All posts by ahmadtareen47

Hadith: Ya Ibadillahi Ahbasu – with Jirah Taadil

حدیث ِ عباد اللہ ۔ بمع تخریج اور ردِ خارجیت

For Inpage Reading Visit our Forum by Clicking [Here]

Almojam

یہ ایک مشہور حدیث ہے اور سند کے حساب سے متعدد طرق سے بیان ہوئی ہے اور حسن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس حدیث کے بارے میں فتنہ خوارجیہ کہتی ہے کہ یہ ضعیف ہے اور یوں ان کی مذہبی دکانداری چل رہی ہے۔ یہاں پر اس کا مفصل رد پیش کیا جارہا ہے۔ یہ حدیث اور اس نوع کی دیگر احادیث مکمل طور پر صحیح ہیں۔
ترجمہ حدیث:۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے : جب تم میں سے کسی کی سواری بے آباد زمین میں چھوٹ بھاگے تو اسے چاہیئے کہ نداء کرے (یعنی صدا لگائے): اے اللہ کے بندو! اسے روکو۔ اے اللہ کے بندو! اسے روکو۔ کیونکہ اللہ عزوجل کے حکم سے ہرزمین میں بندہ موجود ہے جو جلد ہی اسے تم پر روک دیگا۔
تخریجِ حدیث:۔
اسے ابوالقاسم سلیمان بن احمد لخمی شامی طبری نے اپنی معجم کبیر میں روایت کیا ہے اور امام ذھبی نے آپ کو سیر اعلام النبلاء میں امام حافظ ثقہ رحال جوال محدثِ اسلام صاحب المعاجم کے القابات سے یاد کیا ہے۔
۲۔ ابوشجاع الدیلمی الھمذانی نے اسے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہی الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (حوالہ مسند الفردوس بماثور الخطاب: ج ۱، ص ۳۳۰)۔
۳۔ شھاب الدین احمد بن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو یوں نقل کیا ہے: باب ما یقول اذا الفلتت دابتہ: یعنی جب سواری بھاگے تو اسکا مالک کیا کہے؛ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایتِ ابویعلیٰ کو نقل فرمایا۔ (المطالب المنیفہ: ج ۱۴،نمبر ۴۴)۔
۴۔ امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے یہی روایت ابن السنی اور طبرانی کے حوالے سے عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ نقل فرمائی ہے۔ (الفتح الکبیر: ۱،۸۴)۔
۵۔ اسی حدیث کو علی بن ابی بکر الھیثمی رحمتہ اللہ علیہ نے عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ابویعلیٰ اور طبرانی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔ وفیہ معروف بن حسان وھو ضعیف: اس حدیث کی سند میں معروف بن حسان ضعیف ہے)۔
امام محی الدین یحییٰ بن شرف نووی رحمتہ اللہ علیہ محدث فرماتے ہیں؛ کہ اس باب میں کہ جب سواری کا جانور چھوٹ جائے تو مالک کیا کہے: بہت سی مشہور احادیث ہیں، ان میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت ابن السنی کے حوالہ سے نقل فرمانے کے بعد فرماتے ہیں؛ ہمارے شیوخ میں سے بعض نے مجھ سے بیان کیا جن کا شمار کبار علماٗ میں ہوتا ہے کہ ان کی سواری بدک بھاگی شاید وہ خچر تھی اور وہ اس حدیث کو جانتے تھے تو انہوں نے اس حدیث کے مطابق (یاعباداللہ احبسوا) کہا تو اللہ تعالیٰ نے اس سواری کو فوراً ان کے لیئے ٹھہرا دیا اور ایک مرتبہ میں بھی ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ سواری کا جانور بدک بھاگا اور وہ لوگ اس کے پکڑنے سے عاجز ہوئے تو میں نے یہی یاعباداللہ احبسوا کہا تو وہ سواری کا جانور بغیر کسی اور سبب، صرف اس کلام کے کہنے سے فورا رک گیا۔ (کتاب الاذکار ج ۱، ص ۱۷۷)۔
یعنی یہ وہ حدیث ہے جس سے صاف صاف غیراللہ کی مدد ثابت ہورہی ہے اور یہ نامور صحابہ کی تعلیم ہے اور خود سلف کا عمل ہے لیکن موجودہ دور کا خارجی دیوبندی وہابی فتنہ اسکو ضعیف قرار دے کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا کر لوگوں کو مذہبی دکانداری سے گمراہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں توسل مدد استمداد حاصل کرنا وہ بھی غیراللہ سے اور اس پر اللہ کا عطا فرمانا اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ اگر ہم نے اسکی دیگر طرق بیان کرنی شروع کردیں تو پوری کتاب لکھنی پڑ جائے گی۔ القصہ مختصر کسی محدث کسی صحابی کسی تابعی نے اسکو (کفر شرک بدعت یا غیراللہ سے مدد کا نام) نہیں دیا۔ بلکہ ان کے عمل کے مطابق یہ عین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پاسداری کرنا اور تجربہ کرکے اسکو صحیح ثابت ہونے پرلکھنا بنتا ہے۔ ایک مثال اور دے کر اسکو ختم کرتے ہیں کہ ایسی ہی حدیث جو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان ہوئی ہے اس حدیث کو امام ابوبکر احمد بن عمرو بن عبدالخالق العتکی البزار نے یوں روایت کیا ہے
حدثنا موسیٰ بن اسحق قال نا منجاب بن الحارث قال نا حاتم بن اسماعیل عن اسامۃ بن زید عن ابان بن صالح عن مجاھد عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان للہ ملائکۃ فی الارض سوی الحفظۃ یکتبون ما سقط من ورق الشجرۃ فاذا اصاب احدکم عرجۃ بارض فلاۃ فلیناد اعینوا عباد اللہ۔
ترجمہ؛۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک آقائے دوجہاں علیہ التحیہ والثناء نے فرمایا: اللہ کے کچھ ملائکہ زمین میں محافظوں کے علاوہ ہیں جن کا کام درختوں سے گرنے والے پتوں کو لکھنا ہے چنانچہ جب تم میں سے کسی کو دورانِ سفر بیابان میں کوئی مصیبت آپڑے تو اسے چاہیئے کہ ندا کرے: اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو
پھر امام بزارفرماتے ہیں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کے الفاظ کے ساتھ نہیں جانا مگر اسی طریق اور اسی اسناد کے ساتھ۔ (مسند البزار ج ۱۱، ۱۸۱)۔
امام بیہقی نے اس حدیث کو موقوفا بھی روایت فرمایا ہے بحوالہ شعب الایمان ج ۱، ۱۸۳۔ ایسے ہی مصنف ابن ابی شیبہ کی ج ۶ ، ص ۱۰۳ پر اور التفسیر الکبیر امام رازی نے استناداً بیان فرمایا ج ۲، ص ۱۵۰ پر۔
اور اسناد کے اعتبار سے یہ حدیثِ حسن ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث جسے ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں اور ابن السنی نے عمل الیوم واللیلۃ میں اور طبرانی نےا سے اپنی معجم الکبیر میں ذکر کیا ہے اسکی سند میں معروف بن حسان ضعیف ہے اور ابن سنی کی اسناد کے علاوہ میں انقطاع بھی ہے کیونکہ عبداللہ بن بریدہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان انقطاع ہے جو کہ ابن السنی کے اسناد میں اتصال کے ساتھ ہے ۔ یعنی عن ابن بریدۃ عن ابیہ (بریدۃ بن الحصیب) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ؛ رہا معروف بن حسان کا ضعیف ہونا جیسا کہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہا ہے اور راوی کے ضعیف ہونے سے حدیث پر ضعیف ہونے کا حکم تب ہوگا جب کہ اسکے لیئے دیگر شواہد موجود نہ ہوں۔ لیکن اس حدیث کے لیئے دیگر شواھد روایات موجود ہیں جو کہ دیگر صحیح اور حسن اسناد کے ساتھ موجود ہیں۔ یعنی طبرانی کی وہ روایت جوکہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے ہے اگرچہ اس مین انقطاع ہے کیونکہ زید بن علی رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان کو نہیں پایا جیسا کہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا لیکن یہ روایت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے لیئے تقویت کا باعث ہےاور وہ روایت جو کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے طبرانی نے روایت کیا اسکے رجال ثقہ ہیں۔
اگر اس تمام تفصیل سے بھی تسلی نہ ہو تو مزید بھی پیش کیئے جاسکتے ہیں آن ڈیمانڈ
فی امان اللہ

 

Short English Summary for Understanding this hadith along with Refutation to Albani’s and Salafi Wahhabism.

This is the famous hadith which clearly express that Prophet alehisalam said, if your animal runs away in jungle [or anywhere] you must say O Slaves of Allah! Help me . O Slaves of Allah! Help me.  <— this is short translation, for arabic check given scan. Now on this hadith Albani and Salafis runs away like that animal and has an eager to say its daeef. While according to proper rules of Knowledge of Hadith, its grade is Hasan not Daeef.  As far as their objection that, Maa’ruf bin Hasaan (a narrator) is daeef according to Imam haythami and others. That is the reason for not accepting it as Authentic. Now here is the trick which they are doing with ordinary people. According to sciences of Hadith, you cannot declare any hadith Daeef until you have solid reasons for that, and specially when there are many other AUTHENTIC NARRATIONS about that same hadith, then its status will be considered as Supportive Hadith to that Authentic narration. And this is the status of this hadith too. Its grade is Hasan because there are many other narrations about the same topic as explained in Urdu article above.  The Hadith which is explained in Tabrani is also been narrated by Imam abu al Qasim Sulaiman bin Ahmed Lakhmi Shami al-Tabri in his Mojam al Kabeer and about him Imam Dhahbi (rt) in his Sair Alaamalnubula writes him as Imam , Hafidh, Thiqa (authentic most), Rahal Jawaal Muhadith of Islam, Sahib al Mo’aajam kinds of the respected words.

Abu Shuja al Daylami has narrated same narration on the authority of Abdullah ibn Masood (Radi Allaho Tala Anho) with the same words (Musnad al Firdaus Vol 1, pp 330).

Shahabuddeen Ahmed bin Hajar Asqalani al-Imam (rt) has written it as this: Baa’b maa Yaqool …” Means: When the Sawari (animal for transportation means) runaway then what its owner has to do! (means under this title he made a chapter in his book by heading it this way) and then he narrated Abdullah ibn Masood (rd)’s narration through Rivaya of Abu Yaala (rt). (Al Matalib al Aliyata 14/44).

Imam Jalal-a-deen Suyuti (Rt) muhadith has narrated same narration through Ibn al Sini and Through Tabrani he narrated Ann Ibne Masood (rd)>i.e., (Narrated by Ibne masood (Rd)). (Al Fathul Kabeer 1/ 84).

The same hadith is been narrated by Ali bin Abi Bakr al Haythami (rt) by writting (Ann Abdullah bin Masood (rd)) and abu Yala and through Tabrani. After narrating he writes: Wa feehe Maaroof bin Hasaan wahuwa Daeef- In this hadith’s chain of narration maarof bin hasaan is Daeef).

Imam Muhaiyuddeen Shaf al-Nawawi (rt) Muhadith said: In this regard (animal runs away..) there are many ahadith narrations. among them the after narrating the hadith of abdullah bin masood (rd)’s narration by IbnuSini he writes: According to our Shayukh (Scholars) some among them told me whose status was considered great in knowledge and was a authentic scholar, that his animal runs away, which was may be Khachar , he know and heard about this hadith so he loudly said according to the words of hadith (in arabic) (Yaa Ibadullah ahbasu) (O People of Allah! Stop her), thus Almighty Allah sent it back to him (without anyone there). and once when I (imam nawawi) was with a group, suddenly the animals for transport rushed out and people were after them, but was not able to catch, then I did the same and said those words (same as explained earlier), so those animals for transport came back towards us without any reason, just because of using of these words they stopped running. (Book al Adhkaar Vol 1, 177).

That Hadith which is been narrated by Ibne Abbas (Rd)

That hadith is narrated by Imam Abu Bakr Ahmed bin Umro bin Abdul Khaliq al-Attki al Bazzaar (rt)

Rough Eng Tr of hadith:

Narrated by Ibne Abbas (Rd) that he said without any doubt Prophet (sal Allaho Alehi wasalam) said: Some angels on earth are others than the guarding angels whose work is to write down the leaves which is been thrown from the trees, so when you are during some journey or travel and you got in some trouble, so you need to say O slaves of Allah! help me. Then Imam Bazaar (rd) says, we had never heard anything from Prophet alehisalam with such words but with the same narration (chain of narration) and with the same isnad. (Musnad al bazaar 11/181)

Imam Bayhaqi (rt) has also narrated this hadith as Mawqoof in his Shuabulimaan 1/183.

Also its been narrated in Musnaf Ibn Abi Shaiba Vol 6/ 103, and Imam Raazi (rt) in his Tafsir al Kabir 2/150 narrated too.

So in short this Hadith is Hadith-e-Hassan. These Authentic references are proves of the Lies and Fabrications committed by Albani and his followers and can clearly show their real approach to the sciences of hadith. [Eng Update by Zarbehaq]

Advertisements