Aqaid e Sunni Hanafi Sufis on Tawheed Oneness- Text Collections {Urdu}


اقسام احکامِ شرع

علمائے اسلام نے احکام الٰہی کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک تو وہ جن میں ہاتھ پاؤں اور زبان وغیرہ اعضا کے عمل کی احتیاج ہو جیسے نماز، روزہ ، حج زکوٰۃ وغیرہ۔ دوسرے وہ جن میں اعمال جوارح کی حاجت نہ ہو بلکہ ان کا صرف مان لینا ہی کافی ہو جیسے اللہ تعالےٰ کو ایک جاننا اور اسکو سمیع، بصیر علیم وغیرہ وغیرہ تمام اوصاف کو برحق جاننا اور حشر و نشر۔ اور بہشت و دوزخ اور عذابِ قبر اور سکراتِ موت وغیرہ کو سچا جاننا۔

فقہائے عظام نے رفاہِ عامہ کی خاطر قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے پہلی قسم کے تمام احکام کو فراہم کرکے تفصیل سے علیحدہ مرتب کیا اور اسکا نام فقہ رکھا۔ اور دوسری قسم کے احکام کو الگ تفصیل سے لکھا اور اسکا نام عقائد رکھا۔

مشروعات
غرض شرع اسلام کے مسائل کا انحصار پانچ قسموں پر ہے۔ (1) اعتقادات (2) عبادات (3) معاملات (4) عقوبات (5) کفارات

اول: اعتقادات بھی پانچ ہیں ۔ (1) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا (2) ملائکہ پر ایمان لانا۔ (3) اللہ تعالےٰ کی کتابوں پر ایمان لانا (4) اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ایمان لانا ۔ (5) قیامت پر ایمان لانا

دوم: عبادات کی بھی پانچ قسمیں ہیں:۔ (1) نماز (2) روزہ (3) زکوٰۃ (4) حج (5) جہاد

سوم: معاملات بھی پانچ ہیں:۔ (1) معاوضات یعنی لین دین (2) مناکحات یعنی بیاہ شادی (3) مخاصمات یعنی لڑائی جھگڑے (4) امانات (5) شرکات یعنی ساجھی وغیرہ

چہارم: عقوبات بھی پانچ ہیں :۔ (1) قتل عمد کی سزا جیسے قصاص وغیرہ یعنی بدلہ لینا اور قتل کرنا ۔ (2) مال لینے کی سزا جیسے چور کے ہاتھ کاٹ ڈالنا وغیرہ (3) ہتک ستر کی سزا جیسے کوڑے لگانا، پتھر برسانا زنا وغیرہ میں (4)ہتک عزت کی سزا جیسے قذف کی حد (قذف کے معانی زنا کا عیب لگانے کے ہیں)۔ (5) خلع بیعت کی سزا جیسے قتل کرنا۔

پنجم :۔ کفارات بھی پانچ ہیں (1) کفارہ قتل (2) کفارہ ظہار یعنی اپنی بیوں کو ماں بہن بنانے کا۔ (3) کفارہ روزہ توڑنے کا (4) کفارہ جھوٹی قسم کھانے کا۔ (5) جنایات حج کا۔

اقسام علم عقاید

علمائے اسلام نے عقائد کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ جن کی تشریح بتفصیل ذیل ہے؛۔

قسم اول
پہلی قسم کے عقاید وہ ہیں جو یقینی اور قطعی ہیں۔ پھر ان کی تین قسمیں ہیں :۔ (1) جو قرآن مجید کی ظاہر عبارت سے ثابت ہیں۔ (2) جن کا مضمون رسول اللہ ﷺ سے بہ نقل متواتر ثابت ہو۔ خواہ لفظ حدیث متواتر ہوں یا نہ ہوں۔ (3) جن پر امت کا اجماع ہوگیا۔ خواہ وہ دلیل جس کی وجہ سے امت نے اس مسئلہ پر اتفاق کیا ہے قطعی ہو یا نہ ہو۔ یا ہم کو معلوم ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ امت بالخصوص صحابہ کرام رضی اللہ تعالےٰ عنھم و تابعین کا کسی ایسے امر پر اتفاق کرنا جو شارع کی مراد کے برخلاف ہو، ناممکن ہے۔ ان مسائل کا منکر تنہا دائرہ اسلام سے خارج بلکہ احاطہء خطراتِ سلیمہ سے بھی خارج شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ مسائل منصف کے نزدیک قانونِ فطرت کے بھی مطابق ہیں

قسم دوم
دوسری قسم کے وہ عقائد ہیں جو دلائل عقلیہ سے ثابت ہیں جن کے ثبوت پر شریعت کا مدار ہے یا اکثر باتیں شرع کی ان پر موقوف ہیں۔ ان کی تائید میں کوئی شرعی دلیل ہو یا نہ ہو جیسا کہ (ثبوتِ باری تعالیٰ) (2) مسئلہ ثبوت صفاتِ باری تعالیٰ (3) مسئلہ ثبوتِ نبوت (4) مسئلہ عصمت انبیاء (5) مسئلہ عصمتِ ملائکہ (6) مسئلہ ثبوتِ حقائق الاشیاء (7) مسئلہ علم حقائق الاشیاء (8) مسئلہ حدوث عالم

قسم سوم
تیسری قسم کے وہ عقائد ہیں جو اخبار احاد سے ثابت ہیں۔ یا علماء نے ان کو قرآن و حدیث سے بطور استنباط ثابت کیا ہے۔ لیکن ان میں ہام فرقہ اسلامیہ کا اختلاف ہے جسکی وجہ سے جدا جدا ناموں سے نامزد کیئے گئے۔ اسلیئے ان کو باہمی امتیاز کے لیئے ہرایک فریق نے اپنی کتب عقاید میں درج کیا۔ جیسا کہ (1) مسئلہ قِدم قرآن (2) مسئلہ فضیلت انبیاء برملائکہ (3) مسئلہ فضیلت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم یکے بردیگرے۔ (4) مسئلہ الاعمال الصالحۃ جُزء الایمان۔ (5) مسئلہ الایمان والاسلام واحد (6) مسئلہ کرامات الاولیآء حق ۔ (7) مسئلہ ایصال و ثواب ۔ (8) مسئلہ امامت (9) مسئلہ جبروقدر وغیر ذٰلک من الخلافیات

ان مسائل میں اہلسنت سلف صالحین صحابہ کرام رضی اللہ تعالےٰ عنھم و تابعین رحمتہ اللہ علیھم کے پیرو ہیں اور ان کے مخالف لوگ محض اپنے خیالات سے ان نصوص کا انکار یا تاویل کرتے ہیں۔ مثلاً (1) شیعہ مسئلہ امامت میں غلو کی وجہ سے اکثر صحابہ خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق، عمر خطاب، عثمان غنی رضی اللہ عنھم کو خاطی اور برا کہتے ہیں۔ اکثر احادیث صحیحہ کا انکار اور قرآن مجید کی آیات کی تاویل کرتے ہیں۔ (2) خوارج و نواصب جو حضرت علی ، امام حسین، حضرت عثمان اور ان صحابہ کو جن کا باہم سردار قائم کرنے میں اختلاف ہوکر قتال و جدال کی نوبت پہنچی۔ سب کو برا کہتے ہیں۔

خوارج ۔ 72 فرقوں کا حدوث

ان فرقوں کا حدوث اس طور پر ہوا کہ اہل اسلام اور جمہور مسلمین سے سب سے اول جس نے مخالفت کی اور نیا گروہ بنا وہ خوارج یعنی خارجی لوگ ہیں۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں پیدا ہوئے۔ ان کے پیدا ہونے کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی۔ یہ جماعت عرب کے وہ لوگ تھے جو پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالےٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ پھر سخت مخالفت اور مقابلہ کے لیئے آمادہ ہوگئے۔ یہ لوگ علی ، عثمان، معاویہ، حسین سب کو برا جانتے ہیں۔

اسی عہد میں ایک اور جماعت نکلی جو بظاہر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفداروں میں سے تھی۔ ان کو یہ افراط و تفریط عارض ہوئی کہ حضرت علی سے جن جن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مسئلہ خلافت میں خلاف ہوا تھا۔ یا ان انتظامی باتوں میں نزاع بڑھتے بڑھتے لڑائی تک نوبت آگئی تھی۔ سب کو مخالف قرآن و حدیث مردود و کافرومرتد کہنے لگے۔

شیعہ
بعض کو یہاں تک خبط ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کہنے لگے۔ وہ دراصل مشرکین زندیق لوگ تھے۔ جنہوں نے ظاہر میں اسلام اختیار کرلیا تھا۔ اس فریق کا نام شیعہ یا رافضیہ ہے۔ یہ لوگ بھی قرآن و احادیث کا مطلب اپنی خواہش اور قرارداد باتوں کے موافق کرتے ہیں۔ اور جس طرح خوارج نے جھوٹی روایات اثبات مدعا کے لیئے بنانی شروع کیں۔ اسی طرح اس فریق نے بھی۔ یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق ، عمر خطاب، عثمان غنی، عائشہ صدیقہ، عباس، عبداللہ ابن عباس، طلحہ و زبیر رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین وغیرہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام کو برا کہتے ۔ اور امامت حضرت علی اور ان کی اولاد کا موروثی حق قرار دیتے ہیں۔ انکے نزدیک وہ مسلمانوں کی رائے اور اختیار کی بات نہ تھی کہ بلحاظ حسن خدمات و لیاقت و دیانت وتقوےٰ و اصابت رائے جس کو مسلمانوں نے خصوصاً مہاجرین و انصار کے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے انتخاب کرلیا وہ خلیفہ ہوگیا۔

جس طرح خوارج کے باہم تھوڑی باتوں پر اختلاف کرنے سے کئی فریق ہوگئے۔ اسی طرح شیعہ میں بھی کئی فریق ہوگئے۔ چنانچہ زیدیہ، اسماعیلیہ، امامیہ وغیرہ فریق ہوگئے۔

قدریہ
پھر تابعین کے عہد بلکہ اخیر زمانہ ء صحابہ کرام میں ایک اور فرقہ پیدا ہوا جس کو قدریہ کہتے ہیں۔ ان کی دو جماعت ہوگئیں۔ ایک منکر قدر و تقدیر کہ بندہ جو کچھ کرتا ہے آپ کرتا ہے۔ قضا و قدر کچھ نہیں۔ یہ مختار مطلق ہے۔

جبریہ
دوسرا کہنے لگا کہ جو کچھ ہے تقدیر سے ہے بندہ کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اینٹ لکڑی کی طرح مجبور محض ہے۔ قضا و قدر جدھر لے چلتی ہے چلتا ہے ان کو جبریہ کہنے لگے۔

معتزلہ
ان کے تھوڑے دنوں بعد تابعین کے عہد میں ایک اور فرقہ نکلا جو کہتے تھے کہ اہل معاصی کے لیئے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نہیں۔ نہ آخرت میں دیدارِ الٰہی ممکن ہے۔ یہ فریق فلسفی اور حکیمانہ خیالات کا پابند تھا۔ اسی کے موافق قرآن و حدیث کو کرنا چاہتا تھا۔

مرجیہ
ان کے بعد فرقہ مرجیہ پیدا ہوا جو کہتے تھے کہ صرف ایمان لانا کافی ہے۔ عمل کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسلمان ہوکر خواہ کوئی زنا کرے، نماز نہ پڑھے، زکوٰۃ نہ دے ، روزے نہ رکھے ۔ اس کو کچھ خوف نہیں قطعاً عذاب نہ ہوگا۔

جہمیہ
ان کے بعد خلافتِ عباسیہ کے قریب وسط میں ایک اور فرقہ پیدا ہوا جس کا نام جہمیہ ہے۔ یہ لوگ صفاتِ باری تعالیٰ کے منکر تھے۔ اور طرح طرح کی بدعات خلافِ جمہور اہل اسلام ایجاد کررکھی تھیں۔ مزید تفصیلی معلومات مکاشفہ اور اہلسنت ریسرچ فورم کی تاریخ کے سیکشنز میں ملاحظہ ہوں۔

ہندوستان میں تین فرقے اور پیدا ہوگئے ہیں۔ ایک نیچری دوم چکڑالوی سوم مرزائی وغیرہ جن کا عقیدہ جمہور اہل اسلام کے خلاف ہے۔ غرض تہترواں فرقہ جس سے یہ سب فرقے نکلے ہیں ۔ فرقہ ناجیہ اہلسنت وجماعت کا ہے۔

فرقہ ناجیہ

اہل اسلام کے سب فرقوں میں فقط اہلسنت و جماعت کا فرقہ ناجیہ ہے (نجات پانے والا) چنانچہ امام احمد، ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ عنقریب میری امت میں 72 بہتر فرقے ہوجائیں گے۔ وہ سب کے سب دوزخی ہونگے۔ مگر ایک فرقہ نہ ہوگا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ وہ کونسا فرقہ ہے۔ فرمایا جو میرے طریقے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔

سو اسی کے مطابق ہوا کہ خلفائے راشدین کے بعد امت میں باعتبارِ جزئیات عقاید کے اختلاف شروع ہوا۔ حضور ﷺ اور انکے اصحاب اور اہل بیت کا جو طریقہ چلا آتا تھا اس میں بعض بعض نے کجی اور شرارت کرکے چند لوگوں کو بہکا پھسلا کر اپنے ساتھ کرلیا۔ اور بعض بعض امور میں جمہور سے مخالف ہوگئے اور ان کے گروہ کا ایک جدا نام قرار پایا یہانتک کے بہتر تک نوبت پہنچی۔ اور جس میں سے وہ جدا ہو ہو کر الگ ہوئے تھے وہ گروہ ِ اعظم اہلبیت و صحابہ کرام رضوان اللہ تعالےٰ علیھم اجمعین اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ پر جو تھا تہترواں 73واں فرقہ ہے اور اسکا نام فرقہ ناجیہ یعنی نجات پانے والا ہے۔ اور یہ اہل سنت و جماعت کا فریق ہے۔

مسائل جزئیہ میں اختلاف کی وجہ
اہل سنت والجماعت اصول و عقاید میں سب متفق ہیں ۔ ہاں جزئیات میں کسی قدر اختلاف ہے۔ سو جزئیات عملیات میں اختلاف ہونا موجبِ وسعت ہے۔ کما قیل۔ اختلاف العلمآء رحمۃ یعنی علما کا اختلاف رحمت ہے

جزئیات میں اختلاف کی وجہ یہ ہے:

اول تو موقع اجتہار میں ہر مجتہد اپنی اپنی رائے کا تابع ہوتا ہے۔ پس جسکی رائے میں جو مسئلہ جسطرح آیا۔ اس نے اسکو مسُلم رکھا۔ اور کو اس سے اختلاف ہوا۔ مثلاً (1) اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ 28 میں ارشاد فرمایا۔ والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروع۔ یعنی اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین قروء تک نکاح نہ کریں

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی رائے اس طرف گئی کہ قروء سے مراد یہاں طُہر ہے تو ان کے نزدیک عدت طہر قرار پایا۔

امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی رائے سلیم اس طرف گئی کہ اس سے حیض مراد ہے ۔ سو ان کے نزدیک عدت حیض قرار پایا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ ع 2 میں ارشاد فرمایا ہے۔ وامسحوا برؤسکم (یعنی اور (وضو میں) اپنے سر کا مسح کرو

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے قرائن اور ادلہ سے تمام سر کا مسح ثابت کیا ہے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے چوتھائی سر کا۔ اور امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر ایک بال کا مسح بھی کرلے گا تو کافی ہوگا۔ علےٰ ہذا القیاس

دوم۔ بعض احادیث میں ایک امام کو بسبب کم واسطہ ہونے کے بسند صحیح پہنچی۔ بعض کو بسبب آجانے بیچ میں کسی راوی ضعیف کے سند غیرصحیح سے پہنچی۔ پس اول نے اسکو عمل کے قابل سمجھا ۔ دوسرے نے ضعیف جان کر چھوڑ دیا۔ اختلافِ مسئلہ میں واقع ہوا۔

سوم: رسول اللہ ﷺ امت کی آسانی کے لیئے ایک کام کو مختلف طور سے ادا کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اگر ایک ہی طور پر ہو تو بعض کو دقت پیش آئے۔ مثلاً نماز میں اکثر آپ سوائے تکبیر تحریمہ کے ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔ اور کبھی اٹھا بھی لیتے تھے۔ پس جس صحابی رضی اللہ عنہ نے رفع یدین کرتے دیکھا۔ اسکی روایت امام شافعیؒ کو پہنچی۔ انہوں نے رفع یدین نماز میں سنت سمجھا۔ اور جس صحابی رضی اللہ عنہ نے رفع یدین نہ کرتے دیکھا۔ اسکی روایت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کو پہنچی۔ ان کے نزدیک نماز میں رفع یدین نہ کرنا سنت ٹھہرا۔

چہارم: بعض کام کو رسول اللہ ﷺ نے ابتداء میں کیا۔ پھر اس کو ترک کردیا۔ جس صحابی رضی اللہ عنہ نے کرتے دیکھا اور پھر اس کو ترک کی خبر نہ پہنچی۔ اس نے اسکو سنت سمجھا۔ پس اسکی روایت جس امام کو پہنچی۔ اس کے نزدیک سنت ٹھہرا۔ اور جس صحابی نے آپ کو ترک کرتے دیکھا اس کی روایت دوسرے امام کو پہنچی۔ اس نے ترک کرنا سنت جانا۔ علےٰ ہذا القیاس

اس قسم کے اسباب سے جزئیات میں اختلاف واقع ہوا۔ ورنہ عقاید سب کے ایک ہیں۔ دو ایک جگہ جو اختلاف ہے سو وہ تحقیقی وعلمی ہے۔ کچھ اختلاف کی بات نہیں۔

خلاصہ یہ کہ امام شافعی ؒ، اور امام اعظم ؒ کا جو بعض مسائل فقہیہ میں اختلاف ہے سو یہ کچھ اختلاف ایسا نہیں ہے کہ جس سے دونوں کو الگ الگ فریق سمجھا جائے۔ اس لیئے کہ اصول سب کا ایک ہے۔ مسائل اجتہادیہ میں اپنی اپنی سمجھ اور احادیث کی صحت و ضعف و اعتبار و عدم اعتبار اور انکے معنی سمجھنے کا فرق ہے۔ ایسا اختلاف صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین رحمتہ اللہ علیھم میں بھی تھا اور ہونا بھی چاہیئے تھا۔ اسلیئے کہ ہرایک کی سمجھ اور علم اور حفظ یکساں نہیں۔

اسکی دوسری مثال یوں سمجھیئے کہ مثال کے طور پر (یامحمداہ) کا نعرہ لگانے کی حدیث و تاریخ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جو بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے (یامحمداہ یعنی یارسول اللہ مدد) کا نعرہ لگایا تو اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ عقاید کا ایک جز ہے جو حدیث سے اور تاریخ سے بیان ہوئی ہے۔ مقصد یہ کہ فروعی معاملات میں اختلاف ، عقائد میں اختلاف نہیں۔ جیسے اس حدیث کو سب محدثین مؤرخین نے بیان کیا چاہے وہ چار مذاہبِ اسلام میں سے کسی سے بھی متعلق ہوں۔

 

 

ایمان مجمل کی تعریف

اصل التوحید وما یصح الاعتقاد علیہ یجب ان یقول اٰمنت باللہ وملٰئکتہٖ وکتبہٖ و رسلہٖ والیوم الآخر والبعث بعد الموت والقدر خیرہٖ وشرہٖ من اللہ تعالیٰ والحساب والمیزان والجنۃ والنار حق کلہ۔ یعنی یہ کتاب ہے اصل توحید اور اعتقاد صحیح کے بیان میں واجب ہے ہر مسلمان پر کہ کہے صدق دل سے یقین لایا میں اللہ پر اور اس کے سب فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور جی اٹھنے پر پیچھے مرنے کے۔ اور خیر وشر کی تقدیر پر کہ اللہ تعالےٰ کی بنائی ہے۔ (یعنی مقدر کرنے والا خیروشر کا حق تعالےٰ ہے اور قدر کے معنی ہیں مقرر کرنا حق تعالےٰ کا ہرچیز کو اپنے مرتبے میں کہ اس طرح پائی جائے گی برائی ہو یا بھلائی)۔ اور حساب ہونا اور تولا جانا اعمال کا قیامت میں اور بہشت اور دوزخ سب حق ہے۔

توحیدِ ذاتِ باری تعالیٰ

واللہ تعالیٰ واحد لا من طریق العدد ولٰکن من طریق انہ لا شریک لہ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوًا احد لایشبہ شیئاً من الاشیآءِ من خلقہٖ ولا یشبہہ شئی من خلفہٖ لم یزل ولم یزال باسمائہٖ وصفاتہ الذاتیۃ والفعلیۃ۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایک ہے عدد سے نہیں۔ پر اس راہ سے کہ اسکا کوئی ساجھی نہیں۔ (یعنی واحد کے دومعنی ہیں ۔ ایک یہ کہ اکیلا ویسا دوسرا نہیں۔ دوسرے دو میں کا ایک۔ اللہ پہلے معنی کی راہ سے ایک ہے دوسرے معنی عدد والے یہاں مراد نہیں۔ اس واسطے کہ عدد حوادث میں سے ہیں)۔ نہ اولاد والا اور نہ کسی اولاد سے ۔ نہ کوئی اس کا ہم قوم ہے، مشابہ نہیں کسی چیز کے چیزوں سے اپنی مخلوق میں سے اور نہ اس جیسی اور چیز ہے خلق میں۔ (یعنی خدا ذات اور صفات میں سب مخلوق سے نرالا ہے)۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والا اپنے ناموں اور صفتوں ذاتی اور فعلی سے (یعنی ہمیشہ سے ہے ابتداء نہیں ہمیشہ رہنے والا بے انتہا)

صفاتِ ذاتی:

اما الذاتیۃ فالحیٰوۃ و لقدرۃ والعلم والکلام والسمع والبصر والارادۃ ۔۔۔ یعنی صفت ذاتی ہے بے موت کے زندگی ہے اور قدرت ہرچیز پر اور جاننا ہرچیز کا اور سننا اور دیکھنا پر کان آنکھ کے سوا اور ارادہ قدیم

صفتِ فعلی

واما الفعلیۃ فالتحلیق والترزیق والانشآء والابداع والصنع۔۔ یعنی لیکن صفت فعلی (یعنی صفت فعل وہ ہے کہ اسکی ضد اللہ میں پائی جائے جیسی غضب کہ اسکی ضد رحمت اللہ میں پائی جاتی ہے۔ اور ذاتی وہ کہ اسکی ضد اللہ میں نہ پائی جائے جیسے علم کہ ضد اسکی جہل ہے اللہ میں نہیں پائی جاتی۔ فتاویٰ ظہیریہ میں لکھا ہے کہ جو کوئی قسم کھاوے صفت فعلی پر اللہ کے تو وہ شرعاً قسم نہیں ہے جیسے قسم اللہ کے غضب کی۔ اور اگر قسم کھائے صفتِ ذاتی پر وہ شرعاً قسم ہوجاتی ہے۔ جیسے کہے وعزۃ اللہ، قسم ہے اللہ کی عزت کی) سو پیدا کرنا مخلوق کا اور روزی دینا اور پیدا کرنا اور ایجاد کرنا اور ازسرنو پیدا کرنا۔ (یعنی تخلیق انشاء صنع سب کے سب معنی پیدا کرنا اس چیز کا جو پہلے نہ تھی اسکی اور مثال ہو یا نہ ہو) اور ابداع کہتے ہیں پیدا کرنا ایسی چیز کا کہ اس کے پہلے کوئی مثال نہ ہو۔

دیگر صفات

وغیرذٰلک من صفاتِ الفعل لم یزل ولا یزال بصفاتہٖ واسمآئہٖ لم تحدث لہ صفاتہ ولا اسم لم یزل عالمًا بعلمہٖ والعلم صفۃ فی الازل وقادرًا بقدرتہٖ والقدرۃ صفۃ فی الازل وخالقًا بتخلیقہٖ صفۃ فی الازل وفاعلاً بفعلہٖ والفعل صفۃ فی الازل والفاعل ھو اللہ تعالیٰ والمفعول مخلوق وفعل اللہ تعالیٰ غیر مخلوقِِ وصفاتہ فی الازل غیرمحدثۃِِ ومخلوقۃِِ۔ ۔۔۔ یعنی اور سوا ان کے جو صفتیں فعلی ہیں۔ وہ اپنی صفتوں اور ناموں کے ساتھ ازلی ہے۔ ابتداء نہیں نہ کوئی صفت اسکی نوپیدا ہے۔ نہ کوئی نام اسکا ، ہمیشہ سے وہ جانتا ہے اپنے علم سے اور علم اسکی صفت ہے قدیم سے، اور ہمیشہ وہ قادر ہے ساتھ قدرت اپنی کے۔ وہ اسکی صفتِ قدیمی ہے اور ہمیشہ وہ پیدا کرنے والا ہے ساتھ اپنے پیدا کرنے کے۔ اور پیدا کرنا اسکی صفتِ ازلی ہے۔ اور کام کرنے والا ہے اور کام کرنا اسکی صفت ازلی ہے (یعنی فعل بمعنی تخلیق) اور پیدا کرنے والا سب کا اللہ تعالیٰ ہے اور فعل کا اثر مخلوق ہے اور فعل اللہ تعالیٰ کا قدیم ہے اور صفتیں اسکی ازلی ہیں۔ نوپیدا اور مخلوق نہیں۔ (یعنی محدث اور مخلوق کے ایک ہی معنی ہیں)۔

صفتوں کا مخلوق نہ ہونا

ومن قال انھا مخلوقۃ او محدثۃ او وقف وشک فیہا فھو کافر باللہ تعالیٰ۔ ۔۔ یعنی اور جو کہے کہ اسکی صفتیں مخلوق ہیں یا نوپیدا یا توقف اور شک کرے۔ (یعنی توقف یہ ہے کہ بالفعل قدیم حادث بالکل کچھ نہ کہے آگے کے سمجھ لینے پر موقوف رکھے اور شک یہ کہ یقین قدیم ہونے کا نہ کرے۔ خواہ دونوں طرفوں کا علم برابر ہو یا نہ ہو) وہ کافر منکر ہے خدا تعالےٰ کا۔

صفات ِ قرآن

والقراٰن کلام اللہ تعالیٰ فی المصاحف مکتوب وفی القلوب محفوظ وعلی السنتہ مقرو وعلی النبی علیہ الصلوۃ والسلام مُنَزَل ولفظنا بالقراٰن مخلوق وکتابنتنا لہ مخلوق وقرآئتنا لہ مخلوق۔۔۔ یعنی اور قرآن کلام اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ مصحفوں میں لکھا ہوا۔ اور دلوں میں یاد اور زبانوں پر پڑھا گیا۔ اور پیغمبر ﷺ پر اتارا گیا۔ اور ادا کرنا ہمارا قرآن کو لفظوں سے مخلوق ہے اور لکھنا ہمارا اسکو اور پڑھنا ہمارا اسکو مخلوق ہے۔ (یعنی لفظ اور قرءت دونوں کے ایک معنی ہیں پر مراد لفظ سے یہاں زبان سے پڑھنا ہے اور قراءت سے خیال کرنا دل میں)۔

کلام اللہ کا مخلوق نہ ہونا

وما ذکرہ اللہ تعالیٰ فی القرآن عن موسیٰ وغیرہ من الانبیآء علیہم السلام وعن فرعون وابلیس فان ذٰلک کلہ کلام اللہ تعالیٰ اخبارًا عنھم وکلام اللہ تعالیٰ غیرمخلوقِِ وکلام موسیٰ وغیرہٖ من المخلوقین مخلوق والقرآن کلام اللہ تعالیٰ لا کلامھم۔۔۔ یعنی اور جو ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے سواء انبیاء علیہم السلام اور فرعون اور شیطان کے احوال سے یہ سب کلام اللہ تعالیٰ کا ہے خبر دیتا ہے ان سے۔ اور کلام خدائے تعالےٰ کا مخلوق نہیں۔ اور کلام ِ حضرتِ موسیٰ علیہ السلام اور مخلوقات کا مخلوق ہے۔ اور قرآن کلام اللہ تعالےٰ کا ہے نہ کلام انکا۔

اللہ تعالیٰ کا متکلم ہونا

وسمع موسیٰ کلام اللہ کما فی قولہٖ تعالیٰ وکلم اللہ موسیٰ تکلیماً وقد کان اللہ متکلما ولم یکن کلم موسیٰ۔۔۔ یعنی اور سنا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کلام خدا تعالیٰ کا۔ جیسا خدا کے قول میں ہے۔ اور بات کی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے۔ اور بیشک متکلم تھا اللہ تعالےٰ اس حال میں کہ نہیں بات کی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے۔

اللہ تعالےٰ کا پیدا کرنے سے پہلے خالق ہونا

وقدکان اللہ تعالیٰ خالقاً فی الازل ولم یخلق الخلق۔ یعنی اور بیشک اللہ تعالیٰ خالق تھا ازل میں اور ابھی نہیں پیدا کیا تھا خلق کو۔

اللہ تعالیٰ کی کلام اور مخلوق کی کلام میں فرق

فلما کلم اللہ موسیٰ کلمہ بکلامہ الذی ھو لہ صفۃ فی الازل وصفاتہ کلھا بخلاف صفات المخلوقین۔۔ یعنی پھر جب کلام کیا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا اس کلام کے ساتھ جو اسکی ازلی صفت ہے۔ اور اسکی سب صفتیں برخلاف صفتوں مخلوقات کے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی صفات اور ہماری صفات میں فرق

یعلم لا کعلمنا ویقدرلاکقدرتنا ویرٰی لا کرؤیتنا ویتکلم لا کلامنا ویسمع لا کسمعنا۔۔۔ یعنی جانتا ہے پر وہ علم ہمارا سا نہیں۔ اور قدرت رکھتا ہے نہ ہمارے سی قدرت۔ اور دیکھتا ہے نہ ہمارا سا دیکھنا اور کلام کرتا ہے نہ ہمارا سا کلام کرنا اور سنتا ہے نہ ہمارا سا سننا۔

اللہ تعالیٰ کی کلام کے آلات اور ہمارے آلات میں فرق

نحن نتکلم بالالات والحروف واللہ سبھانہ یتکلم بِلا اٰلۃ وحروفِِ والحروف مخلوقۃ وکلام اللہ تعالیٰ غیر مخلوق۔ ۔۔ یعنی ہم کلام کرتے ہیں ساتھ آلات کے اور حروف کے (یعنی اسباب جیسے زبان ، منہ ، دانت) اور اللہ پاک کلام کرتا ہے بغیر اسباب اور حروف کے اور حروف مخلوق ہیں۔ اور کلام اللہ تعالےٰ کا مخلوق نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا جوہر، عرض اور جسم وغیرہ سے پاک ہونا

وھو شئی لا کاشیآء ومعنی الشئی اِثباتہ بلاجسم و جوھر ولا عرضِِ ولاحد لہ۔۔۔ یعنی اور وہ شئے ہے نہ اور چیزوں کی طرح (یعنی نہ اور چیزوں کی طرح کہ جسم سے خالی نہیں ہوتیں پس اگلا قول بلا جسم اسکا بیان ہے) اور شئے کے معنی موجود کے ہیں بغیر جسم کے اور نہ جوہر ہے اور نہ عرض (جوہر کہتے ہیں جو اپنے آپ کسی جگہ میں قرار پکڑے اور عرض اسمیں پایاجاتا ہے جیسے کپڑا کہ اسمیں سفیدی پائی جاتی ہے۔ عرض وہ چیز کہ غیر میں ہو کر کسی جگہ قرار پکڑے جیسے سفیدی کپڑے میں ) اور نہ کوئی اسکی حد ہے۔ حد کے دومعنی ہیں۔ ایک نہایت یعنی وہ نہایت نہیں رکھتا کہ وہ جسم میں ہوتی ہے۔ دوسری حقیقت کہ کئی طرح سے پوری ہو یعنی اسکا جزو نہیں تو اسکی حد اور حقیقت نہیں)۔

اللہ تعالیٰ کا شریک اور مثل نہ ہونا

ولا ضد لہ ولا نذلہ ولا مثل لہ۔ ۔/یعنی نہ کوئی اسکا جھگڑالو ہے اور نہ شریک اسکا۔ اور نہ کوئی اسکی مانند

اللہ تعالیٰ کے ہاتھ منہ اور نفس کا مطلب

ولہ ید ووجہ ونفس کام ذکرہ اللہ تعالیٰ فی القراٰن فھو صفات بلاکیف ولا یقال ان یدہ قدرتہ اونعمتہ لان فیہ ابطال الصفتہ وھو قول اھل القدر والاعتزال یدہ صفۃ بلاکیف غضبہ ورضاہ صفتان بِلاکیفِِ ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اور اسکے لیئے ہاتھ اور منہ اور نفس ہے جیسا کہ ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں (یعنی یداللہ فوق ایدھیم اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے) و یبقیٰ وجہ ربک۔۔ اور باقی رہیگی ذات پروردگار تیرے کی اور تعلم مافی نفسی ولا اعلم مافی نفسک یعنی جانتا ہے تو جو میرے جی میں ہے اور نہیں جانتا ہوں میں جو تیرے نفس میں ہے) پس یہ صفتیں ہیں اور کیفیت ان کی معلوم نہیں اور نہ کوئی کہے کہ ہاتھ سے قدرت یا نعمت مراد ہے کیونکہ اسمیں تو اسکی صفت باطل ہوتی ہے۔ (یعنی حقیقت میں اسکے ہاتھ اور منہ اور نفس ہیں۔ لیکن جیسے وہ نرالا ہے ایسے وہ بھی ہیں نہ کہ ہمارے جیسے) اور یہ قول قدریوں اور معتزلوں کا ہے۔ ہاتھ اسکا جو اسکی صفت ہے معلوم نہیں کیونکر ہے۔ غضب اور رضامندی اسکی دونوں صفتیں ہیں معلوم نہیں کیسی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا علم

خلق اللہ تعالیٰ الاشیآء لا من شئی وکان اللہ تعالیٰ علماً فی الازل بالاشیآءِ قبل کونھا وھوالذی قدرالاشیآء وقضاھا ولایکون فی الدنیا ولافی الاخرۃ شئی الا بمشیتہٖ وعلمہٖ وقضآئہٖ وقدرہٖ وکتبہٖ فی اللوح المحفوظ لٰکن کتبہ بالوصف لا بالحکم ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے ساری چیزوں کو نہ کسی چیز سے اور ہے اللہ تعالےٰ جاننے والا قدیم سے سب چیزوں کو پہلے ان کے پیدا ہونے سے اور وہ ذات پاک ہے کہ مقدر کیا اس نے سب چیز کو اور محکوم کیا اپنا اور نہیں ہوتی ہے کوئی چیز دنیا میں اور نہ آخرت میں بغیر اسکے ارادے اور علم وحکم اور تقدیر اور لکھنے اسکے ، کے بیچ لوح محفوظ کے۔ پر لکھنا اس کا وصف کے ساتھ ہے نہ حکم کے۔ (کتب بالفتح کہتے ہیں لکھنے کو یعنی یوں لکھنا کہ فلانا آدمی فلانی فلانی چیز برائے بھلائی کے ان صفتوں کے ساتھ فلانے فلانے مکان میں اپنے اختیار سے کریگا اس طرح کہ حکم سے فلانے پر زبردستی اس کام کے کرنے کا)۔

قضا و قدر

والقضآءٗ والقدرو والمشیۃ صفاتہ فی الازل بِلا کیف یعلم اللہ تعالیٰ المعدوم فی حال عدمہٖ معدوماً ویعلم انہ کیف یکون اذا اوجدہ ویعلم اللہ تعالیٰ الموجود فی حال وجودہٖ موجودً اویعلم کیف یکون فنآؤہ ویعلم اللہ تعالیٰ القآئم فی حال قیامہٖ قائما فاذا قعد فقد علمہ قاعدًا فی حال قعودہٖ من غیران یتغیر علمہ او یحدث لہ علم ولٰکن التغیروالاختلاف یحدث عند المخلوقین۔۔۔ یعنی اور قضا اور قدر اور مشیت اسکی صفتیں قدیم ہیں پر کیفیت معلوم نہیں (یعنی قجا اور قدر دو حکم ہیں ایک سے اجمالی مراد ہے دوسرے سے تفصیلی اور مشیت وہ ارادہ جو دونوں حکم کے ساتھ علاقہ رکھے) جانتا ہے اللہ ناپیدا کو وقت ناپیدا ہونے کے ناپیدا۔ اور جانتا ہے جیسے ہوجائے گا جب پیدا کریگا۔ اور جانتا ہے اللہ تعالےٰ موجود کو ہونے کے وقت موجود۔ اور جانتا ہے کیونکر ناپیدا ہوگا۔ اور جانتا ہے اللہ تعالیٰ کھڑے کو کھڑے ہونے کے وقت میں کھڑا پھر جب وہ بیٹھے تو جان لیتا ہے اسکو بیٹھا بیٹھنے کے وقت پر علم اسکا نہیں بدلتا۔ نہ نیا پیدا ہوتا ہے مگر بدلنا اور تغیر پیدا ہوتا ہے مخلوقات میں۔

انتخاب از ۔ فقہ اکبر و تحفہ حنفیہ از حضرت مولانا علاممہ ابوالبشیر محمد صالح حنفی نقشبندی چشتی قادری رحمتہ اللہ علیہ

اردو ترجمہ: توحید کے بارے میں صوفیاء کے واضح ارشادات

تمام صوفیاء کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، قدیم ہے (اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا)، عالم ہے، قدرت والا ہے، زندہ ہے، سننے دیکھنے والا ہے، ہرایک پر غالب ہے، بزرگی والا ہے، حسن والا ہے، بڑا ہے، سب کو سب کچھ دینے والا، مہربان ہے، بڑائی والا، دبدبے والا ہے، ہمیشہ رہنے والا، سب سے پہلے ہے، عبادت اسی کی ہوسکتی ہے، ہرایک کا آقا ہے، ہرچیز کا مالک ہے، ہر ایک کو روزی دینے والا ہے، بڑا مہربان ، مہربانی کرنے والا ہے، ارادہ والا، دانا ہے، کلام کرنے والا ہے، ہرچیز کو پیدا کرنے والا، کھانے کو دینے والا ہے، اس میں وہ سب خوبیاں موجود ہیں جو اس نے خود اپنے بارے میں بتائی ہیں، اس کا ہروہ نام ہے جو اس نے خود بتا رکھا ہے، قدیم ہی سے اس کے نام اور خوبیاں موجود ہیں اور وہ کسی بھی لحاظ سے مخلوق جیسا نہیں، نہ اسکی ذات کسی جیسی ہے، اور نہ ہی اسکی کوئی خوبی، اسکی مخلوق جیسی ایسی کوئی نشانی نہیں جو اس مخلوق کے بارے میں یہ بتاتی ہے کہ انہیں نئے سرے سے پیدا کیا گیا ہے، وہ ہر پیدا کی گئی چیز سے پہلے اور اول میں تھا، ہرشے سے پہلے تھا، اس کے علاوہ کوئی اور چیز قدیم نہیں اور نہ ہی اسکے علاوہ کوئی اور معبود ہے۔

 

اس کا جسم نہیں، خیالی شکل نہیں، صورت نہیں، وہ جوہر اور عرض نہیں، کسی کے ساتھ اکٹھا اور جدا نہیں، نہ ہلتا ہے اور نہ ہی سکون رکھتا ہے، گھٹتا بڑھتا نہیں، اس کے حصے بخرے نہیں، جسمانی حصے نہیں، کسی پہلو اور جگہ میں نہیں، اس پر کسی بیماری اور اونگھ کا اثر نہیں، کسی وقت میں نہیں، اسکی طرف اشارہ ممکن نہیں، کسی جگہ اور وقت میں نہیں، نہ چھونے میں آتا ہے اور نہ علیحدہ کہا جاسکتا ہے، کسی جگہ میں داخل نہیں، سوچ میں نہیں آتا، پردے میں ڈھانپا نہیں جاسکتا، دیکھنے میں نہیں آسکتا۔

 

نوٹ: وہ جو اللہ کو “ہرجگہ” “حاضر و ناظر” مانتے ہیں غور کریں۔

ایک بڑے صوفی نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی قبل (پہلے) اس سے پہلے نہیں اوراسکے بعد کسی کو بعد کہا جاسکتا ہے، من (سے) کہہ کر اسکی ابتداء نہیں بتائی جاسکتی اور نہ عن (ہی اس کیلیئے بولا جاسکتا ہے۔ الیٰ (انتہاء بتانا) سے اسکا کوئی تعلق نہیں اور نہ فی (اندر) کا اس سے تعلق ہے، نہ اذ (جب) اس سے واقفیت پیدا کرتا ہے اور نہ ہی ان (کہہ) کر مشورہ لیتا ہے۔ نہ فوق (اوپر) کا اس پر سایہ ہے اور نہ ہی تحت اسے اٹھاتا ہے، حذاء (سامنے) کا لفظ بولیں تو وہ کسی کے مقابلے میں نہیں اور نہ ہی عند (نزدیک) کے لفظ سے اسکی کوئی بحث ہے، خَلف (پیچھے) کے ساتھ اس کا تعلق نہیں، امام (آگے) کے ذریعے اسکی حد بندی نہیں، قبل (پہلے) کہنے سے ظاہر نہیں اور نہ ہی بعد کہنے سے ختم ہوسکتا ہے، کل کہیں تو وہ کسی کے ساتھ اکٹھا نہیں اور نہ ہی کَانَ (تھا) کے ذریعے اسکے وجود کا پتہ چلتا ہے۔ لیسَ (نہ تھا) کہنے سے گم نہیں ہوسکتا، اور خِفاء (پوشیدہ) کہیں تو اس سے چھپ نہیں سکتا، اس کا قدیم ہونا ہر پیدا ہونے والی چیز سے پہلے ہے اور اسکا وجود کسی چیز کے نہ ہونے سے پہلے ہے، اگر متیٰ (جب) کہو تو اسکا ہونا وقت بننے سے پہلے ہے، اسے ھو(وہ) کیسے کہو گے کہ ھاء اور واؤ تو دونوں حرف اس نے پیدا کئے ہوئے ہیں، کیف (کس حالت میں) کہو تو اسکی ذات ہرحالت سے پاک ہے۔ اَینَ (کہاں) کہنا چاہو تو اسکا اپنا وجود کسی جگہ ہونے سے تعلق نہیں رکھتا۔ اسکے بارے میں ماھو (اسکی حقیقت کیا ہے) کہنا چاہو تو (کیسے ممکن ہے جبکہ) اسکی حقیقت کسی کی سمجھ ہی میں نہیں آسکتی (جداگانہ ہے) ایسا کوئی نہیں جس میں ایک ہی وقت کے اندر مقابلے کی دو خوبیاں پائی جاتی ہیں اور وہ ان کی وجہ سے ضدیں جمع کرنے والا نہیں بنتا چنانچہ وہ ظاہر ہوتے ہوئے باطن ہے اور چھپ کربھی ظاہر جس سے پتہ چل گیا کہ وہ ظاہر وباطن ہے، قرب و بعید بھی ہے اور کوئی مخلوق اسکی اس خوبی کا مقابلہ نہیں کرسکتی، وہ کوئی کام کرتا ہے تو کسی چیز کو چھوتا نہیں، کسی سے ملے بغیر سمجھا لیتا ہے اور اشارہ کئے بغیر راہنمائی کردیتا ہے، کسی کے ارادے اس جیسے نہیں اور نہ ہی سوچوں میں آسکتا ہے، اسکی ذات کسی شکل میں شمار نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے کوئی کام کرنے کےلیئے پابند کرسکتا ہے۔

 

سب صوفیاء کہتے ہیں کہ (ہماری) یہ آنکھیں مکمل خدا نہیں دیکھ سکتیں اور نہ ہی گمانوں میں آتا ہے، اسکی خوبیوں اور ناموں میں تبدیلی نہیں آسکتی بلکہ وہ اسی طرح ہے اور یونہی رہے گا، وہ پہلا بھی ہے اور آخری بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، ہرچیز اسکے علم میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں اور وہ سننے دیکھنے والا ہے۔

 

حوالہ: کتاب التعرف لمذھب اھل التصوف۔ الامام العالم العارف۔ ابوبکر محمد بن اسحٰق البخاری الکلاباذی۔ باب الخامس ۵، شرح قولھم فی التوحید ۔صفحات ۱۳،۱۴ مکتبۃ الخانجی قاہرہ مصر

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s