Tag Archives: Mulhid

Rad-e-Ilhad: Irtiqa Ka Scienci Taruf (P-1)

اپنی بنیادوں کی تلاش میں

اب تک، انسانی بنیادوں کی سائنسی مباحث زیادہ تر ان ڈھانچوں (فوسلز) پر مبنی ہیں جنکے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے “آباؤ اجداد” تھے۔ چارلز ڈارون کی ایولیوشن کی تھیوریز کے تناظر میں جو کہ 1859 میں پہلی بار “دہ اوریجن اوف سپیشیز بائے مینز آف نیچرل سیلیکش” کے نام سے شائع ہوئیں، جسکا بنیادی محور یہ تھا کہ سپیشیزspeciesایک طویل وقت کے دورانیئے میں بتدریج بنتے گئے ہیں کہ جس میں ہر نئی نسل / جنریشن اپنے اجداد سے وہ خصوصیات/کیرکٹیریسٹکس لیتی آئی ہے جو کہ اسکی بقا کیلئے لازم تھے۔

اور اس طریقے سے ٹریٹس (ٹریٹس بیالوجی کی وہ ٹرم ہے جس میں خصوصیات، عادات، اور ٹرینڈز متعلق ہوتے ہیں)نے انفرادی طور پر ایک وجود میں قوت اور پھیلاؤ اورمتنوعیت لائی اور اسکو بڑھاوا دیا ہے۔ دارون کی زیادہ تر تحقیقات ان تجزیوں پر مبنی ہیں جو اس نےگیلاپیگوس آئی لینڈز میں وائلڈ لائف یعنی جنگلی حیاتیات پر اپنے سفر کے دوران کیں، اور ساتھ ساتھ ان فوسلز اجزاء ڈھانچوں پر جو کہ مختلف جانداروں کی باقیات تھیں اور جو اسکے وقت کی دنیا کے لیئے نامعلوم تھیں یعنی جیسے دائیناسورز وغیرہ

ڈارون کے اپنے تحقیقی کام سے پہلے عمومی طور پر مغرب میں جو تصور تھا وہ وہی تھا جو کہ بائبل کی کتاب جینیسس (یعنی تخلیق کا باب) میں درج ہے۔ یہی تصور آج بھی پاپولر ہے اور اسکو مغربی دنیا تھیوری آف کریشن ازم کا نام دیتی ہے، اور یہ کہ جسکی جڑیں اس مذہبی عقیدے پر تھی جسکو ایک اینجیلیکن بشپ جیمز اُشر نے 1701 میں پیش کیا تھا۔ میڈیٹیرینیئن اور وسطی مشرقی تاریخ ہمراہ تواریخ پیدائش و وفیات جو اسکے دور کی بائبل میں درج تھیں، بشپ اوشر نے وہ تخلیق کیا جسکے بارے میں اسکا گمان تھا اور جسمیں وہ یقین رکھتا تھا کہ اس نے ایک درست ترین ٹائم لائن بنالی ہے جو کہ بائبلی واقعات کی “تخلیق کے روزِ اول” تک کو درست درج کرتی ہے۔

اسکی حسابیات کے مطابق، اوشر نے “ابتداء” کے دن کو “روزِ اتوار” اکتوبر 23 سنہ 4004 قبل از مسیح تھا، پس اس نے زمین کی عمر 6000 سال بتائی۔ اسکی حسابیات کے مطابق، اوشر نے اُن تاریخوں کو کیلکولیٹ کیا جو کہ بائبل درج ہیں جیسے کہ آدم اور حواء کا “ایڈن” سے نکالے جانا، جس کو اس نے پیر کا دن چار نومبر سنہ 4004 قبل از مسیح (بی سی ای) کا دور قرار دیا۔ اسکے یہ کام بائیبل کے قلمی نسخوں میں لکھے جاتے رہے اور کئی لوگوں نے بنا سوال کیئے ان کو من و عن تسلیم کرلیا۔

سائنسی طور پر زمین کی عمر کے متعلق جو جیولوجیکل ریکارڈ آج مانا جاتتا ہے، اسکے برخلاف “تخلیق/کرئیشنسٹس” کے مطابق خدا نے تمام مخلوقات کو ایک ہی بار میں ابتداء کے وقت تخلیق کیا، (نوٹ: یاد رہے یہاں مغربی روایات سے متعلق بات ہورہی ہے اسلامی نہیں)مزید برآں یہ نظریہ/تھیوری یہ ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی نئی چیز تخلیق نہیں کی گئی (مطلب یہ کہ نئی کوئی چیز نہیں)،سب کچھ جو کہ ابھی ہے، یا ماضی تھا بشمول انسانی زندگیاں، یہ ایک نتیجہ ہے اصلی تخلیق کا اور جو کہ مستقل اور غیرتبدل شدہ ہے، مطلب کہ آدم اور بنی نوع آدم۔ اسلام کیا کہتا ہے وہ خود ایک الگ سے پوسٹ بنتی ہے اسلیئے اس پر یہاں تفصیل یا اسکے ذریعے درست رد نہیں دے رہا اسکے لیئے معذرت۔

اور فیزیکل خصوصیات جن سے ہماری یہ آج کی دنیا وجود میں آئی، تو تخلیقی ابتداء کے ماننے والے (یعنی مذہبی لوگ) اسکو تباہ کن تعلق سے جوڑتے ہیں۔ اور اسکو کیٹیسٹروفِک ازم کہا جاتا ہے۔ اور اسکے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ چیز ذمہ دار ہے پہاڑوں، سمندروں اور براعظموں کی تخلیق کرنے میں جسکو آج ہم دیکھتے ہیں۔ یہ تصورات و نظریات 1785 سے پہلے تک عام طور پر مقبول عام رہے لیکن اس سال ایک سکاٹش سائنسدان نے اپنا تحقیقی کام تخلیق کردیا جسکا نام جیمز ہٹن تھا۔

مغربی دنیا میں اسکو فادر آف ماڈرن جیالوجی کہا جاتا ہے، ہٹن کی کتاب تھیوری آف ارتھ یہ سجیسٹ کرتی ہے کہ ہماری دنیا مستقل بنیادوں پر تبدیلوں اور ایوالونگ (ارتقاء) کے عمل سے گزر رہی ہے جو کہ ان قدرتی طریقوں پروسیسیز کا نتیجہ ہیں جو کہ ہمیشہ موجود رہے ہیں، نہ کہ کسی ایک اکیلی خدائی مداخلت کا نتیجہ جو کہ “ابتداء” کے وقت عمل میں آئی۔

نوٹ: مغربی اذھان کو کیسے سیکولرازم کی طرف مائل کیا گیا اسکی تفصیل سے قطع نظر یہاں اس امر پر توجہ دینی نہایت ضروری ہے کہ مغرب “ابتداء” کی بائبلی تراجم سے جو نتائج اخذ کرسکتے تھے کرکے مذہب کے مخالف ہوگئے، حالانکہ اسلام صاف بتاتا ہے اور بذریعہ قرآن و حدیث ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا جتنے بھی “دنوں” میں (یعنی اسلام اور عیسائی یا مغربی تصورات میں 7 اور 6 دن کی روایات ہیں) وہ “دن” دنیاوی دنوں کی طرح نہیں بلکہ یہ فقط ہمیں سمجھانے کے لیئے ہے کہ وقت کا اسقدر طویل دورانیہ ہے اور نیز تخلیق “کن” کے مکمل علم کے بناء مغرب نہ تو ابتداء کو سمجھتا ہے کیونکہ خود “ابتداء” اور “انتہاء” بھی اس وقت تخلیق نہ کیئے گئے تھے یہ بھی قلم کی تخلیق کے بعد آئے وغیرہ وغیرہ تو یہ سب لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ پڑھنے والے سمجھ کر پڑھیں کہ یہاں ہم ڈارون کے نظریئے کی بنیادوں کی سائنسی طور پر رد کرنے سے پیشتر وہ کن واقعات اور کن عوامل کے اور کس سائنسی معیار کے وقت میں اپنا نظریہ ء الحاد دنیا کو دے گیا اس کو سمجھا جائے۔

ہیوٹن کی یہ تھیوریز یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ قوتیں جو کہ “ماضی” میں ہمارے سیارے کی تاریخ میں موجود تھیں آج بھی عمل پذیر ہیں۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اور یہ مسلسل طور پر تبدیل ہوتے اقسام ہیں جنہوں نے جدید ریسرچرز کو ماضی میں جھانکنے کی ایک کھڑکی دکھلائی۔ ان تھیوریز کو اس وقت بھی رد کردیا گیا تھا اور ایسے ہی سائنس کو خوامخواہ مذہب کے مخالف کے طورپر مغربی دنیا میں پیش کیا گیا تاکہ الحاد کی جڑوں کو سینچا جاسکے شعوری اور لاشعوری دونوں طرح، اس وقت کے مذہبیان کو سائنس سے کوئی دلچسپی نہ تھی اسلیئے ان کو بہ آسانی جاہل اور تنگ نظر متعصب قرار دیکر مسترد کردیا گیا کیونکہ انکے پاس سوائے مذہب کے کوئی دلیل نہ تھی، جیسے ہمارے آج کے دیسی لنڈا ملحدین مغرب کی اس اندھی تقلید میں شامل ہیں اور یہ کہ یہ تھیوریز جنکو آج سائنس خود رد کرتی ہے نہ صرف ڈارون بلکہ مغربی مذہبی تصور کی ناقصیت اور غیرمکملیت نے وہاں پر لوگوں کویہ باور کروادیا کہ مذہب ہر شکل میں سائنس کے مخالف ہے اور یوں الحاد کے جدید ادوار کی ابتداء ہوئی۔

ڈارون چونکہ ہیوٹن جیسے سائنسدانوں کے کام سے واقف بھی تھا اسلیئے ان کے ایولیوشن (جو کہ اس زمانے کی سائنسی ترقی میں کمی کے باعث وہ سمجھنے سے قاصر تھے) کو مزید تقویت اس سے ملی کہ جو اس نے اپنے ایچ ایم ایس بیئیگل کے سفر میں مشاہدات کیئے جو کہ 1831 تا 1836کا دور رہا۔ اپنی ایک جرنل میں وہ 1859 تک کے اس سفر نامے کے بارے میں کچھ معلوماتی اشارے دیتا ہے جس نے اسکو ذاتی طورپر بہت متاثر کیا۔ وہ لکھتا ہے

جب ایک نیچرلسٹ کی حیثیت سے میں ایچ ایم ایس کے لیئے روانہ ہوا، میں ساوتھ امیریکہ کے پرانے رہائشیوں کے بارے میں معلومات سے بھرا ہوا تھا اور جیولوجیکل تعلق میں جو کہ ماضی سے حال تک کے باشندگانِ براعظم کے بارے تھا۔ اور یہ حقائق اب “سپیشیز” (نوٹ: انسانوں/جانوروں وغیرہ جسے ہم آسانی کی خاطر زندہ جنس/مخلوق/وغیرہ کہہ سکتے ہیں)کچھ روشنی ڈالتے ہیں، اس رازوں کے راز کی طرف، جیسا کہ ہمارے ایک عظیم ترین فلسفی نے کہا ہے”۔

ڈارون کی تحقیق کن اشیاء پر تھی:

ڈارون کی “فائنڈنگز” ان آبزوریشنز پر تھیں جو کہ اس نے گیلاپیگوس آئی لینڈز میں پرندوں پر کی تھیں۔ یہ اسوقت تک نہ تھا جبتک کہ وہ لندن واپس آیا اور اسکو معلوم ہوا کہ وہ “فِنچز” (فنچز پرندوں کی ایک قسم سپیشیز ہے جو کہ بیج کھاتی ہے اور ناردرن ہمسفیئر میں رہنے والے پرندوں کی ایک نسل ہے)جنکی “فوسیلائزڈ باقیات” (حنوط شدہ) جو اس نے مختلف فیمیلیز کی سمجھ کر اکٹھی کیں دراصل وہ ایک ہی فیملی (نسل) کی مختلف اقسام ہیں۔ اور ڈارون کو اس وقت یہ مشکل درپیش تھی کہ وہ کیسے اس متنوع کیفیت کو بیان کرے جیسے کہ سائز شکلوں وغیرہ کی ان متنوع کیفیات کو ان فنچز سے کیسے مرتب کرے جو کہ مختلف جزیروں سے اکتھی ہوئی تھیں اور انکو کیسے ایک (ہی نسل کی) باقیات سے متعلق کرے۔ اسکے علاوہ موجودہ دور میں پائے جانے والے بعض جانوروں کی وہ باقیات جو کہ بہت بڑے حجم میں تھیں ان سب چیزوں نے مل کر ڈارون کے لیئے ایک مسئلہ بنا دیا تھا۔ یہ تمام چیزیں بالآخر اس کتاب کیش کل میں آئی جنہیں آج ہم ڈارون کی دی تھیوریز آف نیچرل سیلیکشن اینڈ ایوولیوشن کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ نظریات بتاتے ہیں کہ کسی بھی آبادی میں اختلافات رہتے ہیں (فزیکل/کریکٹروائز) آف سپرنگ/نسل کے ممبران میں انکی نسل کی خصوصیات پائی جاتی ہیں جیسے کہ بڑے حجم کے ایک پرندے کی شکل اور جسامت بڑے سائز کے بیج کھانے کے لیئے بنی ہے اور یا جیسے کہ “گرگٹ” جو کہ کیموفلاج ہوکر رنگ بدل لیتاہے خطرے کی بوُ پاتے ہی۔ اور یہ کہ ان کو اپنی طرح کے دوسرے جانداروں پر اس وجہ سے برتری حاصل ہے بغیر ان خصوصیات کے ہوتے ہوئے۔

اپنی کتاب دی ڈیسینٹ آف مین میں ڈارون لکھتا ہے کہ اسکے مطابق نسل انسانی، زندگی کی دوسرے اقسام کی طرح ہے، اور یہ ایک بتدریج ارتقائی ہونے کے عمل کا نتیجہ ہے، جس پر ارتقائی عمل وقت کے بہت طویل دورانیئے میں ظہور پذیر ہوا ہے۔

دریں اثناء ڈارون اپنے اس تاریخی سفر سے 1836 میں واپس آیا، اور بیس سال کے بعد اس نے اپنی ان “فائنڈنگز” کو بپلک کردیا اور دی تھیوری آف ایوولوشن اینڈ نیچرل سیلیکشن کو لینئن سوسائیٹی آف لندن میں پیش کیا گیا۔ ڈارون نے اپنی تحقیقات الفریڈ والیس کو پیش کیں جو کہ اسی کی طرح ایسے نظریات پر پہنچ چکا تھا، حالانکہ اسکے پاس اسکا کوئی ٹھوس ثبوت نہ تھا جو کہ اسکی تھیوری کو سپورٹ کرتا۔ ڈارون کے نظریات کی مکمل چھپائی دی اوریجن اوف سپیشیز کے نام سے اس کے بعد ہوئی اور سائنسدانوں نے اسکو عام طور پر درست مان لیا۔ جبکہ ڈاکٹر گریگ کے مطابق حالانکہ ڈارون کی تمام نظریات ڈاکومنٹیڈ اور سائنسی اصولوں کے مطابق کی گئی تھیں لیکن اب ایک مسلسل بڑھتے ہوئے ثبوتوں کی روشنی میں وہ یہ سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ پوری طرح درست تشریح کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اور اسکا یہ مطلب نہیں کہ ایولیوشن نہیں ہوا جیسا کہ خصوصیات سے ظاہر ہے کہ جو لوگوں کے گروہوں کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ اپنی اینوارمنٹ / ماحول کے مطابق جانے مانے اور درست طور پر ڈاکیومنٹیڈ ہوں۔ درحالیکہ “قوتِ جذب” ایڈاپٹ کو ایسے زیادہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ جیسا کہ ان گروپس میں تجزیہ کیا گیا، نہ کہ ارتقاء کے عمل کے ذریعے دیکھا جائے۔

مثال کے طور پر جیسا کہ آرکٹک کے پولر ریجن کے مختلف قبائل یا سائیبیریا کے لوگ، مثال کےطور پر ان کی آنکھوں کے گرد زیادہ گوشت ہوتا ہے جو کہ انکو تیز روشی سے اور برف پر چمکنے والی روشنی سے ، یا اس برف سے بچانے کے کام آتا ہے جس سے انکو ہروقت سامنا رہتا ہے۔ اور اس خصوصیت کے بارے میں تیقن کیا جاتا ہے کہ یہ انکے موسمیاتی عوامل کا سیدھا ردعمل ہے، اور یہ صرف ان کے طاہری رنگ و روپ کی “تبدیلی” ہے۔ نہ کہ نسل انسانی سے الگ کوئی نسل ہونے کی دلیل۔ ایسے قبائل کے رہنے والے ان سخت ماحولیات میں جو کہ پولر ریجنز میں واقع ہیں (یعنی اسکیمو ٹائپ لوگ) کم و بیش 10،000 سال سے رہتے آرہے ہیں۔ اس وقت کے دوران وہ کسی نئی انسانی قسم میں تبدیل نہیں ہوسکے۔ اور نہ ہی اسکے کوئی امکانات ہیں کہ کبھی ہوسکیں گے۔ جینیاتی طورپر یہ انسان بھی اسی گروہ سپیشیز سے تعلق رکھتے ہیں جنکو سائنس ہوموسیپئن/سیپئنز کہتی ہے۔ اور ان کے ابدان نے فقط اپنے ماحول کے مطابق کنڈیشنز کو ایداپٹ کرلیا ہے جو کہ ان کی دنیا انکو پیش کرتی ہے۔

یہی مثال ان لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو کہ ہائر گراؤنڈز کے علاقوں میں رہتے ہیں جیسے کہ پہاڑوں وغیرہ، جیسے کہ چترال سوات ، گلگت بلتستان وغیرہ، ان کے فقط اجسام میں تبدیلی ہوتی ہے اور وہ بھی اسوجہ سے کہ اتنی ہائی ایلٹیٹیوڈ پر رہنے کیوجہ سے انکے جسموں میں ریڈ بلڈ سیلز کی تعداد باقی میدانی یا سمندری علاقوں میں رہنے والوں سے زیادہ ہوتی ہے اور جو کہ ان کو ہوا کی کمی اور آکسیجن کو پھیپھڑوں میں زیادہ گھیرنے کی صلاحیت دیتی ہے اور اسکا نتیجہ ان کی اچھی صحت اور مشقتی زندگی میں ملتا ہے۔ یہ سب صرف موسمیات اور ماحولیات کا اثر ہوتا ہے۔

حصہ اول اختتام شد