Tag Archives: E

Rade Ilahd Series: Insani Genome or Ism-e-Haq (Scientific Jawab)

ملحدین و نیم ملحدین متشکک حضرات کے لیئے خاص تحفہ

تمہید : ملحدیں اسکو انتہائی توجہ سے پڑھیں اور “فہم” کو استعمال کرنے کی کوشش کریں اور سنجیدگی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ولاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم

اما بعد

ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔ نصِ قرآنی سے منصوص یہ کلیہ ناقابل تغیر ہے، امتدادِ زمانہ اور علوم جدیدہ کا ارتقاء اس فرمان ایزدی میں تبدیلی نہیں لاسکتا اور اسکے بالعکس قائم کردہ تصورات از خود دم توڑ دیتے ہیں۔ صرف اور صرف ایک اقدس و اعلےٰ ذات ایسی ہے جس کے اوپر کوئی علم والا نہیں اور وہ ذات منزہ و مقدس خالق کائنات معبودِ برحق اللہ جل و شانہ ہے اور یہی اس کی شان معبودیت ہے کہ وہ تمام تر رفعتوں سے بلند تر ہے اور ہر بلندی اس کے حضور میں پست ہے۔

اس ذات اقدس و اعلیٰ اور علیم و خبیر کے بعد سب سے زیادہ علیم وخبیر سب سے زیادہ جاننے والے سب سے زیادہ علوم پر احاطہ کرنے والے معلم و مقصودِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

وہ شہریارِ مملکتِ رسالت جنہیں علمہ البیان کا تاج پہنایا گیا۔

وہ تاجدارِ سلطنتِ علوم جنہیں وعلمک مالم تکن تعلم کی خلعت سے سرفراز کیا گیا۔

وہ صاحب قرآن و وحی اور قرآن ناطق جن کے علوم کے بیکراں سمندر سے قرآن مجید کے علوم ایک قطرہ ہیں۔

باوجود یہ کہ قرآن خود میں تفصیلِ کُل شِئ کا مدعی ہے۔ وہ عالم ماکان ومایکون جن کے نورِ علوم کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام اسماء کلھا کے عالم قرار پائے۔ وہ کلماتِ الٰہیہ کے جامع جن کا ارشاد ہے کہ میں جوامع الکلم دیا گیا ہوں۔ وہ مدینۃ العلم کہ لوح و قلم کا علم جن کے علوم کا ایک حصہ ہے۔ وہ مبداء ومرکز علوم اپنی دعائے نیم شب میں سب سے بڑے علیم و عالم کے حضور عرض کرتے ہیں (رب زدنی علماً)

آپ کی یہ پاکیزہ و محترم دعا اسی کے فرمان عالی شان کی تعمیل تھی جس کے اوپر کوئی علم والا نہیں۔

جب عطا فرمانے والا خود کہے مجھ سے فلاں چیز مانگ تو وہ یقیناً مائل بہ کرم ہے اور وہ چیز عطا فرمانے کے درپے ہے، اندریں صورت آپ کی افزونی علم کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے، تاہم شان عبودیت قائم ہے اور حجرہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے رب زدنی علماً کی صدائے کیف آفریں مسلسل آرہی ہے۔

زیاہ سے زیادہ حدود تعینات ہیں اور امکان و تعین کیلئے تعین کا تقرر بدیہی امر ہے، خالق کائنات،واجب الوجود لامتناہی و لاتعین ہے، اسلیئے یہ تعین صرف اور صرف اس کے نزدیک ہے رہا مخلوق کے نزدیک اس جانِ جہاں کے علوم تو وہ لامتناہی اور غیرمتعین ہیں، سوائے خالقِ کائنات کے کوئی بھی آپ کے علوم کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ ایک رحمٰن ہے جو آپ کو سکھانے والا ہے، باقی سب آپ سے سیکھتے ہیں خواہ وہ انبیاء ہوں یا ملائکہ، آپ ہی کی درسگاہ قدس کے طالب علم ہیں اور علوم قدیمہ و جدیدہ کا ہر طالب علم طوعاً و کرہاً آپ سے ہی اکتساب فیض کرتا ہے۔ آپ نے یہ علوم فقط اپنی طرف ہی نہ رکھے بلکہ جب آپ کے غلاموں کے غلاموں کے علوم غرناطہ کی لائبریریوں سے یورپ کے ایوانوں میں پہنچے تو سائنسی کمالات کا ظہور ہونا شروع ہوگیا، آپ کے علومِ اسرار کی تجلیات قلوب صالحین پر پڑیں تو جنید و بایزید جیسے استاذانِ روحانیت کا سکہ جاری ہوگیا۔ آپ کے کلامِ بلاغت نظام کے اثرات رازی و غزالی پر پڑے تو یونانی اور غیراسلامی فلسفوں کی دھجیاں فلک بسیط پر اڑنے لگیں، بہر نوع! دنیا کا کوئی ایسا علم نہیں جو تاجدارِ ابنیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وساطت کے بغیر دوسروں کی طرف منتقل ہوا ہو۔ تمام ترتعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیئے جو اشیاء کو وجود میں لایا اور اسے معدوم کردیا اور ان اشیاء کا وجود اپنے کلمات کی توجہ پر منحصر کردیا، تاکہ اسکے ساتھ ان اشیاء کے حدوث و قِدم کا راز اُس کے قِدم کے باعث ثابت ہوجائے اور ہم اسکی سکھائی ہوئی تحقیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے قِدم کی صداقت پر وقوف حاصل کرلیں۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ظہور فرمایا اور خود ظاہر ہوکر دوسروں کو ظاہر فرمایا اور وہ پوشیدہ نہیں، اگر پوشیدہ ہوا تو دوسروں کو بھی چھپادیا۔

غور فرمائیں کہ اسم اول نے عبد کی ذات کے وجود کا اثبات کیا اور وہ ثابت ہوگیا اور اسکے لیئے آخر نے فناء و فقدان کی تقدیر کا اثبات کردیا اور یہ اس سے پہلے ثابت تھا۔ اگر عصر و معاصر اور جاہل و عالم نہ ہوتے تو کسی کو بھی اس کے اول و آخر اور ظاہر و باطن کے معنی کا علم نہ ہوتا۔

پس کوئی عبدالحلیم عبدالکریم نہیں اور نہ ہی کوئی عبدالغفور عبدالشکور ہے، ہر عبد کا ایک اسم ہے اور وہ اس کا رب ہے۔ اور وہ خود اس اسم کا وجود اور قلب ہے۔ وہی سبحانہ تعالیٰ علیم ہے جس نے بذات خود جانا اور دوسروں کو سکھایا، جو بذات خود حاکم ہے اس نے خود حکم دیا اور حاکم بنایا، آپ سوچ رہے ہونگے کے ان سب “مذہبی” باتوں کے کرنےکا کیا مقصد ہے،تو مقصد اس کے آخر میں آپ کو سمجھ آجائے گا اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں، اوپر جو کچھ بیان ہوا اس میں سے بہت سا حصہ شیخ ابن العربی کی فتوحات مکیہ سے اخذ کیا گیا ہے، امام ابن العربی (سب سے پہلے لوح پر کیا تحریر ہوا) کےماتحت لکھتے ہیں

“پس تمام تر اسماء میں سے سب سے پہلا اسم جو اس قلم جلی نے لکھاً یہ تھا “یامحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں چاہتا ہوں آپ کے لیئے ایسا جہان پیدا کروں جو آپ کی مملکیت ہو، چنانچہ ہم نےپای کا جوہر پیدا کیا”۔ پھر (پانی کیسے بنا) کے ماتحت لکھا ہے ” پس اللہ سبحانہ نے پانی کو ایک منجمند ٹھنڈک کی شکل میں پیدا فرمایا جو گولائی اور سفیدی میں موتی کی طرح تھی اور اس میں اجسام و اعراض والی قوتیں ودیعت کیں”۔

اب پروفیسر گریگ براڈن کی بات کرلیتے ہیں۔ آسانی کی خاطر اردو ترجمہ اور نیچے انگلش بھی دی جارہی ہے۔ ایک غیرمعمولی دریافت، منضبط کرتی ہے کہ بائبلی ہیبریو (ارامی اسرائیلی زبان) اور عربی کے قدیم الفاظ کو جدید دنیا کی علم الکیمیاء (کیمسڑی) سے جس سے ایک گمشدہ “کوڈ” (ایک ترجمہ کے قابل لفظ) اور جو کہ ایک اشارہ ہے ہماری بنیاد کی طرف، اور جو کہ ہماری اندر ہی ہمیشہ سے رہتی آئی ہے۔ اس جدید دریافت کو اگر زندگی کی زبان پر اپلائی کیا جائے،تو ہائیڈرون، نائیٹروجن، اوکسیجن اور کاربن کہ جن سے ملکر ڈی این اے بنتی ہے، کو اب قدیم زبانوں کے بنیادی الفاظ کا متبادل کیا جاسکتا ہے۔ اور ایسا کرنے سے، تمام تر حیات/ زندگی کو ایک وقت کی قید سے آزاد پیغام میں ڈھالا جاسکتا ہے، ترجمہ شدہ پیغام یہ آشکار کرتا ہے کہ گاڈ/ خدا کےقدیم نام اس طرح سے اینکوڈیڈ / سموئے گئے ہیں جیسے کہ ہر ہر زوایہ زندگی کے خلیئے میں جینیاتی معلومات ہوتی ہیں۔ ” یہ پیغام (یعنی جینیاتی ڈی این اے جو ہر سیل یعنی خلیے میں موجود ہے پڑھنےمیں یہ بنتا ہے) “الٰہ/لازوال ہمیشگی والا جسم میں”۔ مطلب: نسل / نوع انسانی طقط ایک خاندان ہے، جو کہ ایک مشترکہ وراثت کےماتحت منسلک ہیں، جو کہ ایک ارادہً تخلیقی عمل کا نتیجہ ہیں”۔

انگلش:

A Remarkable Discovery Linking the biblical alphabets of Hebrew and Arabic to modern chemistry reveals that a lost code—a translatable alphabet—-and a clue to the mystery of our origins, has lived within us all along. Applying this discovery to the language of life, the familiar elements of hydrogen, nitrogen, oxygen, and carbon that form our DNA may now be replaced with key letters of the ancient languages. In doing so, the code of all life is transformed into the words of a timeless message.

Translated, the message reveals genetic information in every cell, of every life. The message reads: “God/Eternal within the body.” The meaning: Humankind is one family, united through a common heritage and the result of an intentional act of creation!.

جائزہ

: آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ حضرات جنکو ایتھیسٹ ملحدین اپنا پیرومرشد سمجھ کر الحاد کی طرف مائل ہوتے ہیں، وہ خود اپنی سائنس کے ذریعے اب عملِ “تخلیق” پر متوجہ ہوچکے ہیں اور کئی اب ان نو بہ نو جدید سائنسی دریافتوں کے سامنے “ڈارونیت” یا کسی بھی دیگر “فلسفہ” کو جھٹلارہے ہیں۔

گریک کے اس گاڈ کوڈ میں اس کی ہیومن جینوم پر کی گئی ریسرچ جو کہ آج سے کم و بیش 20/24 سال پہلے منظر شہود پر آئی تھی اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم سائنسدان، وژنریز مستقبل میں آنے والی دنیا میں سائنسی دریافتوں کا تسلسل دیکھ کر آج ہی کہہ سکتے ہیں کہ سائنس کو جو خدا کے وجود کو جھٹلانی والی چیز سمجھا جاتا ہے شاید ہمیں اب اپنی تحقیقات کو از سرنو جدید دریافتوں کے نتیجے میں بدلنا پڑ جائے۔ ہر انسانی خلیے کےاندر یہ قدیم زبانوں کے الفاظ (جیسا اوپر لکھا گیا) مل کر ایک ایسا پیغام بناتے ہیں کہ جب اس کوڈ کو ڈی این ایز پر اپلائی کیا جاتا ہے تو (جیسا اوپر لکھا) یہ پیغام ہمیں ملتا ہے کہ یہ سب کو کسی “خالق” اور “واحد خالق” کی تخلیق ہے۔ اس سے قابل غور بات یہ ہے کہ موصوف کے مطابق، قدیم اسطوراتِ یہودیت و نصاریت بمعہ تشریحات میں جو کچھ لکھا ہے اسکی اب کم سےکم جینیاتی سائنس تصدیق کرسکتی ہے، کہ واقعی ایسی کوئی قوت موجود ہے جس نے یہ سب تخلیق کرکے اسکے اندر اپنا “مارک” رکھا ہے۔ یعنی ثبوت موجود ہیں۔ اور ممکن ہے آج سے پہلے سائنس یہ نہ سمجھ پائی ہو کہ یہ پیغام سچے ہیں لیکن ان پیغامات کو ہم تک پہنچانے کے وسائل یا الفاظ ہمیں درست طور نہ ملے ہو۔ یعنی موصوف کے مطابق اللہ، برزخی دنیا اور وہ جو کچھ خاص کر ابراہیمی مذاہب میں آتا ہے اس کی آج ایک ملحد سائنسدان اعتراف کرتا ہے کیونکہ اس کا علم اس ربِ واحد کے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ اب اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ آج سے صدیوں پہلے ہمارے آقا کے غلاموں کے غلاموں کے غلام ہمیں تصوف کی زبان میں وہ پیغامات وہ معلومات دے چکے ہیں کہ جن کو آج تک ہم فقط روحانیت کا نام دیکر یا “سپرسٹیشن” کا نام دیکر ٹالتے رہے، حالانکہ یہی بات اور شیخ ابن العربی جیسے اولیائے اللہ و بزرگانِ اسلام بہت پہلے دے چکے، اور چونکہ اس دور کے لوگ اس زمانے کی طرح سائنسی تحقیق و ذہن نہ رکھتے تھے اسلیئے ان پیغامات کو کچھ سے کچھ سمجھا اور کچھ سے کچھ جانا اور ہر ایک نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کہیں کفر شرک بدعت کے فتوے لگا دیئے کہیں اسکو مستشرقین نے اپنے لیئے عوام کو گمراہ کرنے کی خاطر نت نئے جامعہ پہنائے۔ حالانکہ بات یہ تھی کہ اس وقت اور دور کے لوگ ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھے جیسے کہ آج ہیں، لیکن آج وہ مغرب جہاں ان کی کتب پہنچی وہ انہیں کتابوں کی تشریحات کو سائنسی کے ذریعے پرکھ کر ان نتائج پر پہنچ رہے ہیں جو اس اللہ کے بندے نے آقائے دوجہاں کے غلام ہونے کی حیثیت سے بیان کردیئے۔ اور یہ صرف شیخ ابن العربی تک ہی محدود نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ایسے صاحبان آگاہ موجود رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمیں تہذیب اور آسانی کی زبان میں جو بات ان مردانِ حق آگاہ نے بیان کردی جسکی آج سائنس تصدیق کرتی ہے تو اس لفظ “الحاد” کا سرے سے کوئی کام ہی نہیں بنتا اسلامی معاشرے میں، اور اگر جو ہیں تو وہ اسلام کو سمجھے ہی نہیں ہیں اسی لیئے الحاد کی طرف چلے گئے۔

ایسے ہی اگر یہودیوں خاص کر قبالائی صیہونیوں کی سیفیر ییتزیراہ جو کہ قبالہ کی ایک قدیم کتابِ تخلیق سے لیکر اپولو کے معبد میں داخلے کے دروازے (ڈیلفی میں) اسی ایک اصول کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ رب کی تخلیق کا “سائن” ہر ہر خلیہ میں موجود ہے۔ اسقدر اور اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو چھپانا ناممکن ہے اور اسی لیئے سائنس گنگ ہوجاتی ہے یہ ثبوت دیکھ کر اور یہی وجوہات ہیں کہ مغرب کا ملحد سائنسدان جس کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے وہ مسلمان ہوجاتا ہے، جبکہ یہاں کے کم علم، جاہل مگر “ڈگری والے” افراد اللہ کی حقانیت سے ہی انکاری ہوجاتے ہیں جو کہ ان کے ناقص فہم کی علامت ہے۔ اسلام: اسلام ایک زندہ حقیقت ہے اور قرآن پاک میں تمام تر علوم کو سمو دیا گیا ہے، اب یہ ہر ایک پر منحصر ہے کہ وہ خود کتنے پانی میں ہے۔ اسلام تو سائنسِ جدید کا موجد ہے، اسلام ہی سے تمام ترعلوم آج کے مغربی سائنسدانوں نے لیئے ہیں اور تحقیقات اور محنت سے اسکو بام عروج پر پہنچا کر حسبِ عادت اسلام کو متعصب پورٹرے کرے کچھ خاص قبال کے لوگوں نے اپنے مقاصد حاصل کیئے ہیں۔ اسلام نے سائنس یا تحقیق کو کبھی روکا نہیں کہ مسلمان اپنے حق اور سچ دین سے مغرب کی طرح متنفر ہوجائیں اور نہ ہی اسلام میں کوئی پاپائیت نے کبھی دہشتگردیوں کو فروغ دیکر سائنس کو گلیلیو کی شکل میں پابند سلاسل کیا ہے۔ ذیل میں فہرست دی جارہی ہے کہ آپ کے مغرب کی مذہبی الحادیت اور غیرمذہبی الحادیت نے جتنے انسانوں کوقتل کیا ہے وہ “مسلمان” نے نہ کیئے ہیں

۔ 1۔ صلیبی جنگیں (1095 تا 1291) ۔اندازاً اموات ۔ ڈیڑھ ملین ہلاکتیں 2۔ ایٹلانٹک سلیو ٹریڈ۔ (بردہ فروشی) (1700 تا 1850) ۔ اٹھارہ ملین 3۔ نیٹیو امریکی ڈیسیمیشن پیریڈ (16ویں تا 19ویں صدی)۔ بیس ملین 4۔ سوکالڈ ہولوکاسٹِ(جنگ عظیم 2) پانچ اشاریہ آٹھ ملین 5۔ پؤلش ہولوکاسٹ (دوسری جنگ عظیم) پانچ ملین 6۔ تبتی جینوسائیڈ (1959تا 2000) ۔ ایک اشاریہ 2 ملین 7۔ بالکن جینوسائیڈ۔ (2سری جنگ عظیم تا 1997) ۔ ڈیڑھ ملین 8۔ ویتنام جنگ، کمبوڈیا اور لاؤس کی جنگیں۔ (1974 تا1986)۔ 2۔2 ملین

یاد رہے ابھی 80 کے بعد سے 2019 تک کی جنگیں اور اس میں مسلمانوں کا جینوسائیڈ، فلسطین، کشمیر، برما، روہنگیا، یوگوسلاویہ، افریقی ممالک، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، اور ایغور شامل نہیں ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Please Note:

For some internet issues we are not often operate or update new articles, moreover many of the links of scans are been expired, so for reader kindly connect us through our Facebook Page and Admins for inquiry purposes and scans.

Sorry for inconvenience.