Exposing Wrong History & Views about Muhammad Bin Qasim

یہ میرے ایک دوست ایڈوکیٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے مجھے وٹس ایپ کی تھی۔ ۔چونکہ وٹس ایپ میں بہت استعمال نہیں کرتا اسلیئے آج یہ تحریر دیکھی نیچے تحریر اور پھر اس کے جوابات پیش خدمت ہیں۔
1۔ تحریر لکھنے والا انتہائی متعصب اور بنو امیہ کا دشمن سمجھا جاسکتا ہے، اور ایسا وطیرہ فقط “کھٹملوں” کی ذات ہی کرسکتی ہے۔ اس کا تفصیلی جواب اور رد تو میں آگے دونگا ہی فی الحال اس صاحب تحریر کے بغض اور تاریخ سے لاعلمی کا اظہار دیکھنا مقصود ہے۔
۲، صاحب تحریر کی تحریر کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ کٹھمل نے جیسے “کلبھوشن یادؤ یعنی مبارک حسین” کا لبادہ اوڑھا ہوا ہو۔ نام مسلمانوں کا، بغض کھٹملوں کا، ارتداد ملحدوں کا اور محبت ہندوؤں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۔ موصوف صاحبِ تحریر لکھتے ہیں:۔ بڑی سیدھی سی بات ہے کہ محمد بن قاسم اس بنو امیہ کا نمائندہ تھا کہ جس نے نواسہ رسول کو کربلا میں شہید کرکے اپنی سلطنت کی بنیاد یں مستحکم کیں۔
جواب:۔ بڑی سیدھی سے بات اس تحریر سے یہ بھی پتہ چل رہی ہے کہ صاحب تحریر یعنی لکھنے والا کٹر متعصب رافضی ہے ، لیکن موصوف اس تاریخی حقیقت پر کوئی راہنمائی نہیں فرمارہے کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے اور ان کو دعوت دے کر بلانے والے ان کے اپنے رافضی تھے اور خود شیعہ ہی نواسہ رسول کی شہادت کا سبب بنے۔ یعنی اگر نیوٹرل رہ کر یہ کہا جائے کہ رافضیوں نے اپنے ایمان کا سودا اُسی بنو امیہ کے ـیزیدـ کے ساتھ کرلیا تھا جس کا ذکر موصوف کررہے ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ اس نے خریدا اور انہوں نے خود کو بیچا اور قیامت تک مسلمانوں کی لعنت کے مستحق ہوگئے بھلے اب سینہ پیٹ پیٹ کر اپنی محبت اہلبیت کا خودساختہ غیرشرعی ثبوت پیش کرتے رہیں۔ موصوف کے بغض کا اندازہ کیجیئے کہ محمد بن قاسم کو (اس بنو امیہ کا نمائندہ) کہہ کر اپنی فطری و باطنی خباثت کا مظاہرہ کیا ہے جس کا مظاہر کھٹملوں سے اکثر ہوتا رہتا ہے لہٰذا صاحب تحریر کی یہ بکواس ہرگزقابل درخوراعتناٗ نہیں ۔
۲۔ موصوف کی تحریر میں مزید لکھا ہے کہ : (محمد بن قااسم کوئی صحابی نہیں تھا بلکہ 18 سال کا ایک چھوکرا تھا جسے کعبے پر لشکر کشی کرنے والے حجاج بن یوسف کی سرپرستی حاصل تھی۔ وہ حجاج بن یوسف جو صحابہ اکرام کا قاتل تھا۔)
جواب:۔ محمد بن قاسم ۱۸ سال کی عمر کا (چھوکرا) ہونے کے باوجود تم جیسے ملیچھوں سے لاکھ گنا اچھا مسلمان تھاکہ اس نے اللہ کے دین کا راستہ کھولا، اور چونکہ غیور تھا اسلیئے آج تم جیسے دو ٹکے کے (بڈھے خبیثوں) کی بکواس کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ اور ساتھ میں موصوف کو شاید یہ علم نہیں کہ حجاج بن یوسف کا دور حکومت کسی طرح بھی صحابہ کرام کا نظام نہیں کہا جاسکتا، یہ تو ملوکیت کے ادوار ہیں، یہ خلفائے راشدین کے سنہری دور سے بعید دور ہے ۔صاحب تحریر کی لاعلمی یا قصداً تاریخ کو مسخ کرنے کی ناپاک کوشش پر تُف ہے۔ یہ بھول گئے کہ خلافت سے دستبرداری دوسرے نواسہ رسول حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ہی فرمائی تھی جس پر آج تک رافضی تلملاتے ہیں اور ان کا ذکر کم سے کم کرتے ہیں۔ اور پھر مختلف اصحاب کرام نے جب حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی تو آپ کی خلافت کو مستحکم جواز مل گیا۔ شیعان کے پاس حقیتاً اس تاریخ کو جھٹلانے کیلئے سوائے دروغ گوئی کے اور کچھ نہیں ہے۔ ان کی خلاف کا دورانیہ ۴۱ ھجری ہے اور اسی وجہ سے یہ طبقہ جہال صحابہ کرام کی اکثریت تک کو بھی گمراہ سمجھتا ہے کیونکہ وہ ان کے افلاطونی سائیگی کے دھرم کی عکاسی نہیں کرتے۔ مسلمانوں کے نزدیک وہ بھی خلیفہ راشد تھے، اور یزید لعنتی کا جو بھی مسئلہ ہوا اس سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مکمل طور پر پاک و بری ہیں۔ بقول امام التاریخ ابن خلدون رحمتہ اللہ علیہ، یہ حصہ تاریخ حضرت معاویہ کے ہاتھ پر بیعت عامہ یعنی ۴۱ ھ سے شروع ہوکر ابوالعباس سفاح کے ہاتھ پر بیعت ۱۲۲ھ کے حالات پر مشتمل ہے۔ (یعنی جلد ۲)۔ لیکن اس فرق کو دیکھ کر عبرت ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ کے ہاتھ پر جب بیعت عامہ ہوئی تھی تو مسلمانوں کی پنج سالہ خانہ جنگی اس سے ختم ہوئی تھی اور خوشیاں منائی گئی تھیں کہ اب دنیا کا ہرمسلمان ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن، ایک کعبہ اور ایک خلیفہ سے وابستہ ہے۔ مگر جب ۱۳۲ھ میں ابوالعباس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو انتشار در انتشار پھیلتا رہا اور ایک دن کیلئے بھی پھر سارا عالم اسلام ایک جھنڈے کے نیچے مجتمع نہیں ہوسکا۔ یہ بنو امیہ ہی تھے کہ جن کے دور میں اسلام دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا، سوڈان سے مکران تک سب جگہ لوگ خوشحال ہوئے لیکن جب ابوالعباس پہلے عباسی خلیفے کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو خود اس نے اتنی خون ریزی کی کہ اس کا لقب ہی ـالسفاحـ (بڑا ہی خونریز ) ہوگیا۔ جہاں تک کعبہ کی لشکر کشی کا تعلق ہے تو اس کا بھی تفصیل سے ذیر تاریخ ابن خلدون و دیگر میں موجود ہے ، اگر میں یہاں پر وہ تاریخ لکھ دوں تو بات بہت طویل ہوجائے گی مختصراً یوں سمھ لیں کہ عبدالملک نے طارق کو حجاج کی مدد پر مامور کیا تھا کیونکہ سیاسی مخالفتوں کا دور دورہ تھا اور عبداللہ بن زبیر کو عرفات میں داخل ہونےسے روک دیا گیا تھا۔ مجبور ہوکر انہوں نے مکہ ہی میں قربانی کی حالانکہ انہوں نے حجاج کو طواف اور سعی سے منع نہیں کیا تھا جس کے بعد حجاج نے کوہ ابوقبیس پر منجنیقیں نصب کرائیں اور کعبہ پر پتھروں کا مینہ برسانے لگا، اتفاق یہ کہ عبداللہ بن عمر بھی حج کو آئے تھے، حجاج بن یوسف سے کہلا بھیجا، سنگباری موقوف کرادو، اللہ تعالیٰ کے بندے اس کے محترم مکان کی زیارت کو آئے ہوئے ہیں، سنگباری کی وجہ سے نہ طواف کرسکتے اور نہ مابین صفا و مروہ سعی کرسکتے ہیں، حجاج نے زمانہ حج کے خاتمہ تک سنگباری موقوف بھی کردی تھی۔ اب یہاں وہ چیز لکھنے لگا ہوں جس کا غالباً صاحب تحریر کے ہمزاد کو بھی پتہ نہ ہوگا۔ تاریخ ابن خلدون و دیگر کے مطابق بعد از حج جب حجاج نے دوبارہ سنگباری کرنی چاہی اور حاجیوں کو ان کے اپنےا پنے وطن روانہ کرنا چاہا تو خانہ کعبہ شریف تک پہلے پتھر کے پہنچنے پر ایک زوردار آسمانی کڑک کی آواز سنائی دی اور بجلی کوندی دور روز تک یہی عالم رہا، کچھ لوگ لشکر شام کے اس خوفناک آواز سے ڈر کر مرگئے۔ حجاج نے کہا تم لوگ خوفزدہ نہ ہو میں ابن تہامہ ہوں اور یہ اس کی بجلیاں ہیں تم لوگ خوش ہو کہ میری فتح یابی کا نشان آپہنچا اور دوسرے دن اتفاق سے ابن زبیر کے ہمراہیوں میں سے ایک یا دو اشخاص پر بجلی گری اور اس صدمے سے وہ لوگ مرگئے، اہل شام کو اس کی بڑی مسرت ہوئی۔ اور یہ سب کچھ عبداللہ ابن زبیر کو کارنر کرنے کیلئے کیا جاتا رہا۔ بیشک کے اسلامی تاریخ میں ہر برے اور اچھے شخص کا اور اس کے اچھے یا برے افعال کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ حجاج بن یوسف کو کسی نے بھی کوئی متقی پرہیزگار خلیفہ یا حکمران قرار نہیں دیا۔ لیکن اس کی ان جسارتوں کیو جہ سے پوری کی پوری نسل کو مورد الزام ٹھہرانا فقط رافضیوں یا متعصب غیرمسلموں کا ہی وطیرہ ہے جسکا مظاہرہ صاحب تحریر نے کیا۔ کوئی پوچھے ان سے کہ حجاج کے اعمال کا تعلق بھلا محمد بن قاسم سے کیا ہے۔
صاحب تحریر کی جہالت پر طوالت کی وجہ سے مزید کچھ نہیں لکھ سکتا ورنہ یہاں پر ریفرنسس کا ڈھیر لگا کر ان کی جہالت کا ناطقہ بند کرنے کی قدرت رکھتا ہوں۔ اختصارً ذرا تاریخی شواہد ملاحظہ کریں اور پھر صاحب تحریر کی نری جہالت کو دوبارہ پڑھیں۔ ابتداً تقسیم یوں تھی۔
۱۱ھ وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۳۵ھ شہادت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۔ خلافت راشدہ۔ آخر ۳۵ ھ سے ۴۱ھ تک خلافت طالبین (حضرت علی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کی خلافت) ۔ ۴۱ھ سے ۶۴ھ تک خلاف سفیانین (حضرت معاویہ اور یزید(ملعون) کی خلافت کا دور)۔ ۶۴ھ سے ۱۳۲ ھ تک خلافت مروانین( مروان اول سے مروان ثانی تک)۔ ۱۳۲ ھ سے ۲۵۶ ھ تک خلافت عباسیہ بغداد۔ ۶۵۸ھ سے ۹۲۳ھ خلافت عباسیہ از مصر۔ اور ۹۲۳ھ سے ۱۳۴۴ھ تک خلافت عثمانیہ ترک۔ لیکن بعض لوگوں نے خلافت طالبین کو خلافت راشدہ میں ضم کرکے سفیانین اور خلافت مروانین کو ملا کر اس کا نام خلافت بنو امیہ رکھ دیا۔ حالانکہ مورث اعلیٰ بنو امیہ بن عبدشمس کی طرف نسبت دیکر اس کا نام بنو امیہ رکھا جائے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تو اسی امیہ کے پوتے تھے ، ان کو کیسے خارج کردیا جاسکتا ہے اور اگر جد اعلیٰ کی طرف نسبت ہی شمار کی جائے تو ۱۱ھ سے ۹۲۳ھ تک سب کو خلافتِ آلِ غالب کا نام کیوں نہ دیا جائے؟۔ جو خوبیاں بنو امیہ کی خلافت میں رہیں ان کا تو کوئی ذکر نہیں لیکن یزید ملعون کی ناپاک جسارت اور خود شیعوں کا حضرت امام حسین سے غداری تاریخ میں بار بار بیان کر کے سارا ملبہ بنو امیہ پر پھینک دیا جاتا ہے ۔ موصوف کو شاید یہ علم نہیں کہ بنو عباس تھے جنہوں نے اپنی خلافت کی مسند آل مروان کے لاشوں پر بچھائی تھی، تب یہی رافضی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ یعنی خصوصاً ۴۱ھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت سے لیکر خلیفہ ولید بن عبدالملک کی ۹۶ھ میں وفات تک اس وقت مسلم سرحد فرانس سے لے کر سندھ، ملتان اور بلوچستان کی آخری حد تک اور ارومچی سنکیانگ سے لیکر آرمینیہ تک ، وہاں سے زیمبیا(افریقہ) تک سارے ممالک ایک مرکز ی حکومت کے ماتحت خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگی بسر کررہے تھے۔ انصاف، مراعات، سادگی، ترویج علم وفن ہر اعتبار سے یہ زمانہ نہ صرفتاریخ اسلامی کا درخشاں دور رہا ہے بلکہ دنیا کی جسقدر بھی معلوم تاریخ ہے اس میں کوئی مثال اتنی بڑی وسعت ِ حکمرانی اور اس بیدار مغزی و سادگی کی نہیں ملتی، دنیا میں کسی ایک مرکزی حکومت کے تحت اتنا بڑا علاقہ کبھی نہیں ٓیا۔ اسی زمانے مٰن طبیہ کالج قائم ہوئے، سائنس کی بنیاد رکھی گئی، پہلی بار دنیا کے اقامتی ہسپتال بنائے گئے، کیمیائی تجربات کیلئے تجربہ خانے بنے، پارچہ بافی اور کاغذ سازی کے کارخانے قائم ہوئے، ڈاکخانوں کا نظام بھی پہلی بار معرض وجود میںآیا۔ زرعی ترقی دوسری زبانوں سے عربی زبان میں کتب کے ترجمے، بحری دستہ فوج قائم ہوا۔ فتوحات کے اعتبار سے دیکھیئے تو اندلس فتح ہوا، سندھ اور ابتن فتح ہوئے۔ کاشغر ، خفتین اور وادی اوی غز تک سارے علاقے فتح ہوئے اور بقول اقبال رحمتہ اللہ علیہ۔
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراوں میں
میرا خیا ل ہے موصوف کی اس تحریر اور (چھوکرانہ ذہنیت) کا جواب کافی ہوگا۔
۳۔ پھر یہی جاہل متعصب شخص لکھتا ہے کہ : اسلامی تاریخ میں محمد بن قاسم کے حوالے سے کوئی مستند تفصیلات نہیں۔ اگر وہ کوئی ہیرو ٹائپ بندہ ہوتا تو کسی دور میں تو اس پر کچھ لکھا جاتا اور اس کی اسی مبہم شخصیت کا دور حاضر کے فتنہ گروں نےفائدہ اٹھایا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پہلی بار محمد بن قاسم کو نصابی کتابوں کے ذریعے ہیرو ڈکلیئر کیا گیا۔
جواب: یہیں سے اندازہ کرلیجئے کہ موصوف کس قدر جہالت سے پُر ہے اور فریب دینے کی ناکام کوشش کررہا ہے اپنے متبعین کو۔ محمد بن قاسم کا ذکر تاریخ کی ہر مستند کتاب میں ملتا ہے، جیسے کہ تاریخ ابن کثیر، تاریخ ابن خلدون، تاریخ خمیس، وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا اسقدر جاہلانہ بکواس کا اس سے زیادہ کیا جواب دیا جائے کہ جس کو پوری اسلامی دنیا (ہیرو) سمجھتی ہے وہ اس ناصبی، دہری، ملحدی، ہندوی اور رافضی صاحب تحریر کو (ہیرو) نہیں لگتا۔ جہاں تک موصوف نے لکھا کہ جنرل ضیا کے دور میں پہلی بار محمد بن قاسم کو نصابی کتابوں کے ذریعے ہیرو ڈکلیئر کیا گیا۔ تو یہ اس حد تک درست ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی نصابی تاریخ میں پہلی بار (اسلامی ہیروز) پر ڈرامے بنے جیسے کہ ّآخری چٹان۔ ویسے موصوف کا جنرل ضیا سے بغض دیکھ کر مجھے کوئی اور شخصت ِ سوشل میڈیا یاد آگئی جو ان کو قادیانی تک قرار دیتے تھے، موصوف کا انداز بھی وہی عامیانہ ہے۔ یعنی معلوم پڑا کہ صاحب تحریر کو بالکل بھی حقیقی تاریخ کا علم نہیں ورنہ مسلمانوں کے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھا گیا ہے ۔ بھلے ان جیسے غداروں کے نزدیک (ہیرو) نہ ہوں لیکن غیرمسلموں کی گواہیاں موجود ہیں۔ اور ان جیسے لچوں کا کیا ہے یہ خود تو اپنی خباثت میں آج تک کوئی اتنی بڑی اسلامی سلطنت بنا نہیں سکے لیکن جنہوں نے بنائی ان سے بغض کا اظہار اپنی جہالت میں کرسکتے ہیں اور پھر میرے جیسے ان کے (عقیدت مند) انکی خوب لیتے ہیں۔ کیونکہ یہ جاہلانہ تحریریں مسلم بچوں بچیوں کو اور خاص کر پاکستانی نسل کو گمراہ کرنے کیلئے گڑی جاتی ہیں۔
۴۔ آگے مزید  لکھتے ہیں کہ : میرا ٹھٹھہ کے قریب شہر بھنبھور جانے کا اتفاق ہوا ہے جہاں اسلامی تاریخ کی اولین مسجد موجود ہے۔ یہ ظہور اسلام کے ابتدائی 50 برسوں میں قائم ہوئی۔ یہ راجہ داہر کا دور تھا، اس مسجد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سندھ میں اسلام کی آمد کا ذریعہ محمد بن قاسم نہیں بلکہ صحابہ تھے گویا باب الاسلام والی تھیوری محض ڈھکوسلا ہے۔
جواب:۔ موصوف کی جہالت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں وسعت سلطنت مکران اور بلوچستان تک پھیل چکی تھی۔ اسی زمانے میں حجاج نے سندھ پر سعید بن اسلم بن زرعہ کو متعین کیا۔ معاویہ بن حرث کلابی اور اس کا بھائی محمد بھی جہاد کی غرض سے نکل کھڑے ہوئے۔ اکثر شہروں پر قبضہ کرلیا۔ جنگ آوروں کو قتل و قید کیا اور اس سے فارغ ہوکر سعید پر بھی ہاتھ صاف کردیا۔ حجاج نے یہ دیکھ کر بجائے سعید کے سجاعہ بن سعید تمیمی کو مامور کیا جس نے سرحد پر بہ زور وقوت قبضہ حاصل کرکے اپنی حکومت کے ایک برس کے بعد مکران و قندابیل کے اکثر شہروں کو فتح کیا۔ خراسان و سجستان پر قبضہ ۷۸ ھ میں ہوا۔ حجاج نے سرحد سندھ پر اپنے چچازاد بھائی محمد بن قاسم بن محمد بن الحکم بن ابی عقیل کو بسر افسری چھ ہزار جنگجووں کے مامور کیا تھا۔ محمد بن قاسم اپنے بھائی سے رخصت ہوکر مکران پہنچا اور تھوڑے روز قیام کرکے فیروز پور کا رخ کیا۔ اہل فیروز پر برسرمقابلہ آئے۔ لڑائی ہوئی محمد بن قاسم نے بزور تیغ فتح کرکے ارمایل کے دروازے تک پہنچ کر جنگ کا نیزہ گاڑھ دیا۔ والی ارمایل نے ہرچند کوشش کی لیکن ایک بھی پیش نہ گئی۔ محمد بن قاسم نے قبضہ حاصل کرکے دیبل (ٹھٹھہ) پر چڑھائی کی اور جمعہ کے دن پہنچ کر محاصرہ کرلیا۔ شہر دیبل کے وسط میں ایک بہت بڑا بت خانہ تھا جس میں ایک بت رکھا ہوا تھا اور بتخانہ کے گنبد پر ایک نہایت طویل منارہ تھا اور منارے پر نیزہ گڑھا ہوا تھا۔ جس میں سرخ حریر کا پھریرہ اڑ رہا تھا۔ جو تمام شہر پر اپنا سایہ کیئے ہوئے تھا۔ محمد بن قاسم نے شہر پر سنگباری شروع کی، اور اتفاق سے پہلے ہی نیزہ ٹوٹ کر گرا جس سے اہل دیبل کو اپنی شکست کا یقین ہوگیا۔ شہر سے نکل کر باہر صف آراٗ ہوئے۔ عساکر اسلامیہ نےا ن کو شکست فاش دی۔ اہل دیبل بھاگ کر شہر میں گھسے اور دروازہ بند کرلیا۔ جس کو بالآخر کھولا گیا۔ تین روز تک لڑائی ہوتی رہی اور والی دیبل شہر چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اور اسلامی روایات میں سندھ کو باب الاسلام کہا گیا ہے نہ کہ محمد بن قاسم کی ذات کو یا اس کے متعلق کہا گیا ہو کہ وہ پہلا شخص تھا سندھ میں اسلام لانے والا، یہ کہیں بھی نہیں لکھا ہوا۔
پھر لکھتے ہیں؛۔ ذاتی اعتبار سے مجھے راجہ داہر کو ہیرو کہنے میں تامل ہے کیونکہ وہ ایک بادشاہ (آمر) تھا تاہم اس ضمن میں میرے وست قاضی آصف سے ایک مکالمہ ہوا اور انہوں نے کہا کہ راجہ داہر کو بطور بادشاہ پسند نہیں کیا جاتا بلکہ اسے اس لیئےپسند کیا جاتا ہے کہ اس نے مدینے کی ان مظلوم عورتوں کو پناہ دی، جو بنو امیہ کے ظلم سے بچتی ہوئی سندھ آئیں اور انہی مسلمان عورتوں کے قتل اور اغواء کے لیئے محمد بن قاسم حملہ آور ہوا تھا۔
چھج نامہ کے صفحہ 242 سے 243 پر لکھا ہے کہ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کی صاحبزادیوں پرمل دیوی اور سریا دیوی کو خلیفہ ولید بن عبدالملک کو بطور تحفہ پیش کیا۔ سریا دیوی راجہ داہر کی بڑی صاحبزادی تھی، خلیفہ کی نیت ان پر خراب ہوگئی تاہم جب سریا دیوی نے بتایا کہ محمد بن قاسم تو پہلے ہی ان کا ریپ کرچکا ہے تو ولید بن عبدالملک نے محمد بن قاسم کو گدھے کی کھال میں لپٹوا کر دمشق منگوایا اور راستے میں یہ حملہ آور عبرتناک موت کا شکار ہوگیا۔
تفصیلی جواب: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ذاتی اعتبار سے مجھے بھی صاحب تحریر کے مسلمان ہونے پر شک ہے اور بار بار ذہن میں کلبھوشن جیسا کوئی شخص آتا ہے جو روافض کے ملک ایران سے پاکستان میں مسلم بن کر سازشیں کرنے داخل ہوا تھا۔ اور جو موصوف نے قاضی آصف نامی شخص کے حوالے سے لکھا ہے وہ صریحاً جھوٹ اور بکواس ہے ۔ اور اس کا مکمل تفصیلی رد ذیل میں دیا جارہا ہے۔ تفصیلی جوابات سے پہلے ذرا مسلمانوں اور (ہند) کے بارے میں جو کچھ عرصہ قبل میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی اسی کو بعینہٖ نقل کررہا ہوں کیونکہ اس میں موصوف کی غلط فہمیوں کا بہترین جواب دیا گیا ہے۔ یہ جوابات دو قسطوں میں ہیں،جو پیش خدمت ہیں، باقی جوابات اس کے بعد پیش کرتا ہوں۔
۱۔ مسلمان اور ھند (حصہ اول)۔
سیدی حضرت عثمان غنی امیرالمؤمنین ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ہند پر پہلا حملہ:۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بعد 24ھ میں جبکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تخت خلافت پر جلوہ افروز تھے، بصرہ کے حاکم عبداللہ بن عامر نے عبدالرحمٰن بن سمرہ عامل کرمانکو اجازت دی کہ سندھی فوجوں کو جو راجہ چج کی اولو العزمی کے سبب سرحد مکران پر جمع ہوکر حملہ کی دھمکی دے رہی تھیں نکال دے۔ چنانچہ عبدالرحمٰن بن سمرہ نے حملہ کرکے سندھی فوجوں کو بھگا دیا اور مکران سے سرحد کیکانان تک کا تمام علاقہ چھین لیا، یہی وہ علاقہ تھا جو چج کی حکومت میں صرف چند سال سے شامل ہوا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو خود ہندیوں نے اکسایا تھا ان علاقوں پر قابض ہونے کیلئے جو ان کے ہرگز نہ تھے۔ اس حملہ آوری کی اسلیئے بھی ضرورت تھی کہ بہت سے مجوسی جو مسلمانوں کے دشمن تھے ایران سے بھاگ کر چج کی حکومت میں چلے آئے تھے اور اس علاقہ کو مسلمانوں کیلئے موجب خطر بنا دیا تھا۔ (تارک فیٹی / آج کی مثال)۔ عبدالرحمٰن بن سمرہ سرحد کیکانان سے آگے نہیں بڑھا اور فوراً اسکو کابل کی طرف جانا پڑا۔ جہاں ایک بغاوت کا فرو کرنا ضروری تھی، اس حملہ آوری کو بمشکل ہند پر مسلمانوں کی پہلی حملہ آوری کہا جاسکتا ہے کیونکہ اصلی ملک سندھ میں اسلامی لشکر داخل نہیں ہوا تھا۔ اسی مفتوحہ علاقے میں جسکی مشرقی سرحد بلوچستان کے مشرقی پہاڑوں پر ختم ہوتی تھی ایک بغاوت برپا ہوئی جس کو سندھ کے راجہ نے امداد پہنچائی۔(جیسے آجکل ٹی ٹی پی/لبرلوں کو پہنچائی جارہی ہے)۔ اس بغاوت کے فرو کرنے اور سندھی فوجوں کے پیچھے ہٹانے کیلئے 38ھ میں حارث بن مرہ نامی ایک سردار نے عامل کرمان کے حکم سے ایک ہزار سواروں کے ساتھ حملہ کیا اور 20 ہزار کے لشکر کو شکست دیکر امن و امان پھر بحال کردیا۔ اس مرتبہ بھی اسلامی لشکر نے اپنی پہلی حد سے آگے قدم نہیں رکھا۔ سنہ 41 ھ یا 42ھ میں پھر اس علاقے کے اندرتمرد و سرکشی کی علامات نمودار ہوئیں اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن اسوار کو چارہزار سپاہیوں کے ساتھ بطور سرحدی محافظ دستہ کے مشرقی سرحد پر قیام کرنے کا حکم دیا۔ یہاں موقع پا کر اور پہاڑ کے درے میں محصور کرکے باغیوں نے عبداللہ بن اسوار کو شہید کردیا، اسکے بعد سنان بن سلمہ مقرر ہوا۔ کچھ دنوں کے بعد سنان کی جگہ راشد بن عمر مقرر ہوا۔ راشد نے اس ملک کا خوب انتظام کیا اور سرکشوں سے مال گذاری وصول کی لیکن اس پر پچاس ہزار کے ایک لشکر نے جو باغیوں اور سندھیوں پر مشتمل تھا حملہ کیا۔ راشد اس معرکہ میں شہید اور اس کی جگہ پھر سنان بن سلمہ مامور ہوا۔
وجوہاتِ حملہ: 44ھ میں امیر مہلب بن ابی صفرہ نے کابل کی بغاوت فرو کرنے کے بعد قندھار کی طرف توجہ کی۔ یہاں کے باغی مفرورین کابل کے ساتھ مل کر دریائے سندھ کے اس طرف چلے آئے۔ کابل میں عام طور پر لوگوں کا مذہب بودھ اور قندھار میں آتش پرستی تھا۔ اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کابل و قندھار فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے وہاں کے باشندوں کو اپنا مذہب بدلنے اور اسلام قبول کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا بلکہ وہ صدیوں بعد تک بھی اسلامی حکومت کے ماتحت اپنے اپنے مذہبوں پر عامل رہے جیسا کہ تذکرۃ الحفاظ جلد اول میں مقاتل بن حیان خراسانی کی نسبت لکھا ہے کہ”ھرب فی ایام خروج ابی مسلم الخراسانی الی کابل ودعیٰ خلقاً الی الاسلام فاسلموا” یعنی مقاتل بن حیان ابومسلم خراسانی کے خروج کے زمانے میں کابل کی طرف بھاگ گئے اور وہاں لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری صدی کا بھی ایک معقول حصہ گزر جانے کے بعد تک کابل میں غیرمسلم لوگ آباد تھے اور وہ کسی پادشاہ یا سپہ سالار کے خوف سے نہیں بلکہ ایک عالم کے وعظ و پند سے مسلمان ہوئے تھے۔ غرض کابل اور قندھار کے باغیوں/سرکشوں نے جو مسلمانوں کی مخالفت میں متحد ہوگئے تھے سندھ کے راجہ کی عملداری میں آکر پناہ لی اور یہاں ان کو ہرقسم کی امداد و اعانت ملی۔ مہلب بن ابی صفرہ نے انکے تعاقب کا سلسلہ جاری رکھا اور دریائے سندھ کو عبور کرکے ملتان تک ان کا تعاقب کیا۔ ملتان اس زمانے میں ملک سندھ کے شمالی حصہ کا صدر مقام تھا جہاں راجہ چج کا ایک وائسرائے قیام رکھتا تھا، مہلب نے ملتان کو فتح کرکے راجہ چج کو ایک سبق دیا کہ سلطنت اسلامیہ کے باغیوں کو پناہ دینی اور سرحدی علاقوں میں بغاوتیں برپا کرانی نہایت خطرناک کام ہے۔
امیر مہلب ابھی قندھار سے ملتان تک کے نومفتوحہ علاقے کا کوئی بھی بندوبست کرنے نہ پایا تھا کہ فوراً اسکو حکم بن عمرو غفاری کی طلب پر یہاں سے واپس جانا اور بلخ و ماوراء النہر کی مہموں مین شریک ہونا پڑا۔ مہلب جس مختصر سے دستہ فوج کو یہاں چھوڑ گیا تھا وہ یہاں اپنے قدم جما نہ سکا اور چج کا علاقہ پھر مسلمانوں سے خالی ہوگیا۔ مہلب کا یہ حملہ جس کو ملک سندھ پر پہلا اسلامی حملہ کہہ سکتے ہیں ایک بگولہ تھا کہ آیا اور گزر گیا۔ مسلمانوں نے بلوچستان کے اس حصہ کو جو مکران سے کیکان تک وسیع تھا اپنے قبضے میں رکھا اور چونکہ کچھ دنوں تک یہ علاقہ سندھ کے راجہ چج کی حکومت میں رہ چکا تھا۔ اسلیئے وہ اس علاقے کو ملک سندھ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اور یہاں کے رہنے والوں کو سندھ کا عامل کہتے رہے۔ سندھ کا راجہ چج 55 ھ میں فوت ہوا، اسکے بعد 63ھ تک راجہ چندر نے حکومت کی، چندر کے عہدِ حکومت میں مسلمانوں نے سندھ کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ چندر کا رویہ چونکہ اپنے مسلمان ہمسایوں کے ساتھ مصالحانہ تھا اسی لیئے اسکے عہد میں مسلمانوں کا کوئی حملہ سندھ کی سرحد پر نہیں ہوتا۔
راجہ داھر 63 ھ میں تخت پر بیٹھا جبکہ اس دور میں مسلمانوں کی حکومت کےا ندرونی مسائل کی وجہ سے خطرہ تھا، راجہ داہر کی تخت نشینی سے دو برس بعد یعنی 65ھ میں خلیفہ عبدالملک اموی تخت نشین ہوا مگر شام عراق ایران ترکستان، افغانستان وغیرہ میں جو جو گورنر معمور تھے وہ سب قریباً خود مختار تھے اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو پایا تھا کہ عالم اسلامی کا آئندہ کا واحد فرمانروا یعنی خلیفۃ المسلمین کون ہوگا۔ اسی بدتر عالم میں گورنر قندھار کو 65ھ میں راجہ داہر کے نائب السلطنت یعنی حاکم ملتان کا حملہ روکنا پڑا۔ اور ہندو لشکر کو اسلامی لشکر کے مقابل ملتان کی دیواروں تک فرار ہونا پڑا۔
قصہ مختصر یہ: کہ یہ ہندو سامراج تھا جس نے مسلمانوں کو پہلے تو آزاد علاقوں سے ہٹانے کی جرات کی، دوسرا یہ کہ اس کے بعد تجارتی قافلے لوٹے گئے، نیز ان ہندو برہمنوں سے پہلے یہاں پر مسلمان موجود تھے جن کے عرب کے قدیم دور سے تجارتی تعلقات کے تاریخی ثبوت موجود ہیں، نیز داھر کے حملہ کرنے کی گھٹیا کوشش اور پھر اسکا راہ فرار ہونے کےبعد بھی طویل عرصے تک خلیفۃ المسلمین نے کبھی اس کو نہیں چھیڑا۔ یہ لبرلوں کے ادھورے اور “بنائے گئے” تعلیمی چٹنی کے منہ پر ایک تھپڑ ہے جب وہ صرف بھارتی ورژن پیش کرتے ہیں، اپنی حرکات یعنی ہندو حکمرانوں کی حرکات کا ذکر ہرگز نہیں کرتے۔
مسلمان اور ھند (حصہ دوئم)۔
گزشتہ سے پیوستہ:۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ بہت جلد خلیفہ عبدالملک نے تمام امیدواران خلافت پر غلبہ حاصل کرلیا اور مضبوطی کے ساتھ مستحکم انداز میں عرصہ دراز تک کیلئے تمام عالم اسلامی میں عبدالملک اور اسکی اولاد بلاشرکت غیرے فرمانروا رہی۔ عبدالملک بڑا ذی حوصلہ بہادر اور اولوالعزم شخص تھا مگر اس نے راجہ داھر اور ملکِ سندھ سے کسی قسم کا انتقام لینا اور حملہ آور ہونا مناسب نہیں سمجھا۔ عبدالملک بن مروان نے شوال میں وفات پائی اسکی وفات سے ایک سال پہلے یعنی 85ھ میں ایک زبردست موجب جنگ اور سبب حملہ آوری پیدا ہوا جس کا ذکر آگے کیا جائے گا۔ مگر عبدالملک نے اپنے گورنر حجاج بن یوسف کو سندھ پر حملہ کرنے سے روکا اور درگزر سے کام لینا مناسب سمجھا۔ اس کا سبب یہ تو ہرگز نہ تھا کہ مسلمان راجہ داہر اور ملک سندھ کی فوج سے ڈرتے تھے کیونکہ مسلمان تھوڑے ہی وارد ہوئے تھے کہ ایران، مصر، روم، ترکستان، افغانستان وغیرہ کو قلیل فوج کے ساتھ فتح کرچکے تھے اور ان کے کسی معمولی سے سردار کو بھی جب کبھی سندھ کے راجہ کی فوج سے لڑنا پڑا تو سندھیوں کی وسیع ہندو افواج کو شکستیں ہوئیں (دی ٹی ایز فینٹاسٹک)۔ اس درگزر اور چشم پوشی کا سبب بجز اسکے اور کچھ نہ تھا کہ وہ بلاوجہ اور معمولی اسباب کی بناپر کسی سے لڑنا نہیں چاہتے تھے اور اپنی نہایت وسیع سلطنت میں اور اضافہ کرنے کے خواہاں نہ تھے یا یوں کہہ لیجیئے کہ عراق و فارس کے سرسبز و شاداب صوبوں کے مقابلے میں وہ سندھ کے ملک کو کچھ اچھا نہیں جانتے تھے۔ بہرحال مسلمانوں نے سندھ پر معقول جواز ہونے کے باوجود حملہ کرنے میں بہت ہی دیر کردی۔
محمد بن قاسم کا وقت:۔
مجاعہ کے بعد حجاج نے محمد بن ہارون کو مکران اور سرحد ہند کا حاکم اور مختار کل بنا کر بھیجا کہ جس طرح چاہے علافی باغیوں کو گرفتار کرکے سعد بن اسلم کے خون کا انتقام لے۔ محمد بن ہارون نے آتے ہی ان کا تعاقب شروع کیا اور پانچ سال تک پہاڑوں اور صحراؤں میں علافیوں کے متعاقب سرگرداں رہا۔ آخر معاویہ بن حرث علافی گرفتار ہو کر قتل ہوا اور محمد بن ہاروں نے اسکا سر حجاج کے پاس بھیج کر خط لکھا کہ میں دوسرے باغی محمد بن حرث علافی کو بھی ضرور گرفتار و قتل کرونگا۔ مگر وہ 500 افراد کے ساتھ حدود سلطنت اسلامیہ سے نکل کر راجہ داہر کے پاس 85ھ میں چلا آیا۔ راجہ داہر جو مسلمانوں کی اس خانہ جنگی کو بڑے اطمینان سے دیکھ رہا تھا محمد علافی کے آنے سے بہت خوش ہوا اور بڑے عزواحترام کے ساتھ اسکو اور اسکی جمیعت کو اپنے ہاں نوکر رکھ لیا۔ جس زمانے میں علافیوں نے جنوبی اور مشرقی بلوچستان میں بدامنی پھیلا رکھی تھی اسی زمانے میں افغانستان اور شمالی بلوچستان میں عبدالرحمٰن بن محمد معہ ایک زبردست لشکر کے حجاج کی مخالفت پر آمادہ اور مصروف بغاوت تھا۔ حجاج کیلئے بہت پریشانی کے ایام تھے اور وہ کسی نئی جنگ کے چھیڑنے کو نامناسب سمجھتا تھا مگر اس نے جب محمد بن حرث علافی کے اسطرح بچ نکلنے اور راجہ کی گود میں جاکر بیٹھ جانے کا حال سنا تو خلیفہ عبدالملک بن مروان کی خدمت میں درخواست کی کہ ملک سندھ پر حملہ کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ اس ملک میں سلطنت اسلامیہ کے باغیوں کو نہ صرف پناہ دی جاتی ہے بلکہ انکی خوب خاطر مدارات کی جاتی ہے۔ خلیفہ نے اس درخواست کو منظور کرنے اور نئی لڑائی شروع کرنے میں تامل کیا۔ ابھی یہ درخواست زیر غور ہی تھی کہ عبدالملک کا انتقال ہوگیا۔ جیسا کہ ادھر پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ محمد بن حرث علافی نے پنی شجاعت و بہادری دکھا کر اور راجہ داہر کے دارالسلطنت الوو کو نہایت قوی دشمن کے پنجے سے بچا کر وزارت کا عہدہ حاصل کیا اور اسکا نام سلطنت سندھ کے سکوں میں مسکوک ہوا۔ علافیوں کے اس واقعہ کو اسلیئے لکھا جارہا ہے کہ یہ واقعہ بھی سندھ پر مسلمانوں کی حملہ آوری کا ایک نہایت معقول سبب ہے مگر اسکے باوجود بھی مسلمانوں نے درگزر کیا۔ اس سے لبرلوں اور سوڈو برہمنوں کے ان تمام جعلی، ازخودرفتہ، ایدیٹڈ، مبنی بر دروغ گوئی، الزامات کی تردید ہوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثبوت بہم پہنچتا ہے کہ محمد بن قاسم کی حملہ آوری سے آٹھ سال پہلے 500 بہادر جنگجو جو مسلمان سندھ میں آکر آباد ہوچکے تھے اور وہ محمد بن قاسم کی آمد تک راجہ داہر کی حکومت کیلئے ایک زبردست پشتی بان تھے اور جب محمد بن قاسم نے حملہ کیا تھا تو سب سے زیادہ علافی غدار ہی لڑے تھے۔
سندھ پر مسلمانوں کے حملے کا اصل سبب:۔
جزیرہ سراندیپ اور علاقہ مالابار میں بکثرت مسلمان آباد تھے۔لکدیپ اور مالدیپ کے جزیرے بھی مسلمان ہوچکے تھے۔ سراندیپ کا راجہ اس سے پہلے مسلمان ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ اسکا برتاؤ بہت ہی اچھا تھا۔ سلطنتِ اسلامیہ اب چونکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی تھی لہٰذا سراندیپ کے راجہ کو اپنی حفاظت و عافیت کیلئے بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ سلطنت اسلامیہ سے باقاعدہ تعلق پیدا کرے چنانچہ راجہ نے حجاج بن یوسف ثقفی کی عنایات کو اپنی جانب مبذول کرنے کیلئے آٹھ جہازوں کا ایک بیڑا تیار کیا۔ ان جہازوں میں سراندیپ کے قیمتی تحائف بار کیئے گئے۔ سراندیپ کے رہنے والے مسلمانوں اور مسلمان سوداگروں میں سے بعض اشخاص ان جہازوں میں اسلیئے سوار ہوئے کہ اپنے وطن پہنچیں اور حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ ور ہوں۔ بعض عرب سوداگر سراندیپ میں فوت ہوچکے تھے ان کی بیوہ عورتیں اور یتیم بچے ملکِ عرب واپس جانے کے خواہاں تھے۔ ان کو بھی اِن جہازوں میں سوار کرادیا گیا۔ حجاج کیلئے یہ بیڑا جو قیمتی ہدایہ کے علاوہ حاجیوں، یتیموں اور بیواؤں کو بھی انکی منزل مقصود تک لارہا تھا نہایت قیمتی چیز تھے۔ یہ جہاز جب بحر عمان میں داخل ہونے لگے تو بادِ مخالف نے ان کو سمندر میں آوارہ و بے قابو کرکے ساحل دیبل پر پہنچا دیا۔ دیبل سندھ کا بندرگاہ اور راجہ داہر کے مشہور شہروں میں سے ایک ساحلی شہر تھا۔ یہاں راجہ کا ایک گورنر اور سپہ سالار رہا کرتا تھا۔ ان جہازوں کو بندرگاہ میں خوب دھڑی دھڑی کرکے لوٹا گیا۔ مردوں، عورتوں اور بچوں کو گرفتار کرکے جہازوں کو سندھی بیڑے میں شامل کرلیا گیا۔ ان مصیبت زدہ لوگوں میں سے کوئی ایک دو شخص کسی طرح بچ کر نکل بھاگے اور انہوں نے پہنچ کر جہازوں کے لوٹے جانے، عورتوں، بچوں اور عازمین حج کے گرفتار ہونے کی دل خراش داستان حجاج بن یوسف کو سنائی اور یہ بھی کہا کہ ایک بیوہ عورت پر جب تشدد ہوا تو وہ بے اختیار چلا اٹھی کہ (یا حجاج! اغثنی) اے حجاج مجھے بچاؤ!۔ یہ بھی کہا کہ راجہ سراندیپ کے کارندوں نے بھی ہرچند سمجھایا کہ ہمارے راجہ کے جہاز ہیں اور اس نے ہم کو بطریق سفارت بھیجا ہے تم درگذر کرو اور ہم کو جانے دو مگر انہوں نے کچھ نہیں سنا اور سب کو گرفتار کرلیا۔ حجاج کو اس حادثہ کی کیفیت سن کر سخت مملال ہوا اور اس نے فوراً راجہ داہر کو ایک خط لکھا کہ تمہارے سرداروں نے بیگناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو گرفتار اور جہازوں پر معہ تحائف و اموال قبضہ کرلیا ہے۔ جہاز معہ سامان ہمارے پاس بھجوا دیئے جائیں اور بیگناہوں کو آزاد کرکے اپنے سرداروں کو سزا دو۔ جب حجاج کے قاصد یہ خط لے کر داھر کے پاس پہنچے تو داھر نے اس معقول اور شرافت آموز خط کا جواب نہایت بدتمیزی اور بے پروائی سے یہ دیا کہ جہازوں کے لوٹنے والوں پر ہمارا بس نہیں چلتا تم خود آ کر اپنے قیدی چھرا لو اور اپنا مال و اسباب لے لو۔ راجہ داھر کے اس جواب کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ جہازوں کے مسافر قیدی حجاج کا خط پہنچنے سے پہلے دارالحکومت آلور میں پہنچے ہوئے جیل خانہ میں موجود تھے، تو راجہ کے اس جواب کی نامعقولیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اب ہرشخس بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمانوں کیلئے حملہ آوری کا استحقاق پیدا ہوگیا تھا یا نہیں؟
اب بھی اسلامی لشکر اگر حملہ آور ہونے میں تامل کرتا (جیسے آج کا مسلمانوں کا لشکر کررہا ہے) اور اپنے قیدیوں کو چھڑانے اور راجہ داھر کو سزا دینے میں تساہل سے کام لیتا تو اس سے بڑھ کر سلطنت اسلامیہ کے وقار کو نقصان پہنچانے والی دوسری بات نہیں ہوسکتی تھی۔ یہ کہنا کہ مسلمان ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کیلئے بلاوجہ حملہ آور ہوئے تھے صرف جھوٹ کا پلندہ ہی نہیں بلکہ ناقص ترین پراپیگنڈہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی جھوٹ اور کذب کا پردہ چاک کرنے کیلئے یہ تمام کیفیت لکھنی پڑرہی ہے۔ اس کے ثبوت تاریخ سندھ ازمعصومی، چج نامہ و دیگر مختلف تاریخوں سے ماخوذ و ملخص ہیں۔ تاریخ فرشتہ میں بھی اسکا ذکر موجود ہے۔
۳ ۔ چھچ نامہ میں جو لکھا ہے وہ ملاحظہ ہو:۔ ٹائیٹل(محمد بن قاسم کو دارلخلافہ کا پروانہ ملنا)، دوسرے دن جب راتہ کے سیاہ پردے سے ہتھیاروں کا بادشاہ ظاہر ہوا، تب ایک شتر سوار دارلخلافہ کا پروانہ لے کر حاضر ہوا۔ محمد بن علی اور ابو الحسن مدائنی نے اس طرح روایت کی ہے کہ: راجہ داہر کے قتل ہونے کے موقع پر اس کی حرم سرا میں سے اس کی دو کنواری بیٹیاں گرفتار ہوکرآئیں تھیں جنہیں حبشی غلاموں کے ساتھ محمد بن قاسم نے دارالخلافہ بغداد بھیج دیا تھا۔ (جب وہ وہاں پہنچی تو) خلیفہ وقت نے غم خواری کی خاطر انہیں حرم سرا کے حوالے کیا تاکہ دو چار دن آرام کرکے خلوت کے لائق ہوں۔ پھر چند دن بعد خلیفہ کے دل مبارک میں ان کا خیال آیا اور رات کے وقت دونوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ (نوٹ: یاد رہے کہ موصوف نے جس بیہودگی سے ذکر کیا ہے کہ محمد بن قاسم نے ان کو خلیفہ عبدالملک کو بھیج دیا تھا یہ بھی جھوٹ لکھا ہے کیونکہ خلیفہ عبدالملک تب تک وفات پاچکا تھا اور اس کا بیٹا ولید بن عبدالملک حکمران تھا)۔ (جب وہ حاضر ہوئیں تو ) خلیفہ ولید بن عبدالملک نے ترجمان کو حکم دیا کہ معلوم کرے ان میں بڑے کون ہے تاکہ اسے روک لیا جائے اور اس کی چھوٹی بہن کو کسی دوسرے موقع پر بلایا جائے۔ خدمتگار ترجمان نے ان سے پوچھا۔ بڑی نے کہا میرا نام (سریا دیوی) اور چھوٹی نے کہا میرا نام (پرمل دیوی) ہے۔ (اس پر اس نے) بڑی کو بلا کر چھوٹی کے متعلق اشارہ کیا کہ اسے لے جاو اور اس کی حفاظت کرو۔ (اس کے بعد) جوں ہی (بڑی کو) بٹھا کر اس کا منہ کھولا گیا، خلیفہ دیکھتے ہی اس کے حسن و جمال پر مفتون ہوگیا۔اس کی ظالم اداوں نے (خلیفہ) کے دل سے اس کا صبر چھین لیا اور (از خود رفتہ ہوکر) اس نے ہاتھ ڈال کر (سریا دیوی) کو اپنی طرف کھینچا لیکن وہ (تلملا کر) اٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: بادشاہ ، قائم رہے! یہ کنیز بادشاہ کی خلوت کے قابل نہیں ہوسکتی، کیونکہ امیر عادل عماد الدین محمد بن قاسم نے پہلے ہمیں تین دن تک اپنے پاس رکھنے کے بعد پھر خلیفہ کی خدمت میں بھیجا ہے۔ کیا تمہارا یہی دستور ہے؟۔ یہ خواری بادشاہوں کیلئے جائز نہیں ہے۔ خلیفہ پر اس وقت عشق بہت غالب ہوچکا تھا اور صبر کی مہار اس کے ہاتھوں سے چھوٹ چکی تھی، غیرت کی وجہ سے اسے تحقیق و تصدیق کا ہوش نہ رہا فوراً ہی کاغذ اور قلم منگا کر اپنے ہاتھ سے اس نے پروانہ لکھا کہ : محمد بن قاسم جہاں پہنچا ہو، اس پر لازم ہے کہ خود کو کچی کھال میں بند کراکے دارالخلافہ کو واپس ہوــ۔ (از چھچ نامہ صفحہ ۲۸۲ تا ۲۸۹۔)
جوابات مزید: اب ذرا میں صاحب تحریر کی بکواس لائنز اور ان کے دوست آصف کی بکواس کا بیان کردوں۔ یہ ہے چھچ نامہ کے دو صفحے ، لیکن اگر یہ شخص یعنی صاحب تحریر اتنا ہی تاریخ کا علم رکھتا ہے تو اسکو تاریخ کو جھٹلانا نہیں چاہیئے بلکہ اسلام کی طرح جو حق و سچ ہے اس کا بیان کرنا چاہیئے تھا۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ یہ دیکھا چاہیئے کہ چھچ نامہ بذات خود کیا ایک مسند ذریعہ ہے؟۔ اور نیز چھچ نامے کے مصنف کی اپنی رائے چھچ نامے کے اس حصے کی بابت کیا ہے؟ تو ملاحظہ فرمائیں (میں وقت پڑنے پر سکین بھی پیش کرسکتا ہوں)۔ پہلی چیز یہ ہے کہ ان ادوار میں صرف اسلام ہی کیا تمام نسل انسانی (غلامی کے ادوار) میں رہی تاہم اسلام نے پہلی بار آ کر غلاموں کے حقوق بھی متعین کیئے اور ہیومن رائٹس کی پہلی مثال قائم کی ۔ آج کے ماڈرن دور میں غلامی دوسری طرح سے رواج پا چکی ہے یعنی صاحب تحریر جیسے ذہنی غلام جو کہ جھوٹ کو سچ میں ملا کر فقط جھوٹ کا پرچار کرتے ہیں تاکہ ان کی نسلی تعصبی بغض کو دوام مل سکے۔جب جنگیں ہوتی تو انسانی تاریخ رہی ہے کہ جب فاتح مفتوح کو فتح کرتا تو مخالف کی جائیداد، دولت اور اولادیں غلام بنا لی جاتیں اور یہ رواج پوری دنیا میں قائم تھا بشمول غیرمسلم معاشروں کے، اور مال غنیمت میں جو بھی ہاتھ آجائے وہ کنیز یا غلام رہتے تھے۔ مسلمانوں نے تو پھر بھی ان سے لاتعداد شادیاں کیں جبکہ مخالفین جب جب مسلمانوں کی عزتوں کو پامال کرتے تو کسی شادی کا تصور نہ ہوتا تھا۔ موصوف صاحب تحریر کو یہ لکھتے ہوئے موت پڑتی تھی۔ چھچ نامہ کے مصنف نے انہیں صفحات کے نیچے ایک حاشیہ دیکر واضح طور پر لکھا ہے کہ (اس عنوان سے لے کر کتاب کے خاتمے تک جملہ حالات صرف افسانوی نوعیت کے ہیں جن کیلئے کوئی بھی تاریخی سند موجود نہیں)۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس واقعہ کی رنگینیت کو دیکھتے ہوئے صاف اندازہ ہوسکتا ہے کہ یہ بعد کی ایڈیشن ہے، کیونکہ اسلام کا طرزِ تاریخ بیان کرنا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ نیز اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر بالفرض محال مان بھی لیا جائے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا تھا تو دو باتیں سامنےآتی ہیں۔ (۱) یہ کہ دونوں ہندو دوشیزائیں فقط محمد بن قاسم سے بدلہ لینے کی خاطر خلیفہ کو ایسا جھوٹا بیان دیتی ہیں اور اس کا ثبوت پوائنٹ نمبر (۲) ہے اور وہ یہ ہے کہ اسی چھچ نامے کے صفحہ ۲۴۴ پر بھی کچھ لکھا ہے جس کا ذکر دانستہ طور پر موصوف صاحب تحریر نے نہیں کیا ، جو کہ میں پیش کررہا ہوں ملاحظہ ہو۔
ٹائٹل ہے: خلیفہ کا صندوق کھولنا۔ (آگے لکھا ہے) اس کے بعد خلیفہ نے صندوق کا پٹ کھول کر اس پردہ نشین عورت کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ (اس وقت) مورد(اصل عبارت میں شاخ موردسبز لکھا ہے)کی ایک سبز چھڑی خلیفہ کے ہاتھ میں تھی جسے وہ اس کے (محمد بن قاسم) کے دانتوں پر پھیرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ: اے راجہ کی بیٹیو! دیکھو ہمارا حکم اپنے ماتحتوں پر اس طرح جاری ہے ۔ اس لیئے کہ سب منتظر اور مطیع رہتے ہیں۔ جیسے ہی ہمارا یہ فرمان اسے قنوج میں ملا، ویسے ہی ہمارے حکم پر اس نے اپنی پیاری جان قربان کردیـ۔ (نوٹ: اوپر جو اس گھٹیا صاحب تحریر نے (گدھے کی کھال) کا ذکر کیا وہ اسکی اپنی گدھی ذہنیت کا عکس تھا ورنہ کچی کھال کا ذکر چھچ نامہ میں ہوا ہے جسے موصوف نے اپنے جیسے گدھے کے بچے کی کھال قرار دے دیا۔۔۔۔ بہرحال)۔ دوسرا ٹائٹل ہے (داہر کی بیٹی چنگی کی خلیفہ ولید بن عبدالملک سے گفتگو)۔ اس پر پردہ نشین چنگی نے چہرے سے نقاب اٹھا کر اور زمین پر سجدہ کرکے کہا: خدا کرے کہ خلیفہ اپنے روز افزوں بخت اور اعلیٰ نظام کے ساتھ سالہاسال تک قائم رہے! دانا بادشاہ وقت پر واجب ہے کہ جو کچھ دوست یا دشمن سے سنے اسے عقل کی کسوٹی پر پرکھے اور دل کے فیصلوں سے (اس کا) موازنہ کرے۔ پھر جب وہ درست اور بے شبہ ثابت ہو تب انصاف کے جادے پر قائم رہ کر حکم فرمائے تاکہ غضب خداوندی میں گرفتار اور لوگوں کے طعنوں کا شکار نہ ہو۔ حضور کا حکم تو بے شک جاری ہے لیکن دل مبارک سمجھ سے یکسر خالی ہے۔ پاکدامنی کے اعتبار سے محمد بن قاسم ہمارے لیئے باپ اور بھائی جیسا تھا اور ہم کنیزوں پر اس نے کوئی دست درازی نہیں کی۔ لیکن چونکہ اس نے ہند اور سندھ کے بادشاہ کو برباد کرکے ہمارے باپ داداوں کی بادشاہت کو ویران اور ضائع کیا ہے اورہمیں بادشاہت سے (گرا کر) غلامی کے درجے پر پہنچایا ہے اس وجہ سے انتقاماً اس سے مناسب بدلہ دینے اور برباد اور رفع کرنے کیلئے ہم نے خلیفہ کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔ ہمارا مقصد پورا ہوا اور اس جھوٹ اور فریب کے ذریعے ہمیں یہ انتقام حاصل ہوا اور خلیفہ نے حکم قطعی جاری کیا۔ اگر خلیفہ کی عقل پر شہوت کا پردہ نہ پڑجاتا اور (پہلے) تحقیق کرنا واجب سمجھتا تو اس پشیمانی اور ملامت سے ملوث نہ ہوتا اور اگر محمد بن قاسم کی بھی عقل و ہمت یاوری کرتی تو ایک دن کی باقی ماندہ مسافت تک چل کر آتا اور پھر وہاں خود کو چمڑے میں بند کراتا۔ چنانچہ جب تحقیق ہوتی تو آزاد ہوجاتا اور (یوں) برباد نہ ہوتا۔۔۔۔ (یہ سن کر) خلفیہ کو سخٹ صدمہ ہوا اور شدت افسوس سے ہتھیلیوں کی پشت کو کاٹنے لگا۔ (بحوالہ چھچھ نامہ صفحہ ۲۴۴، مترجم)
اس سے اگلے صفحے پر لکھا ہے: پردہ نشین چنگی نے جب خلیفہ کی طرف نگاہ کی تو دیکھا کہ خلیفہ کا غضب انتہا پر ہے۔ چنانچہ اس نے دوبارہ زبان کھولی اور کہا کہ بادشاہ نے سخت غلطی کی ہے کہ دو کنیزوں کی خاطر ایسے شخص کو (ہلاک کیا ہے) کہ جس نے ہم جیسی لاکھوں پردہ نشینوں کو قید کیا۔ ہند و سندھ کے ستر بادشاہوں کو تخت سے تختے پر لٹایا، بت خانوں کی جگہ پر مسجدیں اور منبر تعمیر کرائے اور مینار بنوائے۔ اگر اس سے کچھ بے ادبی یا غیرپسندیدہ حرکت سرزد بھی ہوگئی ہوتی تب بھی ایک خود غرض انسان کے کہنے پر محمد بن قاسم کو ہلاک نہ کرنا چاہیئے تھےـ۔ اس پر خلیفہ نے غضبناک ہوکر حکم دیا اور دونوں بہنوں کو دیوار میں چن دیا گیا۔ جب سے لیکر آج تک پرچم اسلام روز بروز سربلند اور ترقی پذیر ہے۔ (ایضاً صفحہ ۲۴۴)
Chach-Nama-Urdu-Scan
Chach-Nama-English
تبصرہ: ۔یعنی یہ تھپڑ صاحب تحریر کی خباثت پر مکمل گواہی ہے۔ یہاں اہم چیز یہ بھی موجود ہے سمجھنے کی کہ اس خودساختہ قصے میں پہلے داہر کی بیٹیوں کے نام کچھ اور بتائے گئے، پھر پردہ نشین چنگی کا نام سامنے آیا جب کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام سے قبل ہندو معاشرے میں پردہ نشینی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا اور خاص کر یہ خطہ ننگے پن کیلئے مشہور رہا ہے، ہندو عورتوں کا لباس شروع ہی سے مختصر اور نیم برہنہ رہا ہے۔ (بحوالہ ہسٹری آف انڈیا)۔لہٰذا ایک قصے بلکہ ایک جھوٹے قصے کو بھی لیکر موصوف نے اسلام کے ہیرو پر وہ بکواس کی ہے کہ جس کی مثال تو کسی غیرمسلم نے بھی نہ دی ہوگی لہٰذا میرے ذاتی خیال میں تحریر اور اعتراضات اور داہر سے اپنی رشتہ داری کی سندھی خوشی میں کسی (غیرمسلم) ہی نے یہ جولانی طبع کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کسی مسلمان کی تحریر ہرگز نہیں ہوسکتی بلکہ کسی انتہائی متعصب، رافضی نظریات کے حامل اور کسی مخصوص مشن پر لگے ہوئے ایک ایسے شخص کی تحریر ثابت ہوگئی ہے جس کا مشن اسلام اور پاکستان کے خلاف بکواس کرنا اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا ہے۔ نیز یہ کہ اس جیسی گھٹیا ادھوری اور غلط تاریخ سے اپنے مرضی کے نتائج لیکر موصوف نے اپنے بغض کا اظہار کیا ہے ورنہ تو عبدالملک کی وفات تو شوال ۸۶ ہجری میں ساٹھ سال کی عمر میں ہوچکی تھی (بحوالہ تاریخ ابن اثیر الجزری)۔ اور یہ سب کچھ اس نے چھچھ نامے کے اس حصے سے اخذ کیا ہے جس کی کوئی تاریخی سند موجود نہیں۔ مستند اسلامی تواریخ میں محمد بن قاسم کو شاندار الفاظ میں مجاھد کے نام سے یاد کیا گیا ہے جس نے داہر ملعون خبیث اور صاحب تحریر کے پدر بزرگوار کے قبضے سے مسلمانوں کی عصمت اور عزت کو چھڑا کر امن عطا کیا۔ اسی چھچھ نامے میں محمد بن قاسم کی تمام فتوحات، عوامل اور اس کے بعد مفتوحین کے ساتھ اس کے حسن سلوک کا بھی درجہ بہ درجہ ذکر ہوا ہے ، لیکن چونکہ موصوف کا مقصد فقط راجہ داہر جیسے بدترین کو (سندھی واد) ہونے کیوجہ سے خراج تحسین پیش کرنا تھا لہٰذا وہ تمام نیک کام بیان کرنا موصوف نے ضروری نہیں سمجھے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اسی چھچ نامے میں داہر کافر کی بیوی (لاڈی) محمد بن قاسم کے ہاتھ لگتی ہے بعد از شکست راجہ داہر ، اور اسکی بیوی کو قید کرلیا جاتا ہے، جس کو یہی محمد بن قاسم جنگی قیدیوں میں سے خریدتا ہے اور اسلام کی خاطر اس سے شادی کرکے عزت کی زندگی دیتا ہے۔ لیکن موصوف کیوں بھلا ذکر کریں گے۔ برہمنوں کے مطابق دائر کے جہنم رسید ہونے کے بعد اس کی بہن نے ستی کرلی تھی۔ نیز داہر وہ تھا جس نے اپنی سگی بہن سے زنا کیا تھا کیونکہ ان کے مطابق سگی بہن سے شادی اور ناجائز تعلقات جائز تھے۔ (دروغ برگردن راوی)۔اور یہ راجہ داہر ہے یعنی ایک (این سیسٹ) جس کو یہ ملحد اور بے دین طبقات اب اپنا ہیرو بنانے چلے ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ جا بہ جا محمد بن قاسم نے مخالفین کو امان دی ، لاکھوں کی تعداد میں حملہ آاور ہونے والے ہندووں کو لگام ڈالی اور قافلے لوٹنے والوں کو سزائیں بھی دیں۔ ایک روایت کے مطابق ۶۰۰۰ افراد میں سے ۱۶۰۰۰ افراد کو معافی دے دی گئی جو کہ مقابلے پر آئے تھے۔ نیز محمد بن قاسم جیسے ہیرو ہی نے برہمنوں کو بھی امان دی، داہر کے وزیر سیارکر کو دوبارہ وزیر بنایا۔ایک آخری اہم بات کہ اگر آپ نے چھچ نامہ ہی پڑھنا ہے تو اس کا انگلش ترجمہ بھی میسر ہے جو بصد تحقیق لکھا گیا ہے اور معترض صاحب نے جو تصوراتی قصہ پیش کیا اس کا اس میں کوئی ذکر نہ ہے۔ اگرچہ ایک اچھے تاریخ دان کی طرح اس میں بھی یہ ذکر ہے کہ محمد بن قاسم کی شہادت ان ہندو لڑکیوں کے جھوٹ کی وجہ سے اور انتقام کی وجہ سے ہوئی جس پر خلیفہ بہت پچھتایا تھا۔ (بحوالہ این اینشیئنٹ ہسٹری آف سندھ بائے مرزا کلچ بیگ۔ انگلش صفحہ ۱۲۴ و ۱۲۵)۔
۴۔ صاحب اعتراض لکھتے ہیں: تکنیکی طور پر پاکستان کو عرب دنیا سے مطالبہ کرنا چاہیئے کہ وہ ان کی بیٹیوں کے اغواء پر معافی مانگے مگر عجیب بات ہے کہ بیٹیوں کے اغواکار کو ہیرو بنایا جارہا ہے، عرب دنیا کو چاہیئے کہ وہ بنو امیہ کے جرائم کے خلاف ڈٹ کرعرب بیٹیوں کی حفاظت کرنے والے راجہ داہر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پاکستان سے اظہار تشکر کرے اور ویسے بھی پاکستان کے علاوہ محمد بن قاسم کو عالم اسلام میں جانتا کون ہے۔ بہرحال سوشل میڈیا پر محمد بن قاسم اور راجہ داہر کے حوالے سے مباحثہ خوش آئند ہے، یہ مطالعہ پاکستان کی واضح شکست ہے، چالیس برسوں سے جو گھول کر پلائی جارہی ہے، آج کے نوجوانوں نے اس جعلی تاریخ کو مسترد کردیا ہے۔
جواب: تکنیکی طور پر تو پھر پوری دنیا کو مسلمانوں اور عربوں سے معافی مانگنی چاہیئے خاص طور پر رافضیوں اور ہندووں کو جو کہ مسلمانوں پر لشکر کشی کرکے ان کی عزتیں پامال کرتے رہے اور آج بھی کررہے ہیں لیکن صاحب تحریر کی (غیرحلالی ریمارکس) سے عیاں ہوتا ہے کہ ان کا ابن سبائی دماغ اس کو نہیں سمجھتا کیونکہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو (زنائے متعہ اجتماعی) بطور (دھرم ) کروانے والے بھلا کس منہ سے مسلمانوں کو معافی مانگنے کا کہہ سکتے ہیں؟۔ اور پھر جناب کا مزید بکواس لکھنا تو میں پہلے ہی اوپر تفصیل سے رد کرچکا ہوں بمعہ ثبوتوں کے کہ پاکستان تو بعد کی تخلیق ہے پوری مسلم دنیا جس کو ہیرو سمجھتی ہے آپ جیسا ناخلف اور نطفہ ناتحقیق اگر بنا تحقیق کے بکواس لکھے گا تو ہم جیسے خادم تو آپ جیسے (حرام خوروں) کی عزت افزائی اسی طرح کریں گے صاحب۔ اورآپ کی بکواس پر میرا یہ جواب انٹرنیٹ پر ہمیشہ جب تک نیٹ رہے گا موجود رہے گاتاکہ آپ نوجوان نسل کو گمراہ نہ کرسکو۔ اور یہ مطالعہ پاکستان کی ہی نہیں بلکہ مطالعہ اسلام کی واضح فتح ہے اور جس کا تھپڑ آپ کو محسوس ہوتا اگر آپ میں کوئی حلالی خون ہوتا۔ آج کے نوجوان یعنی ہم آپ جیسے باگڑی کتوں کی جھوٹی تاریخ پر ہرگز یقین نہیں کرتے اور آپ کی اس تحریر کو
بھی رد کرتے ہیں۔
اسلام زندہ باد۔ محمد بن قاسم زندہ باد والسلام۔
آپ کا خادم عمران خوئیزئی