Tag Archives: Qalbi

Lataif- Intro

سیفیرز اور لطائف فرق مابین:۔

Latiaf

جیسے کہ کبالا سے متعلق پوسٹ میں بیان کیا گیا کہ کبالا کی ابتداء کہاں کیسے اور کن حالات میں ہوئی تھی، اس میں سیفیرز کے دائرے جو کہ ٹری آف لائف کے سمبل میں استعمال کیئے جاتے ہیں ان کے پیچھے دراصل غیرمادی دنیاؤں سے تعلق کے یہودی ربانیکل اساطیروں کے ماتحت روحانیتِ یہودیت کی شکل تھی۔ یہ بعد میں جادو کے ساتھ منسلک کرکے قوم یہود کو ابلیس کی طرف سے گمراہ کرنے کا ایسا مؤثر ہتھیار بنی کہ آج وہ جو خود یہودی نہ بھی ہوں وہ صیہونیت یا دیگر اقوام کے مذاہب یعنی شیطان پرستوں و بت پرستوں کے لیئے بھی اہمیت رکھ گئے دراصل چونکہ انسانی بدن میں لاتعداد روحانی مقامات ہیں اور یہ سیفیرز یہودیت یا اب جادو میں رچنے کے باعث روحانی علوم کو ان مقامات کے ذریعے کراس کرکے دوسری ڈائمنشنز سے تعلق جوڑنے کے کام آتے ہیں، آپ کو شاید سن کر حیرت ہو کہ ایٹم بم کا خالق جو ایک یہودی تھا وہ یہودی نہیں بلکہ صیہونی فریمیسنوں کے اولین کیڈر میں تھا، اور اسکے ایٹم بم کا فارمولا بقول خود اسکے ایک ایسی سیٹینک (شیطانی) انیشی ایشن (داخلے) کے ریچوؤل (طریقہ عبادت) کے ذریعے ملی جو کہ اس نے دیوتا اتمو نامی ایک (ڈیمن) عفریت کو خوش کرنے کے لیئے کیا تھا۔ اور یوں ایک ابلیسی قوت نے اسے دنیا کا سب سے مہلک ہتھیار بنانے کا فارمولا دیا۔ یعنی ان کی کبالائی مشقیں براہ راست انسان کا تعلق اپنی روح سے جوڑنے کا دکھا کر ان سے ایک شیطانی معاہدہ کروا لیتی ہیں جسکو فالو کرنا پھر انکی مجبوری ہوجاتا ہے کیونکہ یہ اپنی روح کو مادی دنیا کے حصول کی خاطر شیطان کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں، اور یوں جو اصل یہودی بلکہ صیہونی ہیں، یہاں میری مراد ان سے نہیں جو مغربی ہیں بلکہ وہ صیہونی ہیں جو مغربی ہونے کے باوجود ماں باپ دونوں کی طرف سے بیک وقت قدیم اور جدید ماسونی صیہونیت کی بلڈ لائن رکھتے ہیں وہ مراد ہیں۔ اس گروی رکھنے کے بعد ان کی خواہشات کی تکمیل میں وہ شیطانی قوت ان کی مدد کرتی ہے اور جو اصل صیہونی ہیں وہ آج بھی طلسمانوں کی دنیاؤں میں کھوئے ہوئے ہیں کیونکہ یہ بدی کی کالی طاقتیں ان کو روحانی طور پر کبالا کے ذریعے بظاہر اپنی روح کو طاقتور کرنے کا گر دکھاتی ہیں لیکن دراصل یہ گر شیطانی ابلیسی طریقے پر ہوتا ہے، لہٰذا یہ سب لامحالہ کفرکے ساتھ ساتھ ہر طرح کی اخلاقی گراوٹ میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں اور انکی خواہش کی تکمیل کے فوری بعد ابلیسی معاہدہ عمل میں آتا ہے اور ان کو ملا ہوا فیم (مشہوری) اور دولت سب کچھ انکی موت سے فنا ہوجاتا ہے۔ مغرب کے فلم سٹارز کا کردار سب کے سامنے ہے، مائیکل جکسن کی موت ہی کو لے لیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کبالا کے یہ سیفیرز دراصل یہود کو یہ بتاتے ہیں کہ تم اپنی روحانی گروتھ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہو۔ لیکن جب اس پر چلا جاتا ہے تو یہی علم ربائیوں کی ملاوٹ اور فیریسیز کے عالموں کی پستی کی وجہ سے جادو کے ساتھ مکس اپ کردیا گیا۔ جبکہ

اسلام چونکہ کامل ترین دین ہے اور بنی نوع انسانی کے لیئے ایک آخری مکمل اور جامع پیغام ہے اسلیئے اسلام میں یہ علوم خالص حالت میں موجود رہے اور اولیائے کرام اور صوفی سلسلوں کے ذریعے ایک درست شکل میں شائقین تک پہنچتے رہے۔ لہٰذا اسلام نے مسلمانوں کو بھی روحانی علوم عطا فرمائے اور یہ علوم شریعت کی مکمل حقیقی پیروی کے ماتحت عطا کیئے گئے، اور جنکو نبیء کائنات علیہ السلام کے علومِ روحانی کے بحر ذخار کے ایک قطرے سے ملے وہ اولیائے کرام سے ہوتے ہوئے طلب کننداؤں تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق روح کا علم قلیل دیا گیا ہے۔ لیک محل نظر یہ بات ہے کہ قلیل بھی تو ایک علم ہی ہے؟۔ جیسے ہر علم کے فارمولے ہوتے ہیں ویسے ہی اس علم کے بھی فارمولے قواعد و ضوابط ہیں۔

ہر انسان اس بات کو جانتا ہے کہ زندگی کا سارا دارومدار اس فزیکل جسم پر نہیں ہے بلکہ روح پر ہے۔ یہ تجربہ ہم اور آپ روز ہی کرتے ہیں کہ جب ہم سو جاتے ہیں تو ہمارا راستہ سانس کی آمدورفت کے ذریعے زندگی سے سلسلہ قائم رہتا ہے۔ یہی دو حالتیں ہیں جن میں زندگی گزرتی ہے۔ ہم جب سوتے ہیں تو اس روح کا رشتہ اس گوشت پوست کے جسم سے غیرشعوری ہوجاتا ہے اور اس کے علاوہ ایک حالت وہ ہے جسے موت کہتے ہیں۔ روحِ اسلام یعنی تصوف کی ابتداء خلوص اور امتحانوں سے ہوتی ہے، یہی چیز اویس قرنی سے لیکر قیامت تک پائے جانے والے تمام عباداللہ الصالحین کی زندگیوں سے عیاں ہوتی ہے۔ اسلامی تصوف انسان کو روحانی برتری کے مواقع عطا کرتی ہے جبکہ شریعتِ ظاہری انسان کو دنیا میں اپنا فزیکل امتحان حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک صوفی کہاوت کے مطابق اور ایک مشہور ولی اللہ کے مطابق ہم نیند کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں اور اس نیند سے ہمارا جاگنا تب ہوتا ہے جب موت سر پر آن کھڑی ہوتی ہے۔ گفتگو کا حاصل یہ کہ تین حالتیں ہیں جو ہر انسان پر ہردم وارد ہوتی یا ہوسکتی ہیں۔ ایک بیداری، دوسری نیند اور تیسری موت۔ بیداری اور نیند کی قدر مشترک یہ ہے کہ نیند میں جسم سے روح کا واسطہ براہ راست ہوتا ہے اور بیداری میں بالواسطہ ، یعنی شعور کی معرفت اور موت میں روح اس جسم سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے۔ الغرض روح زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لیئے اپنا ایک میڈیم (ذریعہ) بناتی ہے اور اس میڈیم کو کروموسوم کا نام دیا جاسکتا ہے۔

انسان کے اندر ہزاروں کی تعداد میں لطائف(جنریٹرز/ مقامات/ سیفیرز/حجابات) کام کرتے ہیں۔ بعض صوفیاء کے مطابق جتنے حجاب ہیں اتنے ہی اللہ رب العزت کے اسمائے اعظم ہیں۔ ایک عام انسان سے تو ایک روایت کے مطابق وہ خالق ستر حجابوں میں پوشیدہ ہے۔ ٖاب آپ یہی دیکھ لیں کہ ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جب آپ دنیاوی نیند بھی فرماتے تو آپ کا دل بیدار رہتا تھا۔ تو یہ ہم جیسے عام بشر کیسے؟ سوچنےکی بات تو ہے، یہ تو نور اور بشر کا کمبینیشن ہے جو کہ دنیا میں واحد ہے اور اسی نے ربِ حقیقی اور واحدِ حقیقی کا مینؤل یعنی قرآن ہم تک پہنچایا ہے۔ آپ کے علوم کا کیا کہنا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائے، آپ کے ذریعے درجہ بہ درجہ صحابہ، اہل البیت، اور ان کے تابعین تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین سب سے ہوتے ہوئے قیامت تک کے لیئے اس امت میں اولیائے حق کے ذریعے پہنچتے رہینگے۔ غیب کے عالم میں داخل ہونا یا زمان و مکاں سے ماؤراء کسی چیز کو دیکھنا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آدمی خود زمان و مکاں سے آزاد ہوجائے۔ اور یہ تب ممکن ہے جب زماں و مکاں کی حدبندیوں سے آزادی مل سکے، اس آزادی کے حصول کی خاطر مختلف مذاہب نے جیسے یہودیت، عیسائیت (کی ابتدائی شکلوں میں) اور دیگر مذاہب ِ عالم نے اپنے اپنے پیروکاروں کو مختلف مشقیں بتائی ہیں جیسے کہ مراقبہ، یوگ، کنسنٹریشن وغیرہ وغیرہ اور جب یہ ایسے تنویمی حالت میں خود کو انسان لائے تو وہ علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں جو کہ کسی اور ڈائمنشن میں ہم کو وہ کچھ دکھاتی ہیں جہاں مادی آنکھیں ہمیں رسائی نہیں دے سکتیں، اب وہ دنیا اچھی اور بری ہرطرح کی ہوسکتی ہے۔ اگر

یہ ساری کائنات جب شہود میں آئی تو وہ خود چھپ گیا۔ اس نے فرمایا “ہوجا” اور یہ سب کارخانہ رنگ و بو معرض وجود میں آگئے۔دیکھیں جیسے ایک تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ایک وہ رخ جس پر نقش اجاگر ہوتے ہیں اور دوسرا وہ رخ جہاں نقوش نہیں ہوتے بلکہ وہ رخ بالکل سفید یا کالا ہوتا ہے۔ اگ ذرا اور گہرائی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کاغذ پر تصویر بنائی گئی ہے اس میں اصل میں دونوں ہی رخ کالے یا سفید ہیں لیکن پھر ایک طرف تصویر کے نقش اجاگر ہوگئے اور دوسرا رخ کالا یا سفید ہی رہا۔ یہی دنیا کی مثال ہے وہ یعنی خالق جس نے یہ نقش اجاگر کیئے کاغذ (دنیا و مافیہا) کو تخلیق کرنے والا ہے، اس سے پہلے کے عوامل اور بعد کے عوامل کو جاننے والا ہے، بنا اجاگر کیئے جیسے نقش اجاگر نہیں ہوسکتے ویسے ہی خود سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا جب تک کوئی نہ کوئی کرنے والا نہ ہو۔ یعنی پہلے اللہ ظاہر تھا مگر یہ “تخلیق” باطن تھی عدم تھی پھر جب کائنات کو ظاہر کیا گیا تو خود پردہ شہود سے خود کو مخفی کردیا۔

تمام بت پرست اور مظاہر پرست مذہبوں کی تربیت اس طرح ہوئی کہ یہ لوگ جنہوں نے ان ادوار میں مذہب کے خدوخال تیار کیئے خود “عالم امر” کے حقائق سے ناواقف ہوتے تھے(کبالا کے پیروکاروں اور تخلیق کاروں کی طرح) اور جو کچھ یہ اپنے پیشروؤں سے سیکھتے اس کو دوسروں تک پہنچانے میں وہی کانسیپٹ استعمال کرتے جو شیاطین پہلے آسمان سے “غیب” کی خبریں لا کر کاہنوں کو اور کاہن پھر اپنی مرضی کے مطابق عوام یا خواص تک پہنچاتے تھے۔ اور یوں ان میں غلط عقائد، جادو ٹونا، اور رہبانیت کی بنیادیں قائم کردی گئیں۔ اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں جیسے بابل میں پیدا شدہ مذاہب جین مت (جس کو اب ہندومت نے خود میں زبردستی ضم کیا ہوا ہے) ، آریائی دھرم اور تاؤ ازم، منگولی مذاہب جیسے آفتاب پرست، ماہ پرست اور زرتشتی عقائد۔ ان میں اسی وجہ سے اوہام اور جادوگری کا اسیر ہونا پڑا، کیونکہ ان کو روحانی علوم بنا روح کو کسی قوت کے مطیع یا گروی کیئے نہیں مل سکتے تھے اور اسلام سے نابلد ہونے کیوجہ سے یہ آخری پیغام کو سمجھنے سے یکسر عاری ہیں۔ اسلام میں یہ علوم یکسر مختلف ہوتے ہیں، طویل ترین امتحانوں اور بار بار آگ جیسے حالات میں پھینک پھینک کر سائل کو کندن بنا دیا جاتا ہے اور جب وہ پارہء مصفی بن جاتا ہے تب وہ عوام الناس کے کام آتا ہے، اب چاہے یہ کام آنا ایسا ہو کہ اپنے ضرر سے دوسروں کو محفوظ رکھے یا مخلوق کے لیئے اس قوتِ واحدہ کے حکم سے مرجع خلائق بن جائے۔ اسلامی روحانی علوم کے مطابق انسان کی روحانی ترقی کے 5 مقامات یا حجاب ہیں جہاں انسان کو اپنے اندر کے شیطان / نفس ے لڑنا پڑتا ہے۔ چونکہ بات کبالائی اور اسلامی فرق کے مابین کی جارہی ہے اسلیئے میں خود کو محدود رکھتے ہوئے یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ مختصراً پیش خدمت ہے

پہلا سیفیریا لطیفہ اس کو اخفیٰ کا نام دیا جاتا ہے اب ذرا تفصیلاً اسکا عرض پیش خدمت ہے۔

لطائف:
یہ ہر انسان کے اندر نقطہ ء واحدہ ہے یہی وہ نقطہ ہے جسکو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے، جس میں “اللہ بستا ہے” اس نقطہ سے اوپر براہ راست اللہ کی تجلیات کا نزول ہوتا ہے۔ (کبالائی تعلیمات میں جب انسان بتدریج اس نقطہء معرفت تک پہنچتا ہے تو چونکہ وہ ابلیسی اور غلط راستے سے پہنچنے کی کوشش کرتا ہے لہٰذا ابلیس تک پہنچنے پر اس کو “ہائی پریسٹ” کا ٹائٹل مل جاتا ہے جس کے بعد وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرگیا) اور یہی وہ دھوکہ ہوتا ہے کبالائی ترتیب میں جو انسان کو بجائے حقیقی راستے سے اللہ تک پہنچنے کے الٹا اسکو شیطان کے چنگل میں پہنچا دیتا ہے۔ اسلام میں اس بلند ترین درجہ روحانی تک پہنچنا صرف اللہ کی عطا اور مسلسل کوشش سے ممکن ہوسکتا ہے، جیسے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیبِ کریم کی زبان حق ترجمان سے کہلوایا کہ جب بندہ نوافل وغیرہ سے میرا قرب حاصل کرلیتا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی الآخر۔۔ مطلب یہ ہے کہ اس نقطہ میں داخل ہونے یا اس سٹیٹ یا اس ڈائمنشن میں داخل ہونے پر انسان کائنات کے اندر جاری و ساری نظام میں داخل ہوجاتا ہے اور کائنات کے اوپر اسکی حکومت قائم ہوجاتی ہے۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جس میں داخل ہونے کے بعد اللہ کا یہ حکم سمجھ آنے لگتا ہے کہ ہم نے تمہارے لیئے آسمانوں میں، زمینوں میں جو کچھ ہے سب کا سب مسخر کردیا ہے۔

اس کتاب المبین میں تیس کروڑ لوح محفوظ ہیں اور اسی ہزار 80،000 حضیرے ہیں۔ ایک حضیرے میں ایک کھرب سے زیادہ مستقل آباد نظام اور بارہ کھرب غیر مستقل نظام ہیں ، ایک نظام کسی ایک سورج کا دائرہ وسعت ہوتا ہے۔ ہر سورج (سٹار) کے گرد نو بارہ یا تیرہ سیارے گردش کرتے ہیں۔ (یاد رہے آجکل سائنس ملٹی ڈائمنشنز کے پیچھے لگی ہوئی ہے اور اسکی قائل ہے)۔

لطیفہ اخفی اور لطیفہ خفی کے دائرے کو روح اعظم، نور مطلق، نسمہ مطلق، ثابتہ کہتے ہیں۔

لطیفہ اخفی کا مقام سر کے درمیان میں ہے اور رنگ بنفشی ہے۔جبکہ لطیفہ خفی کا رنگ نیلا ہے اور اسکا مقام دونوں ابروؤں کے درمیان پیشانی پر ہے۔

لطیفہ اعظم (خفی ، اخفی) کو نہر تسوید ہر لمحہ سیراب کرتی رہتی ہے۔ روح اعظم سے واقف بندہ اللہ تعالیٰ کی تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے۔

لطیفہ اخفی میں علم الٰہی کی تجلی اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں اور اسرارورموز کا ریکارڈ ہوتا ہے، انہیں لطیفہ خفی کی روشنی میں پڑھا جاسکتا ہے۔

روح اعظم کو اپنے پیرومرشد (حقیقی) کی نظر کرم اور تفہیم کے طرز پر متحرک کیا جاسکتا ہے۔

لطیفہ سری اور لطیفہ روحی کے دائرے کو روح انسان ، نور مرکب، نسمہ مفرد، اعیان (عین) کہتے ہیں۔ لطیفہ سری کا مقام سینے کے دائیں طرف ہے۔ (یہ جو روحانی ذکر اذکار کی محافل میں دل پر ضرب لگانے یعنی مثلاً اللہ ھُو کہنا اور اسکی قوت و شدت کو روحانی طور پر دل پر وارد ہوتی محسوس کرنا اسی کا ایک حصہ ہے)۔ لطیفہ سری کا رنگ سفید ہے۔ اس میں فرد کے متعلق احکامات لوح محفوظ کے تمثلات کی شکل میں محفوظ ہوتے ہیں۔ اس کے متحرک ہونے پر بندے کی نظر عالم مثال پر پڑتی ہے۔

لطیفہ روحی کا رنگ سبز، اور اس کے متعارف کو عالم اعراف کا شعور حاصل ہوجاتا ہے۔

روح انسان (لطیفہ سری بمعہ لطیفہ روحی) کو نہر تجرید ہرلمحہ سیراب کرتی ہے۔ لوح محفوظ کے اوپر نوعی اور کائناتی ریکارڈ لطیفہ روحی کی روشنی میں پڑھا جاسکتا ہے۔

لطیفہ قلبی اور لطیفہ نفسی کے دائروں کو روح حیوانی نسمہ مرکب، جویہ کہتے ہیں۔ لطیفہ قلبی کا مقام دل ہے اور رنگ سرخ جبکہ اس لطیفہ میں انسان اپنے اعمال کا مشاہدہ کرتا ہے اور ان اعمال کو لطیفہ نفسی کی روشنی میں پڑھا جاتا ہے، نیز اس لطیفہ کے متحرک ہونے سے انسان نوع جنات سے متعارف ہوجاتا ہے۔ جبکہ لطیفہ نفسی کا مقام ناف سے ذرا نیچے ہے، لطیفہ قلبی کو نہر تثہید سیراب کرتی ہے۔ مراقبہ کے ذریعے لطیفہ نفسی کی روشنیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

دوسرا اطلاق روح کی وہ روشنی ہے جس کے ذریعے تمثلات کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ تصوف کی زبان میں دونوں اطلاق کا مجموعی نام تدلی ہے۔ تدلی دراصل اسمائے الٰہیہ/ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات ہیں جو ذات کا عکس بن کر تنزل کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ یہی صفات موجودات کے ہرذرے میں تدلی بن کر محیط ہوتی ہیں۔

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔۔۔ جس پر ایک طویل پوسٹ کچھ عرصہ قبل اہلسنت ریسرچ فورم اورمکاشفہ ریسرچ بلاگ پر دی تھی اس میں تمام تر تفصیل اس سے متعلق دی گئی ہے کہ اسکے کیا معنی ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے رب کو پہچان لیا۔ آپ علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق قلب کو پہچاننا اللہ تعالیٰ کی ذات کا عرفان حاصل کرنا ہے۔ اس کو دینی زبان میں کشف بھی کہا جاسکتا ہے اور درجہ کے حساب سے سچا الہام بھی۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مطابق جو انہوں نے اپنی کتاب انتباہ فی سلاسل اولیاء میں پانچ انسانی لطیفے بیان کیئے ہیں۔

قلب ، روح، سر، خفی اور اخفی اور یہ عالم امر سے ہیں ان کا مکان فرق العرش ہے جسے “لامکاں” کہتے ہیں اور عالم ارواح بھی اسے کہتے ہیں۔

حق تعالیٰ نے کمال قدرت سے اپنے ان لطائف کو بدن سے تعلق اور عشق دے کر وہاں سے نیچے اتار کر ہر ایک کو ایک خاص جگہ انسان کے بدن میں اس کے مناسب جو تھا جاری کردیا ہے، قلب کو سینہ کے بائیں جانب پستان میں جاری کیا۔

روح کو جو قلب سے زیادہ لطیف ہے اس کے مقابل دائیں جانب اخفی کہ لطیف اور احس لطائف سے درمیان، حقیقی سینہ اور سر کو درمیانِ قلب اور اخفی کے حفی کو درمیان روح اور اخفی کے ولایت۔ اس میں ہر ایک لطیفہ کے زیر قدم ایک اولوالعزم پیغمبر کے ہیں۔ جیسے قلب کی ولایت حضرت آدم علیہ السلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (اس کی انتہائی لمبی تفصیل ہے جو کہ کافی پہلے سے دونوں سائٹس پر کسی جگہ پوسٹ کرچکا ہوں وہاں سے ملاحظہ کرلیں)۔

آخری بات؛
جانتا ہوں پوسٹ طویل ہوگئی ہے اسی لیئے انتہائی اختصار سے بتانا چاہتا ہوں کہ کبالا میں چونکہ اصلی عبادت نہیں نا ہی کبالائی تعلیمات خالص ہیں اور نہ ہی چونکہ وہ آخری پیغام کو ماننے کو تیار ہیں اسلیئے شیطان پرستی اور ابلیس پرستی کے لیئے وہ روحانی مشقیں کرتے ہیں جو ان کے بقول سیفیرز کو کراس کرکے ان کو روحانی بلندی عطا کریگی اور وہ اپنے تئیں “خدا” تک پہنچ جاتے ہیں دراصل انیشی ایشن کے بعد ہی سے جب کفر میں ابلیسیت شامل ہوجاتی ہے تو انہیں اچھی طرح علم ہوجاتا ہے کہ وہ کس راستے پر ہیں اور چونکہ ان کا مقصد غیرمادی قوتوں سے مادی اشیاء پر کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے، لہٰذا جادو کی پیروی میں وہ درحقیقت اپنی حقیقی یہودیت سے بھی نکل جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس آخری پیغام یعنی اسلام میں ایک متبادل نظام دیا گیا کہ ہر وہ شخص جو روحانیت کا خواہشمند ہو، اس کو پہلے شریعت مطہرہ کی مکمل پاسداری کرنی فرض ہوتی ہے، اور یوں وہ جب روحانی درجات حاصل کرنا شروع کردیتا ہے تو وہ حقیقی معرفت کے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے۔

والسلام