Tag Archives: دجال، دجل، ابلیسی نظام

Dajjal Series From a New Perspective P-1

دجال سیریز 1 ایک نئے زاویئے سے

دجال کے بارے میں یہودیوں کا نظریہ

دجال کے بارے میں یہودیوں کے نظریات اور انکی (موجودہ تحریف شدہ) کتابوں میں بیان شدہ پیش گوئیاں بیان کی جائیں گی تاکہ اس وقت جو کچھ امریکہ اور دیگر کفار، یہودیوں کے اشاروں پر کررہے ہیں اسکا پس منظر اور اصل مقصد سمجھ میں آسکے۔ دجال کے بارے میں یہودیوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہودیوں کا بادشاہ ہوگا، وہ تمام یہودیوں کو بیت المقدس میں آباد کرے گا، ساری دنیا پر یہودیوں کی حکومت قائم کرے گا، دنیا میں پھر کوئی خطرہ یہودیوں کے لیئے باقی نہ رہے گا، تمام دہشتگردوں (تمام یہودی مخالف قوتوں) کا خاتمہ کردیا جائیگا اور ہر طرف امن وامان اور انصاف کا دور دورہ ہوگا۔

انکی کتاب ایزاکیئل میں لکھا ہے

اے صہون کی بیٹی خوشی چلاؤ! اے یروشلم کی بیٹی مسرت سے چیخو! دیکھو! تمہارا بادشاہ آرہا ہے۔ وہ عادل ہے اور گدھے پر سوار ہے۔ خچر یا گدھے کے بچے پر۔ میں یوفریم سے گاڑی کو اور یروشلم سے گھوڑے کو علیحدہ کرونگا۔ جنگ کے پر توڑ دیئے جائینگے، اسکی حکمرانی سمندر اور دریا سے زمین تک ہوگی۔ (زکرایا 9/9:10،

ایک اور جگہ لکھا ہے

اس طرح اسرائیل کی ساری قوموں کو ساری دنیا سے جمع کرونگا، چاہے وہ جہاں کہیں بھی جابسے ہوں اور انہیں انکی اپنی سرزمین میں جمع کرونگا، میں انہیں سرزمین میں ایک ہی قوم کی شکل دیدونگا۔ اسرائیل کی پہاڑی پر جہاں ایک ہی بادشاہ ان پر حکومت کریگا۔ (ایزاکیئل 37:21-22)۔

خود کو “لبرل ازم” کا علمبردار بتانے والے امریکیوں کے صدور تمام کے تمام اسی ماسونی رینک کے ذریعے سوائے معدودے چند کے اسی کبال سے منسلک ہیں، مثلاً سابق امریکی صدر ریگن نے 1983 میں امریکن اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی کے ٹام ڈائن سے بات کرتے ہوئے کہا:

آپکو علم ہے کہ میں آپ کے قدیم پیغمبروں سے رجوع کرتا ہوں، جنکا حوالہ قدیم صحیفے میں موجود ہے اور آرمگیڈن کے سلسلے میں پیش گوئیاں اور علامتیں بھی موجود ہیں اور میں یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ کیا ہم ہی وہ نسل ہیں جو آئندہ حالات کو دیکھنے کیلئے زندہ ہیں۔ یقین کیجئے (یہ پش گوئیاں) یقینی طور پر اس زمانے کو بیان کررہی ہیں، جس سے ہم گزر رہے ہیں۔

ایسے ہی صدر ریگن نے چرچ کے جم پیکر سے 1981 میں بات چیت کرتے ہوئے کہا:

ذرا سوچیئے کم سے کم بیس کروڑ سپاہی بلاد مشرق سے ہونگے اور کروڑوں مغرب سے۔ سلطنت روما کی تجدید نو کے بعد (مغربی یورپ) پھر مسیح (دجال) ان پر حملہ کریگا جہنوں نے ان کے شہر یروشلم کو غارت کیا ہے۔ اسکے بعد وہ ان فوجوں پر حملہ کرینگے جو میگڈون یا آرمیگڈون کی وادی میں اکٹھی ہونگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یروشلم تک اتنا خون بہے گا کہ دو گھوڑوں کی باگ کے برابر ہوگا۔ یہ ساری وادی جنگی سامان اور جانوروں اور انسانوں کے زندہ جسموں اور خون سے بھر جائیگی۔

یہ ہے “لبرل ازم” کے علمبردار مغربی آمریت کا وہ اثر جو ہر ماسونی صدر میں موجود ہے اور آج تک جو بھی منتخب ہوتا ہے وہ دیوار گریا پر حاضری ضرور لگاتا ہے۔ ٹرمپ کے موجودہ بیانات کو ہی دیکھ لیں۔

یہ جس آرمیگڈون کا ذکر کیا جاتا ہے لفظ میگوڈو سے نکلا ہے اور یہ جگہ تل ابیب سے 55 میل شمال میں ہے اور بحیرہ طبریہ اور بحر متوسط کے درمیان واقع ہے۔

فورسنگ گاڈز ہینڈ کی مصنفہ گریس ہال سیل لکھتی ہے
ہمارے گائڈ نے قبۃ الصخراء اور مسجد اقصیٰ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا تیسرا ہیکل وہاں بنائینگے۔ اسکی تعمیر کا ہمارا منصوبہ تیار ہے، تعمیراتی سامان تک آگیا ہے۔ اسے ایک خفیہ جگہ رکھا گیا ہے۔ بہت سی دکانیں بھی جس میں اسرائیلی کام کررہے ہیں۔ وہ ہیکل کے لیئے نادر اشیاء تیار کررہے ہیں۔ ایک اسرائیلی، خالص ریشم کا تار بن رہا ہے جس سے علماء یہود کے لباس تیار کیئے جائیں گے( ممکن ہے یہ وہی تیجان یا سیجان والی چادریں ہوں جن کا ذکر حدیث میں آیا ہے)۔ ہمارا گائڈ کہتا ہے: ہاں تو ٹھیک ہے ہم آخری وقت کے قریب آپہنچے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ کٹڑ یہودی مسجد کو بم سے اڑا دینگے جس سے مسلم دنیا بھڑک اٹھے گی۔ یہ اسرائیل کے ساتھ ایک مقدس جنگ ہوگی۔ یہ بات مسیح (دجال) کو مجبور کردیگی کہ وہ درمیان میں آکر مداخلت کرے”۔

حوالہ جات؛ اینوجیلیکل ھلٹن ھسٹن، سابق سینیٹر مارک ھیٹ فیلڈ۔ اور۔ فورسنگ گاڈز ہینڈ۔

اس پر اب سے کافی عرصہ قبل ایک فلم بھی بن چکی ہے۔ مصنفہ یہ بھی لکھتی ہے کہ

میں نے لینڈا اور براؤن (یہودی) کے گھر (مقبوضہ یت المقدس /فلسطین) میں قیام کیا۔ ایک دن شام کو دوران گفتگو میں نے کہا کہ تعمیر کیلئے مسجد اقصیٰ کو تباہ کردینے سے ایک ہولناک جنگ شروع ہوسکتی ہے تو یہودی نے فوراً کہا: ٹھیک بالکل یہی بات ہے ایسی ہی جنگ ہم چاہتے ہیں کیونکہ ہم اس میں جیتیں گے پھر ہم تمام عربوں کو اسرائیل کی سرزمین سے نکال دینگے اور تب ہم اپنی عبادت گاہ کو ازسرنو تعمیر کرینگے۔ (خوفناک جدید صلیبی جنگیں) دریائے فرات خشک ہوجائے گا: دی بک آف ریویلیشن (الہاموں کی کتاب) کے سولہویں انکشاف میں ہے کہ دریائے فرات خشک ہوجائیگا اور اس طرح مشرق کے بادشاہوں کو اجازت مل جائیگی کہ اسے پار کرکے اسرائیل پہنچ جائیں۔

امریکی صدر ماسونی نکسن نے اپنی کتاب وکٹری ود آؤٹ وار میں لکھا ہے:

کہ 1999 تک امریکی پوری دنیا کے حکمران ہونگے اور یہ فتح انہیں بلا جنگ حاصل ہوگی اور پھر امور مملکت مسایا (دجال) سنبھال لیگا۔

جاری ہے۔