگئے تھے۔ اسی لیئے جنگ جرمنی کے خلاف لڑی گئی۔ روس کے خلاف نہیں، گو روس نے بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پولینڈ اور آدھے جرمنی پر قبضہ کرلیا۔ فریمیسنوں کی ایک فکر یہ تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے اصل حقائق اور عزائم پر پردہ پڑا رہے اس سے انہیں دوہرے فائدے ملنے تھے۔ : پہلی بات تو یہ ہے کہ اس سے عوام کی نظر میں ہٹلر کے خیالات کو گرانے میں آسانی ملے گی دوسرا یہ کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ اس طرح کے خیالات کے دنیا پر کتنے مہلک اثرات ہوسکتے ہیں۔

ہٹلر کے خیالات میں خاص طور پر اسکی سود پر مذمت کو نشانہ بنایا گیا کہ یہ ایک جنونی آدمی کے خیالات ہیں اسکے اور اسکے ماننے والوں کے خیالات کو نسلی تعصب قرار دیا گیا۔ حالانکہ ہٹلر اصل میں ایک گمراہ شخص تھا۔ جس نے اپنے طریقوں سے یورپ کو فریمیسنوں سے نجات دلانے کی ناکام کوشش کی۔ اور یہی فریمیسن جن کے اپنے اصل قبضہ کیئے ہوئے ملک یعنی موجود اسرائیل میں سود کو یہودی قانون کے تحت اپنے یہودیوں کے لیئے بند کررکھا ہے اور ان سب کو بظاہر تورات کے قوانین کے تابع بلکہ درحقیقت قبالہ کے شیاطین کے تبابع کردیا گیا ہے لیکن پوری دنیا کو یہی یہودی سود کا شکار کرتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ سود معاشروں کو تباہ کردیتا ہے۔

طوالت کے خیال سے یہیں پر یہ قسط ختم کی جارہی ہے اس کا اگلا حصہ یہودی پروٹوکول اور دیگر چیزوں سے متلعق انتہائی اہم ہوگا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔