Tag Archives: ahlu hadith

Saying Ya Sheikh Abdul Qaadir Jilani Shayy’anlilah & Deoband [Ur]

سپیشل پوسٹ؛
مختصر تفصیلِ سکینز؛ یہ ایک قدیم کتاب ہے اسکی تاریخ چھپائی 1336ء ہے اور لاھورمیں چھپی ہے۔ جو کہ دیوبند کے ایک مولانا صاحب کے بیعت کے قصے پر مشتمل ہےاور نام ہے (فتویٰ جوازِ یا شیخ عبدالقادرجیلانی شیئاً للہ) یعنی اے شیخ عبدالقادر جیلانی میری امداد فرمائیے اللہ کے واسطے۔
 
پہلے صفحے پر انہوں نے اپنی سلسلہ قادریہ نقشبندیہ مجددیہ فاروقیہ میں بیعت کا احوال ذکر کیا ہے (جو آپ سکین نمبر 1) میں پڑھ اور دیکھ سکتے ہیں۔ پھر جب ان کو بیعت کرنے کے بعد مولوی غلام علی دہلوی (دیوبندی) صاحب کی طرف سے ان کو ارشاد ہوا کہ یہ وظیفہ پڑھنا بطور قادری آپ کا معمول ہونا چاہیئے۔ جس پر انہوں نے لکھا ہے کیا لکھا ہےَ وہ تو آپ سکین میں پڑھ ہی رہے ہیں یہاں بھی لکھے دیتے ہین اور چند اہم پوائنٹس ملاحظہ کریں
 
اول؛ شاہ رووف احمد علیہ الرحمتہ نے حضرت قطب الاقطاب غوث الاوتاد شاہ غلام علی دہلوی۔۔۔۔۔۔۔۔(غور فرمائیں غوث کا لفظ انہوں نے خود غیراللہ کے لیئے استعمال کیا ہے مگر اگر آپ اور ہم استعمال کریں گےتو ہم انہیں دیوبندیوں کے ہاتھوں (بریلوی) کہلاتے ہیں)۔
 
دوم: بوقت بیعت مرشد نے تعلیم فرمایا: یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئاً للہ کے پڑھنے کو بھی متعین وقت وعدہ فرمایا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ اگرچہ خداء و استمداد مشروع ہے اور یہ وظیفہ اس قاعدہ سے بھی پڑھنا جائز ہے لیکن فی الواقع اسکو نداء و استمداد سے کچھ تعلق نہیں بلکہ مطلق ان کلمات میں باذن اللہ تعالےٰ تاثیر ہے کہ اگر کوئی باجازتِ کامل پڑھے تو انشاء اللہ تعالےٰ فائدہ ہو۔ (یعنیمنکروں کے منہ سے (بریلوی) عقائد پر ایمان کے باوجود ان کو دیوبندیوں نےافر مشرک بدعتی یا بریلوی) کا نام تو نہیں دیا لیکن باقی کی ساری امت کو یہ لوگ کیا کیا کہتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں
 
سوم؛ لکھا ہے۔ احقر حضرت پیر دستگیر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت سراپا برکت سے واپس آیا (نوٹ) غور فرمائیں دستگیر اگر ہم کہیں تو ہم (بریلوی بدعتی) اگر دیوبند کے اپنے علماء کہیں تو جائز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میرے بعض عزیز و اقارب کو کہ جنکے نزدیک یا شیخ الخ پڑھنا کفر و شرک ہے اس وظیفہ کا حال معلوم ہوا تو مجھ پر طعن و تعرض شروع کئے۔ ہرچند میں نے ان سے عرض کیا کہ ہمارا عقیدہ اس وظیفہ کی نسبت ایسا نہیں ہے کہ جس سے معاذ اللہ کفر و شرک لازم آئے اور یہ صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ حضرت شیخ کو متصرف مستقل و حاضر و ناظر سمجھے اگرچہ عقل سلیم اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ جو شخص خدا و رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ولی یا نبی کو عیاذاً باللہ بالاستقلال ہم صفاتِ قادر مطلق سمجھتا ہوگا۔ ھذا بہتان عظیم۔ لیکن النادر کالمعدوم کسی جاہل اور احمق کا ایسا عقیدہ ہو بھی تو وہ کفر و شرک ہے نعوذ باللہ من ذالک
 
نوت: اب یہاں ان کی سیاسی زبان کا آسان مفہوم یہ ہے کہ ان کے نزدیک اگرچہ مرشد حاضر و ناظر نہیں مگر اسکو حاضر و ناظر جان کر وظیفہ پڑھنا درست ہے؟۔۔ کیا ذہانت اور کیا تاویلات نکالنے کا انداز ہے واہ سبحان اللہ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کونسا مسلمان ہے جو ولی یا نبی یا پیر کو (متصرف مستقل) سمجھ کر پکارتا ہے؟ تو پھر دیگر پکارنے کی وجہ سے (کافر مشرک بدعتی یا بریلوی صوفی) مگر خود کریں تو سب ٹھیک؟۔ اور کونسا صوفی ہے جو اپنے پیر کو اللہ کے برابر قادر سمجھ کر پکارتا ہے؟۔ یہ تو حال ہے ان کے مستند علماء کے ذہنوں کی گھٹی ہوئی سوچوں کا۔
 
قصہ مختصر
 
صفحہ 4 اور 5 پر موصوف نے اسکی بابت لوگوں سے تنگ آکر اپنے پیرومرشد مولوی رشید احمد گنگوہی کی خدمت میں شاہ غلام علی دہلوی وغیرہ کا ارشاد بھیج دیا اور استفتاء کیا کہ آپ کیا فرماتے ہیں اسکے بارے میں تو انہوں نے کیا لکھا وہ سکین میں ملاحظہ کریں یہاں مختصراً ہم لکھ دیتے ہیں
 
چہارم؛ (دیوبندیوں کے مولانا لکھتے ہیں جواب میں اپنے نئے بیعت شدہ مولوی صاحب یعنی حسن کو)۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو کچھ اُن حضرات کا ارشاد ہے وہ سب صحیح اور درست ہے۔ جو نادان اس حالت پر تکفیر کسی کی کرے وہ سبب ناواقفیت کے کہ معنے کلام کے نہیں سمجھا پہلے بھی حضرت مجدد علیہ الرحمہ کی ایسی ہی کم فہمی کے سبب تکفیر ہوئی تھی مگر حاشا وکلا وہ بری ہیں کفر و فسق سے۔۔۔۔۔۔ چند لائنوں کے بعد لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خاندانِ عالیشان سے معلوم ہوئی (یعنی تصنیفِ فتویٰ)۔ بندہ بھی اس خاندان میں منسلک ہے (یعنی صوفی ہونے کا اقرار)۔۔۔۔ اس میں کوئی کلمہ ء کفر کا معاذ اللہ نہیں اور جو کلام کسی کے نزدیک موہم ہے وہ بندے کے نزدیک محل درست رکھتی ہے اس کتاب کو بندہ بھی رکھنا چاہتا ہے قیمت سے مطلع فرمادیں ارسال کروں۔۔۔۔۔۔۔۔ چند لائن بعد مزید لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور حضرات کا کلام بالکل پاک عیب سے ہے کتاب عمدہ لکھی ہے۔
 
اور
 
پنجم؛ آخری تین لائیوں میں اسی صفحہ 5 اور سکین نمبر 2 میں لکھا ہے۔ ۔۔۔۔ جناب مولانا صاحب کے اس جواب کو پڑھکر میری اپنی بھی تسلی ہوگئی اور معترضین کی جانب سے بھی بعد ازاں کچھ نہ سنا البتہ یا شیخ کے انکار میں غلو و مبالغہ اس شدت و درجہ کو پہونچا ۔۔۔۔۔۔۔
 
 
یعنی خود وہابیہ دیوبندیہ کے اکابرین نے (یا شیخ) کہنے کو جائز کہا ہے تو آج اگر مسلمان (یارسول اللہ مدد) اور (یا غوث الاعظم دستگیر) کہتے ہیں تو ان کو انہیں دیوبندیوں کی طرف سے یہ سننا پڑتا ہے کہ (یہ تو بریلوی ہے، یہ توبدعتی ہے) اور (غوث صرف اللہ کی ذات ہے جو کوئی غیراللہ کو دستگیر کہے وہ بدعتی ہےوغیرہ وغیرہ۔ مگر اپنے اکابرین کا وہی عمل درست اور قابل عمل ثواب ہے۔ اس کو کہتے ہیں ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ یعنی دیوبند اپنے بزرگ اسلاف کا رستہ چھوڑ چکی ہے اور شاہ اسماعیل کے وہابی دھرم کی اندھی تقلید کو حنفیت کی آڑ میں چھپا کر اپنی اپنی نوکریاں کررہی ہے۔ جو کام یہ دوسروں کو کرنے پر بدعتی کہتے ہیں وہی کام ان کے اپنے گھر کے بڑوں سے ثبوت اور فتوؤں کے ساتھ دیئے ہوئےہیں۔
 
اور ہاں یہ فتویٰ آپ کے ہی رشید گنگوہی کا ہے جو عقیدہ کچھ رکھتا ہے اور یہاں کچھ لکھتا ہے۔ بلکہ اس کے علاوہ مولانا ارشاد حسین صاحب رامپوری، مولانا لطف اللہ صاحب علی گڑھی، مولانا احمد حسن صاھب کانپوری مولانا نعیم صاحب لکھنوی مولانا محمد عین القضاۃ صاحب حیدرآبادی اور مولانا محمد مسعود صاحب جیسے مشہور مستند دیوبندی علماء کے فتوے اور اجازات پر مشتمل ہے۔
 
اب یا تو دیوبند بتادے کہ یہ سب کے سب (بریلوی) تھے یا (کافر مشرک بدعتی) اور اگر یہ آپ نہ ثابت کرسکیں تو پھر اسکا واضح مطلب ہے دیوبند آجتک گمراہی کی تعلیمات لوگوں میں پھیلاتی رہی ہے اور امت کو تفریق میں ڈالے رکھی ہے
 
Advertisements