Category Archives: Refutation

Rad-e-Ilhad: Irtiqaiat Ka Scienci Rad (P-2)

ایولیوشن سیریز پارٹ 2۔ آپریشن ڈارون ازم

سوال: کیا شواہد ڈارونی ارتقائی عمل کی شہادت دیتے ہیں؟

ڈارون(جس پر تفصیلی بحث پچھلی پوسٹ پارٹ ون میں ہوچکی ہے) اسکے نظریات کو دماغ میں رکھتے ہوئے یہ طریقہ چل پڑا کہ کسی طرح اوریجنز (بنیادوں) کا تمام تر دارومدار اس پر ہوگیا کہ کسی طرح فزیکل شہادت ڈھونڈیں کہ جس سے انسانوں کا تعلق ماقبل تاریخ انسانوں سے ملایا جاسکے۔ اور 150 سال سے جاری ہرقسم کے سائنسی تجربات اور شہادتیں ڈاکٹر گریگ کے مطابق یہ بتاتی ہیں کہ اگرچہ انسانی ارتقاء وقت کے ایک طویل دورانیئے کے دوران زیادہ سے زیادہ تھوڑے جدید ہوتے گئے اور زندگی کی بہتر اشکال کی صورت میں ارتقاء کرپائے ،اور ان کو مہمیز تب ملی جب باقیات کے ریکارڈ کے کچھ سراغ کینیا کی لیئیکی فیملی کے کام سے ظاہر ہوتے ہیں۔

آدھ صدی سے لیئیکی اور ان کے سائنسی دوست جیسے ٹم وائیٹ اور ڈونلڈ جوہانسن نے مشرقی افریقہ کی رفٹ وادی میں بے تحاشہ کام کیا تاکہ وہ ان مخفی لنکس کو پا سکیں جو کہ ہماری انسانی شجرے کی ٹوٹی کڑیوں کی تکمیل کرسکیں۔ 1950 سے جب کھدائیاں شروع کی گئیں تو عالمی سائنسدانوں کی ایک وسیع ٹیم نے بارہا مسلسل اس وادی کی مٹی اور ریت سے باقیات دریافت کیئے، جیسے کبھی مکمل پنجر، کبھی کھوپڑی، دانت، پتھر کی بنی اشیاء وغیرہ جو کہ انسانی ہاتھ کے بغیر بننا ممکن نہیں۔ بہت سوں کے متعلق نیشنل جیوگرافک میگزین نے اسکا احاطہ کیا ہے، اور ان کے مطابق جو آدھ صدی سے انسانی ابتداء کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ چھ لاکھ سال قبل تک کا کچھ نہ کچھ سراغ ملتا ہے۔ (بحوالہ نیچر، جولائی 12، 2001)۔

یہی تحقیق آج بھی جاری ہے اور لاتعداد باقیات دریافت کی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی ترقی کے مختلف ادوار کو ظاہر کرتی ہیں۔ ۔ ان انسانی باقیات کو عمومی طور پر مختلف نام دیئے گئے ہیں جیسے کہ (کرو میگنن مین) اور (نیئنڈرتھال مین/ آدمی) ۔اس اضافے کے ساتھ کہ انسانی آباؤاجداد کی تاریخ میں 4 لاکھ سال مزید ڈالنے کے اضافے کے ساتھ جوکہ ماضی میں دو لاکھ سال سمجھا جاتا تھا۔ اور افریقہ میں نودریافت شدہ باقیات ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کیسے “وہاں” سے “یہاں” پہنچے ہیں۔ اسی کے متعلق ذیل میں چارٹ دیا جارہا ہے:۔

 

Human Development Ages pic

 

انسانی ترقی کی روایتی ٹائم لائن

ان تمام چیزوں کی روشنی میں جو پہلا میپ / نقشہ جو کہ زندگی کی کڑیوں کی جنیاتی بلاکس کی صورت میں پیش کیاگیا وہ جیمز واٹسن نے اور فرانسس کرِک نے 1953 میں پیش کیا۔ ان کے مشہور عام ماڈل جسکو آج عام طور پر ڈبل ہیلیکس کہا جاتا ہے اور جس میں ڈی این اے مولیکیول کی معلومات ہوتی ہیں پیش کیا گیا۔ تب ساری سائنسی برادری اور انفرادی طور پر شوقین لوگوں نے اپنی جینیاتی خصوصیات اخذ کرنی شروع کردیں۔ اور یوں لاتعداد چیزوں جیسے آنکھوں اور بالوں کے رنگوں سے لیکر جنس اور صحت وبیماری کی مختلف کنڈیشنز تک اب کوڈز بتاتے ہیں کہ کیسے یہ ظاہر ہوتے ہیں اور انکے کیا کیا فنکشن ہیں۔ جسکو جینیٹک کوڈ کا بلیو پرنٹ کہا جاتا ہے۔ اُس وقت سے لیکر آج تک یہ سائنس مختلف جرائم کی سرکوبی میں بھی اور معلومات کی غرض سے بھی استعمال ہوتی ہے جیسے کہ ڈی این اے میچنگ، شخص کو شناخت کرنا ، جرائم کے وقت اس ڈی این اے کی موجودگی کے شواہد وغٰیرہ وغیرہ جسکو آجکی دنیا فورینسک ٹیسٹس کے نام سے جانتی ہے۔

 

رد و سائنسی تحقیقات جو ڈارون کی تھیوریز کو غلط ثابت کرتی ہیں

 

سنہ 2000 میں یہی جینیاتی ٹیکنیک اور “ریسرچ” ان “سائنسدانوں” نے امریکی چھتری تلے گوانٹانامو بے کے قیدیوں اور دیگر افراد پر بھرپور طریقے سے کی اور ان کو باقاعدہ اعلیٰ ترین عدالتوں نے بھی تصدیق دی۔ یہ رپورٹ اخبار “نیچر” میں شائع ہوئی یونیورسٹی آف گلیسگو کی ہیومن آئیڈینٹیفیکیشن سینٹر نے اپنی تحقیقات کا مقالہ پیش کیا کہ جس میں انہوں نے انسان کے “ممنکہ” اینسیسٹر/ آباء” کے جینیاتی مطالعے سے اخذ کیں۔ ان کی مدد کی خاطر روس اور سویڈن میں بھی ایک ایک برانچ کام کرتی رہی اور یہ جینیاتی تحقیق 1987 میں انہوں نے ایک ایسے غیرمعمولی طفل از نیئنڈرتھال کی باقیات سے دریافت کیا جوکہ انتہائی اچھے طریقے سے چونے کے ایک غار جو کہ شمالی کیکاؤس کے پہاڑی سلسلے میں محفوظ رہا تھا۔

بچے کی باقیات “جسم” وغیرہ کے معائنے کے بعد عجیب کہانی سامنے آتی ہے، اور اسکے ساتھ ایک پراسراریت بھی ہے۔ عمومی طور پر ایسے محفوظ جسم یا باقیات صرف ان علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں انسانی خلیئے / ٹشوز وغیرہ منجمد ہوجاتے ہیں بربنائے برف وغیرہ اور ایسے علاقے وہ ہیں جو قطب شمالی میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک غیرمعمولی دریافت اسلیئے تھی کہ ایسی حالت میں ایک جسم 30،000ہزار سال پرانے ایک ڈی این اے کو محفوظ رکھ پایا آجکے آدمی کے ہاتھ پہنچنے تک اور جس پر کہ پہلی بار کاربن ٹیسٹ کیئے گئے۔

لیکن سائنسدان ابھی بھی مخمصے میں ہیں کہ ان تحقیقات کے نتائج کیا واقعی ہمارے جینیاتی رابطے/ لنک کو ظاہر کرتے ہیں جو کہ نیئنڈرتھال آدمی کے ادوار سے ہو؟۔ تھیوری میں جینیاتی تقابل اس تاریخی پراسراریت کو ختم کردیتی ہے۔ اور یہ نتائج دراصل سائنس کو مزید ورطہ حیرت میں ڈالتے ہیں اور مزید سوالات کا باعث بنتے ہیں اور یہ اس ایوولیوشنری شجرے اور بنیادوں کی پراسرار اور بند سرحدوں کو کھولتے ہیں۔

سئانسی نتائج دراصل یہ بتاتے ہیں کہ جدید آدمی ہرگز بھی نیئنڈرتھال آدمی کی نسل سے یا کسی جانور سے نہیں۔

یعنی مطلب یہ ہوا کہ ڈارون ازم میں غلطیاں ہیں اور سنگین غلطیاں اس کے ساتھ پراسراریت کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ جینیاتی کوڈ کی سائنس میں کروموسومز کے نمبروں کا ایک بہت بڑا عمل دخل ہے جو کہ ہماری نسل انسانی کی نوع / جنس کو دیگر سے مختلف کرتی ہیں۔ کروموسومز کے اندر پائی جانے والی معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ ہر ایک خلیئے کے اندر اس “نسل” کے “میمبر” ہونے کے شواہد ہوتے ہیں جیسے انکے ڈھانچے / سٹرکچر، دماغ کا سائز، میٹابولیک پروسیس وغیرہ وغیرہ یا ان کا مجموعہ جو کہ 48 ہے جو انہیں اپنی خصوصیت عطا کرتا ہے۔ جبکہ انسان کے پاس 23 جوڑے ہیں، جو کہ کل ملا کر ہمیں 46 کا عدد دیتے ہیں، جو کہ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ ہم کروموسومز کے ایک پورے “سیٹ” سے عاری ہیں۔ ایک نظرغائر وہ کروموسومز جوکہ ہمارے جینیاتی پول سے غائب ہیں بتاتے ہیں کہ کروموسوم 2 اگرچہ کروموسوم 12 اور 13 (جو کہ چمپینزی کے کروموسوم سیٹس کی تعداد ہے) سے مطابقت / مشابہت رکھتے ہیں جیسے یہ سب ایک (فیوزڈ) مشترکہ حالت میں کسی بڑے ڈی این اے کا حصہ ہوں۔ مزید تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ ماقبل جینیاتی میپ یہ بتات ہے کہ “سپلٹ انسانی کروموسوم 2” گوریلوں وغیرہ میں بھی کامن / ایک سا ہے۔ اوران کروموسومل اختلافات کیوجہ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کسی فطرتی عمل نیچرل پراسیس یا کسی قدیم اندرونی بریڈنگ (افشزائش نسل) نے ایسا جینیاتی ملغوبہ تشکیل دیا ہے۔ دیگر بھی انسانی مشابہتیں ہیں لیکن یہ جب “مختلف نسل” سپیشیز کی بات پر آتی ہیں تو ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں جو یہ سوال کھڑا کرتی ہیں کہ آخر ماضی قدیم میں کیا ہوا ہوگا جنکی وجہ سے ساخت میں ایسی تبدیلیاں آئیں۔

بارڈن کے مطابق انسانی سوشیالوجی سائیکالوجی یہ بتاتی ہے کہ ہوموسیپئنز (انسان) اپی طرز کی ایک واحد “سپیشیز” ہیں اور ان کا کسی طرح جانوروں سے ارتقائی عمل کے مطابق دور جدید کے انسان نہیں بنے۔

یعنی ڈارون کا سحر ختم ہوگیا اور سائنس خود بتارہی ہے کہ انسان الگ نوع کی مخلوق ہے، اسکے جواب میں کچھ لوگوں نے یہ سوچ و نظریہ دینےکی کوشش کی کہ شاید انسان اور چیمپینزی وغیرہ پیرالیل (متبادل) انواع کی طرح ارتقائی عمل سے گزرے ہوں۔ (یہ نظریہ بھی ڈارون کی طرح “شاید” پر بنایا گیا ہے)۔

46-Chromosomes

 

سائنس کا باوا برطانیہ اپنے مشہور زمانہ اخبار “نیچر” کی جون 12، 2003 کی اشاعت میں کہتا ہے۔ جن کے مطابق ایک نئی دریافت عمل میں آئی ہے جو کہ آواش وسطی کے علاقے میں جو کہ ایتھوپیا افریقہ کا ایک علاقہ ہے انسانی باقیات دریافت ہوئی ہیں اور کاربن ڈیٹنگ کی سائنس کے مطابق وہ 160،000 (ایک سو ساٹھ ہزار) سال پرانی ہیں اور یہ ہم جیسے جدید انسانوں کی ہی طرح ہیں ان میں کوئی جینیاتی تبدیلیاں نظر نہیں آتیں۔ اگر ایولیوشن کا پراسیس جیسے کہ نصابوں اور کتابوں میں الحاد پڑھاتا رہا ہے درست ہے اور جاری ہے تو پھر اسقدر طویل دورانیئے کے باوجود بھی “انسانی” باقیات ہی کیوں دریافت ہوئیں؟ ان پر اثر کیوں نہیں ہوسکا۔ یہ اگر ماضی میں چمپینزی وغیرہ سے تھے تو ان کے ڈی این اے سٹرکچر تمام تر مشابہت کے باوجود 46 کوڈ کیوں دکھاتے ہیں؟

ایسے ہی ڈارون کے نظریئے کا ایک اور سائنسی رد 1913 میں ہی ہوگیا جب نودریافت شدہ باقیاتِ انسان کو جسے ڈاکٹر ہینز ریِک نے لوئیس لیئیکی کے ساتھ اشتراک میں دریافت کیا تھا، وہ بتاتا ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر ڈویلوپڈ باقیات تھیں اور اسکی کھوپڑی عام انسانوں جیسی ہے۔ اور ان سب میں ایک جیسا جینیاتی فارمیشن پایا جاتا ہے، اس دریافت کو (پیکنگ مین) اور (جاوا آدمی/مین) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نیز فیزیکل لوکیشن جو کہ زمین کی یکے ازقسم لیئرز /پرتوں میں پائی جاتی ہے وہ دراصل عام طور پر پڑھائے جانے والے مغربی ایولیوشن کے لیئے مزید مسائل پیدا کرتی ہے جسکے سوالات تاحال حل نہیں ہوسکے کیونکہ اگر تو “نوع انسانی” اور “نوع دیگر” متادل یعنی پیریلل ہوتے اور ان کا ایک ہی دورانیہ وقت میں پایا جانا درست ہوتا تو اندرونی پرتیں سب سے پہلے آنی چاہیئے تھیں۔ اور یہ چیز ایولیوشن تھیوری کو مکمل طور پر سوالیہ نشان بناتی ہے۔اور یہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ اگر انسانی نوع زمین پر چلتی پھرتی آباد رہی ہے تو پھر وہی سوال آجاتا ہے کہ آخر یہ آئے کہاں سے ہیں؟

یعنی جتھے دی کھوتی اوتھے آنڑ کھلوتی

جینیٹک کوڈ کے مطابق انسانی ساخت ایک یونیک چیز ہے جو کسی دیگر پائے جانے والے جاندار کے پاس نہیں اور نہ ہی جدید سائنس اسکو اب مانتی ہے۔ یہاں اسلام ہمیں آسانی سے جوابات دیتا ہے کہ آدم اور بی بی حوا کے ذریعے نسل انسانی فروغ پائی، جہاں تک سائنس کا نیئنڈرتھال جیسے لوگ دریافت کرنے کی بات ہے تویہ بات یاد رہے کہ ایک روایت کے مطابق آدم علیہ السلام کا قد تقریباً 92 ہاتھ یا گز تھا۔ لہٰذا ملحد سائنسدان جو مذاہب کو بڑی جلدی رد کربیٹھے اب اپنی سائنس کے ہاتھوں ہی ناقص ہوگئے ہیں کیونکہ انسان کیسے وجود میں آیا اسکے لیئے ابراہیمی مذاہب کا مطالعہ ہی ہمیں بتاسکتا ہے۔ اور ان سب میں مستند ترین بات اسلام کی ہے۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ انسان کی زمین پر آباد کاری سے پہلے جنات کی قوم آباد تھی جنکا قتال خود ابلیس نے کیا تھا جب وہ ابھی لعین نہ ہوا تھا۔ اسلیئے ایسی فوسلز جیسے ڈائیناسورز وغیرہ ان کا قد دیکھ کر یہ گمان کرنا کہ انسان کوئی چھوٹی مخلوق تھی اسکے سامنے وہ غلط ہے بلکہ آدم علیہ السلام کے قد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ اس وقت ایسا ہی تھا جیسے آج کا انسان کسی ہاتھی کے سامنے یا بھینس کے سامنے کھڑا ہو۔ بتدریج زمانے گزرتے رہے اور یہ ہزاروں سال کا سفر ہوتا ہوتا یہاں تک آیا کہ لمبے ترین قد، چھوٹے اور اب فٹ میں آگئے ہیں۔

آخری بات:

ڈارون کی تھیوری کو خود نا صرف جینیٹک سائنس اور بیالوجی رد کرتی ہے بلکہ اس جھوٹ کو ان مقاصد کے تحت مغربی دنیا میں پروان چڑھایا گیا تھا کہ ان کے مذاہب اپنی گمراہیوں کے باعث ان کی تربیت درست نہ کرپائے اور ان کو مذہب سے متنفر کردیا۔ اور پاپولیشن کو کنٹرول کرنے کی خاطر اور مذہب سے “بظاہر” “آزادی” کے نام پر دجالی نظام کی راہ چند ہوشیار لوگوں نے ہموار کردی۔ اسی لیئے مغرب میں الحاد تیزی سے اسلام کے ہاتھوں زوال پذیر ہے لیکن یہاں پر کچھ جاہل لوگوں کے اقتدار کے باعث مذہب پر سوالات کیئے جاتے ہیں حالانکہ یہ سوالات ان مذاہب سے کیئے جانے چاہیئے جس نےکبھی برائی پھیلائی ہو یا شرانگیزی کی ہو نا کہ اسلام جیسے مذہب، کہ جس کا ہر ہر فعل بھلائی، سچ اور مینول ہے۔

بشرط زندگی یہ سلسلہ مختلف سائنسز کے تناظر میں جاری رہیگا۔

اللہ نگہبان