Science – Maada or Ghair Maada

لادین معاشرے میں “مادیت” کے ساتھ ساتھ “غیرمادیت” (اینٹائے مےٹر) کے متعلق سائنس!

اس نظریئے یعنی (اینٹائے میڑ) پر مختلف تجربات کیئے جارہے ہیں۔ جبکہ ایک فیصد بھی سوائے اسکے نہیں جان پائے کہ درحقیقت مادے کے ساتھ ساتھ ایک اور طبیعی چیز غیرمادہ بھی پایا جاتا ہے، جو کائنات کی ہر ہر چیز میں سے گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صدیوں سے ایسے ہی ہر ذی روح سے اور غیر ذی روح سے گزررہا ہے۔ مطلب یہ کہ سائنسی زبان سے ہٹ کر اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ہر مادی چیز کے مقابل اور متوازی ایک غیرمادی چیز بھی ہے۔ اس طرح ہماری ڈائمنشن کے ساتھ ہی ایک اور ڈائمینشن موجود ہے جو اسکا عکس سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن سائنس ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوئی کہ اسکے حجم کو، اس کے کام کو سمجھ سکے۔ اس کے علاوہ جدید سائنس کی تحقیقات کہتی ہیں کہ جب مادہ اور غیرمادہ ایکدوسرے کے قریب آتے ہیں تو ایک دوسرے کو فنا کردیتے ہیں۔ اگر کبھی ایسا ہوا کہ “غیرمادی کائنات” مادی کائنات کے قریب آگئی تو دونوں ایک دوسرے کو فنا کردیں گی۔

لیکن یہ بات درست نہیں لگتی کیونکہ غیرمادیت ہمہ وقت ہمہ آن ہرچیز سے گزر رہی ہے یعنی جیسے مثال کے طور پر درخت پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو وہ درخت کو کراس نہیں کرسکتی لیکن غیرمادہ مسلسل اوپر سے نیچے اور مختلف زاویوں سے ہرچیز میں سے گزر رہا ہے۔ کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں اس پر تحقیق کی جارہی ہے اور یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ جیسے ہماری کائنات کو کسی اندیکھی چیز لیکن موجود چیز میں ملفوف کردیا گیا ہو۔ اسکے علاوہ سائنس کی اس وقت تک کی تحقیقات سخت حیران ہیں کہ یہ آخر وہ کیا چیز ہے جسکو “خلا” تصور کیا جاسکتا ہے موجود ہے لیکن اگر کسی طرح اس قوت کو قابو کرلیا جائے تو سوچیں کیا کچھ نہیں کِیا جاسکتا۔ لہٰذا اس چیز پر موجودہ سائنس، طبعیات، میڈیکل، حسابیات اور لاتعداد سائنسزز مل کر بھی یہ نہیں بتا رہیں کہ اس چیز کو کیسے کنٹیمینیٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے تسلسل پر کوئی دنیاوی مادی چیز اثر نہیں کرسکتی کیونکہ اس میں ہر مادے سے گزرنے کی خاصیت ہے اور یہ ہرچیز سے پار ہورہی ہے۔

 

اب ایک مثال اور۔

روحانیت میں ایک چیز ہمزاد کہی جاتی ہے، مذہب اسکو وہ شیطان قرار دیتا ہے جو کہ انسان کے ساتھ ہی پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر یہ مادی جسم تو فنا ہوجاتا ہے لیکن وہ غیرمادی جسم سلامت رہتا ہے۔ اسکے علاوہ دیگر نظریات بھی ہیں قطع نظر ان کے۔ روحانیت کے ہر شوقین کو یہ علم ہے کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان کے اندر ایک کائنات موجود ہے۔ اور جب روحانیت میں ہمزاد کیلئے چِلے کیئے جاتے ہیں۔ (اگرچہ اسلام میں اسکی ممانعت ہے)۔ تو ایک دائرہ کیا جاتا ہے جیسے کسی بھی دیگر وظیفے یا عمل کیلئے، یہ اسلیئے ہوتا ہے کہ رجعت سے محفوظ رہا جاسکے، دوسری آسان اردو میں حفاظی حصار جس کی اپنی اپنی لوازمات اور طریقے ہیں جسکی وجہ سے حصار کے اندر کا انسان باہر کی مخلوقات کی کارستانیوں سے محفوظ رہ سکے۔ مطلب یہ کہ جیسے زمین کے گرد ایک لہر پائی جاتی ہےاور یہ لہر اسکو وسیع خلا کی تابکاریوں سے محفوظ رکھتی ہے، تو روحانیت بنا مادیت کے سائنس ہے، اور سائنس مادیت پر منحصر ہے۔ یعنی بات ٹھیک نکلی کہ ہمارے اندر ایک کائنات موجود ہے۔ اسی طرح “غیرمادہ یعنی اینٹائے میٹر” بھی موجود ہے۔ اور بقول سائنس کے اگر کبھی یہ مسلسل گزرتا غیرمادہ چیز اگر کبھی مادے کے ساتھ منسلک ہوگئی تو کائنات کا زوال شروع ہوسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ “قیامت” کے “سائنسی تشریحات” میں سے ایک ہے۔ اس کو فزیکس کی ایک شاخ ڈارک اینرجی کا نام بھی دیتی ہے جو کہ قوارق اور اینٹی قوارق سے متعلق ایک سائنس ہے۔

لیکن اس کے باوجود لادینیت کے مارے مشرق کے نئے فتوں کے جو مغرب کی اقتداء میں اپنی جہالت میں مذاہب کو چھیڑتے ہیں وہ خود ایک مذہب بن چکے ہیں جو وہی باتیں ایک سائنسی انداز میں کہتی ہے جو مذاہب بلکہ دین اسلام کہتا ہے خصوصی طور پر۔ لہٰذا جب مغربی ذہن ان تمام موشگافیوں سے نکل کر اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو اسکو حق پا کر اس پر ایمان لے آتے ہیں مگر، دیسی ملحد وہ بیوقوف ہوتا ہے جو درمیانی راستے میں لا کر چھوڑ دیا گیا ہو کی مصداق بن جاتا ہے۔ یہ غلامی کی وہ قسم ہے جو کہ ایک مخصوص طریق پر انسان کو غلام بنائے رکھنے کی ایک وسیع پروگرام کے نظام تعلیم کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے،اس لیئے کہ اس کا مقصد حقیقی تحقیق کو صرف معدودے چند اشخاص کیلئے وقف کردیا جائے سے بھی بڑھ کر عام لوگوں کو ہمیشہ غلام اور سسٹم کا محتاج بنا کر ایک بظاہر آزادی دے دی جائے لیکن نسلوں کو بیوقوف بنائے رکھا جانے جیسے پروگرامز پر مشتمل ہے کیونکہ مغرب تو تحقیق مادی بنیادوں پر کرتا ہے لیکن دیسی مشرقی ملحد ہمیشہ اپنے پیشروؤں کے فلسفے کو فالو کرتا ہے اور یہی ذہنیت سسٹم آف سلیوز بناتی ہے یعنی غلاموں کا سسٹم جو ہر جگہ پر مسلط ہے۔

مگر یہ سائنسی نظریات انسان کو روحانیت کے قریب نہیں لاسکتے، کیونکہ بہرحال روحانیت کا درخشاں دور بھی اب ختم ہوچکا ہے۔ یہ سائنسی نظریات جہاں قیامت کا خوف پیدا کرتے ہیں وہیں اپنے سسٹم کے ذریعے عوام کو دیگر کنٹرولڈ اینوائرنمنٹ کے ذریعے بے حس کردیتے ہیں اور قرآن کی وہ بات دوبارہ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ۔ صم بکم عمی فھم لا یرجعون،اسلیئے بجائے اتنا سوچنے کے اگر یہی سوچ لیا جائے کہ ہماری زندگیوں کو ایک اختتام ہے اور ہمیں ایک منزل سے دوسری منزل، ایک ڈائمنشن سے دوسری ڈائمنشن میں بلٹ جانا ہے تو یہی دراصل ہر شخص کیلئے قیامت ہے جس کو موت کہا جاتا ہے اور یہ عارضی وقت اسی لیئے دیا گیا ہے کہ ہم اشاروں کنایوں کھلی نشانیوں اور پوشیدہ خزانوں کو ڈھونڈ کر اس رب پر ایمان رکھتے ہوئے اپنی آخری سانس تک ایمان کو بچا پاتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ مادے کے باہر ایک وسیع غیرمادی دنیا ہیں بلکہ دنیائیں ہیں جیسے ہمارے اندر وسیع کائنات موجود ہے۔ جو بذاتِ خود ایک برتر قوت کے فن تخلیق کا عمدہ نمونہ ہے۔

انہی تمام چیزوں کو فزیکس اپنی زبان میں “کوانٹم فزکس” کا نام دیتی ہے جو ایسی کائنات کے طبیعی جواز پر تحقیق کرتی ہے۔ اگر ان سب کے بعد بھی دیسی ملحد اپنی برین واشنگ کو نہیں سمجھتا تو یہ اس کی ناسمجھی اور بسا اوقات انتہائی جہالت کا عمدہ نشان بنتی ہے۔