Kabbalah – Intro In Urdu

کبالا۔ کبآلہ

YAH
یاہ۔ سے مراد مخلوقات کا خالق، ہمیشگی والا ایلوہیم، کائنات کا شہنشاہ، مہربان، رحمت والا، سپریم، اعلیٰ ترین، لامحدود اور سب سے مقدس ارفع و اعلیٰ جس نے اپنا نام درج کیا اور کائنات کو احکامات دیئے معرفت کے 32 راستوں سے 3 سیفاریہام (1) نمبروں، (2) الفاظ، (3) صدا/آواز کے ذریعے، جو کہ اس میں ہیں اور ایک ہی ہیں۔
اقتباس از سیفیر یتزیراہ
ایک مختصر تاریخِ کبالہ
جس کو غلطی سے یہودی تصوف سمجھا جاتا ہے، مختلف نظاموں میں عقیدہ ایک روحانی معنی بھی رکھتا ہے، اور بیرونی سوچ و فکر کے مطابق مجمعوں کے لیئے ہوتا ہے اور ایک باطنی بنیاد ہوتی ہے جو کہ پجاریوں اور داخل کنندہ گان پر مربوط ہوتی ہے، یہی گہری متصوفیانہ تعلیمِ کبالہ دراصل یہودی اصولوں / ڈاکٹرائین کا ایک ابلتا ہوا اظہار ہے۔ اس لفظ کی وجہ تسمیہ ہیبریو۔ عبرانی میں موجود ہے جو کہ مخفف ہے تین الفاظ کا۔ ق۔ ب۔ ل جسکے معنی ہیں “وصول کرنا” یا متبادل طور پر “منہ سے کان” یا “غیرتحریرشدہ قانون” اور تمام تر ایسی باطنی روایات کے مطابق اسکی خفیہ تعلیمات اصل طور پر صرف زبانی ہی منتقل کی جاتی ہیں۔ یہ لفظ “قبل” لفظِ قبال کا ہم معنی اور ایک جیسا بھی ہے جس کے معنی ہوتے ہیں خفیہ تحرک یا باطنی جبلت۔
یہ سیکرٹس، جیسے کہ قبالائی کہانی کہتی ہے، خدا کی طرف سے چاروں معزز فرشتوں کو عطا کیا گیا تھا جنہوں نے یہ تعلیم پھر آدم کو منتقل کردی جب اسکو عدن کے چمن سے نکالا گیا تھا، اور یہ اسلیئے کہ مبادا وہ اپنا کھویا ہوا مقام خدا کے نزدیک پا لے۔ (معاذ اللہ)۔ ان قبالائی روایات کے مطابق یہ علوم یا علم نوح سے ابراہیم کو ملا جنہوں نے اس کی عجائیبات کو قدیم مصریوں سے بانٹا۔ جہاں سے قبالا دنیا کے دیگر خطوں میں پہنچا، (ان روایات کے مطابق) موسیٰ ؑ کو بھی یہ علم منتقل ہوا اور انہیں قبالائی تعلیمات براہ راست خدا سے ملیں۔ یہودی متصوفیان کے مطابق جب تیسری بار وہ سینائی کی پہاڑی پر چڑھے تو چالیس دن تک وہاں رہے اور یہی علم فرشتوں سے سیکھتے رہے جبکہ وہ صحرانورد تھے۔ اس کے بعد موسیٰ ؑ نے اسکی تعلیمات کو پوشیدہ کردیا اور وہ پہلی بار تب منظرشہود پر براجمان ہوئیں جب عہد نامہ قدیمہ کی پہلی چار کتب تحریر ہوئیں۔ (العیاذ باللہ)۔
پہلی صدی (قبل مسیح) میں ربائے شمعون بن یوخائی 12 سال تک اپنے بیٹے کے ساتھ ایک پہاڑی کھوہ میں مقیم ہوا اور یہ اس وجہ سے کہ وہ رومن حکمران پر اعتراضات کرتا تھا۔ اپنے اس دور میں ربائی نے قبالا کی یہ خفیہ تعلیمات اپنے بیٹے کو سکھائیں، اور یہ تعلیمات ایک کتاب کی صورت میں تیرھویں صدی کے سپین میں ظہر یا ضوہر کے نام سے چھپیں۔ اور یہی وہ کتاب گردانی جاتی ہے جو کہ قبالائی ڈاکٹرائین کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔
ان ادوار میں عالمی طور پر کبالائی تعلیمات کو متعدد مذہبوں نے اپنایا کیونکہ اسکی خوبصورتی اور لوجیک نے بہت سوں کو متاثر کیا اور چونکہ وہ ادوار جنہیں مڈِل ایجز (درمیانی دور) کہا جاتا ہے اس میں باطنی اور روحانی قسم کی سچی جھوٹی تمام تعلیمات کو بڑے ذوق و شوق سے سیکھا جاتا تھا لہٰذا ان ادوار نے قبالا کے ہرمیٹیک رنگ کو نمایاں کیا۔ جس میں کبالائی تعلیمات کے ساتھ ساتھ یونانی ہرمیٹک ازم کی تعلیمات بھی شامل ہوئیں، جسکے ردعمل میں الکیمیاء اور روزی کروشیئن ازم کو اسکی خفیہ تعلیمات سے ہوا ملی۔ جو بعد میں فریمسنری میں تبدیل ہوگئیں۔
جسے ہم ٹیروٹ یا ٹاروٹ یا تاروت کارڈز کہتے ہیں اس نے اپنی اساس اسی کبالا کی تعلیمات سے اخذ کی ہیں۔ گولڈن ڈان نے اپنی اشاراتی زبان کو کبالا پر ہی بنیاد کیا ہے۔ یہ ڈاکٹرائین چار دنیاؤں، زندگی کے درخت / ٹری آف لائف اور بعد میں 10 نمبروں (جو اس میں تحریر کیئے جاتے ہیں ) اور 22 الفاظ پر مشتمل ہوگئی (جو عبرانی زبان میں مستعمل ہیں)۔
چار دنیائیں:
عظیم نام جیہو۔وا یا یہودا یا IHVH کے ساتھ ایک حصہ منسلک ہے ہر لفظ کا، مزید برآں الفاظ خود بھی چار دنیاؤں کا استعارہ کہلاتے ہیں جو کہ ایزیلوتھ (ایمانیشن)، خالص روح کی دنیا،آرچی ٹائپل /جادوئی متبادل استعاراتی دنیا جہاں پر کوئی دوئی یا تقسیم نہ ہے۔ یہ یہودی روایات کے مطابق خداؤں کی دنیا ہے۔ اس اتزیلووتھ کا مادی عنصر آگ ہے اور لف (آئی / انگلش والا) اس کا اشکالی و استعاراتی لفظِ منسلکہ سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی سے تین دنیائیں معرض وجود میں آئیں۔
بریاہ۔ (کوسموس) یا تخلیق (کری ئیشن) دوسری دنیا ہے، جس کا پیشکار لف (ایچ/ انگلش والا) ہے اور عنصر پانی۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں تقسیم جدائی علیحدگی شروع ہوتی ہے، جہاں ایک تصور ممکن ہے دوسروں سے مختلف ہو، درایں حال بھی یہ دنیا ابھی تک غیرمادی ہے۔
یتزیراہ، جس کو (وی/ انگلش والا ایلفیبیٹ) سے مشتق کیا جاتا ہے اور اسکا عنصر ہوا کو قرار دیا جاتا ہے وہ دنیا ہے جو کہ بریاہ سے وجود میں آئی ہے۔ یہ تصورات اور خیالات کی آماجگاہ و دنیا ہے، جہاں سے کائناتی دنیا سے رابطہ کیا جاتا ہے، اور اس مقام کی فہم جہاں مادی تحریک فوری ہوجاتا ہے۔
چوتھی دنیا کو آسی یاہ کا نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے “کرنے کو/ کرنے کا” جو یہ مادی دنیا ہے جس کو آخری (ایچ) سے اور عنصر کو زمین سے مربوط ومشتق سمجھا جاتا ہے۔ یہ “یہاں اور ابھی” کی دنیا ہے، ہماری مادی حقیقت، دنیائے جدائی جو کہ بہتر عناصر سے کم تر ہے۔
ٹری آف لائف: زندگی کا درخت
یہ قبالائی تعلیمات کی مختلف النوعیت کے تصورات و تجربات کی سب سے مشہور عکاسی ہے۔ تمام تر قدرت کو آسان شکل میں متشکل کیا گیا ہے جو ایک متعدد بہ جہاتِ روحانیت کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کے دس دائرے / یا/ سیف ھی روتھ 10 نمبروں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ الفاظ اور اعداد 32 راستہ ھائے عقل وشعور کے ہیں جو کہ سیفیر یتزیراہ میں نوشتہ ہیں، اور قبالائی روایات کے مطابق سب سے اولین قبالائی مخطوط ابراہم (علیہ السلام) کے تحریر کردہ ہیں۔
درخت کے تین کالم بھی بذاتِ خود میں سمبلز ہیں، درمیانہ “توازن/تول” کا ترجمان ہوتا ہے، سیدھے ہاتھ والے سے مراد (جسےجاچن / جاشین/ یاچن) کہا جاتا ہے وہ مردانہ قوت کا مترادف سمجھا جاتا ہے جبکہ الٹے ہاتھ والے (بعاز) زنانہ طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور یہ دونوں وہ دو ایوان/پِلرز ہیں جن کو قدیم معبدِ سلیمانی یروشلم کے پلرز کی صورت میں پورٹرے کیا جاتا ہے اور جنکی وجہ سے ماسونیوں نے بھی اپنے معبدوں ٹیمپلز کو اس سے ایستادہ و آراستہ کیا ہوتا ہے۔ یہ دو یعنی جاشن اور بوعاز /بعاز ٹاروٹ کارڈ میں بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ اس یہاں یعنی زندگی کے درخت میں ان کی موجودگی سے مراد حصہ جاتی عناصر ہیں۔
10 نمبرز:۔
ترجمہ:جان لو! ان 10 ناقابل بیان سے!
سیفیروتھ خدایانِ زندہ گان، ہوا، پانی، آگ کی ایک روح کو لیکر چلتے ہیں، اور (اسکے ساتھ) اونچائی، گہرائی، شرقاً، غرباً، شمالاً ، جنوباً
سیفیر یتزیراہ
تصویر میں ان کی نمائندگی دائروں کی صورت میں کی گئی ہے جن کو سفیئرز یا سیپ۔ ھیرا کہا جاتا ہے۔
ون: (پہلا)
زندگی کے درخت کا سب سے اوپر والا دائرہ ہے جو کہ تاج ہے اور اسکو (کیٹر) کہا جاتا ہے۔ یہ تشکلی اظہار، راست مگر ناقابل بیان سمجھا جاتا ہے کیونکہ تاحال اس کا کوئی تعلق کسی چیز سے قائم نہیں ہوسکا۔
ٹو: (دوسرا)
کیٹیر کے سیدھے ہاتھ پر جو دائرہ دکھتا ہے ذرا سا نیچے اس کو حوخمہ (حِکمہ/ وزڈم) کا سیفیرا کہا جاتا ہے اور اسکا نمبری عدد 2 ہے یہ اپنے اور 1 کے مابین ایک لکیر بناتا ہے۔
تھری: (تیسرا)
الٹے ہاتھ پر پایا جانے والے حوکومہ یا حوخمہ یا حکِمہ (عربی میں) کا نام “بینا” ہے جس کا مطلب عبرانی میں (سوچ و سمجھ، غوروفکر) کا ہے۔اور یہ تکون بناتا ہے جو کہ ایک دوسرے کی تشریح ہیں۔
یہ پہلے تین سیفیروتھ ایتزیلووتھ Atziluth کی نمائندگی کرتے ہیں، عنصرِ آگ،اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گئے چار دنیاؤں میں سے اولین پر مشتمل ہے۔
فورتھ: (چوتھا)
اسی طرح نیچے کی طرف چوتھا سیفیروتھ کو ھیسیڈ یا رحم کہا جاتا ہے۔ اب کائنات (اس درخت کے اندر) کے پاس چار عناصر اور چار جہات ہوسکتی ہیں، اور یہ مل کر ایک چوکور کی علامت بناتا ہے۔
فائیو: (پانچ)
الٹے ہاتھ پر ھیسیڈ کے دائیں طرف کو گی۔وُو۔را کہا جاتا ہے جس کا معنی ہے طاقت۔ یہ “ٹائم” یعنی وقت کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بنا کائنات میں کچھ ہونا ممکن نہیں۔
سِکس (چھ)؛۔
بمعہ “تیفیریت” کا مطلب ہے خوبصورتی، ایک اور جہت داخل کردی گئی،بمعہ چار عناصر جو کہ “اوپر” ہیں اور چار عناصر جو کہ “نیچے” ہیں۔ یہ نمبر ماضی اور مستقبل کے ارادوں اور خودشناسی کی سمت اشارہ کرتا ہے۔
سیون (ساتواں)
اسکو نیت۔زاہ یا کامیابی/فتح کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دوسرے ہاتھ پر پایا جانے والا ھیسیڈ کے عین نیچے کا سیفیرا ہے۔ یہ ایموشنل نیچر یا حقیقی خوشی کی موجودگی کا اظہار ہے۔بجائے حادثات کے ممکنات کے، اس سے مراد روح کی خوشی ہے جو کہ انسانی ابدان میں مینی فیسٹ ہوئی ہے۔
ایٹتھ (آٹھواں)
اسکو ہود، حود یا سپلینڈر کہا جاتا ہے اور یہ انفرادی فطرت اور سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔
نائن (نواں)
یی۔سُود۔ معنی۔ بنیاد جو کہ لاتی ہیں ہونے کے احساس کو اورجب اس میں جذبات / ایموشنل یا انفرادی / انٹیلیکچؤل فطرت ھائے ٹیپھاریتھ اور نیٹ۔زاخ کے ساتھ یہ آدمی کو حقیقت کا گمان دیتے ہیں۔
ٹین: (دسواں) عدد
یہ آخری سیفیرا کہلاتا ہے جو کہ درخت کی جڑوں میں ہے اسکو ملخوط / عربی میں ملکوت، مَلکیت، مِلک، یعنی بمعنی حکمرانی شہنشاہیت کہا جاتا ہے۔ یہاں طابطل کو 0 زیرو یعنی صفر سے پیش کیا گیا ہے جو کہ ظاہر ہوا، خودکاررفتہ سوچ وفکر مکمل طور پر پروان چڑھی ہے اسی مادی دنیا میں، کو نمائندگی کرتا ہے۔ اس کو صحیح طرح سے درخت کی جڑ میں دکھایا جاتا ہے کیونکہ یہ تمام تر زمینی، دنیاوی حیات کا سیفیرا یا دائرہ ہے۔
The Triple Veils of the Negative: the threefold nature of zero
قبالائی تعلیمات میں “کچھ نہ ہونے/ عدم” یا “زیرو” کو عین AINکہا جاتا ہے اور باطل۔ یہ نظریہ مزید نظریات کو قبول کرتا ہے، پہلا تو یہ کہ لامحدود سپیس جسے آین سوف (بغیر حد کے) کہا جاتا ہے۔ اور اس کانسیپٹ کو ڈاٹ یا بندیا/بِندھو سے پیش کیا جاتا ہے جو کہ اپنے اندر ہرچیز کا بیج / اصل رکھتے ہیں۔ اس میں ٹائم اینڈ سپیس کے متبادل و متقابلی ہونے کا بھی نظریہ پایا جاتا ہے جن کو این سوف آؤر کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ایک لامحدود روشنی۔ یہ عجیب و غریب نظریات کو ٹرپل ویلز آف نیگیٹیو کہا جاتا ہے۔ یعنی باطل کے تین حجاب۔
22 الفاظ:
دیگر مختلف روایات کی طرح ان کو بھی ہیبریو کے جادوئی الفاظ سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان ہیبریو 22 الفاظ کے ذریعے اللہ نے اس مادی دنیا کو تخلیق کیا، ان کے الفاظ کی آواز و تلفظ کی ادائیگی کے مطابق۔
الفاظ کو عمومی طور پر 3 گروپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اور تین “مادر الفاظ” جو کہ آگ ہوا اور پانی سے منسلک ہیں اور وہ 7 ڈبل الفاظ، جو سات سیاروں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور 12 عام دیگر الفاظ کو 12 زوڈیئک علامات (بروج حوز سنبلہ وغیرہ وغیرہ) سے مشتق کیا جاتا ہے۔اور الفاظ نمبرات سے بھی آراستہ کیئے جاتے ہیں جن کے دو معنوی الفاظ ومعنی بنتے ہیں۔ اور ان 22 الفاظ کی علامت ان لکیروں سے کی جاتی ہیں جو کہ ٹری آف لائف میں سیفیراز کو ایک دوسرے سے منسلک و مربوط کیئے گئے ہیں۔
قبالائی انسانی روح کے پانچ حصوں کو چار عناصر سے منسلک کرتے ہیں، بمعہ پانچویں عنصر کے جسکو وہ “ایتھر” کا نام دیتے ہیں جسکے معنی ہیں “خلاء یا خاموشی/سکوت”۔ زمین “نفسِ حیوانیہ” ہے جس کا نام نیفیش ہے۔ Nephesch
یہ حسیات اور محسوسات کی دنیا ہے۔ ہوا قابلیت کی نمائندگی کرتی ہے، اور اسکو راؤوش یا راؤچ کہا جاتا ہے۔ یہ سانس کی بھی ترجمانی کرتی ہے اور اس کے وہی معنی ہیں جو کہ سنسکرت کی فلاسفی میں پران یا پرانڑ کے معنی ہوتے ہیں اور کہلاتے ہیں۔ پانی کو نیشاماہ کہا جاتا ہے، اور یہ سوچ کی ارتقائی علامت سے مربوط ہے۔ روح کے آگ والے حصے کو چائیاہ/ شیاہ/ شیعاہ کا نام دیا جاتا ہے اور اسکے معنی وہی ہیں جو “چی” کے ہیں یعنی زندگی کی اساس/روح۔ آخر میں یسیداہ جو کہ سب کو مربوط کرتا ہے، اعلیٰ ترین خودی، جو کہ روح کی پیشکاری و نمائندگی کرتی ہے۔
الغرض یہ مختصر سا تعارف اسلیئے تفصیل طلب ہوگیا کہ ابھی اس میں سے بہت سی چیزیں نہیں بتائیں ورنہ اس پر پوری کتاب تحریر کی جاسکتی ہے۔ اسلیئے امید ہے جب آپ قبالائی تصاویر یا اشارات دیکھیں تو آپ کو کم از کم اتنی معلومات ضرور ہوں کہ ان کے معنی کیا ہے۔ کیونکہ یہی علامات واستعارات آگے چل کر شیطانی ابلیسی جادو کی بنیاد بھی بنتے ہیں جس پر کسی اور پوسٹ میں تفصیل سے ذکر کیا جائیگا۔
والسلام۔